مذہب اور عقل

554

‘‘میں اِس کے درپے نہیں کہ سمجھوں اور پھر ایمان لاﺅں بلکہ میں ایمان لاتا ہوں تاکہ سمجھ سکوں۔’’

گذشتہ ماہ ہمارے ایک عزیز کی شادی خانہ آبادی کی تقریب تھی۔ بارات جب دلہن لے کر واپس آ رہی تھی تو کچھ راستہ پیدل چلنا ضروری تھا چونکہ اس راستے پر کوئی گاڑی نہیں آ سکتی تھی۔ لہٰذا معمول کے مطابق دلہن کو لانے کے لیے ایک ڈولی (پالکی)کا انتظام کیا گیا تھا۔ بارات میں شریک کچھ افراد کا کہنا تھا کہ ‘‘سنت’’ کے مطابق دلہن کو پیدل چلایا جائے۔ ڈولی میں اسے لے کر جانا خلاف سنت اور بدعت ہے۔ دولہا اور دلہن کے گھر والے تو ڈولی پر راضی اور خوش تھے لیکن کچھ باراتیوں کا یہی موقف تھا، جو ہم نے ذکر کیا۔ یہ باراتی اپنی بات نہ مانے جانے پر شادی کے بارے میں دیگر تقاریب میں شریک نہ ہو ئے۔

ہمارے لیے یہ واقعہ بہت فکر انگیز تھا۔ ہم نے یہ سوچنا شروع کیا کہ کیا ہر وہ کام جو نبی پاکؐ کے زمانے میں نہیں ہوا یا جس انداز سے نہیں ہوا اسے اختیار کرنا بدعت قرار پائے گا؟ بدعت کی ایسی تعریف ہماری سمجھ میں نہیں آسکتی۔ ہم تو آج تک یہی سمجھتے تھے کہ مذہب کے نام پر کوئی ایسی چیز ایجاد کرنا جو مذہب کا حصہ نہیں ہے، بدعت ہے۔ اگر بدعت کا یہ مفہوم معاشرے میں رائج ہو جائے جس کا اظہار ڈولی کے مسئلے پر مذکورہ بالا گروہ نے کیا تو پھر پورا معاشرہ جامد ہو کر رہ جائے۔ پھر اس گروہ کو اپنے لباس پر بھی نظر ثانی کرنا چاہیے اور اپنی عصر حاضر کی سواریوں پر بھی۔ انھیں اپنی خوراک اوراس کے پکانے کے طریقے سے لے کر سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں وجود پانے والے سارے مظاہر پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ ان کی تعریف کے مطابق تو پھر ان کی اپنی زندگی میں بدعتیں بہت زیادہ ہو جائیں گے اور سنتیں بہت کم رہ جائیں گی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس فکری پس منظر میں یہ اہم سوال موجود ہے کہ دین و مذہب کے نزدیک عقل کی کیا حیثیت ہے۔ مذہب شناسی اور معمولات زندگی میں عقل کا کردار کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے۔ جب تک عقل انسانی کا درست کردار متعین نہیں ہوگا یہ اور ایسے مسائل جاری رہیں گے۔ مذکورہ واقعے نے ایک ہی گاﺅں کی آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک گروہ سنت کا طرف دار اور دوسرا بدعتی۔

ماضی میں ہمارے فقہاءشرعی حکم کی شناخت کے لیے جن منابع کو بروئے کار لاتے رہے یا جنھیں بروئے کار لانے کو درست سمجھتے رہے، ان میں قرآن وسنت کے بعد تمام تر یا بیشتر کی حیثیت عقلی منابع ہی کی ہے۔ مثلاً اجماع، قیاس،استحسان، مصالح مرسلہ اور ایک گروہ کے نزدیک خود عقل بھی۔ ان تمام مصادر یا منابع کی بنیاد عقل ہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک گروہ نے ان میں سے کسی منبع کو قبول کیا اور کسی نے نہیں کیا لیکن کوئی ایسا گروہ نہیں جس نے بعض عقلی منابع کو حکم شریعت کو سمجھنے یا اخذ کرنے کے لیے قبول نہ کیا ہو۔

افسوس وقت کے ساتھ ساتھ جمود بڑھتا چلا گیا۔ تقلید اور تقلید محض یا اندھی تقلید نے عقل کے سوتوں کو گویا خشک کردیا۔ عقل کو بروئے کار لانے کی حدود فقط اپنے پسندیدہ اسلاف کے نقطہ نظر کو سمجھنے تک محدود ہو گئیں۔ خود اسلاف نے تو عقلی منابع کو برتا لیکن پیروکاروں نے اس سلسلے میں اسلاف کی روش بھی ترک کردی۔

عقل کی حیثیت کا تعین دین کی بنیادی تعلیمات یا عقائد کو سمجھنے، انھیں قبول کرنے یا مسترد کرنے کے بارے میں بھی زیر بحث رہا اور احکام کی شناخت میں بھی۔ یہ مسئلہ فقط مسلمانوں کو درپیش نہیں رہا بلکہ غیر مسلموں میں بھی ہمیشہ معرکة الآرا رہا ہے۔ اگر یہ مسئلہ فقط ایک یا چند احکام سے متعلق ہوتا تو ہم اسے اپنی ترجیحاتِ بحث میں شامل نہ کرتے۔ ہمارے نزدیک عقل کا مسئلہ بہت اہم ہے اور ہمارے معاشرے میں عقل گریز رویے نے جو گل کھلائے ہیں وہ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اہل علم و دانش کو یہ دعوت دیں کہ وہ مل بیٹھ کر نئے سرے سے عقل اور مذہب کے تعلق پر غوروفکر کریں۔

یہ دعوت خود معرفت انسان سے بھی مربوط ہے اور ذرائع علم سے بھی اور وہاں سے چلتے چلتے احکام شناسی تک اس کی بازگشت جاتی ہے۔

غیر مسلموں کے ہاں بالخصوص مسیحی دنیا میں عقل اور مذہب کا تعلق بہت زیادہ زیر بحث رہا ہے۔ جب تثلیث اور اللہ کی جسمانیت کے بارے میں مسیحیت کو بنیادی سوالات کا سامنا کرنا پڑا تو بہت سے مسیحی دانشوروں نے کہا کہ انسانی عقل محدود ہے اور معرفت کے لیے اس کی قوتیں محدود ہیں۔

توماس آکیوناس کا کہنا ہے کہ تثلیث اور جسمانیت کے بارے میں وحی کی مدد کے بغیر عقل کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں۔ اس کے الفاظ میں:

‘‘خدا تثلیث یا خلقت کائنات کے حقائق کے کشف اور ان تک رسائی وحی کی مدد کے بغیر عقل کے لیے ممکن نہیں۔’’

سینٹ آگسٹن کہتا ہے:

‘‘وجود خدا کے بارے میں علم فقط مسیح کے ذریعے ممکن ہے۔ ایسے موضوعات ہیں کہ جنھیں عقل کے ذریعے کشف کیا جاسکتا ہے(فلسفی مطالب) لیکن علم دین کے حصول کے لیے اسفار کتب مقدس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔’’

گلسن نے نقل کیا ہے :

‘‘عقل ناگزیر طور پر محسوس کی طرف رخ کرتی ہے اور یہ امر اس دنیا میں اس کی موجودہ زندگی کا لازمہ ہے، اس لیے کہ پہلی معصیت نے طبع انسانی کو نقصان پہنچایا ہے لیکن اسے بکھیر نہیں دیا۔’’

البتہ ایسے مسیحی دانشور بھی ہیں جو عقل اور وحی کے مابین ہم آہنگی کے قائل ہیں۔ یہی معاملہ مسلمان دانشوروں میں بھی رہا ہے۔ چنانچہ قاضی ایجی کا معروف قول ہے :

‘‘عقل حسن و قبح کا ادراک نہیں کر سکتی۔’’

فخر رازی جو باقی تمام امور میں عموماً عقلی رویہ رکھتے ہیں رویت خدا کے بارے میں کہتے ہیں:

‘‘ ہم دلیل منقول کی بنیاد پر رویت خدا کو ممکن جانتے ہیں۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم دلیل منقول یعنی نص قرآنی کی بنیاد پر خدا کو دیکھ سکتے ہیں۔’’

شہرستانی کہتے ہیں:

‘‘اشاعرہ کی نظر میں واجبات سمعی ہیں۔ شکر منعم، اطاعت گزاروں کی جزاءگناہگاروں کی سزا شرع کی وجہ سے واجب ہے، عقل کی وجہ سے نہیں۔’’

اس گروہ کے مقابل تاریخ میں ایک اور گروہ رہا ہے جسے معتزلہ کہتے ہیں۔ یہ عقل کی طرف میلان رکھنے والوں کا کلامی فرقہ ہے۔ عقائد میں تو یہ اہل سنت ہی کا ایک گروہ ہے،تاہم اہل حدیث اور اشعری نظریات رکھنے والوں سے اس کی فکر مختلف رہی ہے۔ یہ ایسے فکری گروہوں میں سے ہے جو عقل و وحی کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ابو حامد غزالی نے تو فلاسفہ کے خلاف اپنی معروف کتاب تہافت الفلاسفہ لکھی ہے۔ انھوں نے ابن سینا جیسے بعض فلاسفہ جو حشر جسمانی کو عقلاً ممکن نہیں جانتے کے خلاف سخت نقطہ نظر اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ عقل اس سے کہیں عاجز تر ہے کہ وہ قوانین دین کی جزئیات کے مقابل ٹھہر سکے۔ دوسری طرف ابن رشد اور بو علی سینا جیسے لوگ عقلی نقطہ نظر سے عقائد و احکام پر غوروفکر کرتے رہے ہیں۔ ابن رشد عقل و مذہب کے مابین توافق کی کیفیت پر اس طرح سے استدلال کرتے ہیں:

‘‘وحی نے عقلی لحاظ سے غوروفکر کرنے کو نہ فقط حرام قرار نہیں دیا بلکہ ایسا کرنے کوکہا ہے، اس لیے کہ یہ شریعت کے تکلیفی احکام میں سے ہے کہ لوگ ماہیت موجودات کے بارے میں تحقیق کریں۔’’

اس کے بعد وہ قرآن کی ان آیات کو پیش کرتے ہیں جو اسی مضمون پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:

‘‘یہ اس لیے کہ ماہیت موجودات کے بارے میں تحقیق کرنے سے انسانوں کا ذہن صانع کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ فلسفے کا کام بھی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس طرح واضح ہو گیا کہ فلسفہ شرعاً واجب ہے یا مستحب۔’’

فارابی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پہلا فلسفی ہے جس نے اپنے فلسفی مباحث میں نبوت پر بات کی ہے۔

ہماری اس ساری گفتگو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عقل کے مذہب کے حوالے سے دائرہ کار پر بحث ادیان و مذاہب کا ایک موضوع رہی ہے۔ عصر حاضر میں اسلاف اور اکابر پرستی کی اندھی روش نے عالم اسلام کو بہت مشکلات سے دو چار کررکھا ہے۔ حرفیت پسندی نے رفتہ رفتہ انتہا پسندی اور پھر آگے بڑھ کر دہشت گردی کی شکل اختیارکرلی ہے۔ اسلامی معاشرے اور اسلامی ممالک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ اس کی سیاسی وجوہات بھی ہیں، عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں بھی اس میں شریک قرار دی جاسکتی ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی ایک بھاری اکثریت کی سطح بینی نے دشمنوں کے لیے ہموار زمین کا کردار ادا کیاہے۔

ہمارے بہت سے مذہبی دانشورجو کھل کر تو اس موضوع پر بات نہیں کرتے لیکن جب وہ احکام کا فلسفہ بیان کرنے پر آتے ہیں تو گویا احکام کے پیچھے عقلی دلائل ہی تلاش کررہے ہوتے ہیں یا پیش کررہے ہوتے ہیں۔ وہ آگے بڑھ کر عقل کے کردار کے تعین پر بات کرنے کے لیے کم ہی آمادہ ہوتے ہیں۔ شایدوہ جامد فکر لوگوں کے اثرو رسوخ سے خوفزدہ ہیں، یا ممکن ہے خود ان کی عقل آنسلم قدیس کی طرح بس یہ کہنے پر اکتفاءکرتی ہے:

‘‘میں اِس کے درپے نہیں کہ سمجھوں اور پھر ایمان لاﺅں بلکہ میں ایمان لاتا ہوں تاکہ سمجھ سکوں۔’’

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...