احتساب عدالت: فیصلے کے دن کیا ہوتا رہا

329

آج سب کچھ معمول سے ہٹ کرہورہا تھا۔ جج آگئے، جج چلے گئے، جج پھر آئیں گے، فیصلہ پڑھ کر سنانا شروع کردیا ہے، فیصلہ بعد میں سنایاجائے گا۔ جج، فیصلہ، تاخیر، مزید تاخیراورایک بار پھر ڈیڈلائن یہ سب  6جولائی کی عدالتی کاروائی کےمناظرتھے۔ عدالت نے دن 12 بجے سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کی طرف سے کم ازکم سات روزکےلیے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی لیکن عدالت کو سات گھنٹوں کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سات بار موخر کرنا پڑا۔ اس بد انتظامی نے خود عدالت کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا تھا کہ اگر فیصلے کی تیاری نہیں تھی تو پھراتنی عجلت کیوں دکھائی جارہی تھی۔ عدالت میں موجود کچھ وکلاء کا خیال تھا کہ ایسے فیصلوں میں جان بوجھ کر تاخیر کی جاتی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے دیے گئے ایسے فیصلوں کی تاخیرکی مثالیں دینا شروع کردیں۔ عدالت اور احاطہ عدالت میں چہ میگوئیاں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ چھ جولائی کا دن مجموعی طور پر ایک گرم دن تھا۔

سورج پورے آب وتاب کےساتھ سروں پر راج کررہا تھا۔  صبح سویرے ہی جوڈیشل کمپلیکس کو سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا تھا۔ رینجرز کی واپسی چھ  جولائی کو عبوری حکومت کے دوران ہی ممکن ہوسکی۔ ٹرائل کے دوران مسلم لیگ نواز حکومت نے ایک کمپلیکس کا انتظام صرف پولیس کے حوالے کر رکھا تھا۔ ٹرائل کے دوران ایک بار رینجرز بن بلائے آئی تو حکومتی وزراء نے اس پر احتجاج کیا جس کے بعد رینجرز واپس چلی گئی۔ فیصلے کے دن چھ  جولائی کو سیکیورٹی پر مامور سینکڑوں اہلکار صبح سے شام تک مستعدد کھڑے نظر آئے۔ اطراف کے تمام راستے اور سڑکیں ہرطرح کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کردیے گئے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب نوازشریف اورمریم نواز کی غیر موجودگی میں اتنی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ فیصلے کے بعد ممکنہ صورتحال سے نمٹنے  کے لیے رینجرز، ایلیٹ اور پولیس فورسز کے اہلکار جگہ جگہ پر پوزیشن سنبھال کر کھڑے تھے۔ احاطہ عدالت میں مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے وکلاء میں خاتون وکلاء بھی شامل تھیں۔ نوازشریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی کو عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا گیاتھا، بعد میں انہیں  بھی اجازت مل گئی لیکن وہ فیصلہ سننے سے قبل ہی واپس روانہ ہوگئے۔ آصف کرمانی احتساب عدالت میں  نوازشریف کے ساتھ تقریباً تمام پیشیوں پر آتے رہے ہیں۔ وہ کسی کے لیے اجنبی نہیں تھے لیکن آج انہیں کوئی پہچاننے کی کوشش بھی نہیں کررہا تھا۔ سابق ایم این اے طارق فضل چوہدری فیصلے کے وقت احاطہ عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے فیصلے کے بعد کیمروں کے سامنے اپنا موقف بھی دیا۔

میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی دن بھرکمپلیکس میں موجود رہی۔ طویل وقفوں پر مشتمل پانچ سماعتیں ،چھ جولائی کے فیصلے کی خاص بات تھی۔تمام ٹی وی چینلز پر تجزیہ نگار سارا دن  فیصلے کا آپریشن کرنے کوچھری، چاقو لیے بیٹھے رہے۔ عدالت کی طرف سے فیصلے سے متعلق بار بار ڈیڈلائن میں تبدیلی سے ہیجان بڑھ گیا۔ فیصلے سے کچھ دیر قبل میڈیا کے نمائندوں پر بھی احتساب عدالت کے دروازے بند کردیے گئے۔ عدالت کے سامنے ایک واش روم کی کھڑکی سے کمرہ عدالت کے دروازے پر موجود صحافی احاطہ عدالت میں کھڑے صحافیوں کو تازہ ترین خبریں دے رہے تھے۔ آج عدالت کے داخلی دروازے پر رجسٹر تھامے ایک اہلکار کھڑا ہوگیا اور چند صحافیوں کے علاوہ وکلاء کو بھی اندرجانےسے روک دیا۔ واش روم کی یہ کھڑکی کسی کامیاب کھڑکی توڑ شو کی طرح کی تھی۔ ہر کوئی اس کھڑکی کے بارے میں دریافت کررہا تھا۔تاہم یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے بارے میں کوئی بھی غلط فہمی کا شکار نہیں تھا۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث فیصلہ سننے نہیں آئے۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز صبح آئے اورنوازشریف اور مریم نواز کی فیصلے میں تاخیر سے متعلق درخواست پر بحث کی اور پھردرخواست مسترد ہونے کے بعد فیصلہ سننے تک کمپلیس میں نہیں رکے۔ کیپٹن صفدر ملک میں ہوتے ہوئے فیصلہ سننے نہیں آئے۔ فیصلہ جب 3 بجے بھی نہیں سنایا جاسکا تو کمپلیکس میں اس حوالے سے چہ مگوئیوں  کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جج خود چیمبر سے کمرہ عدالت میں آئے اور کہا فیصلے کی کاپیاں اور کچھ صفحات میں تبدیلی کی وجہ سے وقت لیا جارہا ہے، جلد فیصلہ پڑھ کرسنا دیا جائے گا۔ فیصلہ سنانے کے لیے چار بجےکے قریب آخری ڈیڈلائن 30 سے 40 منٹ کی دے دی گئی۔ اس لحاظ سے فیصلہ چار بج کر تیس منٹ یا اس کے کچھ دیر بعد سنایا جانا تھا ،تاہم جج کچھ وقت پہلے ہی کمرہ عدالت آگئے۔ اس وقت کوئی صحافی عدالت میں موجود نہیں تھا۔ عدالت کے اندر موجود ذرائع نے بتایا کہ جج نے استفسار کیا کہ کمرہ عدالت کو کنڈی کیوں لگائی گئی۔ پراسیکیوٹر نیب سردار مظفرعباسی نے جواب دیا کہ فریقین موجود ہیں ،فیصلے کے بارے میں سب کو معلوم ہوجائے گا، صحافیوں کے آنے سے رش بن جاتا ہے۔ کمرہ عدالت میں وکلاء صفائی موجود نہیں تھے اور ان کے معاون وکلاء کچھ لوگوں کی اس ادا کو سمجھ نہ سکے اور انہوں نے بھی عدالت کو کہا کہ فیصلہ سنادیاجائے۔ عدالتی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ کمرے کو کنڈی لگانے سے متعلق انہیں یہ ہدایات نیب پراسیکیوٹر کی طرف سے دی گئیں تھیں۔ جج نے دوبار سے زائداپنا موقف دہرایا لیکن ان کے حکم پرتعمیل نہ ہوسکی۔ بعد میں جب ایک معاون وکیل کے کہنے پر دروازہ کھولا گیا تو صرف دو صحافی ہی کمرہ عدالت میں داخل ہوسکے، البتہ اس وقت جج نے  فیصلہ پڑھ کرسنانا شروع کردیا تھا۔ یہ تین منٹ کی عدالتی کاروائی تھی جس کے دوران پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو ان کی بیٹی اور داما سمیت سزا سنا دی گئی۔ عدالت کے عقبی دروازے پر بکتر بند گاڑیاں کھڑی تھیں لیکن ملزمان میں سے کوئی بھی عدالت میں موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ گاڑیاں واپس جیل کی طرف خالی لوٹ گئیں۔

جب جج محمد بشیرفیصلہ سنانے آئے تو مناظر چنداں مختلف تھے۔ وہ ہشاش بشاش تھے اوران کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ صبح ان کے چہرےپر قدرے پریشانی اور سنجیدگی طاری تھی، جب ان کو نوازشریف اورمریم نواز کی طرف سے فیصلہ موخر کرنے کے لیے دائر کی گئی  درخواست پر فیصلہ کرنا تھا۔ اس دفعہ جج نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کے معاون بیرسٹر سعد ہاشمی سے گپ شپ کررہے تھے۔ اپنے مخصوص انداز میں انہوں نے سعد ہاشمی کو یہ کہہ کر فیصلہ بھی سنا دیا کہ آپ جاکراپیل کردینا۔ اس پر سعد ہاشمی نے استفسار کیا کہ ہم اپیل کریں یا نیب کو اپیل کرنی ہوگی؟ جج نے  ملزمان کو دی جانے والی سزاوں سے متعلق ایک تفصیلی اقتباس پڑھ کر سنایا اورچیمبر کی راہ لی۔ نیب پراسیکیوٹر سردارمظفرنے ایک کاغذ پر سزاوں کی تفصیل نوٹ کی اور پھر فوری طور پر کمرہ عدالت سے نکل کر احاطہ عدالت کے اس دروازے پر جا کر رک گئے جہاں نوازشریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ رک کرمیڈیا سے بات کرتے تھے۔ آج کالے چشمے پہنے سردار مظفرپہلی بارعدالتی فیصلے کو اپنی جیت اور کامیابی کے طور پر پیش کررہےتھے۔ پراسیکیوٹر کی صرف آواز ہی  بلند نہیں  تھی بلکہ اس کی نظریں بھی آسمان کی طرف تھیں۔ وہ نیب کی قیادت کا شکریہ ادا کررہے تھے اور اس فیصلے کو اپنی ٹیم کی بڑی کامیابی قراردے رہے تھے۔ ابھی ان کے تعریفی کلمات جاری تھے کہ وہاں پر موجود صحافیوں نے کہا کہ وہ فیصلے سے متعلق جلدی سے کچھ بتادیں۔ وہ غصے میں آگئے اور کہا پہلے ان کی بات سن لی جائے پھر وہ فیصلے سے متعلق بھی آگاہ کردیں گے۔ صحافیوں کی کمرہ عدالت تک رسائی نہ ملنے کا سب سے زیادہ فائدہ نیب پراسیکیوٹر نے اس طرح اٹھایا کہ وہ خود سزا سے متعلق خبر میڈیا پر بریک کررہے تھے۔

فیصلے سنائے جانے کے کچھ دیر بعد تحریری فیصلہ بھی منظر عام پرآگیا جسے  نیب پراسیکیوٹر اپنی گاڑی کی ڈگی پر رکھ کر پڑھ رہے تھے اور پھر ان کی ترتیب بنارہے تھے۔ فیصلے میں کچھ املاء کی غلطیاں بھی موجود تھیں جس پر وہاں موجود صحافی بھی بحث کررہے تھے۔ ابھی فیصلے پر بحث جاری تھی کہ نوازشریف اور مریم نواز نے لندن میں مسلم لیگ کے پارٹی دفتر سے میڈیا سے بات چیت میں جلد وطن واپسی کا اعلان کردیا۔ نوازشریف نے اپنے بیانیے کے مطابق  موقف اختیار کیا کہ ایک دفعہ پھر خوف اور ڈر کی کیفیت مسلط کردی گئی ہے۔ انہوں نے اس صورت حال کو چند ججز اور جرنیلوں کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ قراردیا۔  احتساب عدالت نے اپنے فیصلے کو اگلے دن اردو میں بھی جاری کیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...