شفاف انتخابات اور بلدیاتی منتخب عہدیداران پر قدغن

87

2018 کے اعلامیہ انتخابات مختلف مراحل طے کرتے ہوئے پولنگ کے حتمی عمل کے قریب ہوتے جا رہے ہیں ۔ لیکن خدشات کی شدت میں تاحال کمی نہیں آرہی ،  بتدریج مراحل طے کرنے سے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں تمام شکوک دور ہونے جانے چاہیئے تھے لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ کیونکہ اس کہانی میں ہر روز کوئی ایسا نیا واقعاتی موڑ سامنے آرہا ہے جو اولاََ تو انتخابات کے انعقاد کو بناتا ہے ۔ ثانیاََ مذکورہ انتخابات کی شفافیت کو ۔۔۔۔!

اس طرح یہ اتفاق رائے ابھر رہا ہے کہ یہ انتخابات جانبدارانہ ہوں گے ۔اور یہ بھی کہ اس کے نتائج شائد قابل قبول نہ ہوں ۔ آج خبرنامے میں میاں محمد نواز شریف کا یہ موقف کہ انہوں نے ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے امکان کو مسترد کردیا ہے ۔ میا ں صاحب کے تحفظات کی منطق بہت واضح ہے  کیونکہ مختلف اس کی تائید کرتے ہیں ۔

حکومت پنجاب کے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کیمونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے مراسلہ نمبر ڈی۔ او ۔ ایس۔ایل ۔جی 22181/2018 بتاریخ 25 جون 2018 صوبہ پنجاب  کے تمام منتخب میئر  ، ڈپٹی میئر، چیئرمین  اور وائس چیئرمین کو متوجہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 233 کے تحت کوڈ آف کنڈکٹ برائے الیکشن 2018 نوٹیفکیشن نمبر 4-6-18 (13) ایف/2 جاری کیا ہے ۔ جس کی شق نمبر 18 کے تحت بحیثیت میئر ، ڈپٹی میئر ، چیئرمین ، وائس چیئرمین ، ڈسٹرکٹ کونسل ، میونسپل کارپوریشن ، کمیٹی کے چیئرمین و ارکان کو الیکشن مہم میں کسی طور پر بھی شمولیت و معاونت کرنے سے ممانعت کی گئی ہے ۔ لہذا سیکرٹری محکمہ ہذا نے مذکورہ منتخب عوامی عہدیداران کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ انتخابات 2018 میں کسی بھی طور پر انتخابی مہم کا حصہ بننے سے باز  و ممنوع رہیں بصورت دیگر آپ کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔(  بحکم دستخط عارف بلوچ)

مذکورہ حکمنامہ الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 18 کے تحت جاری ہوا ۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ ایسا ضابطہ صرف پنجاب کے لئے جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس کا اطلاق پورے ملک پر کرنا ہوگا  جبکہ تادم تحریر پنجاب کے کے علاوہ اس طرز کے احکامات و پابندیاں دیگر صوبوں میں نافذ نہیں کی گئی ہیں ۔

کیا مذکورہ ضابطہ محض مسلم لیگ کے لئے مرتب ہوا ہے ۔ شائد نواز شریف نے جانبدارانہ انتخابات کے  پر یقین خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اس حکمنامہ کوبھی ملحوظ رکھا ہو۔

سوال یہ ہے کہ جن افراد پر یہ انتخابی مہم اور عمل میں شرکت کی پابندی عائد کی گئی ہے کیا وہ  سرکار ی ملازم ہیں ؟اگر ایسا ہے تو مدت  ملازمت پوری ہونے کے بعد انہیں پنشن کا حقدار ٹھہرایا جانا واجب ہے ۔ جبکہ عوامی عہدوں  پر فائز مذکورہ عوامی نمائندے پنجاب و ملک بھر میں سیاسی انتخابی عمل اور اپنی اپنی سیاسی وابستگی کی بناء پر مذکورہ عہدوں پر متمکن ہوئے ہیں ۔ اب یہ بات قرین عقل دکھائی نہیں دیتی کہ کسی منتخب شدہ عوامی سیاسی عہدیدار کو اس کی پارٹی کی انتخابی مہم میں شرکت سے روک دیا جائے۔ ایسا اقدام بغض و عناد اور جانبدارانہ غیر شفاف انتخابات کے منعقد ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا تاثر قائم نہیں کرتے ۔

دوسری طرف ملک کے مختلف اضلاع میں منتخب بلدیاتی عہدیداران قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ذاتی طور پر حصہ لے رہے ہیں ۔ وہ انتخابی امیدوار ہیں ۔ یقیناََ پنجاب میں بھی  ایسی متعدد مثالیں موجود ہوں گی  تو کیا پنجاب حکومت کے مذکورہ بالا حکم نامے کے تحت کوئی ایسا شخص جو کسی بلدیاتی ادارے کا منتخب عہدیدار یا رکن ہو اور عام انتخابات میں اسمبلی کے انتخاب میں بھی امیدوار  بھی ہو کیا اسے بھی اپنی ذاتی انتخابی مہم میں شرکت سے باز رکھنا چاہیئے ؟

سیاسی انتخابی عمل میں انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی ضابطے کے تحت قانون شکنی کے عدم ارتکاب والے  منتخب عوامی نمائندوں کو سیاسی انتخابی  عمل  جو ان کا بنیادی شعبہ و میدان عمل ہے سے الگ رکھنا بنیادی شہری حق سے محروم رکھنے کے مترادف نہیں ؟

نیز یہ بھی کیا الیکشن کمیشن سطور بالا میں بیان شدہ استدلال کی روشنی میں آئینی شہری بنیادی حقوق کے منافی کسی قسم کا کوڈ آف کنڈکٹ جاری کرنے کا مجاز ہے ؟یہ سوال جواب طلب ہے ، بلکہ میرا خیال ہے کہ اس کا جواب مناسب طور پر مذکورہ بالا نوٹیفکیشن کی تنسیخ کی صورت جلد دینا حکومت پنجاب پر لازم ہے بصورت دیگر جناب حسن عسکری رضوی کی ذاتی شرافت کے اوصاف حمیدہ پر ان کے جانبدارانہ اور بالخصوص مسلم لیگ مخالف رجحانات پر مشتمل مضامین  و بیانئے کی روشنی اور زیر بحث حکمنامہ ان کی بحیثیت نگراں وزیر اعلیٰ غیر جانبداری پر خط تنسیخ  پھیر دے گا ۔

دوسری صورتت جو نامعقول  غیر قانونی و غیر سیاسی بھی ہوگی  یہ ہونی چاہییے کہ کم از کم جانبداری کے عمل میں یکسانیت کے لئے ہی سہی اس ضابطہ اخلاق کا اطلاق بلوچستان کے پی اور سندھ میں بھی ہونا چاہیئے ۔

بلوچستان ، کوئٹہ میں ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین محترم نعیم خان اور کیچ (تربت) کی میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین کامریڈ قاضی غلام رسول باقاعدہ طور پر اپنی اپنی جماعتوں کے نامزد امید وار ہونے کی بناء پر انتخابی عمل و مہم میں موثر طور پر شریک ہیں ۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں ایک ضابطہ اخلاق میں  عدم یکسانیت جانبداری  کی بدترین مثال ہے ۔ اس نوعیت  کے  کئی دیگر اقدامات و عوامل انتخابات کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن رہے ہیں  جو کہ ملک کے لئے خطرناک  نتائج کے حامل ثابت ہوسکتے ہیں ۔

پی ٹی آئی مسلم لیگ دور کے تعینات چاروں صوبائی گورنرز کو جانبدار قرار دے کے ان کی سبکدوشی کے مطالبات کررہی ہے  لیکن خود پنجاب میں اس کے ہمنوا پروفیسر حسن عسکری کی حکومت جو کچھ  کررہی ہے  وہ کسی صورت مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسرا آئینی سوال یہ ہے کہ نگراں وزیر اعظم محض انتخابات کے دوران عبوری اختیارات کے تحت روزمرہ کے ریاستی و انتظامی امور نمٹانے کے لئے تعینات ہوئے ہیں ۔ جبکہ گورنرز کی تقرری یا سبکدوشی خالصتاََ غیر انتظامی معاملہ ہے جو کہ صدر پاکستان کا استحقاق ہے ۔ گورنر ، صوبے میں صدر کا تعین کردہ وفاق کا آئینی سربراہ ہوتا ہے جس کی تقرری کا فیصلہ مرکز میں وفاقی حکومت کرتی ہے ۔ لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ گورنرز کی تبدیلی انتظامی نہیں آئینی مسئلہ ہے جس میں نگراں وفاقی حکومت دخل دینے کی مجاز نہیں ہے۔ کیا نگراں وزیر اعظم آرمی چیف کی تبدیلی کا اختیار رکھتے ہیں ؟ سیدھا سادھا جواب ہے کہ نہیں ، تو پھر گورنرز میں تبدیلی کے لئے اس پر دباؤ کیوں ڈالا جا رہا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو ایک آئینی بحران پیدا ہوسکتا  ہے جس کی دوصورتیں ہیں ۔ صدر مملکت ، وفاقی حکومت کی سفارشات مسترد کردے  اور بفرض محال اگر قبول بھی کرلے تو نئے گورنرز کی تقرری میں بہر طور صدر مملکت جناب ممنون حسین کی رضامندی شامل ہوگی  جو بلاشبہ مسلم لیگ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یوں نئے گورنرز ایک بار پھر مسلم لیگ کے ہی تعینات کردہ ہوں گے ۔ گو یا پی ٹی آئی کے مطالبے کی تکمیل آئینی بحران پیدا کرنے کے علاوہ کوئی معنی نہیں رکھتی  ۔ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھنا چاہیئے ۔

بنیادی بحث انتخابات کے انعقاد سے نکل کر ان کی صحت اور قبولیت کے زمرے میں داخل ہوگئی ہے ۔

1۔ کیا انتخابات ہوں گے ؟

2۔ اگر ہوئےتو کیا شفاف ہوں گے ؟

3۔ غیر جانبدارانہ انتخابی نتائج قابل قبول ہوسکتے ہیں ؟

4۔  اور اس سب میں اہم ترین نقطہ یہ ہے انتخابات شفاف یا جیسے بھی ہوئے ، اگر مسلم لیگ کو کامیابی ملی تو کیا اسے اقتدار اور اختیار دونوں سونپ دیئے جائیں گے ؟

اب جبکہ جناب آصف علی زرداری نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ انتخابات  کے بعد بھی ملک میں سیاسی طور پر مستحکم حکومت نہیں بنے گی ۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ معلق پارلیمان یا مخلوط حکومت کے قیام کی راہ کا پہلا پتھر جناب زرداری نے ہی بصد فخر سینٹ انتخابات میں  محترم رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ نہ بنا کر رکھا تھا  ۔ کیا انہیں مستقبل کی غیر مستحکم حکومت کے الزا م سے بری کیا جا سکتا ہے ؟

اپنی بنیادی بحث کی طرف واپس پلٹئے کہ  نقطہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے مقامی حکومتوں کے منتخب اراکین و عہدیداران کو سیاسی انتخابی عمل میں شرکت سے روک لیا ہے ۔ اس کا مقصد انتخابات پر انہیں اثر انداز ہونے سے روکنا ہے ۔ سوال پھر وہی ہے کہ کیا وہ  انتظامی عہدیدار ہیں ؟کیا شفاف غیر جانبدارانہ انتخابی عمل کی ساکھ قائم کرنے کے لئے نیب جیسے انتظامی ادارے کو جانبدارانہ مداخلت کی اجازت دینا مناسب ہے ؟

حالیہ انتخابات میں  چاروں صوبائی اور قومی اسمبلی کے اسپیکرز بھی انتخابی معرکہ آرائی میں شریک ہیں اور وہ بحیثیت سپیکرز ایک مخصوص سیاسی اثر وہ بالادستی بھی رکھتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب اسپیکرز پہ پابندی کا اطلاق نہیں ہوتا  تو متذکرہ صدر ضابطے کا اطلاق بلدیاتی اداروں کے منتخب اراکین پہ کیوں ؟ اور وہ بھی محض پنجاب کی صوبائی حدود تک؟

بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا مرحلہ اگر جمہوری حکومتوں کے عہد میں آئے تو سوال اٹھتا ہے  کہ سیاسی حکمران جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اب بلدیاتی اداروں کی موجودگی میں ان کا قومی و صوبائی انتخابات پر اثر انداز ہونے کا خدشاتی تاثر پنجاب حکومت کے مراسلے سے ملتا ہے ۔

کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک دن کروانے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے اضلاع کے بلدیاتی اداروں کے لئے بھی ترجیحی فہرست کا نظام رائج کردیاجائے ۔ اس طرح بلدیاتی اداروں کی مدت معیاد بھی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ منسلک  ہوجائے گی  اور انتخابات پر ایک دوسرے کی اثرااندازی کا تدار ک بھی ہوجائے گا  ۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...