رجب طیب اردگان : جدید ترکی کا معمار

272

 

خاموش مگر مستقل مسلسل سیاسی سفر سے آغاز کرنے والے طیب اردگان ترکی میں سیاست کے انمٹ گرو بن چکے ہیں ۔ مصطفیٰ کمال اتاترک کے بعد انہیں بجا طور پہ جدید ترکی کا معمار کہا جاسکتا ہے ۔  موجودہ انتخابات میں  فیصلہ کن کامیابی کے بعد وہ ترک تاریخ کے طاقتورترین صدر بن کر ابھرے ہیں ۔ ان کی متعارف کردہ انتخابی اصلاحات کے بعد انہوں نے وزیر اعظم کا عہدہ ختم کردیا ہے ۔ وزراء کی تعیناتی اور برطرفی مکمل طور پر ان کی صوابدید ہے ۔عدلیہ ان کی من منشاء کے تحت ہے ۔ وہ جب چاہیں ایمرجنسی نافذ کرکے ترک آئین معطل کرسکتے ہیں ۔ آئندہ انتخابات کے انعقاد تک جو کہ اگر ہوتے ہیں انہیں کسی بھی بڑی سیاسی اپوزیشن کا بظاہر کوئی خطرہ نہیں ہے ۔

وہ اپنے حامیوں سے  خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ” ہم نے پہلی بار ترکی کا نظام سیاست عوام کی طاقت سے بدل دیا ہے ۔ ” دوسال پہلے کی ناکام فوجی بغاوت اور اس کی باقیات کو مکمل تلف کردینے کے بعد حالیہ انتخابات میں ان کی افسانوی جیت کے بعد ان کے بیان پر شک کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی ۔ ان کے مطابق جدید  ترکی میں طاقتور صدارتی نظام اس لئے لازمی تھا کہ ماضی کی طرح اب کوئی سیاسی عدم استحکام کسی غیر سیاسی طاقت کی جانب سے ترک سیاست کی بساط نہ لپیٹ سکے۔

1960 اور اس کے بعد کی آئندہ تین دہائیوں تک ترک فوج جو کہ خود کو بطور ادارہ کمال اتاترک کے سیکولر ازم کا محافظ سمجھتی تھی تین مرتبہ سیاسی بساط لپیٹ چکی تھی ۔ مزید یہ کہ  ترک فوج حب الوطنی اور ریاست کے تحفظ کی آڑ میں سیاست کو بظاہر ایک باندی سے بڑھ کر  کوئی حیثیت دینے پر تیار نہیں تھی ۔ اردگان کے مضبوط سیاسی دور سے قبل فوج کو ریاست کے اندر ریاست کی حیثیت حاصل تھی ۔

اردگان نے اپنی سیاسی جماعت جسٹس ایند ڈویلپمنٹ پارٹی جسے عرف عام میں اے کے پارٹی کہا جاتا ہے کی جڑیں ترکوں کی مسلم شناخت میں گہری پیوست کردی ہیں ۔ فوج کی جانب سے سختی سے نافذ ترک سیکولر سماج کی اقدار اور اقتدار پر اس کی مسلسل گرفت کو ڈھیلاکرنے میں اردگان کی سیاسی جماعت کا سفر طویل اور مشکلات سے پُر رہا ہے ۔ ترک سیاست کے اس پیرائے کو بدلنے میں اردگان کی ذاتی حیثیت میں مسلسل محنت اور عوامی خدمت و معاشی کامیابی کی ضمانت اور عوام تک اس کا پھل ،ان کے سیاسی کمال کی وجہ بنا ہے ۔

آج جبکہ مغربی میڈیا اور ان کے ناقدین ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی آزادیوں کی بندشوں کا الزام لگاتے ہیں اور ناکام فوجی بغاوت کے ذمہ داروں کے خلاف ان کے سخت کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہیں تو ترکی کے اندر عوامی سطح پہ ایسا کوئی احتجاج نہیں اٹھتا جیسا احتجاج ترک فوج کی بغاوت پر اردگان کے حق میں نظر آیا تھا۔ آج ترکی میں وہ اڑھائی سو افراد جنہوں نے ترک جمہوریت اور اردگان کی حکومت کے حق میں فوج کے باغی گروہ سے ٹکراتے ہوئے جان دی شہدا کہلاتے ہیں ۔ جبکہ سلاخوں کے پیچھے قید اس بغاوت کے منصوبہ سازوں کے  حق میں سوائے اردگان کے سیاسی مخالفین کے کوئی مضبوط آواز ابھرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

ترک صدر نہ صرف عالمی سطح پر اہم سیاسی رہنما ء بن کر ابھرے ہیں بلکہ ان کے ہاتھ ترکی کے عوام کی حساس نبض پہ بھی مضبوطی سے قائم ہیں ۔ ترک ریاست اور اس کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ سمجھے جانے والے کرد گروہ ان کے نشانے پر ہیں ۔ وہ ان کے خلاف فوجی کاروائی کے لئے ترک فوج کو شام میں کاروائیوں کی اجازت دے چکے ہیں ۔ وہ نیٹو کے اتحادی ہونے کے باوجود شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے ایران اور روس کے ہمنوا دکھائی دیتے ہیں ۔ شام کے فوجی تنازع میں روس کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات کو سنبھال کر ، فلسطین اسرائیل تنازع میں سخت مگر پریکٹیکل حکمت عملی کے ساتھ دونوں فریقوں کو اپنے مفاد میں رکھ کر اور یورپی یونین کے ساتھ ایک محتاط فاصلہ رکھتے ہوئے ترک معیشت  کوکامیاب  اور پراعتماد بنا کر انہوں  حالیہ انتخابات میں اپنے مخالفین کو شکست دی ہے ۔ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ ” وہ دن گئے جب ترکی یورپی یونین میں شمولیت کے لئے درخواست دیا کرتا تھا۔” تو کوئی اس بیان کو محض سیاسی بیان نہیں سمجھتا ۔ کیونکہ ترکی کی خارجہ پالیسی اب آزاد ہے اور اس کی معیشت مضبوط ہے ۔ عالمی امور کے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے   عالمی طاقتوں کے لئے اب ترکی کو نظرانداز کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔

مغرب اگرچہ اردگان کو پسند نہیں کرتا کیونکہ و ہ ترکوں کے مسلم تشخص پہ عائد سرکاری پابندیوں کے خاتمے پہ یقین رکھتے ہیں ۔ سعودی قیادت میں مشرق وسطیٰ کے سیاسی کھلاڑیوں کو وہ اس لئے چبھتے ہیں کہ وہ ان کے حمایتی مغربی کیمپ سے نکلتے جارہے ہیں اور ان کی پینگیں ماسکو اور تہران تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ ماضی میں بشارالاسد سے سخت اور عملی مخالف اردگان اب شام کے تنازع پر روسی مصالحت کے زیادہ قائل نظر آتے ہیں ۔

ان کی حالیہ کامیابی کے اسباب دیکھے جائیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ خطے میں تنازعات کے حل کے لئے ان کے عملی اقدامات ، اپنی قیادت میں ترکی کی کامیابیوں کا برملا اظہار، غیر معمولی اختیارات کے حصول کے لئے غیر معذرت خواہانہ انداز میں عوام سے حمایت پر اصرار اور سب سے آخر میں شام جیسے آتش فشاں تنازع میں تیزی سے ابھرتے ہوئے مغربی اتحاد کے پسندیدہ لڑاکے کردوں سے اپنی سرحد کے تحفظ کے لئے  جنگ کرنا ، یہ وہ عوامل تھے جن کے بل بوتے پر وہ سیاسی کامیابیوں کی سیڑھی پہ تن تنہاء بہت تیزی سے اوپر چڑھے ہیں ۔

اگرچہ یہاں پاکستان میں بھی ان کے چاہنے والوں کی تعداد کم نہیں ہے ۔  جہاں ایک جانب بعض مصلح نما دانشوران انہیں عالم اسلام کا صلاح الدین ایوبی سمجھتے ہیں  وہیں دوسری جانب ایسے سیاسی مفکرین بھی ہیں جو ان کی سیاسی  کامیابیوں  اور ترک فوج پر ان کی آہنی  گرفت کو پاکستان کا ممکنہ  سیاسی مستقبل  سمجھتے ہیں ۔

راقم کے خیال میں کسی بھی ایسی سیاسی پیشگوئی پہ کان دھرنے کے لئے 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے نتائج کا انتظار کرنا ہی ایک مناسب امر ہوگا۔

 

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...