احتساب عدالت میں پارٹی سیکرٹریٹ

روایتی سفید شلوارقمیض اور کالے رنگ کی واسکوٹ میں ملبوس نواز شریف گذشتہ روز احتساب عدالت میں داخل ہوئے تو پارٹی رہنماؤں کی بھی ایک بڑی تعداد ان کے ہمراہ  تھی۔ چہرے پر مسکراہٹ سے زیادہ سنجیدگی تھی جبکہ  لہجہ قدرے تلخ تھا۔ نسشت پر بیٹھتے ہی سابق وزیراعظم نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت شروع کردی۔ مریم نواز بھی ان کے ہمراہ تھیں اور اس دوران مختلف امور کی انجام دہی میں ان کی مدد کرتی نظرآئیں۔ بات چیت کا مرکزسوال وجواب سے زیادہ روایتی حال احوال تک محدود رہا۔ سابق وزیراعظم ہمیشہ  اپنے دورحکومت میں شروع کیے گئے منصوبوں پر بات کرنے کی کوئی نہ کوئی صورت نکال ہی لیتے ہیں۔ گذشتہ روز بھی ان کا پسندیدہ موضوع میگا پراجیکٹس ہی تھے۔ دوران سماعت جج محمد بشیر اگرسابق وزیر اعظم کے خلاف بڑی برق رفتاری کے ساتھ العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کررہے تھے تو تین گز کے فاصلے پر نوازشریف اپنی عدالت لگائے بیٹھے تھے اور اپنے برق رفتار منصوبوں پر بریفنگ دے رہے تھے۔ رمضان کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء کےعلاوہ کمرہ عدالت میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ اخبارات، موبائل فونز، مشیر، سابق وزراء سب  کچھ عدالت کے اندر ہی دستیاب تھا۔

چند وکلاء اور میڈیا کے نمائندوں کی نظر جج پر تھی تو عدالت کے اندراگر کسی کرسی پر سب سے زیادہ نظریں مرکوز تھیں تو وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نشست تھی۔ خود سابق وزیراعظم جس نشست کو زیادہ اہمیت دے رہے تھے ، وہ ان کے دائیں طرف موجود ان کی بیٹی مریم نواز کی نشست تھی۔ پارٹی ٹکٹ کے امیدواران بھی آکر اپنی حاضری لگارہے تھے۔ یہ سب رہنماالیکشن مہم سے متعلق اپنی کارکردگی سے متعلق بریفنگ بھی دیتےاور ہدایات بھی لیتے نظر آئے۔ نوازشریف کے بائیں طرف کرسی پر باری باری کچھ سابق وزراء اور کارکن ٹکٹ کے طلبگار بیٹھتے رہے۔ جب پرویز رشید  آتے تو یہ  نشست ان کے لیے ہی مختص ہوجاتی۔ گذشتہ روز کمرہ عدالت پارٹی سیکرٹریٹ کا منظر پیش کررہا تھا۔

جج محمد بشیر کی احتساب عدالت کے کوئی واضح اصول نہیں ہیں۔ عدالت کے داخلی دروازے پرکھڑے اہلکارصرف یہ یقینی بناتے ہیں کہ نواز شریف کی موجودگی میں صحافی موبائل فون لے کرنہ جائیں۔ باقی پورے کمرہ عدالت کے اندر رنگ برنگ ٹونز کا میلا سجتا ہے۔ اورتواور جج صاحب محمد بشیراس دوڑمیں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ نوازشریف کے نکل جانے کے بعد صحافیوں کو بھی موبائل فون کمرہ عدالت میں لے جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہ ضرور درج ہے کہ موبائل فون کمرہ عدالت میں اندر لےکرجانا منع ہے لیکن اصول باقاعدہ نہیں ہوتے۔ مصدق ملک مریم نواز کے سامنے مودب کھڑے تھے کہ ان کے موبائل فون کی رنگ ٹون نے سب کو ان کی طرف متوجہ کرلیا۔ مصدق ملک کے ساتھ پہلے بھی یہ حادثہ ہوچکا ہے۔ آج ان کی جان  بخشی ایدھی فاؤنڈیشن کے  اکاونٹ میں صرف 2 ہزار جمع کرانے سے ہوئی جبکہ پہلی دفعہ ان کو 3 ماہ کی پابندی کا بھی سامناکرنا پڑا تھا۔ اسلام آباد سے ممبر قومی اسمبلی رہنے والے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے عدالتی اہلکاروں سے قبل ہی ان کا فون ہاتھ میں لے لیا اور مصدق ملک کودوبارہ کمرہ عدالت میں رہنے کا اشارہ کردیا۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ صحافیوں کے حوالے سے خصوصی احکامات ہیں کہ وہ موبائل فون لے کر نہ آئیں باقی کسی کو کچھ نہ کہنے والی پالیسی پر کاربند رہیں۔ جج محمد بشیر دوران سماعت فون استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ ابھی تک  یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ  جب ان کا عدالتی کارروائی کے دوران فون موبائل بجا تھا تو انہوں نے بھی ایدھی فاونڈیشن کو اپنی جیب سے 2 ہزار بھیجے تھے یا نہیں۔ نوازشریف اورمریم نواز اپنے فون اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے ہیں لہٰذا کسی غلطی کا احتمال ہی نہیں رہتا۔  پارٹی رہنماؤں کا کمرہ عدالت میں پارٹی مشاورت کا سلسلہ جاری ہوتا  تودوسری طرف  جوڈیشل کمپلیکس کے باہر بھی کارکنان کی معقول تعداد موجود رہتی ہے۔ جس وقت تک نوازشریف باہر نہیں آتے وہ موجود رہتے ہیں اور پھر ان کو رخصت کرنے کے بعد گھروں کا رخ کر لیتے ہیں۔ آج کل نوازشریف نے عدالت سے نکل کر میڈیا سے بات کرنے کا سلسلہ روکا ہوا ہے۔ ان کو کوئی بات کہنی ہوتی ہے تو وہ کمرہ عدالت کےا ندر غیررسمی طور پر ہی کہہ دیتے ہیں۔ تحمل سے سوالات سنتے ہیں اور پھر جواب بھی دیتے ہیں۔ عدالت سے نکل کر کارکنان کے استقبال پر ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے واپس روانہ ہوجاتے ہیں۔

نوازشریف کا خیال ہے کہ ان کے خلاف مسلسل سازش ہورہی ہے۔ ان کو بدنام کرنے کے لیے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھایا جارہاہے۔ پھر خود انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ بجلی غائب ہونے والا سلسلہ اچانک  کیسے شروع  ہوگیا ہے؟ مریم نوازنے تائید کرتے ہوئے کہا جب ہم گئے تھے تو اضافی بجلی موجود تھی اور اب یہ سب  کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ پرویز رشید نے آواز میں آوازملاتے ہوئے کہا “اساں تے تانوں کی کہیا سی نہ جاو”۔ گذشتہ روز نوازشریف  مسلسل  سوچ وبچار کرتے نظر آئے، صحافیوں کی طرف سے سرکاری اسکولوں اورہسپتالوں کی حالت زار کے سوالات کوایسے نظر انداز کیا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ انہوں نے مریم نواز کے بیان کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم تو سب ٹھیک ٹھاک چھوڑ کر آئے تھے ،اوراضافی بجلی بھی ہم  چھوڑ کرآئے تھے۔ نوازشریف نے پرویزمشرف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کون تھا وہ شخص جو ملک کو اندھیروں میں ڈبوگیا اور کون ہے وہ جوروشنی لے کرآیا؟ لواری ٹنل کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ہی اسٹاف کے ایک کارکن عابد کو بلا کرکہا آپ چترال سے ہو ،بتاؤ اب لواری ٹنل سے کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ عابد نے وہ سب بتادیا جونوازشریف سب کو سناناچاہتے تھے۔ عابد سے کئی سوالات کیے اورعابد یہ ٹیسٹ اچھے نمبروں سے پاس کرگیا۔ مریم نواز نے تجویزدی کہ آپ چترال جلسہ کریں توان صحافیوں کو بھی ساتھ لے کرجائیں اور پھر دکھائیں کہ لوگ کتنے خوش ہیں۔ نوازشریف نےصاف صاف جواب دیا کہ ابھی ہمارے پاس اتنے ہیلی کاپٹرز نہیں ہیں۔

نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر عدالت میں موجود تھے کیونکہ 4 جون کو ایون فیلڈ پر حتمی دلائل شروع ہونے تھے۔ وکیل صفائی خواجہ حارث ابھی العزیزیہ ریفرنس میں پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پر جرح کررہے تھے کہ جج نے پوچھا آپ مزید کتنا وقت لیں گے؟ نواز شریف کے وکیل نے کہا ابھی بہت کچھ پوچھنا باقی ہے اور ایک دن میں مکمل کرنے کا وعدہ نہیں کرسکتا۔ یہ سوال  و جواب بہت غصے اور تناؤ کی کیفیت میں ہورہے تھے۔ خواجہ حارث نے کہا ایون فیلڈ میں نیب کی طرف سے دلائل کے بعد دفاع کو ایک ساتھ تینوں ریفرنسز میں دلائل کا موقع دیا جائے۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے اسے تاخیری حربہ قراردیتے ہوئے کہا کہ آپ  ہر اہم مرحلےپر ایسا کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا وکیل صفائی نے پراسیکیوشن کو گمراہ کیا کہ دفاع مشترک ہے لہٰذا تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ کیاجائے؟ خواجہ حارث مزید غصے میں آگئے اور کہاکہ آپ نے ہمیں بے وقوف بنایا ہے جبکہ ہم ایون فیلڈریفرنس  میں اپنا دفاع ظاہر کرچکے ہیں۔ جج کو مخاطب کرتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا آپ ایک ریفرنس کا فیصلہ پہلے کیسے سناسکتے ہیں اور اگر آپ ایسا کریں گے تو پھر دیگر 2 ریفرنسز کو آپ کیسے سن سکتے ہیں کیونکہ تینوں ریفرنسز میں دفاع 60 فیصد ایک جیسا ہی ہے۔ بہتر ہے کہ آپ دیگر ریفرنسز کسی اور عدالت کو منتقل کردیں۔ خواجہ حارث نے جج محمد بشیر کو اپنا پہلا فیصلہ نکال کر پڑھنے کا مشورہ بھی دے ڈالا جس میں یہ طے ہوا تھا کہ تینوں ریفرنسز میں فیصلہ ایک ساتھ ہی آئے گا۔ جج نے بات سنی اور کہا بس ٹھیک ہے وہ دفاع کی حد تک بات ہوئی تھی۔ وکیل صفائی کی استدعا مسترد کردی گئی تو پھرانہوں نے جج کو کہا کہ آپ کے فیصلے کو چیلنچ کرونگا۔ جج بولے ٹھیک ہے۔ خواجہ حارث کمرہ عدالت سے نکلتے  ہوئے یہ کہہ گئے کہ It is very unfair that you are setting a unique precedent

دوران سماعت خواجہ حارث نے جج کو مخاطب کرتےہوئے کہا سر! آج آپ جلدی جلدی کام کر رہے ہیں۔ جج نے کہا  کہ ہم نے اس کیس کو نمٹانا ہے، دی گئی ڈیڈ لائن بھی ختم ہو رہی ہے اور  سپریم کورٹ کو مزید توسیع کیلئے خط بھی لکھنا ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی  ایک ماہ کی اضافی  ڈیڈلائن 9 جون کو پوری ہورہی ہے۔ اب عدالت  ایون فیلڈ ریفرنس میں حتمی دلائل سننے کے بعد کسی بھی وقت  اپنا فیصلہ سناسکتی ہے۔ نوازشریف کے قریبی سیاسی اور قانونی ذرائع کا یہ دعوی ٰ ہے کہ نوازشریف کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہیں کہ اس وقت ان کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے۔ ایک سینئر قانونی مشیر نے کہا یہ مقدمہ آج کے لیے نہیں لڑا جارہا بلکہ یہ مقدمہ آنے والے  کل کے لیے لڑا جارہا ہے۔ جب بھی کوئی  کچھ عرصہ بعد اس کیس کو پڑھے گا تو وہ بلاتامل کہے گا کہ  یہ ریفرنسز تو کیس بننے لائق  ہی نہ تھے۔ سینئر قانون دان نے  مزید کہا کہ ہم نے  نواز شریف کو یہ مقدمات لڑنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ ان کی طرف سےتمام چیزیں ریکارڈ پر آجائیں۔ ابھی ہر طرف دشمنی اور بغض  ہے لیکن بعد میں کوئی ان ریفرنسز کو پڑھے تو اسے  معلوم ہو کہ ان ریفرنسز میں  کتنا سنگین مذاق ہوا تھا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...