احتساب عدالت کا محفوظ فیصلہ۔۔۔اعلان باقی ہے

303

جج محمد بشیرایون فیلڈ ریفرنس میں 3 جولائی کی شام حتمی دلائل کے اختتام پر فیصلہ محفوظ کرتے ہی رخصت پر چلے گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ گھر سے ہی فیصلہ لکھ رہے ہیں۔ جمعرات 5 جولائی ان کی عدالت جانے کا اتفاق ہوا تووہاں  بندہ تھا نہ بندے کی ذات۔یہ وہ کمرہ عدالت ہے جہاں نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے دنوں میں کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی تھی۔ اب یہ عدالت ایک بڑے فیصلے تک بند پڑی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ عدالت بنی ہی صرف ایک ریفرنس کے لیے تھی۔ اب  یہاں  کسی مقدمے پر ڈیڈلائن کا ڈر ہے  نہ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی سے متعلق مقدمات کی سماعت ہورہی ہے۔ ایک وکیل جو کسی  مقدمے پر بحث کے لیے عدالت آئے ہوئے تھے ،نے کہا جج فیصلے بھی دیتے ہیں اور سماعت بھی کرتے ہیں ، مگروہ رخصت پر نہیں چلے جاتے۔ تاہم یہ مقدمہ ہائی پروفائل قراردیا جاتا ہے۔ جج محمد بشیر گئے کہاں ؟ اس بارے کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز 6 جولائی کو فیصلہ سننے احتساب عدالت نہیں آئیں گے۔ بیگم کلثوم نواز کی علالت کی وجہ سے وہ لندن میں ہیں۔ جمعرات کو ایک تحریری درخواست میں انہوں نے فیصلے کو کم ازکم 7 دن تک کے لیے موخر کرنے کی استدعا کی ہے۔ جج محمد بشیر کی عدم دستیابی کی وجہ سے درخواست کو وصول کرنے کے لیے بھی کوئی تیار نہیں تھا پھر وکیل کی استدعا پر رجسٹرار نے تحریری درخواست کو وصول کیا لیکن ساتھ ہی یہ تبصرہ بھی کیا کہ وہ عام طور پر درخواستیں وصول کرتے ہیں لیکن یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے اس لیے جج سے بات کرنی ہوگی۔ اب یہ معاملہ بھی جمعہ کو ہی ہوگا۔ جج محمد بشیر کی غیر موجودگی میں ایک دوسری عدالت کے جج نے نوازشریف کے خلاف ایک دوسرے العزیزیہ ریفرنس پر سماعت کرنے کی کوشش کی تو وکیل صفائی خواجہ حارث نے انہیں کہا کہ وہ واجد ضیاء پر جرح جج محمد بشیر کے سامنے ہی کریں گے۔ شاید غیر دانستگی میں جج ارشد ملک نے کہا ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلے کے بعد ان مقدمات پر بحث تو ان کے سامنے ہی کرنی پڑے گی۔ اس بات کا ایک مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ جج محمد بشیر ایون فیلڈریفرنس میں فیصلہ سنانے کے بعد نوازشریف کے خلاف دیگر دو ریفرنسز کی سماعت سے الک ہو جائیں گے اور پھر یہ ریفرنسز دوسری احتساب عدالت کو منتقل کر دیے جائیں گے۔

نوازشریف اور مریم نواز اب کسی غلط فہمی کاشکار نہیں ہیں۔ دونوں نے وطن واپسی پر چیلنجز سے نمٹنے کا عزم کررکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اللہ مالک ہے جو ہوتا ہے دیکھا جائے گا۔ نوازشریف اور مریم نواز نےلندن سے پیغام بھیج دیا ہے کہ وہ اپنی بیگم کلثوم نواز کی شدید علالت کی وجہ سے 6 جولائی جمعہ کو فیصلہ سننے نہیں آسکیں گے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ محفوظ کیا گیا فیصلہ ابھی نہ سنایا جائے اور اس کو کم ازکم 7 دن تک کے لیے موخر کیا جائے۔ ساتھ ہی درخواست میں انہوں نے اپنی واپسی اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی صحت یابی سے منسلک کردی۔ ذرائع کا اصرار ہے کہ انتخابات سے قبل نوازشریف اور مریم نواز پاکستان واپس آئیں گے اور  فیصلہ خلاف آنے کی صورت سرنڈر کرنے کے بعد تمام قانونی راستے استعمال کریں گے۔

نوازشریف نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ جس عدالت میں 100 دفعہ پیش ہوچکے ہیں، اس عدالت میں ہی جج کا فیصلہ جج کے سامنے  کھڑے ہو کرسننا چاہتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے پرویز مشرف کا نام لیے بغیر یہ واضح کیا ہے کہ وہ فوجی ڈکٹیٹر نہیں ہیں کہ بھاگ جائیں گے۔ نوازشریف کے خلاف فیصلہ سنانے کا امکان اب بھی موجود ہے۔ نوازشریف کی یہ خواہش ہے وہ فیصلہ سننے کے بعد عدالت سے نکل کر میڈیا سے بات کریں اور پھر اگر فیصلہ خلاف آتا ہے تو سیدھا جیل کی راہ پکڑیں اورراستے میں کارکنان کے جم غفیرکے ساتھ  جیل تک پہنچیں۔ یہ تاریخی لمحات ہوسکتے ہیں جو انتخابات میں ان کی پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور سیاسی نقشہ یکسر بدل سکتا ہے۔ نوازشریف نےجب یہ اعلان کیاہے کہ وہ چنددن  بعد ضرور آئیں گے تو اس وقت ان کے ساتھ مریم نوازبھی موجود تھیں جنہوں نےپہلے ہی میڈیا کےنمائندوں کو بتایا دیا تھا کہ وہ جیل سے نہیں ڈرتی ہیں اور یہ کہ وہ ضرورواپس جاکر مقدمات کا سامنا کریں گی۔ ایون فیلڈ ریفرنس فیصلے کے اثرات مریم نواز پرہونگے جو مسلم لیگ کی نئی قیادت کے طور پر 2018 کے انتخابات میں سامنے آنے والی ہیں۔ وہ ان چند خواتین میں سے ہیں جو براہ راست انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس سے قبل ان کی والدہ کلثوم نواز نے لاہور سے ضمی انتخابات میں کامیابی حاصل کی لیکن اپنی بیماری کے سبب وہ حلف تک نہ اٹھا سکیں۔ اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مریم نوازبھی نوازشریف کی سرپرستی میں سیاست کے میدان میں اتری ہیں۔ نوازشریف جو تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ملکی سیاست کے اتار چڑھاو کا حصہ رہےوہ اس حقیقت سے زیادہ باخبر ہیں کہ کب کیا فیصلہ کرنا ہے۔ ان کا بیانیہ اپنی جگہ لیکن فیصلہ کرتے وقت وہ زیادہ جذباتی نہیں ہوتے اور تمام عملی رستوں پر مشاورت کرتے ہیں۔ نوازشریف کےخلاف یہ تاثر مبالغہ پرمبنی ہے کہ وہ قریبی ساتھیوں سے مشاورت نہیں کرتے یاپارٹی رہنما صرف ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ نوازشریف ایسا ماحول بناتے ہیں کہ جس میں ہر ایک کھل کر اپنا موقف رکھتا ہے اور اس کے بعد نوازشریف اپنے زہن میں فیصلہ محفوظ کرلیتے ہیں جو ان کو بہترصورت لگتی ہے وہ رستہ اختیار کرلیتے ہیں۔ سیاست میں اپنے مستقبل کے اہم فیصلوں میں بھی مریم نواز زیادہ اپنے والد کی دانست پرہی انحصار کریں گی۔  نوازشریف انتخابات کی دوڑ سے پہلے ہی سے باہر ہیں اور اب ان کی کوشش ہوگی کہ کسی طریقے سے اپنی بیٹی کو اس طرح کی مشکل صورتحال سے بچایا جاسکے۔

نوازشریف کے قریبی ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ اس وقت پارٹی کے اکثر رہنما باپ بیٹی کےپاکستان آنے کی حمایت میں نہیں ہے اور وہ یہ سمجھتےہیں کہ  کلثوم نوازکی شدیدعلالت عوام میں کسی منفی تاثر کو اجاگر ہونےکا موقع نہیں دے گی۔ نوازشریف کو کچھ وقت ملے گا اورحالات میں بہتری آئے گی توبہتر فیصلہ کرنےمیں بھی آسانی رہے گی۔ نوازشریف کے ابھی جیل جانےکی صورت میں باقی تمام آپشن ختم مسدودہوجائیں گے۔ نوازشریف انتخابات سے قبل اہم اعلان کریں گے اور مریم نوازکے ساتھ واپسی کو بھی یقینی بنانےپر اہم پارٹی رہنماوں سے مشاورت بھی کررہے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 9 جولائی کو نوازشریف کے خلاف اپنی کارکردگی رپورٹ ہر صورت سپریم کورت بھیجنا چاہتے ہیں۔ ایون فیلڈ ریفرنس پر انہوں نےفیصلہ تحریر کرنا شروع کردیا ہے۔  مریم نواز اور کیپٹن صفدر قومی اسمبلی کی نشست کےامیدوار بھی ہیں ایسی صورت میں عدالت اپنے ہی فیصلے کو معطل کرکے ملزمان کو دو ہفتے کا وقت بھی دے سکتی ہے کہ وہ فیصلے کو چیلنچ کرسکیں۔ اگر ان کو اپیل تک ریلیف مل جاتا ہے تو پھر وہ انتخابی دوڑ سے بھی باہرنہیں ہونگے اور جیل سے بھی بچ جائیں گے۔ فیصلہ آنے کے بعد بھی انتظار نوازشریف اور مریم نواز کے واپس آنے کا ہی رہے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...