پانامہ کیس: فیصلے کے دن کیا ہوگا؟

231

شریف خاندان پر ایک اور جمعہ کی آمد آمد ہے۔ جمعہ کے دن سنایا جانے والا فیصلہ شریف خاندان پر بھاری گزرتا  آرہا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس بار مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے احتساب عدالت کے سے استدعا کی کہ  کیوں نہ جمعہ کو فیصلہ سنانے کی قسم توڑ ہی دی جائے اورفیصلہ ہفتے کے روز سنایا جائے۔ جج زیر لب مسکرائے اور فیصلہ برقرار رکھا۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ انتظار مریم نواز کو ہے کیونکہ ان کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں وہ بھی اپنے والد سابق وزیر اعظم نوازشریف کی طرح انتخابی سیاست کی دوڑ سے باہر ہوجائیں گی۔فیصلے کے دن اگر نواز شریف اور مریم نواز نہیں آتے تو پھر ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے قوی امکان ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان کے نہ آنے کی صورت میں فیصلہ نہیں سنایا جائے گا۔ اگر نوازشریف اور مریم نواز واپس آجاتے ہیں تو پھر فیصلہ سنایا دیا جائے گا اوراس پر فوری عملدرآمد بھی شروع ہوجائے گا۔ نوازشریف اور مریم نواز کے آنے کی صورت میں سیکورٹی  کے غیرمعمولی انتظامات کیے جائیں گے اور غیرمتعلقہ افراد کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ صرف ایسے صحافی عدالت جاسکیں گے جو باقاعدگی سے اس ٹرائل کی رپورٹنگ کرتے رہے جبکہ نوازشریف کے ساتھ ان کے قریبی پارٹی رہنما بھی عدالت جا سکیں گے۔

جج محمد بشیر نے فیصلہ سنانے کے لیے بہت کم وقت لیا ہے۔ سپریم کورٹ کےججز نے بھی فیصلہ سنانے کے لیے مناسب وقت لیا اور فریقین کی طرف سے پیش کیے گئے دلائل، دستاویزات اورعرضداشتوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد فیصلے سنایا۔ اس اعتبارسے ٹرائل کورٹ کے جج بہت جلد نتیجےپرپہنچے ہیں۔ نو ماہ  بیس دن میں پیش کی جانے والی ہزاروں دستاویزات، گواہان اور ملزمان کے بیانات، استغاثہ اور وکلاء صفائی کی طویل دلائل پر فیصلہ صرف دو دن میں کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنسز بھی جج محمد بشیر نے سنے تھے۔ انہوں نے کیس سننے کے بعد وکیل صفائی فاروق ایچ نائیک سے دوبارہ دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ اپنی یاداشت کو تازہ کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد نیب اور وکیل صفائی نے دوبارہ دلائل دیے اور آصف زرداری بری ہوگئے۔

شریف خاندان کے خلاف فیصلہ محفوظ ہونے کے ساتھ ہی مختلف آراء بھی سامنے آرہی ہیں۔ اگرملزمان کو بری کردیا جاتا ہے تو پھر یہ فیصلہ سپریم کورٹ ،جے آئی ٹی اور نیب سے ایک مختلف فیصلہ ہوگا جس کے امکان بہت کم ہیں۔ بہرحال عدالت نے فیصلے میں کیس کے میرٹ کا بھی ذکر کرنا ہے اور تفصیلی وجوہات بھی تحریر کی جانی ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ، گواہان کے بیانات اور فریقین کے دلائل کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ لکھنا ہے۔

کیا فیصلہ شریف خاندان کے حق میں بھی آسکتا ہے؟یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔ اس سوال کے جواب سے پہلے نیب اور شریف خاندا کے موقف پر سرسری نظر دوڑانی ضروری ہے۔ پراسیکیوشن کا موقف ہے کہ نوازشریف نے بچوں کے نام جائیداد رکھی ہوئی تھی اور بچوں نے باپ کے اثاثوں کو تحفظ دینے میں مدد کی۔ نیب کے مطابق شریف خاندان کا پرانا کاروباری طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنے نام جائیداد نہیں رکھتے، بلکہ دستاویزات میں کسی اور کو مالک ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ قانونی طور پر کوئی جرم نہیں ہے۔ نیب کے مطابق نوازشریف نے عوامی عہدیدار ہوتے ہوئے اثاثے بنائے اور اس حوالے سے پانامہ جے آئی ٹی نے ان کے موقف میں تضادات کی نشاندہی کی جس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ان کے خلاف فیصلہ سنایا۔ نیب نے موقف اختیار کیا کہ جائیداد کی ملکیت تسلیم شدہ ہے اور بار ثبوت ملزمان پر ہے۔ شریف خاندان سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر  لندن فلیٹس کی خریداری کے ذرائع  بتانے میں ناکام رہا۔کہاجاتا ہے کہ  فوجداری قوانین میں تکنیکی پہلو اہم نہیں ہوتے۔

نوازشریف اور مریم نواز کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا کہ نیب ثبوت دینے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ بار ثبوت استغاثہ پر تھا جو وہ تفتیش کے دوران نہیں تلاش کرسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے معلوم ذرائع آمدن نہیں بتائے گئے تو تضادات کیسے معلوم ہوا؟ دوران تفتیش نوازشریف کے خلاف کوئی دستاویزی ثبوت ملے نہ ہی کسی گواہ نے ان کے خلاف کوئی بیان دیا۔ جے آئی ٹی نے تفتیش نہیں کی صرف سپریم کورٹ کی طرف سے دیے گئے 13 سوالات کے جوابات دیے۔ جرح کے دوران وکلاء صفائی واجد ضیاء سے یہ کہلوانے میں کامیاب رہے کہ جے آئی ٹی کو 40 ماہرین کی خدمات بھی حاصل رہی لیکن وہ ماہرین کس شعبے، ادارے اور رینک کے تھے کچھ نہیں بتایا گیا نہ ہی ان کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ شریف خاندان کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی اور نیب نے جان بوجھ کر ایسے گواہان اور دستاویزات کو تفتیش کا حصہ ہی نہیں بنایا جن سے ملزمان کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔جے آئی ٹی رپورٹ کا بڑا حصہ تبصروں، تجزیوں، آراء اور نتائج پر مشتمل ہے۔  جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر اس ریفرنس میں طویل ترین جرح ہوئی۔ واجد ضیاء نے اپنا بیان چھ دن میں ریکارڈ کرایا اس کے بعد ان پر دس دن نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی اور چار دن مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے وکیل امجد پرویز نے جرح کی۔ برٹش ورژن آئی لینڈ کا ایک خط جے آئی ٹی کے والیم چار کے صفحہ 52 پر لگا ہوا ہے لیکن اس خط کو واجد ضیاء نے الگ سے عدالت کے سامنے پیش کیا اور درخواست دی کہ یہ رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا جاسکا اسے عدالتی ریکارڈ پر لایا جائے۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ واجد ضیاء نے خود یہ رپورٹ پڑھی ہی نہیں ہے اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ خط صفحہ 52 پر کون لگا کرگیا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ ہوسکتا ہے کہ 40 ماہرین نے جے آئی ٹی کی رپورٹ لکھی ہو اور پھر واجد ضیاء سمیت جے آئی ٹی کے چھ ممبران سے دستخط کرالیے ہوں۔ خاندانی اثاثہ جات پر نوازشریف سمجھتے ہیں کہ یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔

نیب نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس 8 ستمبر 2017کو دائر کیا تھا ۔ پہلی سماعت 14 ستمبر کو ہوئی ۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں   18گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ ان میں پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔ مزید شواہدکے دعوے کے ساتھ نیب نے 22جنوری کو ضمنی ریفرنس بھی  دائر کیا۔  مقدمے کی کُل 107سماعتیں  ہوئیں ۔ نواز شریف کی78، مریم نواز 80 اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی  92  پیشیاں ہوئیں۔ 11 جون 2018کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ بھی  ہوگئے تھے ،تاہم نواز شریف کے اصرار پر انہوں نے 19 جون کو دستبرداری کی درخواست واپس لے لی۔ عدالت نے 3 جوالائی کو سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا۔ احتساب عدالت نے اس کیس میں حسن اور حسین نواز کو پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دے رکھا ہے اور ان کا  ٹرائل بھی الگ کر دیا گیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...