انتہا پسندی پر سیاسی جماعتیں کیوں یکجا نہیں؟

503

جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو پاکستان تحریک انصاف ، جمعیت اور وہاں لبرل سیاسی جماعت اے ۔ این ۔ پی کے کارکن بھی اس ہجوم کا حصہ تھے جنہوں نے مشال کے قتل کے بعد لاش کی بے حرمتی کی

مشال قتل کیس ، کے حوالے سے ایک نئی کہانی سامنے آ رہی ہے کہ مشال کے خلاف یونیورسٹی میں تقریر کر کے ہجوم کو اس کے قتل پر اکسانے والا پاکستان تحریک انصاف کا تحصیل کونسلر عارف ملک سے فرار ہو گیا ہے ۔ پولیس نے اب تک اس خبر کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی کی رہنماء بشریٰ گوہر کے ٹوئیٹ کے ذریعے پھیلنے والی اس خبر کے بعد پولیس کی جانب سے 4 مئی کو ایف ۔ آئی ۔ اے کو درخواست بھجوا دی گئی کہ عارف خان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا جائے تا کہ وہ ملک سے فرار نہ ہو سکے ۔ پولیس کو یہ خیال مشال کے قتل کے 21ویں دن آیا ۔ یہ قتل پہلے ہی روز انتہائی ہائی پروفائل کیس کی اہمیت اختیار کر گیا تھا جس کی وجہ سول سوسائٹی کی جانب سے مظاہرے ، سوشل میڈیا پر مشال کے لواحقین کو انصاف فراہم کئے جانے کی مہم اور میڈیا کی بھرپور کوریج ہے ۔ کیس کی نوعیت جان کر پولیس کو مختلف پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے ابتدائی تفیتش میں ہی تمام نامزد ملزموں کے نام ای ۔ سی ۔ ایل میں شامل کروانے چاہیے تھے ۔ دوسری اطلاع یہ بھی ہے کہ عارف فاٹا کے قبائلی علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہے اب یہ خبر بھی پولیس کی جانب سے ہی موصول ہوئی ہے اگر پولیس یہ جانتی ہے کہ عارف نے فاٹا میں پناہ لی ہوئی ہے تو اسے گرفتار کرنے میں دیر کیسی ؟ اور اگر واقعی عارف ملک سے باہر چلا گیا ہے تو اس کے بیرون ملک جانے کے بعد ای ۔ سی ۔ ایل میں نام ڈلوانے کی کارروائی کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ ہاں ایک اور کام ہو سکتا ہے کہ عارف کو وطن واپس لانے کے لئے انٹرپول کا سہارا لیا جائے ورنہ پولیس اسے جا کر فاٹا کے قبائلی علاقوں سے گرفتار کر لے ۔ کیا پاکستان تحریک انصاف کا ایک کونسلر ہی اتنا مضبوط ہے کہ وہ پولیس کی گرفت سے دور ہے ۔ پولیس کا دعوی ٰہے وہ اس کیس کے نامزد 49 ملزموں کو گرفتار کر چکی ہے لیکن عارف کی گرفتاری ابھی باقی ہے ۔ بشریٰ گوہر کے ٹوئیٹ کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے کیونکہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو پاکستان تحریک انصاف ، جمعیت اور وہاں لبرل سیاسی جماعت اے ۔ این ۔ پی کے کارکن بھی اس ہجوم کا حصہ تھے جنہوں نے مشال کے قتل کے بعد لاش کی بے حرمتی کی ، اس واقعہ کے بعد سب سے زیادہ سوالات اے ۔ این ۔ پی کے تربیت یافتہ کارکنوں پر اٹھائے گئے کیونکہ اے ۔ این ۔ پی جس سیاست اور اقدار کی بات کرتی ہے اس واقعہ میں اے ۔ این ۔ پی کے کارکن ان سیاسی روایات کے برخلاف نظر آئے اور یقینا یہ ایک بڑا تضاد ہے ۔ ہوسکتا ہے بشریٰ گوہر کا یہ ٹوئیٹ پاکستان تحریک انصاف پر سیاسی حملہ ہو ۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو بشریٰ گوہر کی جانب سے دی جانے والی اس خبر کے حوالے سے ان کے پاس ضرور کچھ ایسے شواہد ہوں گے جس پر انہوں نے یہ ٹوئیٹ کیا ۔ بشریٰ گوہر کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عارف کو گرفتار کروانے میں پولیس کی مدد کریں تا کہ اے ۔ این ۔ پی کے کارکنوں پر مشال کے قتل کے حوالے سے جو داغ لگا ہے وہ کسی حد تک تو صاف ہو ۔ خبیر پختون خواہ میں پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں ہے ۔ عمران خان نے اس بات کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے مشال خان کے گھر پہنچ کر خود تعزیت کی اور اس واقعہ کی مذمت کی وہ چاہیں تو اس کیس کی تحقیقات میں شفافیت کو قائم رکھوا سکتے ہیں کیونکہ عمران خان کئی بار یہ بیانات دے چکے ہیں کہ اگر پولسینگ کا نظام شفاف اور بہتر کرنا ہے تو خیبر پختون خواہ جا کر دیکھیں ۔ کے ۔ پی ۔ کے، پولیس پہلے بھی کئی اہم کیسز شفاف طریقے سے نمنٹا چکی ہو گی لیکن شائد وہ کیسیز ایسے ہوں گے جو عوام اور میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں تاہم مشال کیس اس وقت پوری دنیا کی توجہ حاصل کر چکا ہے ۔ اس کیس کی تحقیقات اور اس کے طریقہ کار سے یقینا یہ بات واضح ہو جائے گی کہ خیبر پختون خواہ پولیس کس حد تک قابل ہے ۔ اگر عارف فاٹا میں پناہ لئے ہوئے ہے تو وہاں کے قبائیلی علاقے ایسے ہیں جہاں ریاستی رٹ قائم نہیں ہے لیکن عمران خان چاہیں تو اپنی جماعت کے کارکن اور کونسلر عارف سے گرفتاری دلوا سکتے ہیں ۔ میری اطلاعات کے مطابق عارف ، عبدالولی خان یونیورسٹی کا طالب علم بھی نہیں ہے پھر کیسے اسے یونیورسٹی کے احاطے میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کی اجازت دی گئی اس فعل سے دھیان اس جانب ضرور جاتا ہے کہ یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے اور اس قتل کیس میں یونیورسٹی انتظامیہ کے ملوث ہونے کا پہلو کلئیر ہو جاتا ہے کیونکہ بغیر یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت کے کوئی آؤٹ سائیڈر ایسی حرکت نہیں کر سکتا ۔ عارف کی یونیورسٹی کی حدود میں غیر ذمہ دارانہ تقریر جو جان لیوا ثابت ہوئی ، اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری وہ سیاسی جماعت جو ہمیشہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی نمائندہ جماعت ہے اور ان کو شعور دے رہی ہے تو یہ بات سراسر غلط ثابت ہوئی ورنہ عارف کی ذہنی سطح قدرے بہتر ہوتی ۔ اے ۔ این ۔ پی وہ سیاسی جماعت ہے جس کی قیادت براہ راست دہشت گردی کا نشانہ بنی جس میں سابق صوبائی وزیر اطلاعات خیبر پختون خواہ میاں افتخار کے اکلوتے بیٹے اور بشیر بلور کی شہادت جیسے واقعات شامل ہیں لیکن مشال واقعہ میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اے ۔ این ۔ پی اپنے کارکنوں کی اخلاقی اور سیاسی تربیت کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ مشال قتل کیس میں مشال کے لواحقین کو انصاف ملے گا یا نہیں میں اس معاملے میں زیادہ پر امید نہیں ہوں لیکن سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی توہین مذہب کے الزام میں جان لینے والے مجرم کو سزا ملنے پر مشال کیس میں عدالتوں سے مایوس ہونا مناسب نہیں ، مشال سلمان تاثیر کی طرح اعلی حکومتی انتظامی عہدے پر فائز نہیں ۔ اس کیس میں انصاف کے حصول میں تاخیر یا ناکامی کی ایک اہم وجہ یہ ہو سکتی ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت شدت پسند مذہبی ماحول میں سلمان تاثیر کیس میں مجرم کو سزا دلوا کر مذہبی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بن چکی ہے لہذا اس بار اس معاملہ پر وفاقی حکومت کی خاموشی کا جواز ان کے پاس موجود ہے ۔ ہماری تمام سیاسی جماعتیں خود کو لبرل کہنے کی بیان بازی کر چکی ہیں وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی بقا لبرل ہونے میں ہی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے سیاسی جماعتیں اس معاملہ پر متفق تو نظر آتی ہیں لیکن الگ الگ ، اگر ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو روکنا ہے تو سیاسی جماعتیں مذہبی جماعتوں کے اثر سے نکلیں اور سیاست میں ان کی حدود کا تعین کرنے کے ساتھ انتہا پسندی کے خلاف مل کر کھڑی ہوں ورنہ اس نوعیت کے حساس کیسز میں بطور مثال سلمان تاثیر کے قاتل کو سزا دے بھی دی جائے تب بھی مشال قتل ہوتے رہیں گے انتہا پسند سوچ آپ کی یا آپ کے پیارے کی جان تو لے سکتی ہے آپ کو دے کچھ نہیں سکتی ۔ اس ملک میں صرف ٹوئیٹس ہی زہر قاتل نہیں ہیں انتہا پسندی پر سیاسی جماعتوں کا یکجا نہ ہونا زیادہ زہر قاتل ہے ۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...