انسانی خدا ـــ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ(1)

317

آج کل ایک بہت دلچسپ کتاب زیرمطالعہ ہے جو زمین پر زندگی کے بارے  میں سوچنے کے کچھ نئے رخ سامنے لارہی ہے۔ اسرائیلی ماہر تاریخ و سماجیات یووال نوح ہراری کی کتاب ’ہومو ڈیوس کی کتاب (انسانی خدا ۔۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ) اپنی پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی ہے اور اس کی وجہ اس کتاب میں پیش کیے گئے انسانوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں غیر روایتی اور غیرمعمولی تصورات ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان خیالات کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ تو بالکل سامنے کی بات تھی، اس طرف ہمارا دھیان کیوں نہیں گیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے2011 میں وہ ایک کتاب بعنوان ’سیپینز ۔۔۔ انسانوں کی مختصر تاریخ‘ لکھ چکے ہیں جسے اس دوسری کتاب کا مقدمہ کہا جاسکتا ہے۔ مستقبل کی ممکنہ تاریخ کے موضوع پر پیشین گوئی کرتی ہوئی دوسری کتاب کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ اصل میں انسان کا مستقبل کا ایجنڈا ہے کیا؟

مصنف کا کہنا ہے کہ صدیوں سے تین بڑے مسائل انسان کے ایجنڈے میں سرفہرست رہے ہیں اور ان تینوں مسائل کا تعلق اس کی بقا سے ہے، یعنی قحط ، وبا اور جنگ۔ دوسرے لفظوں میں بھوک، بیماری اور آپس کا جنگ و جدل۔ یہ وہ تین آفات ہیں جو ہمیشہ سے لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کا خاتمہ کرتی آئی ہیں۔ یہ وہ آفات ہیں جنہوں نے پورے پورے خطوں سے انسانی زندگی کا صفایا کیا ہے، انسانوں کی پوری نسلوں کو ملیا میٹ کیا ہے اور یہ مسائل ہمیشہ انسانیت کا سب سے بڑا چیلنج رہے ہیں۔ لیکن تیسرے ہزاریے کے آغاز تک انسان ان تینوں آفات پر قابو پانے میں کامیاب ہوچکا ہے اور اب وہ بقائے دوام کے ایجنڈے پر گامزن ہوچکا ہے۔ مثال کے طور پر تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اب لوگ بھوک سے زیادہ نہیں مرتے بلکہ زیادہ کھانے سے مر جاتے ہیں۔  زیادہ لوگ بیماریوں سے نہیں بلکہ بڑھاپے سے مرتے ہیں۔ اب لوگ جنگوں، دہشت گردوں اور مجرموں کے ہاتھوں مجموعی طور پر اتنے نہیں مرتے جتنے لوگ خود کشیاں کر کے مر جاتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں ایک عام انسان کو قحط ، وبا یا القاعدہ کے حملے میں مرنے سے زیادہ خطرہ یہ ہے کہ کہیں وہ میکڈونلڈ کے ریستوران میں بسیار خوری سے نہ مر جائے۔ اگرچہ اب بھی عالمی راہنماؤں اور ماہرین معیشت و سیاست کے ایجنڈوں کا غالب حصہ اقتصادی بحرانوں اور دنیا میں جاری جنگی تنازعات سے نمٹنا ہے لیکن تاریخ کے کائناتی پیمانے پر دیکھا جائے تو اب انسان اپنی نظریں اٹھا کر نئے افق تلاش کر سکتا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ اب جب کہ ہم نے قحط ، وبا اور جنگ پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے تو ہماری اگلی منزل کیا ہوگی؟ اکیسویں صدی میں ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال کیا ہے؟ ایک ایسی دنیا میں جہاں صحت ، خوشحالی اور امن کی منزل حاصل کی جا چکی ہے۔(یا جب ہم اس منزل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں ، جس کی تفصیل کسی آئندہ مضمون میں پیش کی جائے گی) تو کیا چیز ہے جو ہماری توجہ اور ذہانتوں کا امتحان لے گی؟  بایو ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں یہ سوال اور بھی اہم اور فوری جواب طلب ہے کہ ہم نے جو طاقت حاصل کر لی ہے اس کا ہم کریں گے کیا؟

سچی بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جو افراتفری ، مسابقت ، جنگی تنازعات ، غربت اور بھوک ہمیں نظر آتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ دعویٰ کہ ہم نے قحط ، بیماری اور جنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے ایک بہت بڑی جسارت معلوم ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ دعویٰ بے وقوفی کی حد تک سادگی اور دنیا کو درپیش ان بڑے بڑے مسائل سے آنکھیں چرانے کے مترادف محسوس ہوگا۔ مطلب کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ابھی بھی دنیا میں اربوں لوگ روزانہ دو ڈالر سے کم پر یا اس سے بھی نیچے کی غربت کی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیا اس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ مثلاً افریقہ میں ایڈز کی وبا نے انسانوں کی زندگیوں کو بے انتہا تکلیف اور معدومیت کے خطرے سے دوچار کر رکھا ہے؟ کیا شام اور عراق میں ہونے والی جنگیں قصے کہانی کی بات ہے؟ دہشت گردی وہ آسیب ہے جس سے ہم انفرادی طور پر اپنے گھر، دفتر، سکول، مسجد ، بازار ہر جگہ خوف زدہ ہیں اور قومی اور عالمی سطح پر جس کے سدباب کی کوئی تدبیر عالمی طاقتوں اور انسانی مشاہیر کو نہیں سوجھ رہی اور دنیا کی ہر حکومت اس کے مقابلے کے لیے حکمت عملیاں اور موزوں پالیسیاں بنانے میں مصروف ہے اور پھر بھی ناکام ہے۔ کیا یہ ایک ایسی دیومالائی کہانی ہے جو ہم اپنی دادی اماں سے سنتے سنتے سو گئے ہیں اور پریوں کے ایک ایسے دیس میں پہنچ گئے ہیں جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور حسن و لطافت کی دیویاں ہمیں پنکھا جھل رہی ہیں؟ کیا اس بات میں کوئی منطق ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی انسانوں کی تذلیل ، اور ان کی جان ، مال، عزت و آبرو کو درپیش خطروں سے آنکھیں چراتے ہوئے قحط ، بیماری اور جنگ پر قابو پالینے کا دعویٰ کریں اور اپنی ان بے مثال انسانی کامیابیوں پر جشن منائیں؟

مصنف کا خیال ہے کہ ان سوالوں کا جواب موجود ہے لیکن اس کے لیے ہمیں اوائل اکیسویں صدی کی دنیا پر ایک گہری نظر ڈالنی ہوگی اور پھر ہم آنے والی دہائیوں میں انسانوں کے ممکنہ مستقبل کا جائزہ لے سکیں گے۔

(جاری ہے)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...