چیف جسٹس سے ایک تلخ سوال

شیخ رشید اتوار کو صبح سویرے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک پہنچے۔ کچھ دیر بعد چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ عدالت میں داخل ہوا اور شیخ رشید کو روسٹرم پر بلا کر راولپنڈی میں ایک زیر تکمیل منصوبے کی جلد تکمیل سے متعلق سماعت شروع کردی۔ چیف جسٹس نے شیخ رشید کو موقع دیا کہ سب کہہ دو۔ پھربھابڑا بازار کا سیاستدان ایسے بولنا شروع ہوا، جیسے  کسی موبائل کمپنی کے ہزاروں فری منٹس  آفر کی   پروموشن کررہاہو۔ یہ اشتہار بلا تاخیر چلا اور پھر خوب چلا۔ شیخ رشید نے کہا اس منصوبے کا خواب راولپنڈی کے ایک رہائشی ہندو نے دو سو سال پہلے دیکھا تھا جس پر پرویزمشرف کے دور میں 2005 میں کام شروع کیاگیا تھا۔ منصوبہ شیخ رشید کے حلقے میں ہونے کی وجہ سے بعد کی حکومتوں کی توجہ حاصل نہ کرسکا۔ شیخ رشید نے چیف جسٹس کی منصوبے میں ذاتی دلچسپی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی عمر بھی ان کو عطیہ کرنے کی دعا کردی۔ انہوں نے چیف جسٹس کے اقدام کو قوم پر احسان سے تعبیر کرتے ہوئے کہا یہ منصوبہ آپ کے نام سے ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا ہم یہ نہیں چاہتے۔ شیخ رشید نے بھلا کب سننی تھی بلاخوف بولے سر آپ کو اندازہ نہیں ہے آپ کتنا بڑا کام کررہے ہیں۔ آپ کے بغیریہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے ہوتے ہوئے اس منصوبے کی فنڈنگ کو مسئلہ درپیش نہیں رہے گا۔

شیخ رشید نے چیف جسٹس کو اپنے حلقے میں اس زیر تعمیر ہسپتال کے دورے کی دعوت دی تو چیف جسٹس نے کہا بریفنگ لینی تھی وہ یہاں ہوگئی ہے، اب وہاں کے دورے کی ضرورت نہیں رہی ۔ شیخ رشید  کہاں ماننے والے تھے، لاڈلے اور ضدی بچے کی طرح چیف جسٹس کو فیصلہ تبدیل کرنے کا کہہ ڈالا۔ چیف جسٹس نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے میڈیا کو بھی ساتھ آنے کی دعوت دے ڈالی۔ انتخابات سے تین ہفتے قبل چیف جسٹس کا شیخ رشید کے حلقے کا دورہ راولپنڈی کے اس پہنچے ہوئے پیر کے لیے کسی سرپرائز بانڈ سے کم نہ تھا۔ چیف جسٹس اصغر مال روڈ پر عید گاہ شریف کے پاس اس عمارت میں داخل ہوئے جہاں دس سال پہلے کام شروع ہوا تھا۔ ہسپتال نہیں بن سکا لیکن اسٹاف کے لیے بہترین رہائش گاہیں ہر لحاظ سے تعمیر کے تمام مراحل سے گزر چکی تھیں۔ ہسپتال پہنچ کر میڈیا کیمروں کے سامنے ان افسران سے الجھاؤ کی کیفیت پیدا کی جنہوں نے پہلے ہی کمرہ عدالت میں بریفنگ دی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ بات کمرہ عدالت میں ختم ہو چکی تھی لیکن یہ سب کسی اچھی فلم کی کے اسکرپٹ کی ریہرسل کی طرح تھا۔ جو بریفنگ کمرہ عدالت میں دی گئی تھی ،ایک دفعہ پھر متعلقہ حکام نے راولپنڈی پہنچ کرکیمروں کے سامنے بھی دی۔ چیف جسٹس نے افسران کی سرزنش بھی کی۔ راولپنڈی کے اس دورے میں شیخ رشید بھی واضح طور پر ان کے ساتھ نظر آئے۔ شیخ رشید نے ان کا شکریہ ادارکرتے ہوئے ان سے استدعا کی کہ اسپتال کے ساتھ متروکہ املاک وقف کی زمین بھی اسپتال کو دے دی جائے۔ چیف جسٹس بولے یہ اقلیتوں کی ملکیت ہوتی ہے لیکن شیخ رشید تم آجانا اس پر بھی بات کرتے ہیں۔ شیخ رشید ایک باادب طالبعلم بن کرچیف جسٹس کی گاڑی کے پاس بالکل اس طرح کھڑے تھے جیسے کسی مرشدومربی  کو رخصت کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس گاڑی میں بیٹھے تو وہاں موجود کارکنان جو شیخ رشید کی الیکشن مہم میں مصروف ہیں،  نے شیخ رشید زندہ باد  کے نعروں کے ساتھ چیف جسٹس زندہ باد کے نعرے بھی بلند کرکے حلقے میں مخالفین پر مکمل دھاک بٹھا دی۔ اب راولپنڈی میں شاید ہی کسی کی مجال ہو کہ وہ شیخ رشید کا بال بیکا کرسکے۔

چیف جسٹس یہاں سے  راولپنڈی کی کارڈیالوجی ہسپتال سے ہوتے ہوئے سیدھے اسلام آباد کی پولی کلینک ہسپتال پہنچے، اگرچہ ان کے لیے بڑی تعداد میں میڈیا کی ڈی ایس این جیز پمز ہسپتال میں بھی موجود تھیں۔ چیف جسٹس پولی کلینک پہنچے اور مختلف شعبوں کا دورہ شروع کردیا۔ اس دوران مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اسپتال میں موجود کچھ مریضوں نے عملے کے خلاف شکایات کےانبار  لگا دیے۔ کیمروں کے سائے میں چیف جسٹس ایک سے دوسرے شعبے جارہے تھے اور کہیں کہیں متعلقہ حکام کی سرزنش بھی کررہے تھے۔ اچھا موقع تلاش کرکے چیف جسٹس سے بڑے ادب کے ساتھ  ایک سوال پوچھا کہ شیخ رشید کی دعوت پر ان کے حلقے میں  جنرل مشرف دور میں شروع کیے گئے ایک زیر تعمیرمنصوبے کا دورہ کرکے کیا آپ قبل ازوقت دھاندلی نہیں کررہے ہیں؟ چیف جسٹس غصے میں آگئے اور کہا ایسی بات نہیں ہے اور ان کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے، انہوں نے کسی کے کہنے پر دورہ نہیں کیا اور انہوں نے کسی کی مہم کا ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے بعد میں خواتین صحافیوں سے بات چیت کے دوران یہ شکایت بھی کی کہ ایک صحافی نے اس طرح کا تاثر دیا ہے جیسے وہ کسی کے کہنے پر یہ دورہ کر رہے ہوں۔ ایک خاتون نے ان کی ڈھارس بندھائی کہ سر کہنے والے کہتے رہتے ہیں، بس چھوڑیں ان کو آپ ایک بہت اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے چیف جسٹس کو درخواست کی کہ انہیں بھی ساتھ دورے میں شامل رکھیں۔ چیف جسٹس نے سیکیورٹی پروٹوکول کی پرواہ کیے بغیر ان کو اپنا شریک دورہ کرلیا اور ان سے بہتری کی تجاویز بھی لیں۔ چیف جسٹس دورہ مکمل کرنے کے بعد باہر نکلے تو ان کی گاڑی نے چلنے سے انکارکردیا۔ چیف جسٹس اس گاڑی کو وہیں چھوڑ کر اسٹاف میں شامل ایک دوسری گاڑی میں سوار ہوگئے۔ پروٹوکول کے ساتھ چیف جسٹس دوبارہ اپنے گھر روانہ ہوگئے اور اپنی پرچی کے انتظار میں مریضوں نے دوبارہ قطار بنالی ۔جبکہ عملے نے بستروں سے نئی چادریں واپس اتار کر محفوظ جگہ پہنچا دیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...