جج محمد بشیر کا پانامہ کیس سے الگ ہونے کا فیصلہ

600

احتساب عدالت کےجج محمد بشیرنے نوازشریف  کے خلاف  باقی دو ریفرنسز سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ اس سے پہلے جب   وکیل صفائی خواجہ حارث نے یہ استدعا کی تھی تو انہوں نے انکار کردیا تھا۔ اب ایسا اچانک کیا ہوا کہ وہ پانامہ ریفرنسزسے جدا ہوگئے؟ جج نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدرکو اڈیالہ جیل بھیجنے کے بعد خود نوازشریف کے دیگر دومقدمات میں جانے کی تیاری بھی کرلی تھی۔ لیکن 174 صفحات پر لکھا ایک متضاد اور کمزور فیصلہ ان کے جانے کی وجہ بن گیا۔ جج نے نوازشریف کے خلاف کرپشن ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس الزام سے بری کردیا لیکن ساتھ ہی ایک دہائی پر مشتمل قیدبامشقت اس بنیاد پر سنادی کہ قوی امکان یہ ہے کہ عوامی عہدیدار ہوتے ہوئے انہوں نے بچوں کے نام پر جائیداد بنائی۔ عام طور پر بچے والدین کے زیر کفالت ہوتےہیں لہٰذا نوازشریف یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے بچوں کو لندن فلیٹس خریدنے کے پیسے نہیں دیے۔

جج محمد بشیرنوازشریف کے پیچھے جیل جائیں گے اور نہ ہی ان کے خلاف العزیزیہ ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت کرِیں گے۔ امکان یہ ہے کہ ان مقدمات کی سماعت اب احتساب عدالت نمبر دو کےجج ارشد ملک کریں گے۔ یہ طے ہونا باقی ہے کہ وہ نئے سرے سے ان ریفرنسز کوسنیں گے یا جہاں سے جج محمد بشیر چھوڑ کر گئے ہیں ،وہیں سے سماعت کا سلسلہ آگےبڑھائیں گے۔ عام طور پر جب ایک جج ایک معاملے پراپنا فیصلہ دے دیتا ہے تو وہ اسی نوعیت کے معاملے پر دوبارہ سماعت نہیں کرتا۔ لیکن جج محمد بشیر نے علیحدگی اخیتار کرتے ہوئے تاخیر کی۔

نوازشریف کے خلاف احتساب عدالت کےاس فیصلے کے خلاف وکیل صفائی خواجہ حارث نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چار درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ جج کی طرف سے متضاد فیصلے کو کالعدم قراردینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ جج محمد بشیر کی عدالت سے نوازشریف کے خلاف دیگر ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست الگ سے کی گئی ہے۔ نوازشریف کے خلاف سنائی گئی سزا کو فوری طور پر معطل کرنے کی پیٹیشن دائر ہوچکی ہے۔ وکیل صفائی نے اپنی اس درخواست کے ساتھ ٹرائل کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی ہیں  اورعدالت کے ریکارڈ پر تمام شواہد لے کرآگئے ہیں ۔ تیار کی گئی اس اپیل کےمقابلے میں قانونی ماہرین احتساب عدالت کے فیصلے کو انتہائی کمزورترین قراردے رہے ہیں اور یہ تنقید بھی کرتے ہیں کہ احتساب عدالت کا فیصلہ استغاثہ کی ناکامی کی نوید سناتا ہے۔ انہوں نے فیصلے میں 141 صفحات کو غیرمتعلقہ قراردیا جبکہ باقی بچ جانے والے صفحات کو تضادات اور مفروضوں پر مبنی قراردیا۔ فیصلے میں مریم نواز کو معاونت کے جرم میں مجموعی طور پر 8 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ فیصلے میں ٹرسٹ ڈیڈز پر فرانزک ماہر رابرٹ ریڈلے کا جرح کے دوران یہ اعتراض نظرانداز کرلیاگیا جس میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ کمپیوٹر کے ماہر ہیں  نہ وہ آئی ٹی کےماہر ہیں لیکن اس کے باوجود اس نے نہ صرف 2006 سے پہلے کیلیبری فونٹ ڈاون لوڈ کیا بلکہ اسے خود استعمال بھی کیا تھا۔ فیصلے کے خلاف اپیل میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ استغاثہ کا کیس اس انکشاف کےساتھ ختم ہوجاتا ہے۔

احتساب عدالت کو رینجرز اور سیکورٹی اہلکار گھیرے میں لیے رہتے ہیں اور اب میڈیا کوبھی ٹرائل کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلے کےبعد جج شدید دباو میں تھے اور استغاثہ نے بھی کمزور فیصلے کی ذمہ داری ان کےکندھوں پر ڈال دی ہے۔

احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف  دائر درخواستوں کو اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججز کے بنچ نے 17 جولائی کو سماعت کرنا ہے۔ خلاف روایت عدالت کا یہ بنچ دوجونئیر ججز پر مشمتل ہے۔ چیف جسٹس انور خان کاسی کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک اختیارات کےناجائز استعمال سے متعلق ریفرنس زیرالتواء ہے۔ لیکن وہ نہ صرف اپنےفرائض سرانجام دے رہے ہیں بلکہ کونسل میں ممبر کی حثیت سے بیٹھ کر دوسرے ججز کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کےناجائز استعمال کے ریفرنسز بھی سنتے ہیں۔

عدالت کے سینئر پیونی جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف در ریفرنسز اس وقت کونسل کے سامنے ہیں جن پر تیزی سے سماعت ہورہی ہے۔ جسٹس صدیقی کو دستیابی کے باوجود دورکنی بنچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ ایک خلاف روایت عمل ہے جوپانامہ ریفرنسز کے دوران دیکھنے کو ملا۔ جسٹس صدیقی کی کھلی عدالت میں ان کے ٹرائل کی درخواست منظورکرلی گئی۔ نوازشریف کی درخواستوں پر غور کرنے والے بنچ میں والی سوات کے پوتے جسٹس گل حسن اورنگزیب کے علاوہ جسٹس محسن اختر کیانی شامل ہیں۔ جسٹس کیانی کے خلاف بھی ایک وکیل نے کونسل کے سامنے ریفرنس دائر کردیا ہے۔ آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر غیر ضروری دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ ان کو اہم مقدمات کی سماعت سے دور رکھا جاسکے۔ بنچ بنانا چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیارات میں شامل ہے مگرجب  کچھ اہم مقدمات بار بار کچھ خاص ججز کو دیے جائیں گے  تو پھر شکوک و شبہات جنم لیتےہیں۔ پنجاب اور خاص طور پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ججز کو اعلیٰ عدلیہ میں اہم مقدمات سننے کا زیادہ موقع میسررہتا ہے۔ چھوٹے صوبوں کےججز نظرانداز ہونےپر رنجیدہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت خیبر پختونخواہ کے نگران وزیراعلیٰ دوست محمد خان نے سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے اعزاز میں چیف جسٹس سے فل کورٹ ریفرنس لینے سے  انکارکردیاتھا۔ انہوں نے اس کی وجہ بھی نہیں بتائی لیکن کچھ عرصے سے ان کوکسی بھی بنچ کی سربراہی نہیں مل رہی تھی اور وہ اہم مقدمات سننے والےکسی بھی بنچ کا  حصہ نہیں تھے۔ بھارت میں چیف جسٹس کے خلاف ساتھی ججز نےاس طرح کے لامحدود اختیارات استعمال کرنے پر بغاوت کردی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ بھارتی چیف جسٹس کا حال دیکھ کروہ بھی ساتھی ججز کے معاملے پر محتاط ہوگئے ہیں۔

نوازشریف اپنے خلاف پانامہ ریفرنسز پر ٹرائل کے دوران صحافیوں سے رسمی و غیر رسمی گفتگو میں چیف جسٹس کو ہدف تنقید بناتے رہے۔ اسلام ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اگر کوئی تشنگی ہوئی تو پھر نوازشریف کو سپریم کورٹ کا رخ کرنا ہوگا۔ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ ان کے چند ججز سے متعلق ریمارکس انصاف کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن جائیں گے؟ ججز عام طور پر ذاتی رنجش اور پسند، ناپسند کی بنیاد پر فیصلوں کو اچھا نہیں قراردیتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...