گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے خلاف عوامی احتجاج کیوں؟

930

وفاقی کابینہ اور نیشنل سکیورٹی کونسل سے منظوری کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دورہ گلگت کے موقعے پر گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران  گلگت بلتستان آرڈر  کا باقاعدہ اعلان کیاہے۔ حکومت نے ان اصلاحات کی تیاری میں تین سال سے زائد کا عرصہ صرف کیا تھا جس کے باعث توقع کی جارہی تھی کہ اس آرڈر کو عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہوجائے گی لیکن اس آرڈر کوشرفِ منظوری حاصل ہونے  اور اسکے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی عوامی حلقے اس آرڈر   کے خلاف سرا پا احتجاج بن کر سڑکوں پر آگئے۔ یوں تو اکتوبر 2015 میں سرتاج عزیز کی سربراہی میں گلگت  بلتستان کے لیے اصلاحاتی مسودہ کی تیاری کے لیے کام شروع ہونے سے لیکر 27 مئی2018 کو وزیر اعظم کی جانب سے گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں اس آرڈر کے باقاعدہ اعلان تک کے تمام مراحل کو گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں سے یکسر مخفی رکھا گیا۔جس کے باعث ابتدا ہی سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں تحفظات نے جنم لیاتھا لیکن حکومتی حلقے وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پہ لوگوں کو یہ یقین دہانی کراتے رہے کہ گلگت بلتستان کو ملک کا آئینی  صوبہ  بنایا جارہا ہے اور گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں مکمل یا بطور مبصر کے نمائندگی  دی جارہی ہے۔جس کی روشنی میں گلگت بلتستان بھر میں عوام نے ایک ذہن بنا لیاہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے اصلاحات کی یہ دستاویز خفیہ  رکھے جانے کے باوجود یہ پبلک ہو گئیں ۔ ابھی یہ دستاویز نیشنل سکیورٹی کونسل اور کابینہ سے منظور نہیں ہو پائی  تھیں  کہ اسکی کاپیاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں ۔ پڑھنے سے معلوم ہوا  کہ حکومتی حلقے  ان اصلاحات کے بارے جس بیانیہ کا اظہار کرتے رہے تھے وہ حقائق کے منافی تھا ۔ جس میں سیاسی اور عومی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

حزب ِاختلاف کی جماعتیں تو پہلے سے ان اصلاحات کے حوالے سے مطمئن نہیں تھیں، اب ان اصلاحات سے متعلق معلومات حاصل ہونے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمنِ تاجران  بھی اس آرڈر کے خلاف احتجاج  کی تحریک میں شامل ہوگئے،  جس سے اصلاحات کے خلاف جاری تحریک میں شدت آگئی۔ان اصلاحات کے خلاف مختلف اضلاع میں عوام  سڑکوں پر آگئے اور جلسہ جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ احتجاج میں اُس وقت شدت آئی جب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ گلگت بلتستان کا شیڈول سامنے آیا اور یہ طے پایا کہ وزیر اعظم گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں ان اصلاحات کا باقاعدہ اعلان کرینگے۔وزیر اعظم کے دورے سے ایک روز قبل گلگت اور سکردو  میں  ایکشن کمیٹی اور متحدہ ا پوزیشن کے بڑے جلسے بھی  ہوئے ۔ گلگت میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا ، آنسو گیس استعمال کی اور ہوائی فائرنگ کا سہارا لیا۔  شیلینگ سے ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی کے رہنمازخمی ہوئے۔ جس پر مظاہرین دھرنے  پر بیٹھ گئے ۔ اگلے  روز وزیر اعظم کی گلگت آمد کے موقع پر گلگت اور بلتستان کے چاروں اضلاع میں شٹر ڈاون مکمل ہڑتال کی گئی اور بڑے احتجاجی جلسے کیے گئے۔ احتجاج کی صدائے بازگشت وزیر اعظم کی موجودگی میں اسمبلی میں بھی سنائی دی گئی۔اپوزیشن ارکان نے وزیر اعظم کے سامنے گلگت بلتستان آرڈر کی  کاپیاں پھاڑ کر  پھینک  دیں اور چیخ چیخ کر مطالبہ کیا کہ ہمیں آرڈر پر ٹرخانے کا سلسلہ بند کیا جائے اورہمیں آئین دیا جائے۔ اپوزیشن ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم کی تقریر کا بائیکاٹ کیا  ۔ اپوزیشن کو منانے کی کوششیں بھی کام نہ آئیں۔ سکردو میں تین روز سے جاری احتجاجی جلسے میں اک بار پھر گلگت بلتستان آرڈر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت کو  اس آرڈر کو واپس لینےکے لیے  تین روز کی مہلت دی گئی ہے،تین روز کے بعد اگلے لائحہ عمل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سنٹرل ایگزیکٹیو کے ممبر اور سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس آرڈر کو یکسر مسترد کرنے اورجی بی کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر میں ایسی کیا بات ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ۔زیر نظر کالم میں  اتنی گنجائش موجود نہیں کہ ہم وہ ساری تفصیلات یہاں درج کریں ،جنکو  بنیاد بنا کر گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے شق وار  تجزیہ و تبصرہ آنے والے کالموں میں کیا جائے گا یہاں اُس مرکزی بنیاد کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی جو اس آرڈر کےخلاف لوگوں  کو اُٹھ کھڑا ہونے پہ مجبور کر رہا ہے۔ماضی کی گلگت بلتستان سیلف گورننس آرڈر 2009 کے تحت پہلی بار گلگت بلتستان کو صوبائی خودمختاری دی تھی۔ 2009 کے سیلف گورننس آرڈر  میں حکومت  سے مراد گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت یعنی وزیر اعلیٰ اور اُسکی کابینہ مراد تھی ۔ اب موجودہ آرڈر  2018 میں وزیر اعظم پاکستان کو گلگت بلتستان میں غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں ۔ اب حکومت سے مراد وزیر اعظم پاکستان، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ اور وزرا ہیں۔ اسمبلی کے پاس قانون سازی کے لئے  62 اُمور ہیں جبکہ وزیر اعظم کے پاس 68 اُمور ہیں جس پر قانون سازی کرنی ہے۔  وزیر اعظم گلگت بلتستان کے لیے قانون بنا سکتا ہے، ٹیکس عائد کر سکتا ہے ۔ گلگت بلتستان اسمبلی اور وزیر اعظم کے بنائے ہوئے قوانین آپس میں متصادم ہوں تو اسمبلی والا قانون کا لعدم ہوگا اور وزیر اعظم والا نافذ ہوگا۔ وزیر اعظم گلگت بلتستان میں آرڈر 2018 کو معطل کر کے ایمریجنسی کا نفاذ اور لوگوں کے بنیادی حقوق کو بھی معطل کر سکتا ہے۔

فیصلہ آپ خود کریں کہ اس آرڈر سے گلگت بلتستان کو مزید آزاد اور مضبوط کیا گیا ہے  یا مزید جکڑا گیا ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...