انسانی خدا ـــ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ(3)

وباؤں کا عذاب!

قحط کے بعد انسانوں کے دوسرے سب سے بڑا دشمن وبائی امراض تھے ،جو کسی ایک علاقے میں پھیلتے تو انسانوں کی نسلوں کی نسلیں تباہ کردیتے۔ وہ گنجان آباد شہر جہاں تاجروں اور سیاحوں کی بہتات ہو ،وہ اگر ایک طرف  انسانی تہذیب و ثقافت کا مرکز بن جاتے تو دوسری طرف جان لیوا وبائی امراض کی آماج گاہ ہوتے۔ کسی وباء کا شکار ہوجانے کا خوف اکثر لوگوں کو رہتا۔ چودھویں صدی کی تیسری دہائی میں بلیک ڈیتھ کے نام سے مشہور ہونے والی وبا سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ قریب بیس سال کے عرصے میں یہ وبا ایشیا سے یورپ، شمالی افریقہ سے لے کر بحرالکاہل کے ساحلوں تک پہنچ چکی تھی۔ اس وباء سے 75 ملین سے لے کر دو سو ملین (بیس کروڑ) لوگ تک ہلاک ہوگئے۔ انگلستان میں دس میں سے چار لوگ اس کا شکار ہوئےاور وہاں کی آبادی ساڑھے تین ملین سے کم ہو کر سوا دو ملین رہ گئی۔ فلورنس کے ایک لاکھ شہریوں میں سے پچاس ہزار مارے گئے۔  حکام اس کا حل ڈھونڈنے میں مکمل ناکام ہوچکے تھے اور بڑے بڑے دعائیہ اجتماعات میں خدا سے اس عذاب سے نجات کی دعائیں کی جاتیں۔

جدید دور کے آنے  تک کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ معمولی مکھی، مچھر اور پانی کے ایک قطرے سے اتنی بڑی اور خوفناک بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ اس سے پہلے تک اسے وہ زیادہ سے زیادہ بری آب و ہوا کو ذمہ دار ٹھہراتے یا اس کا الزام جنوں، بھوتوں اور دیوتاؤں کی ناراضی کو دیتے، بلکہ ایسی وباؤں سے غیر مرئی مخلوقات پر ان کا ایمان اور پختہ ہوجاتا۔  پھر بلیک ڈیتھ ہی واحد وبا نہیں جو انسانوں پر عذاب بن کر نازل ہوئی۔

مارچ1520 میں کیوبا کے ساحل سے ایک سپینی بحری جہاز میکسیکو پہنچا اور اپنے ساتھ چیچک کے وائرس کے شکار ایک فوجی کو بھی لایا جسے کچھ معلوم نہیں تھا کہ اس کے جسم کے کروڑوں خلیوں میں سے کسی ایک میں ایک ایسا وائرس چھپا ہے جو کسی بڑے سے بڑے ہتھیار سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ میکسیکو پہنچ کر چیچک نے اس کے پورے جسم کو ڈھانپ لیا۔ اسے جس مقامی خاندان کے گھر میں علاج کے لیے لے جایا گیا ،وہ بھی اس کا شکار ہوگیا اور پھر ان سے ان کے پڑوسی تک پہنچا اور یوں  وہ  پوری آبادی میں پھیل گیا۔ صرف دس دن میں آس پاس کی پوری آبادی قبرستان میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اور پھر گاؤں گاؤں، قریہ قریہ پھیلتی اس بیماری نے پورے میکسیکو اور اس کے باہر تک  کے علاقوں کو اپنی  لپیٹ میں لے لیا۔  لوگوں میں اس کے ساتھ عجیب و غریب افواہیں اور ضعیف الاعتقادی پھیل گئی کہ بدی کے تین خدا راتوں کو مختلف علاقوں میں پرواز کرکے جاتے ہیں اور وہاں یہ عذاب نازل کردیتے ہیں۔ مختلف فرقوں کے پیروکار ایک دوسرے کے خداؤں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے۔ جادو ٹونے، عملیات اور عبادات پر زور دیا جاتا۔ لاشیں گلیوں اور سڑکوں پر بکھری ہوتیں اور کوئی انہیں دفنانے کی ہمت نہ کرتا۔ آخر حکام نے حکم دیا کہ آس پاس کے مکانوں کو ان لاشوں پر گرا دیا جائے۔ کچھ علاقوں میں نصف سے زیادہ آبادی اس کا شکار ہوئی۔ مارچ 1520میں جب یہ جہاز میکسیکو پہنچا تھا میکسیکو کی آبادی22 ملین تھی۔ دسمبر تک یہ آبادی کم ہو کر صرف14 ملین رہ گئی۔ چیچک تو صرف ایک وبا تھی لیکن اس کے بعد پے در پے بخار، خسرہ وغیرہ کئی اور وبائیں یہاں پھوٹیں اور1580 تک یہاں کی آبادی صرف دو ملین رہ چکی تھی۔

دو صدیوں بعد برطانوی سیاح کیپٹن جیمز کک جب18 جنوری 1778 کو ہوائی کے جزیرے پر پہنچا تو وہاں کی آبادی 5 لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ وہاں کے لوگ اس وقت تک یورپ اور امریکہ سے دور اپنے جزیرے پر الگ تھلگ رہتے تھے اور یورپی اور امریکی بیماریوں سے بھی ناواقف تھے۔ تاہم جب کیپٹن کک اور اس کے آدمی وہاں پہنچے تو اپنے ساتھ بخار، ٹی بی اور سوزاک جیسی بیماریاں بھی لائے۔ پھر مزید یورپی سیاحوں نے یہاں کا رخ کیا اور یہاں کے لوگوں کو ٹائیفائڈ اور چیچک سے متعارف کرا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1853 تک ہوائی کے جزیرے پر زندہ بچ جانے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے کم ہو کر ستر ہزار ہوگئی۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ایک اور جان لیوا وباء ’اسپینش فلو‘ کے نام سے پھیلی تھی۔  چند ماہ میں دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی یعنی قریب نصف ارب لوگ اس کے وائرس کا شکار ہوئے (بیمار ہوئے)۔ انڈیا کی پانچ فیصد آبادی (15 ملین لوگ) ہلاک ہوگئے۔ کسی جزیرے کے پندرہ فیصد، کسی کے بیس فیصد اور کسی کا پانچواں حصہ ختم ہوگیا۔ کل ملا کر ایک سال میں پچاس ملین سے ایک سو ملین تک لوگ اس وبا سے ہلاک ہوئے۔ یاد رہے کہ مقابلتاً1914 سے 1918 تک جاری رہنے والی پہلی جنگ عظیم میں چالیس ملین لوگ مارے گئے تھے۔

ان بڑی اور عالمی سطح پر تباہی پھیلانے والی وباؤں کے علاوہ بے شمار چھوٹی بڑی وبائیں مختلف علاقوں میں پھیلتی رہتیں جن سے لاکھوں لوگ ہر سال ہلاک ہوجاتے۔ گذشتہ صدی میں آبادی میں اضافے اور سفر کی سہولیات کی وجہ سے بھی وباؤں کا ایک سے دوسری جگہ جلدی سے پہنچ جانے کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔ تاہم گذشتہ چند دہائیوں سے وباؤں کے اثرات اورپھیلنے کی رفتارمیں ڈرامائی کمی آچکی ہے۔ سب سے بڑھ کر بچوں کی اموات کی شرح اس وقت تاریخ میں سب سے کم ہے۔ اب یہ شرح دنیا میں پانچ فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے اور ترقی یافتہ ملکوں میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ معجزہ بیسویں صدی میں ہونے والی طبی دریافتوں، ویکسین، اینٹی بایوٹک، اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

مثال کے طور پر1979میں عالمی ادارہ صحت نے چیچک کے خلاف جنگ جیت لینے کا اعلان کیا۔ یہ وہ پہلی خطرناک وبا تھی، جس کا زمین سے خاتمہ ممکن ہوا۔1967 تک بھی پندرہ ملین لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے جن میں سے دو ملین ہلاک ہوگئے تھے۔ لیکن 2014میں چیچک کا کوئی ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عالمی ادارے نے لوگوں کو چیچک کی ویکسین لگانا بند کردی۔ ابھی بھی ہر چند سال بعد کوئی نئی وبا پھوٹتی ہے جیسے 2002 میں سارس،2005 مین برڈ فلو،2009 مین سوائن فلو، 2014 میں ایبولا۔ لیکن جدید میڈیکل سائنس نے یہی ممکن بنایا کہ ان وباؤں کو پہلے کی طرح بے قابو ہونے سے روکا جاسکا۔ حتی کہ ایڈز جیسے موذی مرض کے علاج کے سلسلے میں بھی قابل لحاظ پیش رفت ہوچکی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...