پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام 2 روز ہ بین الاقوامی کانفرنس کی روئیداد(حصہ اول)

355

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام  جنوب ایشیائی خطے میں رابطوں کے مواقع اور جیو اکنامکس  کے امکانات کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز 27 جون 2018 کو اسلام آباد میں واقع سرینا ہوٹل میں  10 بجے پاکستان کے قومی ترانے سے ہوا۔

محمد اسمعیل خان ( منیجر پروگرامز) نے کانفرنس کا عنوان ، اغراض و مقاصد بیان کئے اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔

ابتدائی سیشن کے معزز مہمانوں میں اعزازی چینی سفیر ، امتیاز  فیروز گوندل ڈی جی ساؤتھ ایسٹ ایشیا ڈیسک وزارت خارجہ اور ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پاکستان محمد عامر رانا  شامل تھے ۔

ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز محمد عامر رانا نے خطے میں تعاون اور رابطے کی اہمیت پہ زور دیا ۔ انہوں نے اس معاملے میں درپیش مشکلات کا ذکر کیا ۔ پاک چین اکنامک راہداری پر بات کی اور مہمانوں کی آمد پہ ان کا شکریہ ادا کیا ۔

گوندل صاحب نے حکومت پاکستان کی ان کوششوں کاذکر کیا جو اس معاملے پر حکومت نے اٹھا رکھے ہیں ۔ انہوں نے چین پاکستان دوستی کا ذکر کیا ۔ پاک چین عوامی رابطے کی اہمیت کو بیان کیا ۔ صدر شی کے اقدامات کو سراہا ۔ آخر میں میزبان ادارے کا شکریہ ادا کیا ۔

مہمان خصوصی لی جیانگ جاؤ  معزز سفیر عوامی جمہوریہ چین نے شرکاء کی آمد پہ ان کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ  کانفرنس کا عنوان اس وقت کی ضرورت ہے ۔ رابطہ اور تعاون  اس خطے کے ممالک کے لئے لازمی ہے۔ ان کا خواب ہے کہ وہ ایک دن اسلام آباد سے کراچی پانچ گھنٹے بلٹ ٹرین پہ سفر کرکے پہنچیں ،  وہ چاہتے ہیں کہ ان کا خواب ہے کہ ایک مسافر اگر ناشتہ اسلام آباد میں کرتا ہے تو  وہ پانچ گھنٹے بلٹ ٹرین سے سفر کرکے دوپہر کا کھانا کراچی میں کھا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا خواب پورا ہونا کوئی مشکل نہیں ہے ۔

اس دوران انہوں نے نے چین میں بلٹ ٹرین منصوبوں  کی کامیابی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013 میں صدر شی نے سلک روڈ کا منصوبہ پیش کیا  تھا ۔ ساؤتھ ایشیا اس منصوبے کا اہم رکن تھا ۔ چین پاک اکنامک راہداری اور دیگر ملحقہ منصوبے اس کا حصہ ہیں ۔ پانچ سال بعد آج یہ وژن حقیقت میں بدل رہا ہے ۔ اور جنوبی ایشیا اس کا گواہ ہے ۔

اس منصوبے کے ذریعے خطے کے ممالک  کی ترقی ممکن ہوگی ۔ اس منصوبے کے ذریعے پاکستان ایشیاء کا اکنامک ٹائیگر بننا ممکن ہوسکے گا ۔

سی پیک اور اس کی کامیابی و اہمیت کے متعلق بات کرتے ہوئے وہ کہہ رہے تھے کہ ایک چینی کہاو ت ہے ۔  اگر تمہیں امیر ہونا ہے تو سڑک بناؤ، بہت امیر ہونا ہے تو ریل بناؤ بہت ہی زیادہ امیر ہونا ہے تو بلٹ ریل بناؤ۔

جب گوادر پورٹ پانچ سال کے لئے سنگا پور کے پاس تھی تو گروتھ کی رفتار آہستہ تھی ، جب اس کا انتظام چین کے پاس گیا ہے تو ترقی کی رفتار تیز ہوگئی ہے۔سی پیک سے 70 ہزار نوکریاں پیدا ہورہی ہیں ۔ توانائی کے شعبے میں 13 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی ہے ، پچھلے 4 سال سے چین کی ایف ڈی آئی پاکستان میں سب سے زیادہ ہے ۔ سی پیک سے پہلے چین کی ایف ڈی آئی پاکستان میں تیرہویں نمبر پہ تھی ۔ آج یہ پہلے نمبر پہ ہے ۔ سپیشل سلک روٹ سکالر شپ ، سیاحت ،فلم اینڈ ٹی وی ،سیمینار ، تھنک ٹینکس میں اضافہ اس کے علاوہ ہے ۔

سی پیک سے نہ صرف ٹریڈ اینڈ انویسمنٹ میں اضافہ ہوا ہے ۔ 2010 میں 2 ہزار پاکستانی طالبعلم موجود تھے ۔ 2016 میں یہ تعداد 22 ہزار تک پہنچ چکی تھی ۔ جبکہ یو ایس میں پاکستانی طلبہ کی تعداد 5 ہزار ہے۔ یوکے میں پاکستانی طلبہ کی تعداد 14 ہزار ہے۔  چین پاکستان کو تعلیمی اسکالر شپ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔

انہوں نے چین کا دیگر ممالک سے تقابل کرتے ہوئے بیان کیا کہ چینی سیاحت کی تعداد ، چینی سرمایہ کاری   کی رقم جنوب  ایشیائی ممالک میں دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے ۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام میں یہ توقع ظاہر کی کہ اس کانفرنس سے شرکاء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔

ابتدائی  سیشن کے اختتام پر ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز عامر رانا نے مہمانوں میں اعزای شیلڈز تقسیم کئے اور اس سیشن کے اختتام پہ گروپ فوٹو بھی بنایا گیا ۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز ( چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل ) اور ایمبیسیڈر (ر) جناب علی سرور نقوی  (ایگزیکٹو ڈائرایکٹر سنٹر فار انٹر نیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد )بھی شرکاء میں شامل تھے۔

ایمبیسڈر(ر) عزیز احمد خان نے دوسرے سیشن کا آغاز کیا ۔ انہوں نے کانفرنس کے موضوع کی اہمیت کے متعلق بیان کیا ۔ انہوں نے جنوب ایشیاء کی اس موضوع پہ کمزوری کا اظہار کیا ۔ انہوں کہا کہ جنوب ایشیاء ایک فطری علاقائی خطہ ہے جس کا کالونیئیل ماضی ایک جیسا ہے ۔ انہوں نے سارک کا ذکر کیا ۔ اور اس کی ایک علاقائی تنظیم کے طور پر ناکامی پہ افسوس کا اظہار کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث  (کراچی یونیورسٹی) نے اس موقع پر کہا کہ سرحدوں کو پُل  جیسا ہونا چاہیئے ۔ اس دوران

جناب یوبراج سندھرولا  ( ڈائریکٹر کھٹمنڈو سکول آف لاء)  نے جنوب ایشیائی ممالک کے مابین فضائی رابطوں کی مشکلات کا ذکر کیا ۔

پروفیسر وانگ شو ، ( ڈائریکٹر سنٹر فار ساؤتھ ایشیاء یونیورسٹی  بیجنگ چین) نے وضاحت کی  کہ بیلٹ اینڈ روٹ خطے  کے تمام مسائل کا حل نہیں ہوسکتا مگر یہ خطے کے بہت سے مسائل کے حل کے لئے ممکنہ طور پر ایک ذریعہ ہوسکتا ہے ۔ چین کے پاس دنیا بھر کے مسائل کا حل نہیں ہے ۔ چین کو تجارتی طور پر عالمی دنیا سے جڑے ہوئے محض 40 سال ہوئے ہیں ۔چین کا  تجاری مقصد خطے کی مثبت ترقی ہے ۔

بھارت سے آئے ہوئے مہمان جناب سدھیرگلکرنی (ایڈوائزر فورم فار نیوساؤتھ ایشیاء چین  کوآپریشن)نے اپنی گفتگو میں کہا  کہ میں یہاں بھارت سے  تمام محبت کرنے والوں کا سلام لے کر آیا ہوں ۔ شکر ہے کہ ہم دلی سے لاہور تک ہفتہ وار دو پروازیں رکھتے ہیں ۔ پاک بھارت تعلقات میں اعتماد کی کمی ہے ۔ خراسان سے اراکان کو جوڑنے کے لئے چین کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ پاک بھارت جیو اسٹریٹیجک ، جیو اکنامک ، جیو سیولائزیشن  مفادات ایک جیسے ہیں ۔ بلٹ اینڈ روٹ منصوبہ نہ صرف  چین کی ترقی ہے بلکہ یہ جنوب ایشیاء اور انسانیت کی ترقی ہے۔ صدر شی دنیا بھر کے سمجھدار اور وژنری لیڈر ہیں ۔ ان کی سوچ کو پوری دنیا کے ترقی پسند اور امن پسند احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ یہ ایک انقلابی منصوبہ ہے ۔ بھارت نے ابھی تک اس منصوبے کو قبول نہیں کیا ۔ لیکن بھارت اس منصوبے کی سوچ  کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ وزیر اعظم مودی بیجنگ میں کہہ چکے ہیں کہ بھارت ایس سی او ممالک سے زمینی رابطہ ممکن بنانا چاہتا ہے ۔ بھارت پاکستان اور چین کو بائے پاس نہیں کرسکتا۔ اسی طرح پاکستان علاقائی رابطے کے  لئے بھارت کو بائی پاس نہیں کرسکتا ۔

جنوبی ایشیاء دنیا کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے ۔ سی پیک ایک گیم چینجر ہے۔ ترقی یافتہ پاکستان بھارت کے مفاد میں ہے ۔ اسی طرح ترقی یافتہ بھارت پاکستان کے مفاد میں ہے۔ سی پیک کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ اگر بھارت اس میں شامل نہ ہو۔ اس کا نام بدلا جا سکتا ہے  اس میں افغانستان کو بھی شامل کیا جانا چاہیئے ۔ اس منصوبے کی کامیابی سے کشمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جاسکتا ہے ۔

سلک روٹ بنگال ٹو کابل جی ٹی روڈ کو دوبارہ احیاء کی ضرورت ہے ۔ سی پیک میں دیگر ممالک کوشامل کیا جائے اور اس منصوبے کو وسعت دی جائے ۔

جب ٹماٹر لاہور میں 300 روپے کلو تھے تب امرتسر میں یہ 40 روپے کلو مل رہے تھے ۔ صرف 30 کلومیٹر کے فاصلے  پر ، تجارتی تعلقات کی کمی کے سبب سرحد کے دونوں جانب ایسے مسائل موجود ہیں ۔ ہمیں باہمی تجارت کو فروغ دینا ہوگا ۔

سیشن کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا ۔

شرکاء کے تمام سوالات مسٹر کلکرنی سے تھے ۔ جس میں سی پیک پر بھارت کے سیاستدانوں کے منفی بیانات کے متعلق شرکاء نے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔

وقفہ سوالات کے اختتام پر ایمبیسیڈر عزیز احمد خان نے شرکاءمیں اعزازی شیلڈز تقسیم کیں۔

دوسرے سیشن  میں مہمانوں میں جناب انعام الحق سابق وزیر خارجہ ، بیرسٹر شہزاد اکبر سابقہ سپیشل پراسیکیوٹر نیب پروفیسر فضل الرحمن اسٹریٹیجک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ، افراسیاب خٹک سابقہ سینیٹر  شامل تھے ۔

بیرسٹر شہزاد اکبر  نے کہا کہ سی پیک کی کامیابی کے لئے پاکستانیوں کو اپنے کام کاج کی اخلاقیات کو بہتر بنانا ہوگا ۔ اس منصوبے کی کامیابی میں سیاسی معاشی اور آئینی مشکلات کا خدشہ ہے ۔ تاحال اس منصوبے کے بہت سے معاہدے ایم او یو کے تحت طے پائے ہیں ۔ یہ معاہدے آئینی پابندیاں لاگو نہیں کرتے ۔ دونوں ممالک کے درمیان آئینی فرق بھی ہے ۔ چین ایک سول لاء ملک ہے جبکہ پاکستان کامن لاء ملک ہے۔ سی پیک کے معاہدوں کے دوران ڈبلیو ٹی او کی شقوں کی بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ معاشی مقابلے کے دور میں کمزور فریق کےتحفظات کا خیال رکھنا بھی اہم ضرورت ہے ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر اس منصوبے کی زیادہ ورک فورس بھی چین سے آئے گی تو پاکستانی ریاست کے ان وعدوں کا کیا ہوگا جو کہ چھوٹے صوبوں سے کئے گئے ہیں کہ یہ منصوبہ چھوٹے صوبوں کے لئے آسامیوں کا بندوبست کرے گا ۔

پروفیسر فضل الرحمن ( اسٹریٹیجک اسٹڈیز نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد )نے کہا کہ ون بیلٹ ون روٹ صرف زمینی ، سمندری اور فضائی رابطے کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ یہ اس سے وسیع تر ہے ۔ یہ عوام کے درمیان رابطے کا منصوبہ ہے اگرچہ اس کو کامیاب بنانے میں مشکلات حائل ہوں گی۔ گلوبلائزیشن اس سے پہلے ایک مغربی تصور تھا مگر اب  ایشیائی ممالک بھی اس میں شامل ہیں اور ایشیاء کے ممبر ممالک اس میں شمولیت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔

چین کے علاوہ بھارت بھی ایسا ایک منصوبہ جاپان تک شروع کرنا چاہتا ہے ۔

پاکستان سال 2006 سے علاقائی رابطے کے ایسے منصوبے کا منتظر تھا ۔

چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا  کہ سی پیک میں متنازعہ امور بھی ہیں ۔ سب سے اہم مسئلہ روٹس کا تھا ۔ چین نے کہا کہ جو روٹ پہلے سے آپریشنل ہےاس سے ہی کام شروع کرلیا جائے ۔ تاہم اب اس مسئلے پر قابو پالیا گیا ہے ۔ (اگرچہ پروفیسر صاحب کے اس جملے پر بعد ازاں سینیٹر تاج حیدر نے اختلاف کیا )۔

ان کی گفتگو کا اختتام اس جملے پر تھا کہ ہم نے مواقع اور مسائل تلاش تو کرلئے ہیں مگر ہمیں ابھی یہ علم نہیں کہ ان مسائل کا حل کس طرح کرنا ہے ۔

افراسیاب خٹک صاحب ( سابقہ سینیٹر )  کا کہنا تھا کہ اگر کسی پورے خطے میں امن نہ ہوتو کسی ایک ملک میں امن نہیں ہوسکتا ۔ ہمارا خطہ بد قسمت ہے کہ یہاں ابھی تک علاقائی ربط اور تعاون ممکن نہیں ہوپایا ۔ پاک بھارت تنازعہ اس کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ سرد جنگ کی وراثت میں افغان جنگ کا بھی اس میں ایک اہم کردار ہے ۔ چاہ بہار اور گوادر میں کوئی جھگڑا نہیں ہے ۔ پاک بھارت پالیسی سازوں کو سرد جنگ کی ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا ۔

ہم نے سرحد پر باڑوں کے لئے جتنا خرچ کیا ہے  اس کی بجائے سرحد پہ سڑکوں کے لئے خرچ کرتے تو شائد خطے میں رابطہ اتنا مشکل نہ ہوتا ۔ جیواسٹریٹیجک کی بجائے جیو اکنامکس کو پالیسی بنانا اس وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ تجارت کی کامیابی کے لئے امن کی بحالی بہت ضروری ہے۔ امن کی بحالی کے لئے ہمیں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا ۔

جناب تاج حیدر صاحب (سابقہ سینیٹر و سربراہ 23 رکنی سینٹ کمیٹی آن سی پیک ) نے بتایا کہ  ان کے زیر اہتمام سینٹ کمیٹی نے 15 رپورٹس تیار کیں جو کہ سینٹ کی ویب سائٹ پہ موجود ہیں ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سی پیک کے روٹس کیا ہوں گے اور  یہ کس طرح آپریشنل ہوں گے اس معاملے میں چین کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ یہ پاکستان کا داخلی فیصلہ ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روٹس کی تقسیم منصفانہ نہ ہو ئی تو 10 ملین لوگ بے روزگار ہوں گے۔

انہوں نے اندورن ملک رابطے کی بابت بات کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا انہی علاقوں کو دوبارہ سڑکوں سے جوڑا جائے جو پہلے ہی بڑی تجارتی سڑکوں سے  جڑے ہوئے ہیں ۔  انہوں نے وضاحت کی کہ منصوبے کے تحت اسی موٹر وے کو اہمیت دی گئی تھی جو کے پی اور بلوچستان سے گزرے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں بڑی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں میں ہونی ہے  لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز میں سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا اب  ہمیں یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہماری جغرافیائی حیثیت محض ایک راہداری ملک کی ہے یہاں ہم خود بھی پیداواری حیثیت میں آئیں گے ؟

آخر میں انہوں نے کہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کا شکریہ کہ انہوں نے ہمیں سمجھایا کہ امپریلسٹ اکنامک منصوبوں سے کس طرح اپنے ملک کو بچایا جا سکتا ہے۔

حاضرین میں سے ایک سوال کے جواب میں چینی پروفیسر وانگ شو نے کہا کہ تجارتی رابطے میں کامیابی کے لئے لازم ہے کہ تنازعات کو ایک طرف رکھ کر تعلقات کو فروغ دیاجائے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک چین دوستی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ امریکی دباؤ بھی ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے  ۔ ان کا کہنا  تھا کہ چین کی ایران سے دوستی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چین اپنی سرمایہ کاری گوادر سے چاہ بہار منتقل کردے گا ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ چین جس بھی خطے میں تجارتی سرمایہ کاری کرتا  ہے وہاں کے میڈیا میں  چین کے خلاف سازشی نظریات جنم لینا شروع ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سی پیک پہ باہمی اعتماد کے لئے پاک چین ملاقاتوں کے 9 راؤنڈز مکمل ہوئے ہیں ۔

ہمایوں خان ( لیکچرار نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ) کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر کو بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے جبکہ بھارت کے نزدیک سرحد پار دہشت گردی پاک بھارت خراب تعلقات کی بنیادی وجہ ہے ۔ تاہم تنازعات کے دوران چین کا فہم یہ ہے کہ تنازعے کے دوران بھی تجارتی تعلقات کو ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔

پاک بھارت حکومتیں دونوں طرف کے انتہاء پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں ۔ انتخابات کے دوران یہ معاملہ مزید ابھر کر سامنے آتا ہے ۔ افغانستان کے حالیہ تنازعے میں بھارت کا کردار بھی پاکستان کے لئے باعث تشویش ہے ۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کی مغربی سرحد پر بھارت کی عسکری موجودگی اس کی قومی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہوگی ۔

افغانستان میں امن سی پیک کی کامیابی کے لئے لازمی ہے ۔

کشمیر کے مسئلے کے متعلق ماہرین کہتے ہیں کہ سی پیک کے دوران اس کی حیثیت ثانوی ہے ۔ پاک بھارت حکومتوں کو چاہیئے  وہ کہ انتہاء پسند عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہ بنیں ۔

برطانوی راج کے دوران تعمیر کیا گیا ریل کا نظام قیام پاکستان کے بعد بجائے ترقی کرنے کے بگاڑ کا شکار ہوا ہے۔ ہندوستان میں ریل کے شعبے میں خاطر خواہ ترقی ہوئی ہے ۔

بھارت کا بحیثیت ریاست سیکو لر تشخص مودی حکومت کے دوران خراب ہوا ہے ۔ موجودہ بھارتی حکومت کا کشمیر بیانیہ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں بنیادی رکاوٹ ہے ۔

بڑھتے ہوئے امریکہ بھارت تعلقات اور بھارت امریکہ نیوکلیئر ڈیل نیز امریکہ کا بھارت کے لئے نیوکلیئر سپلائرز گروپ  میں شمولیت کے لئے گرین سگنل پاکستان کے مطابق اس کی سیکورٹی کے لئے ایک بڑا  خطرہ ہے ۔

تعلقات کی یہی خرابی علاقائی ربط میں مشکل کا باعث ہے ۔

بھارت کی جانب سے سی پیک میں مثبت شمولیت کے بغیر اس منصوبے کی حقیقی کامیابی مشکل ہوگی ۔ تاپی اور آئی پی آئی گیس پائپ لائنز اس خطے کو  معاشی طور پر جوڑنے میں اہم منصوبے  ہیں ۔

پاک بھارت تعلقات میں بحالی میں مشکل کی ایک وجہ دونوں ممالک کا بیوروکریٹک کلچر بھی ہے ۔

محمد عامر رانا ( ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد) نے کانفرنس کے پہلے روز کے آخری سیشن میں  اختتامی کلمات کہتے ہوئے کہا کہ ہم چین اور خطے کے دیگر ممالک کے متعلق توہمات کا شکار ہیں ۔ پاکستانیوں کی اکثریت چین کو ایسے دیکھتی ہے جیسے مغرب میں چین کو دیکھا جاتا ہے ۔ یہاں ہم سے مراد ہماری ریاست کا طاقتور ایلیٹ طبقہ ہے ۔ جب ہمارا ہمارے پارٹنر ملک کے متعلق یہ نظریہ ہوگا تو ہمیں یہ توقع کیوں ہے کہ چین ہر عالمی فورم پر پاکستان کا ساتھ دے گا ۔ وہ چاہے ایف اے ٹی ایف کا معاملہ ہو یا کشمیر کا معاملہ ، چین کے لئے پاکستان کے ساتھ تعلقات سہولت کی شادی  جیسے ہیں  جس کے پیچھے بڑی وجہ اس خطے میں امریکی رویہ ہے ۔

پاکستان نے شائد چین میں پاکستان کے متعلق نقطہ نظر سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ ممکن ہے کہ یہ لسانی  یا ثقافتی تفاوت کی وجہ سے ہو۔ چین سے ہماری اجنبیت کا رویہ میڈیا اور عوام کی سطح پر اب کھل کر سامنے آرہا ہے ۔

بطور صحافی اور اکیڈیمیا ہمیں ان رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔ ہمیں اپنے بیانیئے پر ازسر نو سوچنا ہوگا ۔ ہمیں ہمارے ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی ضرورت ہے ۔ ہمارے توہمات نے ہمیں خطے میں بہتر تعلقات سے روک رکھا ہے ۔

بہت سے عالمی ادارے پاکستانی عوام کے متعلق بیان کر چکے ہیں کہ ہم لوگ اپنے ہمسائیوں کے متعلق منفی جذبات رکھتے ہیں  ۔ اگرچہ ہمارے  ہمسائیوں سے ہمارے تہذیبی ، ثقافتی ، لسانی اور مذہبی مشترکات  جڑے ہوئے ہیں۔ یہ

دور تنہائی کا دور نہیں ہے ۔ ہم عالمگیر دنیا میں اپنے خطے سے کٹ کر نہیں رہ سکتے ۔ ہمیں ماضی کے تعصب اور توہمات سے نکلنا ہوگا ۔ سی پیک اگرچہ ایک معاشی منصوبہ ہے  مگر اس کی وجہ سے ہماری ریاست اور سماج میں ساختیاتی تبدیلیاں متوقع ہیں ۔ یہ منصوبہ ہمارے سماج او ر ریاست کے درمیان آپس کا تعلق مزید مضبوط کرسکتا ہے ۔ اگر ہم نے اس کو مثبت سوچ کے ساتھ نافذ نہ کیا تو نتائج اس کے برعکس بھی ہوسکتے ہیں ۔

معروف صحافی عون ساہی (جن کا تعلق چینل 24 سے ہے )نے اپنے سوال اور تبصرے میں کہا کہ ہمارے صحافتی تعلقات پوری دنیا سے ہوں گے مگر اپنے خطے میں واقع بھارت ، ایران ، افغانستان اور چین میں ہمارے صحافیوں کے چینلز اور رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

اس  پر عامر رانا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب تک  ہمارا اکیڈیمیا خاص طور پر پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے مغرب کے تجزیئے پر انحصار کرتا رہے گا ہمارے تعلقات ہمارے خطے میں بہتر ہونا آسان نہیں ہے ۔ پینل میں شریک ایک ماہر کا کہنا تھا کہ اٹلی میں ایک سال کے دوران گیارہ حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر ان کی معاشی پالیسی ایک ہی رہی ۔ تجارت اور سیاست کو الگ کئے بغیر کوئی ملک  خطے میں پائیدار تعلقات قائم نہیں کرسکتا ۔

شوذب عسکری

سب ایڈیٹر سہ ماہی تجزیات و تجزیات ڈاٹ کام  اسلام آباد

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...