احتساب جیل میں ہوگا!

88

سیاسی محاذ آرائی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ انتخابات سے قبل ملک میں گہما گہمی ہے۔ ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ سیاسی رہنما اور ادارے ایک دوسرے سے شکایات کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ نوازشریف کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ آنے کے بعد حالات مزید کشیدگی کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ نوازشریف اور مریم نواز لندن سے واپس پاکستان آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ کیپٹن صفدر فیصلے کےدو دن بعد مانسہرہ کی سنگلاخ پہاڑیوں سے چلے اورراولپنڈی شہرکےتاریخی تنگ و تاریک گلیوں میں آن پہنچے۔ کیپٹن صفدر8 جولائی کو اگلے محاذوں پر پہنچ کرقانون کے سامنے سرنڈر ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق نیب کے ساتھ یہ شرائط پہلے سے طے تھیں کہ یہ سب کیسے ہوگا اورپھر اس کےعین مطابق ہوا۔

ایون فیلڈ ریفرنس کے پہلے گرفتارمجرم کونیب اہلکار  احتساب عدالت میں لے کرآئے تویہ نوگو ایرابن چکا تھا۔ صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ جس سے یہ واضح ہوگیا کہ اب شریف خاندان کے کسی فرد کو میڈیا تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ جیو نیوز کے سینئر کورٹ رپورٹر اویس یوسفزئی نے جج محمد بشیر کو بتایا کہ وہ نوازشریف کے ٹرائل کے دوران 1999 میں اٹک قلعہ بھی جاتے تھے لیکن اس طرح کی پانبدیاں  وہاں پر بھی نہیں دیکھیں۔ انہوں نے جج کو بتایا کہ آپ کی عدالت کبھی کھلی اور کبھی فوجی عدالت میں بدل جاتی ہے، جس تک صحافیوں کو رسائی نہیں دی جارہی ۔ جج نے صاف صاف بتایا کہ یہ سیکیورٹی والوں نے صحافیوں کو روکا ہے۔ رینجرز ہرطرف مستعد کھڑی تھی جبکہ پولیس افسران نے صحافیوں کو یہ کہہ کر باہرروک دیا کہ جج نے داخلے پر پابندی لگارکھی ہے۔

صحافیوں کو دھکم پیل کرکے کمرہ عدالت سے دورلے جایا گیا۔ صحافیوں نےاس پر احتجاج بھی کیا۔ نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر نے ریجنرزاور عدالت کی نمائندگی کرتے ہوئے سیکیورٹی ایشوزکو صحافیوں پر پابندی کی وجہ قراردیا۔ احتساب عدالت کے جج نے صحافیوں کوچائے کی دعوت دی جو انہوں نے شکریے کے ساتھ قبول کرنے سے معذرت کرلی۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جج نے ایک عدالتی اہلکار کو اس حوالے سے ایک ہزارروپے بھی دیے ہیں کہ وہ صحافیوں کو چائے پلائیں۔

جوڈیشل کمپلیکس میں جب بھی رینجرزکوطلب کیا گیا،ہمیشہ صحافیوں کو عدالتی کارروائی تک رسائی ناممکن بنا دی جاتی ہے۔ یہی کچھ تب بھی ہوا  جب رینجرز تعینات کی گئی تو صحافیوں کو گیٹ پھلانگتے دیکھا گیا اور فیصلے والے دن بھی صحافیوں پر کمرہ عدالت کے دروازے بند کیے گئے اور یہی عمل کیپٹن صفدر کی پیشی والے دن بھی دہرایا گیا۔بعد ازاں  کیپٹن صفدر کو اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔

دوسری طرف نوازشریف اورمریم نوازنے بھی وطن واپسی کا اعلان کردیا ہے۔ نیب نے 13 جولائی کو دونوں باپ بیٹی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہورائیرپورٹ سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ منصوبے کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکو ٹرائل کے لیے جیل جانا ہوگا۔ سیکیورٹی کے پیش نظر تین باروزیراعظم رہنے والے نوازشریف کا ٹرائل جیل میں ہی ہوگا۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کے خلاف باقی دوریفرنسز پرٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید چھ ہفتے کا وقت دیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی یہ استدعا مسترد کری ہے کہ جج محمد بشیر یہ کیس نہ سنیں۔

نوازشریف کے استقبال کی تمام ترتیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ ان کی آمد سے دو دن پہلے فوج کے ترجمان نے تندوتیز سوالات کا سامنا کرتے ہوئےایک پریس کانفرنس بھی کی اور یہ کہا کہ فوج کا سیاسی اور انتخابی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے ،الیکشن کمیشن کے  احکامات پرایسے ہی فرائض انجام دیں گے جیسے پہلے انتخابات میں کرتے آئے ہیں ۔ انہوں نے آئی ایس آئی کے میجرجنرل فیض حمید کے سیاسی مبینہ کردار کی تردید کی اور کہا کہ فیض حمید بہت اہم ملکی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا شعبہ اہم سلامتی کے امور انجام دے رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے واقعات کو پہلے ہی قابو کرلیا گیا۔

نوازشریف جو اپنے ردعمل میں بہت محتاط رہتے ہیں کچھ وقت بعد ہی کیمروں کے سامنے آگئے اور اپنا تفصیلی موقف دیا۔ انہوں نے اتنی جلدی ردعمل کیوں دیا؟ شاید ان کو معلوم ہے کہ وہ جلد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونگے اور پھران کی بات عوام تک نہیں پہنچ سکے گی۔ نوازشریف کے ردعمل کے فوری بعد راولپنڈی میں ان کی پارٹی کے کارکنان کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی پاداش میں پولیس نے کریک ڈاون کرکے متعدد کو گرفتار کرلیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پرلندن سے میڈیا سے گفتگو میں ردعمل دیتے ہوئے  نواز شریف نے کہا کہ ہمارے بہت سے لوگوں سے زبردستی پارٹی چھڑوائی گئی ،یہ فوج کا اپنے حلف سے انحراف ہے اور یہ فوج کی ساکھ کومجروح کرنے کے مترادف ہے۔ نوازشریف نے فوجی ترجمان کی طرف سے پولنگ اسٹیشنزکےانتظامات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک پارٹی کے حق میں قبل ازوقت دھاندلی کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ہورہا ہے یہ الیکشن کی ساکھ کونقصان پہنچارہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی قسم کی مداخت کو برداشت نہیں کیاجائےگا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ فوج کے الیکشن  بوتھ کے اندر جانے اور کرداراداکرنے کی سمجھ نہیں آرہی، سب دیکھ رہے ہیں، کس پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کے خلاف باقاعدہ مہم چل رہی ہے وہ نون لیگ ہے۔ مسلم لیگ نون کے لوگوں کو توڑ کرپی ٹی آئی میں جوڑا جارہا ہے۔ نوازشریف نے کہا کہ یہ جیپ نشان والے کون لوگ ہیں، یہ عوام کے لیے نشانی ہے، قوم ایسی چیزیں قبول نہیں کرے گی۔ سابق وزیر اعظم نے اپنے ملک کے لیے اپنی خدمات اور کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے  سوال کیا کہ آخر  ہم نے کیا گناہ کیا ہے جس کی اتنی سخت سزا دی جارہی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...