پی ٹی آئی کی پانچ سالہ کارکردگی اورالیکشن2018

عام انتخابات قریب آتے ہی پاکستان تحریک انصاف نے ملک کے دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی دوسری سیاسی جماعتوں سے الیکشن جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے رہنماؤں  کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔پی ٹی آئی  اپنی پانچ سالہ حکومت میں اچھی طرز حکمرانی اورانصاف کی بالادستی کانعرہ لگاتے ہوئے آئندہ انتخابات میں مزید طاقت کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن عملی طور پر آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لڑنے کی بجائے پی ٹی آئی نے پور ے صوبے سے الیکٹیبلز کو جمع کرنا شروع کردیا ہے جو اس بات کو تقویت پہنچاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی  پانچ سالہ  کارکردگی اتنی اچھی نہیں ہے کہ صرف اسی بنیاد پر الیکشن لڑسکے۔ اب تک عوامی جمہوری اتحاد کے تین ایم پی ایز اور ایک ایم این اے کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کے ایم پی اے مولانا فضل شکور ، مولانا عصمت اللہ، قومی وطن پارٹی کے ایم پی اے سلطان محمود، خالد مہمند ، عبد الکریم اور معراج ہمایوں جبکہ جماعت اسلامی کے ایم این اے شیر اکبر خان نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پارٹیوں کے درجن بھر سابقہ اراکین اسمبلی اور رہنما بھی تحریک انصاف میں شمولیت اختیا ر کرچکے ہیں۔ ان رہنماؤں کی شمولیت سے پارٹی کے سینئر رہنماوں اور نظریاتی کارکنوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نئے آنے والی شخصیات سے ان کے سیاسی مستقبل کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ پارٹی کے کسی رہنما کی جانب سے سرعام احتجاج تو نہیں کیا گیا تاہم یہ سینئر رہنما اور نظریاتی کارکن اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ تحریک انصاف کو آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لڑنا چاہیے۔
دوسری جانب بعض رہنما اس فیصلے کو پارٹی کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہی قیادت کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارٹی کارکردگی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت کے نتیجے میں دوسری سیاسی جماعتوں کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہمارے ساتھ شامل ہورہے ہیں۔ تاہم کچھ رہنما ء دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی شمولیت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ موقع پرست ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے لیے  ضروری ہے کہ الیکٹیبلز کو پارٹی میں شامل کیا جائے۔سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف یہ بات جان چکی ہے کہ الیکٹیبلز کو پارٹی میں شامل کیے بغیر الیکشن میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت سمجھ گئی ہے کہ الیکشن لڑنا اور الیکشن جیتنے کیلئے مضبوط مالی حیثیت کا ہونا ضروری ہے۔ اب ماحول بدل چکا ہے۔ الیکٹیبلز کی شمولیت سے ان حلقوں میں جہاں گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست ہوئی تھی ،وہاں انکی پوزیشن مضبوط ہوجائے گی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان شخصیات کے جانے سے مخالف سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کمزور ہوجائے گی۔
تاہم شمیم شاہد جو صوبے کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ ملک میں اس کمزور جمہوریت کے ذمہ دار یہی سیاستدان ہیں جو اقتدار تک پہنچنے کیلئے لوٹہ کریسی اور ہارس ٹریڈنگ کو فروع دیتے ہیں۔

اگر ہم تحریک انصاف کے گزشتہ انتخابات میں صوبے سے قومی اسمبلی کے امیداوارں کا جائزہ لیں  تو پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی 35 نشستوں میں سے 17 پر کامیابی حاصل کی تھی، کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں میں سے 7 امیدوار ایسے تھے جو پہلے کسی دوسرے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑچکے تھےلیکن اس دفعہ ساٹھ سے ستر فیصد ایسے امیدوار وہ ہونگے جو پہلے کسی دوسری پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ چکے ہیں۔رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی مستقل اصول نہیں ہوتا، تحریک انصاف جو پہلے اصولوں پر سیاست کرنے کا دعویٰ کرتی تھی وہ بھی اب جان چکی ہے کہ مزید ایسے کام نہیں چلے گا۔تحریک انصاف کے بعض سینئر رہنماؤں کا خیال ہے کہ  عمران خان کی مقبولیت کے باعث تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں 35 نشستیں جیت کر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، کامیابی حاصل کرنے والے بیشتر امیدوار نئے چہرے تھے لیکن اس دفعہ عوام انکی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ووٹ دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف آئندہ انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے ایسے 40 سے زائد شخصیات کو شامل کررہی ہے جنھوں نے ماضی میں کسی دوسری سیاسی جماعت یا آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ تحریک انصاف کے رہنمانے  نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تحریک انصاف کی پانچ سالہ کارکردگی اتنی تسلی بخش نہیں رہی کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کی شخصیات کو قبول کیے  بغیر اپنے امیدوار میدان میں اتار سکیں۔ تحریک انصاف یونین کونسل اور ویلج کونسل کی سطح پر پارٹی کو منظم اور متحد کرنے میں ناکام رہی ہے۔تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شوکت یوسفزئی کہتے ہیں جن علاقوں میں تحریک انصاف نے اچھی تعداد میں نشستیں حاصل کیں تھیں وہاں سے انہی امیدواروں یا پھر تحریک انصاف کے ہی کسی پرانے کھلاڑی کو میدان میں اتارا جائے گا۔تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی زرگل کہتی ہیں کہ سوات میں پارٹی کی جانب سے ایلیکٹیبلز کو میدان میں اتارنے کی بجائے پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹ دینا چاہئے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ  ضلع پشاور میں جہاں سے تحریک انصاف نے صوبائی اسمبلی کی 11 میں سے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، میں بیشتر پر دوسری سیاسی جماعتوں سے شمولیت اختیار کرنے والے امیدواروں کو میدان میں اتاراجائے گا، جس میں مسلم لیگ سے شامل ہونے والے ناصر موسیٰ زئی، ارباب وسیم اور پی پی پی اور اے این پی سے شامل امیدوار ہونگے، جس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی ناقص کارکردگی بتائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق تحصیل ناظم حاجی شوکت علی، اے این پی کے ارباب نجیب اللہ اور ارباب عامر ایوب اور پاکستان پیپلز پارٹی سے حال ہی میں شمولیت اختیار کرنے والے نور عالم خان پشاور سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے لیے الیکشن لڑیں گے۔

عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ احتساب کمیشن کے قانون میں مسلسل ترامیم، کنٹریکٹ پر بھرتیوں، رائٹ ٹو انفارمیشن قانون میں ترامیم ودیگر محکموں کی ناقص کارکردگی نے تحریک انصاف کی مقبولیت کونقصان پہنچایا ہے۔جبکہ دو سال تک لانگ مارچ اور دھرنوں نے بھی صوبائی حکومت کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، دوسری سیاسی جماعتوں سے امیدوارں کو جمع کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ اس سے پی ٹی آئی کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان کا اندیشہ ہے کہ نظریاتی ووٹ تقسیم ہوگا اور یہ کہ ہمارے صوبے میں ہزاہ ڈویژن کے علاوہ الیکٹیبلبز کی سیاست نہیں  ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت نے بعض اراکین اسمبلی کو ایسے امیدواروں سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہےجو فعال، متحرک اور الیکشن جیتنے کے اہل ہوں جبکہ سینٹ انتخابات میں مبینہ طور پر ہارس ٹریڈنگ کا حصہ بننے والے اراکین اسمبلی بھی امیدواروں کے چناؤاور انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

پارٹی قیادت ہزارہ ڈویژن سے بھی الیکشن جیتنے کی صلاحیت رکھنے والی شخصیات کی شمولیت کے لیے  جدوجہد کررہی ہے جہاں سے گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف صوبائی اسمبلی کی سات میں سے صرف دو نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوسکی تھی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کو ہزارہ ڈویژن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے  پارٹی کارکنان کی بجائے الیکٹیبلز کی ضرورت ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ سابق وفاقی وزیر عمر ایوب اور زرگل خان کی شمولیت کے بعد پارٹی مزید نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوسکے گی۔

ہزارہ ڈویژن سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے مشیر زرگل خان کہتے ہیں کہ دوسری جماعتوں سے شمولیت اختیار کرنے والے امیدواروں کو صرف ان حلقوں سے میدان میں اتارا جائے گا جہاں سے تحریک انصاف کی اپنی پوزیشن کمزور ہے۔ جیسے ہزارہ ڈویژن سے تحریک انصاف گزشتہ انتخابات میں صرف دو نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوسکی ہے اور وہ دونوں امیدوار پہلے بھی اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں۔ لہذا ہزارہ ڈویژن سے کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایلیکٹیبلز اور بااثر خاندانوں کو تحریک انصاف میں شامل کرنا ضروری ہے۔

انتخابات میں کامیابی کے لیے دوسری جماعتوں سے الیکشن جیتنے والے سیاستدانوں کو جمع کرنا ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ میں کوئی انوکھی حکمت عملی نہیں ہے، سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ہمارا ماضی اس قسم کے واقعات اور انتخابات سے بھرا پڑا ہے، تاہم الیکٹیبلز کی بنیاد پر سیاست ہمارے ملک کی کمزور جمہوری روایات اور انتخابات میں کامیابی کے لیے سرمائے کی موجودگی  کو لازمی قرار دیتا ہے ، آئندہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر انہیں سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے کو ووٹ کے ذریعے اقتدار سے نوازنا ہے یا انہیں مسترد کرکے اپنے ووٹ کے ذریعے حقیقی نمائندوں کا انتخاب عمل میں لانا ہے۔ اس بات کا فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...