اہلیت اور مفاہمت کی روشنی

434

سوویت یونین کی انتہائی فعال مضبوط اور طاقتور خفیہ ایجنسی کے جی بی کو ماسکو کی ہیئت حاکمہ میں اہم مقام حاصل تھا اور وہ عالمی سطح پر بھی اپنی مسلمہ اہمیت رکھتی تھی۔امریکی سی آئی اے اور کے جی بی سرد جنگ کے ایام میں دونوں حریف گروہوں کی پراکسی کے بنیادی کردار تھے۔کے جی بی میں انتہائی اہم انتظامی عہدے پر فائز رہنے والے سرگئی انتیوف کی کہانی ہمارےلیے بہت سے اسباق اپنے پہلو میں سموئے ہوئے ہیں۔ کے جی بی کو اطلاع ملی تھی کہ سرگئی انتیوف سی آئی اے کے لیے کام کرتے ہیں، چنانچہ ان کے خلاف وسیع البنیاد اعلیٰ پیمانے پر خفیہ تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا۔تحقیقاتی ٹیم نے سرگئی کی زندگی کے تمام خفیہ گوشے چھان مارے اور اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ  اطلاع درست نہیں لیکن حکام نے حتمی تسلی کے لیے کے جی بی کے انتہائی معتبر ماہرین کی ایک اور کمیٹی قائم کی جو وسیع تر سطح پر تفتیش کرکے حتمی نتیجہ اخذ کرے۔اس کمیٹی کی رپورٹ میں بھی سرگئی پر عائد الزام کو رد کردیا گیا۔سوویت یونین کی تحلیل کے بعد کے جی بی کی تنظیم  بکھر گئی اور  اس کے متعدد سابق اہلکار ملک چھوڑ کر یورپ چلے گئے۔آندرے پولوقاف،ایسے ہی ایک عہدے دار تھے جو یورپ چلے گئے ،جہاں اچانک ایک ریستوران میں ان کا سامنا اپنے سابق ساتھی سرگئی انتیوف سے ہوگیا،دونوں سابق رفیق کار ایک دوسرے سے ملاقات پر خوش ہوئے اور ملاقاتوں کا یہ سلسلہ انتہائی قریبی دوستانہ مراسم و بے تکلفی میں بدل گیا۔ایک روز جب آندرے سرگئی کے گھر مدعو تھا تو دوران گفتگو اس نے سرگئی کو بتایا کہ کس طرح اس کے بارے میں ملنے والی ایک خفیہ اطلاع پر کے جی بی میں دو بار اس کے خلاف تحقیقات کرائی گئی تھیں۔آندرے دوسری اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کی قیادت کر چکا تھا۔آندرے اس وقت حیران رہ گیا جب سرگئی نے اسے بتایا کہ کے جی بی کو اس کے بارے ملنے والی اطلاع درست تھی اور یہ کہ وہ دوران ملازمت لمبے عرصے تک سی آئی اے کیلئے کام کرتا رہا تھا۔آندرے کیلئے یہ اعتراف حیران کن ندامت کا باعث تھا لہٰذا اس نے سرگئی سے بے تکلفانہ دوستی کے حوالے سے سوال کیا کہ کے جی بی کی تحقیقات میں کوئی ایسا ثبوت یا شائبہ بھی میسر نہیں ہوا تھا جس سے پتہ چلتا کہ وہ(سرگئی) سی آئی اے کا ایجنٹ تھا۔چنانچہ آندرے نے ازراہ کرم سرگئی سے معلوم کرنا چاہا کہ وہ سی آئی اے کیلئے کون سی خدمات انجام دیتا رہا تھا، جس کا علم کے جی بی کو نہ ہوسکا۔

سرگئی مسکرایا اور کہا میرے دوست میرا کام صرف یہ تھا کہ اپنے اعلیٰ عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ادارےکے جی بی میں نااہل افراد کو اہل افراد پر فوقیت دے کر انہیں ترقی اور اہم ذمہ داریوں کے منصب پر فائز کرتا رہوں۔سی آئی اے اس کے عوض یورپ میں میرے خفیہ اکاؤنٹ میں خطیر معاوضہ جمع کراتی تھی۔آج میں اسی جمع شدہ رقم سے زندگی بسر کررہا ہوں مگر آج کے جی بی کا وجود موجود نہیں۔
یہ کہانی،پاکستان کے سیاسی بحران کو سمجھنے کیلئے بہت اہم ہے،بالخصوص بلوچستان اسمبلی میں نواب حکومت کے خاتمے،مسلم لیگی منحرفین کے ذریعے سینیٹ کے انتخابات،نئی صوبائی حکومت اور نئی حکمران جماعت کی تشکیل سے سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب،تحریک لبیک کے دھرنے کے اہتمام اور اختتام تک ہونے والے واقعات،سیاسی جماعتوں میں تقسیم در تقسیم،عدالتی فعالیت  کےمضمرات،نیب کی عجلت پسندی،مذہبی انتہا پسند رجحانات و نسلی علاقائی صوبوں کے مطالبات پر مبنی سیاسی صف بندیوں کو سمجھنے میں یہ کہانی بہت معاون کردار ادا کرسکتی ہے۔شاید ہم اپنے ملک کے سرگئی انتیوف کی بروقت شناخت کرکے بھیانک انجام سے بچ سکیں۔

گزشتہ دنوں اسلام آباد سے سیاسی سماجی امور پر تحقیقاتی علمی کام کرنے والے دانشور دوستوں کی ایک ٹیم کوئٹہ آئی تھی جس نے بلوچ مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر صوبے کے سیاسی سماجی صحافتی حلقوں سے مکالمہ کیا تھا۔ان کا محوری نقطہ بلوچ سرداروں اور ریاست کے درمیان مفاہمت کے امکانات اور اس کے ممکنہ نکات پر سماجی رائے جمع کرنا تھا۔ مذکورہ نقطے پر اپنے تجزیے نما تصور کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے عرض کیا تھا کہ بلوچ مسئلہ افراد کا نہیں ،بلکہ یہ ایک  اہم سیاسی بحران ہے جس کے اظہار کی مسلسل اور مختلف نظریاتی  شکلیں رہی  ہیں اور درپیش صورتحال میں اس بحران کا نمایاں مظہر مسلح جدوجہد ہے جس پہ متعدد افراد و تنظیمیں کاربند ہیں۔ان کی تعداد اور اثرات سے قطع نظر ملکی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے استقرار کا تقاضہ ہے کہ اسے درست انداز میں حل کرنے کے لیے  ریاست اپنے کردار کا جائزہ لے کر اس کا ازسرنو تعین کرے تو شاید تبدیلی کے نتیجے میں کسی دوسرے فریق سے مفاہمت یا معاہدے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی بھی مجوزہ مکالمے یا گفتگو کیلئے متحارب فریقین میں سے ریاست پاکستان کی نمائندگی کسے کرنی چاہیے؟اس سوال کے جواب سے مفاہمتی خواہش اور اس کے امکانات کا چراغ روشن بھی ہوتا اور بجھ بھی سکتا ہے۔میری رائے میں ریاست کی جانب سے کسی بھی امکانی بات چیت میں پارلیمانی اداروں کو کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے اور مذاکرات کی دعوت یا نقطہ ٓاغاز سے قبل اپنے تئیں درپیش مسئلہ  کے خدوخال پر معروضی انداز میں غیر جذباتی سطح پر وسیع تناظر میں داخلی مباحثے کے ذریعے ایسے ممکنہ نکات پر اتفاق رائے قائم کرناچاہیے جن پر دوسرا فریق اور اس سے میری مراد وسیع سطح پر بلوچ عوام یا قوم ہے، مطمئن ہوسکے۔ ایک ایسا بیانیہ جو بلوچ قوم اور اس کے عام فرد کی آسودگی،خوشحالی،حق ملکیت و حق حکمرانی اور قومی امنگوں کے مطابق پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں اطمینان بخش زندگی کا ضامن ہو،تشکیل دینا ہوگا۔پارلیمانی ادارے(وفاقی و صوبے) ملکی سالمیت کے عصری اور مستقبل بعید کے تمام اہم تقاضوں کو محفوظ بنانے کیلئے قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے سے مشاورت کرکے باہمی اعتماد و مشاورت سے طے پانے والے بیانیے پر گفتگو کریں تو بھی اور اگر ایسے بیانیے پر کسی گفتگو کے بغیر از خود عمل درآمد کا آغاز کردیں  تو بلوچ بحران کے حل کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ  آنے والے انتخابات میں بلوچستان کے تمام عوام اور بالخصوص بلوچ قوم کے افراد پر اعتماد کیا جائے ،انہیں کسی بھی قسم کی مداخلت یا سرپرستی کے بغیر آزادانہ طور پر شفاف انداز و طریقہ کار کے مطابق اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع دیا جائے۔سرکاری حلقوں کی جانب کسی امیدوار یا پارٹی کی مخالفت یا سرپرستی نہ کی جائے تو نو منتخب ارکان وہ قانون ساز ہونگے جو سطور بالا میں پیش کردہ مجوزہ بیانیے کی تشکیل میں بلوچ قوم کی نمائندگی کے قانونی طور پر مجاز ہونگے، لیکن پہلی شرط یہ ہے کہ ریاست اپنی تشکیل و خدوخال میں جدت کاری کیلئے جرات مندانہ عزم کا ارادہ کرے تاکہ پاکستان کو ایک وفاقی پارلیمانی جمہوری ریاست بنانے کا عمل آگے بڑھ سکے۔ ایسی ریاست جس میں تمام شہری بلا امتیاز رنگ و نسل عقیدہ و زبان اور تمام اقوام آسودہ حال  اور اطمینان بخش زندگی بسر کرنے پر یقین رکھ سکیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...