جج نے نواز شریف کو روک دیا

80

آج 7 جون کا سورج بھی شدید گرمی کی نوید لے کر سروں پر مسلط ہوا۔ جیسے جیسے درجہ حرارت شدت اختیار کرتا جارہا ہے لوڈشیڈنگ کا راج بھی عروج کی طرف گامزن نظر آتا ہے۔ سحری کے بعد لاہور سے اسلام آباد کی احتساب عدالت پہنچنے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف خاموش تھے۔ کمرہ عدالت میں ان کے گرد ان کی پارٹی رہنمااور صحافی دائرہ بنا کر کھڑے ہوگئے۔ نواز شریف ہر بات غور سے سنتے لیکن کسی بات کا جواب نہیں دے رہے تھے۔ ان کے چہرے پر تاثرات ایسے تھے جیسے وہ اٹک قلعہ میں قید و بند کی صعوبتوں سے گزار رہے ہوں۔ میری نظروں کے سامنے ان کی وہ تصویریں گھومنا شروع ہو گئیں جب طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں فوجی آمر پرویز مشرف نے انہیں قلعے میں بند کر دیا  تھا۔ نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے تو چہرے پر سنجیدگی اور پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ گہری سوچ میں ڈوبے تھے۔ ان کی خاموشی جیسے کسی تلاطم کا پتا دے رہی تھی۔ اب انہوں نے حالات پر تبصرہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اخبارات غور سے پڑھتے رہے۔ سوال سن کر صرف خاموشی سے پوچھنے والے کی طرف دیکھتے اور سر ہلا دیتے۔ اب یہ رمضان کا آخری عشرہ ہے۔ عید کی آمد آمد ہے۔ آج ان کے ساتھ پارٹی رہنماؤں کی تعداد بھی کم تھی۔ مریم نواز کی غیر حاضری میں کمرہ عدالت میں خواتین رہنماؤں کی تعداد بھی کم تھی۔

جج محمد بشیر کے اپنی نشست پر براجمان ہوتے ہی  ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کے پراسیکیوٹرز نے روسٹرم پر آکر تیسرے دن بھی حتمی دلائل دینے شروع کیے تو جج  نے پہلی بار نواز شریف کوخاموش رہنے کا حکم دے دیا۔ جج نے کہا بات کرنی ہے تو باہر جاکر برآمدے میں کر لیں۔

نوازشریف کے وکیل ظافر خان نے عدالت سے درخواست کی کہ نواز شریف اب عدالت سے باہر جاسکتے ہیں۔ جج نے کہا انہیں دس پندرہ منٹ بیٹھنے دو تاکہ انہیں بھی معلوم ہو کہ ٹرائل کیسا چل رہا ہے۔ یہ شاید پہلا موقع تھا جب نواز شریف کو عدالت سے جانے سے روک دیا گیا۔ ان کی پانچ دن حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا راستہ دکھا دیا۔اب شریف خاندان ایک دہائی کے بعد ایک ساتھ عید نہیں کرسکے گا۔ نواز شریف ان حالات کو مارشل لاء سے بھی بدتر قرار دیتے ہیں۔ مسترد شدہ درخواست کے مطابق کلثوم نواز کی طبیعت اب بھی ناساز ہے اور ان حالات میں کلثوم نواز کے پاس ان کی بیٹی مریم نواز اور خاوند نواز شریف کا ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے اس عیادت کی درخواست کو بھی مسترد شدہ درخواستوں کی فائل تک پہنچا دیا۔ نواز شریف کو پہلی بار ایک ہی لباس میں دوسرےدن دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ شاید ان کی بڑھتی مصروفیات اور مشکلات نے انہیں اس طرف سوچنے کا وقت بھی نہ دیا۔ ہر روز ان کو عدالت میں اپنی حاضری یقینی بنانا ہوتی ہے۔ اب وہ اپنی پیشیوں کی سینچری کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ کسی بھی عوامی عہدیدار، فوجی یا سولین حکمرانوں میں سے عدالت کے سامنے یہ کسی کی بھی ریکارڈ حاضریاں ہیں۔ نواز شریف اسکور بورڈ پر ان حاضریوں کا اندراج خود یقینی بناتے ہیں۔ گنتی اب بھی جاری ہے۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ جیت کے لیے مزید کتنا اسکور درکار ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...