انسانی خدا ـــ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ (2)

کیا ہم نے قحط پر قابو پالیا ہے؟

389

صرف چند صدیاں قبل دنیا میں قحط ایک بہت بڑی آفت تھی۔1694میں فرانس کے شہر بیواس میں ایک فرانسیسی افسر نے اس وقت فرانس میں جاری قحط کے اثرات اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں لکھا کہ اس پورے ضلعے میں لاتعداد لوگ اتنے غریب ہیں جنہیں مسلسل بھوک نے لاغر اور ضرورتوں نے مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی کام ہے نہ وہ کوئی خوراک خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور شدید بھوک مٹانے کے لیے وہ بلیوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے اٹھا کر مرے ہوئے گھوڑوں کا گندا گوشت کھا رہے ہیں۔  یا وہ پودوں کی سوکھی جڑیں ابال کرجسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔صرف ایک شہر میں نہیں پورے فرانس میں یہی صورت حال تھی۔ 1692 سے 1694 کے درمیان تقریبا اٹھائیس لاکھ فرانسیسی (پوری آبادی کا 15 فیصد) بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگئے۔ اگلے سال 1695 میں ایسٹونیا میں قحط پڑ گیا اور آبادی کا پانچواں حصہ (25 فیصد) ہلاک ہوگیا۔ اس سے اگلے سال 1696 میں فن لینڈ کی باری آگئی جہاں ایک چوتھائی سے ایک تہائی لوگ قحط سے مر گئے۔ 1695 سے 1698 کے درمیاں سکاٹ لینڈ میں بدتریٍن قحط سے کچھ اضلاع میں بیس فیصد کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ ایک وقت کا کھانا چھوٹ جائے تو کیا محسوس ہوتا ہے، یا رمضان میں ایک دن کے روزے کے بعد شام تک کیا حالت ہوجاتی ہے۔ یا چند دن صرف سبزی کے سوپ پر گزارا کرنا پڑے تو طبیعیت پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔ لیکن اس بات کا اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اگر کئی روز تک مسلسل کچھ کھانے کو نہ ملے اور یہ بھی پتہ نہ ہو کہ کھانے کا اگلا نوالہ کب تک دستیاب ہو سکے گا تو کیا حالت ہوتی ہے اور کس طرح جان لبوں پر آتی ہے۔ ہم سے پہلے گزرنے والی نسلوں کو اس کا اچھی طرح اندازہ تھا۔

گذشتہ سو سالوں میں ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے اور اتنی معاشی اور سیاسی پیش رفت ہو چکی ہے کہ دنیا میں اس طرح کی قحط کی صورت حال پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ ابھی بھی دنیا کے بعض خطوں میں وقتاً فوقتاً بھوک اور قحط جو تباہی لاتی ہے وہ استثنائی ہے اور اس کی وجہ کسی قدرتی آفت سے زیادہ انسانی سیاست ہے۔ اب جو قحط موجود ہیں وہ قدرتی نہیں بلکہ سیاسی ہیں۔ اگر شام، سوڈان اور صومالیہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ سیاستدان ایسا چاہتے ہیں۔

فرانس میں آج بھی غربت اور بھوک ہے۔ لاکھوں لوگ غذا کی کمی کا شکار ہیں جنہیں دو وقت کا مکمل کھانا ملنے کا یقین نہیں ہوتا۔ لیکن اب اکیسویں صدی کے فرانس میں اور 1694 کے فرانس میں بہت فرق ہے۔ اب لوگ اس وجہ سے نہیں مرتے کہ انہیں ہفتوں تک کچھ کھانے کو نہ ملا ہو۔ اور بھی کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں۔ آج کی عالمی طاقت اور سب سے زیادہ آبادی کے ملک چین کی مثال لے لیں۔ ہزار سالوں تک قحط نے زرد بادشاہتوں سے لے کر سرخ کمیونسٹوں تک چین کی ہرحکومت کا پیچھا کیا ہے۔ کچھ دہائیاں پہلے تک چین کا نام خوراک کی کمی کے مترادف تھا۔ 1958 میں چئرمین ماؤ زے تنگ نے چین میں صنعتی ترقی کے لیے ’دی گریٹ لیپ فارورڈ‘ کے نام سے پانچ سالہ منصوبہ بنایا تھا جس نے چینیوں کو پانچ ہزار خاندانوں کی چھوٹی آبادیوں یا کمیونیٹیوں میں تقسیم کر کے صنعتی ترقی کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگا دیا۔ نتیجے میں زراعت نظر انداز ہوگئی اور چین نے اگرچہ صنعتی پیداوار میں کسی حد تک لیکن غیر معیاری اضافہ کیا تو دوسری طرف فصلیں نہ ہونے کے باعث غذا کی شدید کمی کا شکار ہوگیا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق صرف 1960 کے ایک سال میں دو کروڑ سے زیادہ چینی بھوک، خوراک کی کمی اور اس سے متعلقہ بیماریوں سے مر گئے۔

1974میں پہلی ورلڈ فوڈ کانفرنس روم میں منعقد ہوئی تو دنیا کے سامنے خوراک کی کمی کے خوفناک منظر نامے پیش کیے گئے۔ پیشین گوئی کی گئی کہ چین کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ایک ارب لوگوں کو خوراک مہیا کر سکے۔ ایک بڑی تباہی ان کی منتظر تھی۔ لیکن درحقیقت یہی وہ وقت تھا جب چین تاریخ کے سب سے بڑے اقتصادی معجزے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ 1974 کے بعد سے کروڑوں چینیوں کو غربت کے گہرے کنویں سے نکال لیا گیا ہے۔ اگرچے ابھی بھی یہاں کروڑوں لوگ خوراک کی کمی اور غربت کا شکار ہیں لیکن معلوم تاریخ میں پہلی بار چین کو قحط سے آزاد خطہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے ملکوں میں بسیار خوری، بھوک اور قحط سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اٹھارویں صدی میں فرانس کی آخری ملکہ نے فاقوں سے مرتے عوام کو سمجھایا تھا کہ اگر انہیں روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک کھا لیا کریں۔ آج زیادہ تر غریب لوگوں نے ان کی اس نصیحت کو پلے باندھ رکھا ہے۔ آج جب بیورلے ہل پر رہنے والے دنیا کے امراء سلاد، چٹنی اور سوپ پر گزارہ کرتے ہیں، چھوٹی آبادیوں اور کچی بستیوں میں رہنے والے غریب کیک، برگر اور پزے اڑاتے پھرتے ہیں۔ 2014 میں 850 ملین لوگ دنیا میں خوراک کی کمی کا شکار تھے جبکہ ان کے مقابلے میں دو ارب سے زیادہ لوگ موٹاپے، یعنی وزن کی زیادتی کا شکار تھے۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک دنیا کی آدھی آبادی موٹاپے کے آزار میں مبتلا ہوجائے گی۔ 2010 میں قحط اور غذا کی قلت سے لگ بھگ ایک ملین (دس لاکھ) لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ اسی سال موٹاپے سے مرنے والوں کی تعداد تین ملین (تیس لاکھ) تھی۔

(جاری ہے)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...