اعظم طارق کے قتل میں مطلوب ملزم کیسے گرفتار ہوا ؟

پولیس اور انٹیلی جنس حکام ملزم سبطین کاظمی سے اعظم طارق کے قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس قتل کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی لہر آ گئی تھی

مولانا اعظم طارق کو چھ اکتوبر 2003 کو اسلام آباد کے نواح میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جھنگ سے واپس آ رہے تھے ۔وہ اس وقت ملت ِ اسلامیہ پاکستان کے صدر تھے جو کہ سپاہ ِ صحابہ کی ہی ایک شکل تھی ۔ اعظم طارق کی شہرت آگ اگلتے مقرر کی تھی جو شیعوں کے خلاف فرقہ وارانہ تقریریں کرتے تھے ۔ان کے قتل میں مطلوب ملزم سبطین کاظمی کو  قتل کے تیرہ برس بعد اس وقت اسلام آباد ائیر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا جب وہ   براستہ دوحہ قطر ایئر لائن کی فلائٹ نمبر . QR633کے ذریعے  برطانیہ کے رہائشی کارڈ پر مانچسٹر جانے والے تھے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو نے کچھ روز قبل ملزم کی تفصیلات ایف آئی اے کے حوالے کی تھیں ۔اور ساتھ کہا تھا کہ ممکن ہے کہ ملزم ائیر پورٹ پر امیگریشن حکام کے سامنے اپنا حلیہ تبدیل کر کے آئے۔ ملزم لندن میں رہائش پزیرتھا اور حالیہ دنوں میں پاکستان آیا تھاجس کی معلومات آئی بی نے حاصل کر رکھی تھیں ۔سبطین کاظمی کو تھانہ گولڑہ میں درج ایف آئی آر نمبر 119/2003 میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا اور ان کے سر کی قیمت دس لاکھ مقرر کی گئی تھی تاہم ان کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں درج نہیں تھا۔

ایف آئی اے کے کارندہ ایم۔ ایس اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا جب ملزم امیگریشن کاؤنٹر کی جانب بڑھا ۔ایم ایس (آفیسر کانام سیکورٹی وجوہات کی بنا پر خفیہ رکھا جا رہا ہے )نے اس کا پاسپورٹ چیک کیا اور اس کی تصویر کا تقابل اس تصویر کے ساتھ کیا جو انہیں ایف آئی اے کی جانب سے پہلے ہی دی جا چکی تھی جس کےبعد آفیسر نے ملزم کو بیٹھنے کو کہا ۔بعد ازاں اس کا موبائل اور سامان ضبط کر کے تھانہ گولڑہ کو اطلاع دی گئی کہ وہ اپنا ملزم لے جائیں ۔ذرائع کے مطابق تھانہ گولڑہ کے پولیس آفیسر اپنی ٹیم کے ہمراہ  فوراًائیرپورٹ پہنچے۔ملزم کو باقاعدہ گرفتار کر کے آئی نائن میں سی آئی اے( کریمینل انوسٹی گیشن ایجنسی ) کے حوالے کر دیا  ۔اس کے فوراً بعد ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے اس کا پانچ روزہ جسمانی  ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اور انٹیلی جنس حکام ملزم سبطین کاظمی سے اعظم طارق کے قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس قتل کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی لہر آ گئی تھی ۔سبطین کاظمی کانام ان دو درجن سے زائد سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں ہے جو دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کی کئی وارداتوں میں مطلوب ہیں ۔

سبطین کاظمی کا نام سب سے پہلے اسلام آباد پولیس کے کریمینل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کی ریڈ بک کے 2009  ایڈیشن میں مطلوب دہشت گرد کے طور پر سامنے آیا تھا ۔ریکارڈ کے مطابق وہ شعیہ مکتب فکر کے مطلوب دہشت گردوں میں سر فہرست تھا۔ریڈ بک کے مطابق سبطین کاظمی کو تعلق شیعہ طلبا تنظیم آئی ایس او (امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ) سے تھاجو بعد ازاں جوہر ٹاؤن لاہور منتقل ہو گیا۔ریڈبک کے مطابق اعظم طارق کے قتل کے بعد وہ فوری طور پر لندن چلا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سبطین کاظمی کے قتل سے نہ صر ف یہ کہ اعظم طارق کے حقیقی قاتلوں کا چہرہ سامنے آ ئے گا بلکہ  اس سے یہ دیکھنے میں بھی مدد ملے گی کہ کیا ملک میں فرقہ وارانہ تشدد میں کوئی بیرونی ہاتھ تو ملوث نہیں ہے ۔

(انگریزی سے ترجمہ :سجاد اظہر )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...