پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام 2 روز ہ بین الاقوامی کانفرنس کی روئیداد (حصہ دوم)

431

دو روزہ کانفرنس کے آخری روزسیشن  میں  کانفرنس  کی صدارت  سابق مشیر قومی سلامتی جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کی جبکہ ڈاکٹر یینگ پروفیسر ساؤتھ ایشیا  یونیورسٹی  ،  ڈاکٹر شانتی ڈی سوزا اور پروفیسرڈاکٹر اشتیاق وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی گفتگو میں مہمان خصوصی تھے ۔

جنرل جنجوعہ  نے اپنی گفتگو میں شرکاء کی آمد پہ غیر ملکی مہمانوں  کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا عنوان اس وقت کی ضرورت ہے ۔ رابطہ اور تعاون  اس خطے کے ممالک کے لئے لازمی ہے۔ سیکورٹی اور اکانومی ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔ خطے میں استحکام  کا حصول ان دونوں کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ جنوب ایشیاء تنہائی کا شکار نہیں ہے۔ایشیا میں دنیا کی کل آبادی کا 60 فیصد رہتا ہے  ۔۔ لہذا دنیا کا مرکز ایشیا ہے ۔ پاکستان کا جغرافیہ دنیا کی 86 فیصد آبادی کو آپس میں جوڑتا ہے ۔ دنیا کی تجارت کے تمام راستے پاکستان سے جاتے ہیں ۔بھارت کو پاکستان کے ساتھ احترام کا رشتہ رکھنا ہوگا ۔ صرف پاکستان ہی  بھارت کو یورپ اور وسط ایشیا سے جوڑ سکتا ہے۔  بھارت کے لئے سی پیک میں شامل ہوئے بغیر خطے میں آزادانہ تجار ت بہت مشکل ہے ۔افغانستان ایک پل ہے رکاوٹ نہیں ہے ۔ مسلم دنیا کے پاس تما م وسائل ہیں۔ پاکستان مسلم دنیا کے بھی دل میں واقع ہے ۔ پاکستان پوری دنیا کے لئے مستقبل میں تجارتی راہداری ہے۔

ہندوستان سے آئے مہمان جناب سدھیرگلکرنی ایڈوائزر فورم فار نیوساؤتھ ایشیاء چین  نے کہا کہ جنرل جنجوعہ کی پریزنٹیشن بہت معلوماتی اور بروقت تھی ۔ ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت میں مجھے خوشی ہے کہ پاکستان  سی پیک کے ذریعے معاشی طور پر کامیاب ہونے جارہا ہے۔ رابطے کی بحالی سے ہم لوگ مل سکتے ہیں اور اس رابطے سے ہمارے درمیان غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں۔ گفتگو کا سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیئے چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ۔ پاکستان کے سابقہ سفراء سے مل کر مجھے احساس ہوا ہے کہ آپ کے اہم اہلکار بھی یہ کہتےہیں کہ اب ہمیں ہمارے منصوبوں کو نفاذ کی طرف لے کر جانا چاہیئے۔

میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہماری تہذیب  میں تنوع اور رنگارنگی ہماری مشترکہ کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ میری دعا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک کے طور پر باقی رہے ۔ چین کی طرح میری دعا ہے کہ بھارت بھی دنیا کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکے ۔ کوئی شک نہیں کہ بھارتی میڈیا سی پیک اور پاکستان کے بہت زیادہ خلاف ہے ۔ ہمیں پاک بھارت غلط فہمیوں اور مشترکہ معاشی مفادات کے لئے زیادہ کوشش کرنی ہوگی ۔ میں سی پیک کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ عبدالباسط صاحب سابق سفیر کا کہنا تھا کہ میں ایک اکیلا بھارتی ہوں جس نے عوام میں سی پیک کی کامیابی کے لئے دعا کی ہے ۔ میری دعا ہے میرے علاوہ بھی دیگر بھارتیوں کے یہی جذبات ہوں ۔

ڈاکٹر سید جعفر احمد  ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کراچی یونیورسٹی نے کہا کہ سی پیک اور دیگر منصوبے پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کے اختیار میں رہے تو ان کی کامیابی کے امکانا ت زیادہ ہیں ۔ سارک ممالک کے درمیان یونیورسٹیوں کی سطح پر تعلقات ہونے چاہیئں۔ بھارت اور پاکستان کے مابین  کتابوں اور رسائل کی ترسیل کو آسان ہونا چاہیئے ۔ ہمارے تعلقات کی سرد مہری ہمارے اکیڈیمیا میں بھی نظر آتی ہے ۔ بی جے پی کی حکومت کے بعد یہ حالات اور بھی مشکل ہوگئے ہیں ۔

پاک بھار ت معاشروں کے انتہاء پسند نفرت کے فروغ کے لئے دونوں طرف سرگرم ہیں ۔  سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ رابطے کی کوششوں کو مزید بڑھائے ۔ بھارت کو بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ پاکستان کو  بھی بھارت کے ردعمل کی  نفسیات سے نکلنا ہوگا ۔

ڈاکٹر اشتیاق احمد وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی نے کہا کہ سارک میں بھارت کے رویئے کے سبب پاکستان کو وسط ایشیااور چینی سربراہی میں قائم ایس سی او کے تجارتی رابطے میں شامل ہونا پڑا ہے ۔ چین کی ترقی کی وجہ سماج کے تمام شعبوں کو شامل کرکے جامع پالیسی کے ساتھ آگے  بڑھنا ہے ۔ پاکستان کو امریکہ کے زیر انتظام سرمایہ داری نظام میں زیادہ معاشی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ چین  کے متعلق یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ بحیثیت ملک ناکام ہوگا  مگر چین نے تمام اندازے غلط ثابت کئے ہیں ۔

بھارت سے آئی ہوئی مہمان ڈاکٹر شانتی ڈی سوزا نے کہا کہ رابطے کے فروغ کے  لئے چھوٹے اقدامات سے  شروع کرنا ہوگا ۔ خطے میں اور پاک بھارت سطح پر اکیڈیمیا کو ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا ۔ حکومتوں  کے اقدامات سے پہلے عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا۔

کانفرنس کے آخری روز کے اختتام پر مہمانوں میں اعزای شیلڈز تقسیم کئے گئے۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...