نواز شریف اب کیا کریں گے؟

966

جب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بسم اللہ سے اپنے بیان کا آغاز کیا تو کھچا کھچ بھری عدالت میں جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو ،جیسے سب نے اپنی سانسوں کو  روک لیا ہو،  جیسے عدالت میں سرے سے کوئی موجود ہی نہ ہو۔ جب سابق وزیر اعظم بیان کے اس حصے پر پہنچے جہاں انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر فوجی آمروں کا آلہ کار بننے پر تنقید کے نشتر برسائے تو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر بولے کیا یہ بات بھی بیان کا حصہ بن سکتی ہے؟ وکیل صفائی خواجہ حارث نے بتایا کہ  جو یہ مقدمات چل رہے ہیں یہ سب بھی ان کا ہی پس منظر ہے اور خاص تناظر میں یہ سب بھی بیان کا ہی حصہ ہے۔  نواز شریف جب آخری پیرگراف کے آخری حصے میں پہنچ کر جج سے مخاطب ہوئے تو کہا میں ریفرنس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔ بلاشبہ مجھے آپ کواور ہم میں سے ہر ایک انسان کو ایک نہ ایک دن اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، مجھے یقین ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت آپ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں گے کہ آپ کو بھی ایک دن اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کرنا ہے،میری دعا ہے کہ آپ  وہاں سرخرو ہوں۔ جج نے جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی نواز شریف کو کہا بس ٹھیک ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت آپ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں گے کہ آپ کو بھی ایک دن اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کرنا ہے،میری دعا ہے کہ آپ  وہاں سرخرو ہوں۔ نواز شریف

سابق وزیراعظم نے آج کے انکشافات کو پہلا قدم قراردیاہے۔ غیر رسمی گفتگو میں کہا ڈرنا نہیں ہے۔ نواز شریف سخت ترین حالات کا سامنا کرنے کےلیے تیارنظر آتے ہیں جبکہ اچھے کی امید بھی لگائے بیٹھے ہیں۔ میں نے سوال پوچھا آپ کے بیانیے سے تو اب آپ کی اپنی پارٹی میں بھی ڈر پایا جاتا ہے تو جواب آیا میرے بیانیے کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے، میرے بیانیے کو پوری قوم کی پذیرائی حاصل ہے۔  پھر بولے آج کل میڈیا کو ڈرایا جارہا ہے یہ چیزیں نوٹ ہو رہی ہیں اور ہم نوٹ کررہے ہیں۔ کہتے ہیں مجھے بتایا جائے سابق وزرائے اعظم سے متعلق میری بات میں کیا غلط ہے؟ میں نے عرض کی وہ درست بات ہے البتہ آپ کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ جب بھی آپ اقتدار میں آتے ہیں تو ادارہ جاتی کشمکش  کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس پر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی اور ان کی نشست کے قریب ہی کھڑے سینیٹر چوہدری تنویر نے کہا چلیں آپ کوئی ایک ایسا وزیر اعظم بتادیں جس کے ساتھ کشمکش نہ ہوئی ہو؟

نواز شریف سے سوال ہوا کہ آج کے بیان کے بعد آپ کی مشکلات میں اضافہ تو نہیں ہو جائے گا؟ مریم نواز نے فوری طور پر جواب دیا مشکلات کا سامنا کر تو رہے ہیں۔ اب اور کون سی مشکلات ہو سکتی ہیں؟ جب نوازشریف نے بیان سے متعلق تبصرہ کرنے کا کہا تو میں نے کہا بطور صحافی مجھے آج کے بیان میں چار چیزیں زیادہ اہم نظر آرہی تھیں ایک مشرف غداری کیس آپ کے لیے مشکلات لے کرآیا، آپ نے گھر درست کرنے کی بات کی تو پھر اس کاشدید ردعمل سامنے آیا، آپ نے خارجہ پالیسی کو بدلنے کی کوشش کی، ابھی چوتھا نکتہ نہیں بتایا تھا کہ مریم نواز نے کچھ مزید اہم حصوں کو طرف توجہ دلائی۔ مریم نواز اس بیان پر زیادہ خوش نظر آرہی تھیں اورعدالت میں حسب معمول سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال کرتی بھی نظر آئیں۔ انہوں نے عدالت سے بیٹھ کر میڈیا کوریج کو مانیٹر کرکے نوازشریف کوبھی صورتحال سے آگاہ کیا جس کے بعد نواز شریف نے اپنے رفقاء سے مشورہ کیا کہ وہ اپنے بیان سے متعلق براہ راست میڈیا پر خود آکر بتائیں تو بہتر ہوگا۔ پنجاب ہاؤس کا رخ کیا گیا اور یہ طے پایا کہ سوال جواب کا سیشن نہیں ہوگا نوازشریف صرف وہی بیان پڑھیں گے جو انہوں نے عدالت میں دیا ہے۔

نواز شریف انتخابات کے بروقت انعقاد پر یقین رکھتے ہیں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو آئینی حدود میں رہنے کا مشورہ دیتے ہیں

نواز شریف جب کوئی بیان دیتے ہیں تو پھر بحث کو بھی مانیٹر کرتے ہیں۔  ان کی نظر سے کچھ  بچ نکلتا ہے تو مریم نواز ان کی توجہ اس طرف دلاتی ہیں۔ مریم نواز نے نواز شریف کو موبائل کا عادی بنادیا ہے۔ خود مریم نواز کے لیے موبائل فون سے چند لمحے بھی دور رہنا مشکل ہے۔ وہ مسلسل فون استعمال کرتی نظر آتی ہیں۔ نواز شریف سوچ سمجھ کر بیان دیتے ہیں اور پھر ان کی کوشش ہوتی ہے وہ کچھ وقت زیر بحث رہے ،اس کے بعد پھر وہ کوئی نیا بیان یا نعرہ دے دیتے ہیں۔ ایک بیان دینے کے بعد سوالات کے جوابات نہ دینا بھی ان کی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے تاکہ بحث کا رخ نہ بدل سکے۔ مجھے کیوں نکالا کا نعرہ کئی ماہ زبان زد عام رہا اور اس کا تفصیلی جواب انہوں نے کئی ماہ بعد احتساب عدالت میں دیا۔ اسی طرح ووٹ کو عزت دو کو وہ اس نظریے کے ساتھ آگے بڑھاتے نظر آتے ہیں کہ جب ووٹ کے بعد اقتدار ملے تو پھراختیار بھی مل سکے۔ وہ انتخابات کے بروقت انعقاد پر یقین رکھتے ہیں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو آئینی حدود میں رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

کسی کو  سمجھ آئے  یا  نہ آئے “ووٹ کو عزت دو “کا نعرہ   2018 کے انتخابات کی بنیاد ہوگا

غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف سے میں نے پوچھا کہ2018 کا انتخاب  کس نعرے کی بنیاد پر ہوگا؟ نوازشریف نے جواب دیا یہ انتخابات “وو  ٹ کو عزت دو “کے نعرے پر ہونگے۔ میں نے عرض کی کیا” ووٹ کو عزت دو”لوگوں کو صحیح سمجھ آرہا ہے؟ جواب آیا اب عوام خود نعرے لگاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں “ووٹ کو” اور میں کہتا ہوں “عزت دو”۔ ہمارے جلسے تو دیکھو، لوگوں کا جوش وخروش بھی دیکھ لو۔ میرے پاس اب بھی بہت سے سخت سوالات تھے،جواب کے لیے ٹکٹکی باندھے نواز شریف کو دیکھ رہا تھا کہ بحث کے اختتام پر مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو سمجھ آئے نہ آئے “ووٹ کو عزت دو ” 2018 کے انتخابات کی بنیاد ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...