انتخابی حلقوں میں آبادی کا مختلف تناسب

عمران مختار

155

25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کےلیے قومی اسمبلی میں مختلف انتخابی حلقوں میں آبادی کے تناسب کے حساب سے جو اعدادو شمار پیش کیے گئے وہ بڑے دلچسپ اور حیران کن تھے، کچھ حلقوں میں آبادی ملین سے زائد تھی تو کچھ میں 0.35 ملین بتائ گئ۔جتنے بڑے اختلاف کے ساتھ اس تعداد کو پارلیمانی الفاظ میں ظاہر کیا گیا ، اس کا سادہ سا مطلب یہ بنتا ہے کہ قومی اسمبلی کے چند ارکان ایک ملین افراد کی نمائندگی کریں گے اور ان کے ساتھ بیٹھے دیگر محض 0.35 ملین افراد کی ترجمانی کررہے ہونگے۔

حالیہ انتخابات 2018 میں سب سے زیادہ آبادی والا حلقہ NA-35 بنوں ہے جس کی آبادی 11،67000 ہے،جبکہ سب سے کم آبادی والا حلقہ NA-262 جھل مگسی/کچنی بلوچستان ہے جس کی آبادی 3،46000 ہے۔ان دونوں حلقوں میں آبادی کے اتنے بڑے فرق سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں، آیا ان دونوں حلقوں کے باسیوں کو یکساں حقوق ملیں گے یا  ان کی آواز ایوان زیریں ایک جیسی پہنچے گی؟2017 / 2018 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کی گئی تازہ حلقہ بندیوں کی روشنی میں قومی اسمبلی کے 272 حلقوں میں 141 پنجاب میں، 61 سندھ میں، 39 خیبر پختونخواہ میں، 16بلوچستان میں جبکہ فاٹا اور وفاق کے 12 حلقے ہیں۔ تازہ حلقہ بندیوں میں وفاق میں قومی اسمبلی کے تین حلقے بنے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا حلقہ NA- 35 بنوں سب سے زیادہ آبادی والا حلقہ ہے، جہاں سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان  درانی   امیدوار ہیں۔ اسی طرح آبادی کے لحاظ سے خیبر پختونخواہ میں سب سے چھوٹے حلقے NA- 37 ٹانک جس کی آبادی 3،91000 ہے ،وہاں پی ٹی آئی کے حبیب اللہ کنڈی، مسلم لیگ ن کے سمیع اللہ برکی، متحدہ مجلس عمل کے اسعد محمود نامور امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں قومی اسمبلی کے ان دو حلقوں میں آبادی کا فرق  7،50000 تک بنتا ہے.

پنجاب میں قومی اسمبلی کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا حلقہ NA-87 حافظ آباد ہے جس کی آبادی 11،56000 ہے. اس حلقے سے مسلم لیگ ن کی سائرہ افضل اور پی ٹی آئی کے چوہدری شوکت بھٹی امیدوار ہیں۔ پنجاب میں سب سے چھوٹا حلقہ NA-67 جہلم ہے جس کی آبادی 5،46000 ہے۔ اس حلقے سے قومی اسمبلی کے امیدوار تحریک انصاف سے فواد چوہدری اور مسلم لیگ ن سے راجہ مطلوب مہدی  امیدوار ہیں۔ ان دونوں حلقوں میں آبادی کے تناسب میں 0.6 ملین کا فرق ہے۔

صوبہ سندھ میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا حلقہ NA-197 کشمور ہے جس کی آبادی 10،89000 ہے۔ اسی طرح سب سے چھوٹا حلقہ NA-199 شکارپور ہے جس کی کل آبادی 5،88000 ہے۔ یہاں سے پیپلز پارٹی کے احسان مزاری اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے امیدوار عبدالغنی بجرانی مد مقابل ہیں۔جبکہ  شکارپور کے دوسرے  حلقے سے پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی کماریو اور گرینڈ الائنس کے غوث بخش مہر آمنے سامنے ہونگے۔قومی اسمبلی کے ان دونوں حلقوں میں آبادی کے تناسب کا فرق 0.5 ملین ہوگا۔

صوبہ بلوچستان  آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، جس میں قومی اسمبلی کی صرف 16 سیٹیں ہیں۔ یہاں سب سے بڑا حلقہ NA-268 مستونگ، چاغی، قلات، قلندر آباد اور نوشکی ہے۔اس حلقے کی کل آبادی 10،83000 ہے۔ یہاں سے پیپلز پارٹی کے سردار عمر، تحریک انصاف کے سردار اورنگزیب، مسلم لیگ ن سے عبدالقادر، بی این پی کے محمد ہاشم نامور امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔اسی طرح بلوچستان کے سب سے چھوٹے حلقے NA-262 جھل مگسی، کچنی جس کی کل آبادی 3،46000 ہے ۔یہ حلقہ پورے ملک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا حلقہ بھی ہے۔ اس حلقے سے بی این پی کے گوہر کاکڑ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عیسیٰ خادم، پاکستان پیپلز پارٹی کے قیوم کاکڑ مضبوط امیدوار ہونگے۔ قومی اسمبلی کے ان دونوں حلقوں میں آبادی کے تناسب کا فرق 7،37000 ہوگا۔

ترجمہ: محمد عبداللہ مدنی، بشکریہ دی نیشن

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...