دورِ زوال کا نوحہ

486

عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کو کس چیلنج کا سامنا ہے۔ علمی اور فکری حلقوں میں اس پر اتفاق ہے کہ علم کی دنیا میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دوسرے الفاظ میں اجتماعی طور پر مسلم سماج اور تہذیب دنیا کے بدلاؤ،  سائنس ، فکر اور فلسفے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے۔ اس کا منطقی نتیجہ زوال ہے۔ اسے آپ تہذیبی زوال کہیے، مسلم ثقافت کی ابتری، سماج کی کمزور قوت مدافعت یا فکری کمزوری ،عالم اسلام زوال کے بھنور سے نکل نہیں پا رہا۔

اب تو زوال کا سوال اٹھانا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مسلم اشرافیہ اور اس کے پرور دہ فکری درباریوں نے اجتماعی ذہن کو اس فریب میں مبتلا کر رکھا ہے کہ ساری دنیا ان کے درپے ہے۔ اشرافیہ اور درباریاس تصور اور فریب سے قوت اخذ کرتے ہیں اور اس سے اپنے سیاسی اور کاروباری مقاصد کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ اس ابتری کے دور میں کوئی بھی معقول بات کرے تو لوگ اس کی طرف ایک مرتبہ توجہ ضرور دیتے ہیں۔

جب سے ڈاکٹر قبلہ ایاز اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بنے ہیں انہوں نے علمی اور فکری مباحث کا دائرہ وسیع کیا ہے ۔ وہ کوشش میں ہیں کہ زوال کی جڑ تک پہنچیں، مسلم فکر اپنی فطری نہج پر استوار ہو اور ارتقا میں اپنا کردار ادا کرے۔ گزشتہ ہفتے اکبر ایس احمد، جو کہ پاکستان کے سابق سفیر اور بیورو کریٹ رہے ہیں اور آج کل پاکستانی  نژادامریکی اسکالر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ پاکستان آئے تو ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ان سے علمی مکالمے کا اہتمام کیا۔ اکبر ایس احمد ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ تہذیبوں کا مکالمہ ان کی اکیڈمک مصروفیت ہے۔ اس کے علاوہ دستاویزی اور فیچر فلمیں بھی بنائیں جن میں قائد اعظم پر ’’جناح‘‘ اور بی بی سی کے لیے ’’لیونگ اسلام‘‘ زیادہ معروف ہوئیں۔ شاعر اور ڈرامہ نگار بھی ہیں اور قبائلی سماج کے ماہر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں اس لیے جہاں بھی جاتے ہیں ایک بڑا قافلہ لے کر چلتے ہیں۔ اس میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمہ وقت وہ اپنے قافلہ نشینوں سے ہی مخاطب رہتے ہیں۔ امید تھی کہ بھر پور مکالمہ ہو گا لیکن رمضان المبارک اور افطار کے اوقات کے باعث چند محدود نکات پر ہی توجہ رہ سکی۔ اکبر احمد کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مسلم دور ِعروج کی بات کرتے ہیں اور ایک مخصوص ناسٹلجیا(ماضی پرستی) کو بھی پروان چڑھاتے ہیں لیکن وہ اس میں کھو کر نہیں رہ جاتے بلکہ وہ اسے قوت بنا کر آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں۔ اس تقریب میں بھی انہوں نے یہ موقف دہرایا اور علماء کرام پر زور دیا کہ عالم اسلام کو جو علمی چیلنج درپیش ہے اس کی تین جہتیں ہیں جو شریعت ‘ خواتین کے حقوق اور تشدد سے متعلق اسلام پر مغرب کے تحفظات کے حوالے سے ہیں اور یہ کہ علماء کرام یہ تحفظات اور ابہامات دور کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ مغرب میں مسلمان بطور اقلیت جن حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں مسلم ممالک میں مذہبی اقلیتوں کے  انہیں مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے اس بحث میں اضافہ کیا کہ ایک غلبے کی نفسیات بھی ہے جو مغرب میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے اور اصل میں یہی ان کے شناخت کے بحران کی جڑ ہے۔

بات اس سے زیادہ نہیں پھیلی اور مسلم تہذیب کے شاندار ماضی پر ہی مرتکز رہی اور یہ کہ کیسے  دوبارہ احیاء ہو اور وہ علمی میدان میں آگے بڑھنے سے ہی ممکن ہے۔ اب علمی اور فکری ترقی کیسے ہو؟ کیا اشرافیہ اور سماج اس کے لیے تیار ہیں؟ اور اہم یہ کہ اشرافیہ کا ترقی کے حوالے سے تصور یا وژن کیا ہے؟ کیا سائنس اور فکر کی ترویج ان کی ترجیحات میں ہے  بھی یا نہیں؟ یا محض بڑی بڑی عمارتیں بنانے تک ہی ان کا وژن محدود ہے؟  کیا عسکری اور سیاسی اشرافیہ وہ ماحول دینے کے لیے تیار ہیں جو فکری ترقی کے لیے ضروری ہیں؟ یہ وہ سوالات تھے جن کے جواب اکبر احمد سے درکار تھے۔

پاکستان جیسا سماج جس کی آبادی کے حجم میں تو مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن تعلیم اور صحت کی بنیادی ضرورتیں محدود سے محدود تر ہو رہی ہیں۔ طاقتور اشرافیہ اور ادارے اپنے وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ تقسیم یا شیئر کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ وسائل کے تفاوت سے جو عدم تحفظ جنم لیتا ہے  وہ سماجی رجحانات کے ساتھ ساتھ سیاسی رجحانات کی بھی تشکیل کرتا ہے۔ اشرافیہ سیاسی رجحانات کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہے اور اس کوشش میں وہ ان تمام آوازوں کا گلا گھونٹ دینا چاہتی ہے جو اس کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ ایسے ماحول میں علم اور فکر کی ترقی کیسے ممکن ہے؟ اس کے لیے اظہار کا وسیع دائرہ درکار ہے۔ جس روز اسلامی نظریاتی کونسل میں یہ مکالمہ ہو رہا تھا اسی روز لاہور کی کالم نگار، مبصر اور سوشل میڈیا پر متحرک کارکن گل بخاری کو اغوا کر لیا گیا۔ اس سے چند روز پہلے ہی عسکری ادارے کے ترجمان نے ان صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو ریاست مخالف قرار دے دیا جو جبر اور حبس کے موسم میں اپنی رائے قربان کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ بات پھیلائیں تو علمی درسگاہوں تک لے جائیں جہاں جامعات میں مذہبی، نظریاتی، سماجی اور سیاسی رجحانات پر علمی فضا میں بات چیت تو درکار سائنس کے موضوعات پر بھی بات نہیں کی جا سکتی۔ جہاں  ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالوں کے لیے تیار شدہ موضوعات مخصوص اداروں کی طرف سے مہیا کیے جاتے ہوں تو وہاں کیسی علمی اور فکری ترقی۔

یہ سب خوف کی پیداوار ہے ۔اشرافیہ وسائل تقسیم نہیں کرتی طاقت مرتکز رکھنا اور وسائل پیدا کرنے کے ذرائع محدود کرنا چاہتی ہے۔ یہ علمی مسابقت کی دنیا ہے۔ علم میں ترقی کے بغیر ذرائع پیداوار نہیں بڑھائے جا سکتے۔ خوف بڑھانے والوں کا آپس میں گٹھ جوڑ  فطری امر ہے۔یہ خوف بڑھانے والے اہل مذہب ہوں‘ سیاسی یا عسکری اشرافیہ ،ان کا اتحاد فطری ہے ۔اور وہ تمام آوازیں جو اظہار کی آزادی مانگتی ہیں ،خواہ وہ سیاست میں ہوں‘ دبے اور پسے ہوئے طبقات میں حقوق مانگنے والے ہوں، سائنس اور علم میں آگے بڑھنے کی جستجو کرنے والے، سب ایک محدود دائرے میں قید کر دیے جاتے ہیں۔ ان کی توانائیاں علم پیدا کرنے کے بجائے محض ایسا ماحول تیار کرنے میں صرف ہو جاتی ہیں جو ایک علم پرور معاشرے کے لیے ضروی ہیں ۔یہ آوازیں زوال کے منحوس چکر کو ختم کر سکتی ہیں لیکن یہ خود اپنی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

جس شاندار ماضی کی بات اکبر احمد کرتے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈالنے کی ضروت ہے۔ علم اور فکر کی جو روایت وقفوں کے ساتھ عباسیوں کے وسطی دور تک چلی، اسی نے مسلم تہذیب کی بنیاد رکھی اور جس سے مسلم اشرافیہ نے صدیوں فائدہ اٹھایا۔ صرف ایک نظر فلاسفہ ‘ حکماء اور آزاد فکر علماء کی فہرست پر ڈالیے، جن میں اسحاق الکندی ‘ ابوبکر رازی‘ ابن الراوندی‘بشار بن برد‘ فارابی، ابن سینا‘ سکویہ‘ ابن باجہ ،ابن رشد اور ایک لمبی فہرست ،سب مسلم تہذیب کے فرزند ہیں، باوجود کہ انہوں نے اپنے دور کے مروج طریقوں اور روایات سے ہٹ کر سوچا،مذہبی معیارات کو بھی چیلنج کیا۔ ان میں سے کئی نے حریت فکر کی قیمت بھی ادا کی لیکن آج پوری تہذیب ان پر فخر کرتی ہے۔

اسی نشست میں ہمارے دوست رشاد بخاری نے مسلم حکما اور آزاد فکر علماء کے ساتھ جو سلوک ان کے دور میں ہوا اس سے متعلق سوال اٹھانا چاہا لیکن ماضی میں کشش ہی اتنی ہے کہ وہ ہمیں کوتاہیوں پر توجہ ہی نہیں کرتے دیتی‘ جن سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے اور آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اگر شاندار ماضی کے ساتھ مسلم تہذیب نے اجتماعی غلطیوں کے احتساب کی روایت بھی ڈالی ہوتی تو شاید ہماری تاریخ مختلف ہوتی، اشرافیہ مختلف ہوتی اور یہ زوال کی تاریکی نہ ہوتی کہ اکبر احمد کو علمی وظیفہ اور اپنے دیگر شوق کی تکمیل کے لیے مغرب کے دامن میں پناہ لینا پڑی۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...