ہجر ہے میرے چار سو!

966

دنیا میں جتنے مرد ہیں کم و بیش اتنی ہی عورتیں ہیں۔ خوبصورت، وجیہ و شکیل، مخلص، کامیاب اور پیار کرنے والے نہ مردوں کی کمی ہے، نہ ہی حسین و جمیل،  خوش ادا، خوش گفتار، خوش کردار، احساس و شائستگی کی پیکر عورتوں کا کوئی کال ہے۔ پھر یہ کیوں کہ ہر دوسرا شخص انسانوں کے اس ہجوم میں خود کو تنہا سمجھتا ہے؟ ارے ارے سنیے، یہ کوئی مذاق کی بات نہیں، نہ ہی یہ کوئی معمولی مسئلہ ہے۔ احساس تنہائی کا یہ روگ اس سماج کی رگوں میں بیٹھا ہے۔ خاص طور پر ہمارا پڑھا لکھا، حساس اور تخلیقی ذہن رکھنے والا طبقہ (اگر اسے طبقہ کہا جا سکے) بہت شدت سے یہ احساس رکھتا ہے۔ آپ کو بھی اکثر ایسے لوگ ملے ہوں گے جن کا شکوہ ہے کہ کوئی ایسا نہیں مل سکا/سکی جس سے ذہنی ہم آہنگی ہو، جمالیاتی قرب کا احساس ہو، تخلیقی سطح پر ہمیں سمجھنے کی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہو، جس سے علمی سطح پر ایک گہرا، سنجیدہ اور بہت ذاتی نوعیت کا مکالمہ ہوسکے۔  غالبا اکرم محمود کا ایک شعر ہے

ہجر ہے میرے چار سو، ہجر کے چار سو خلا

میں بھی نہیں میرے قریب، تیرا تو خیر ذکر کیا

اکثر ایسا ہے کہ آشناؤں کے ہجوم میں گھرے، قربتوں کے تمنائی اپنے واہموں کے جھروکوں سے کسی درد آشنا کو ڈھونڈتے ہیں اور ہجر کی طویل راتوں کا انعام پاتے ہیں۔ غالب نے کہا کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا، میر نے کہا دل خوں ہے، جگر داغ ہے، رخسار ہے زرد،حسرت میں گلے لگنے کی چھاتی میں ہے درد۔ ناصر نے کہا میں ایسے جمگھٹے میں کھوگیا ہوں، جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے، عدم نے کہا کسی واقف سے بات کیجے گا، آپ سے آشنا نہیں ہوں میں۔ افتخارعارف نے کہا دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو، کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو۔ یا خواجہ غلام فرید کے الفاظ میں کیا حال سناواں دل دا، کوئی محرم راز نہ ملدا۔ اسی موضوع پر بات چھڑی تو ہمارے دوست جمشید اقبال نے اپنا شعر سنایا کہ دور تک کوئی نہیں پاس سوائے میرےدھوپ میں ٹوٹ گئے کانچ کے سائے میرے۔

نفسیات دانوں کا ماننا ہے کہ انسان کی خوشی کا بڑی حد تک انحصار اس کے ارد گرد موجود لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت پر ہے۔ ہر انسان کی یہ صرف خواہش ہی نہیں بلکہ ضرورت ہے کہ کوئی تو ایسا ہو جس کے ساتھ وہ اپنے دل کی بات کہہ سکے، جس پر اپنے رازوں کے سلسلے میں اعتبار کرسکے، کسی سے وابستگی کا احساس پا سکے، کوئی جو اس کی بہت ذاتی خوشیوں اور غموں کا شریک ہو، کوئی برے بھلے وقتوں کا ساتھی ہو، کسی کے ساتھ محبت کا ایسا رشتہ ہو جس میں کوئی جھجک، کوئی ڈر، کوئی رکاوٹ، کوئی بے اعتباری نہ ہو۔ مختصراً یہ کہ مضبوط تعلقات زندگی میں خوشی کی کلید ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہر شخص ہی کسی درد آشنا کا تمنائی ہے، کسی چارہ ساز کی تلاش میں ہے جب کہ وہ خود بھی درد آشنا اور چارہ ساز ہے یا ہو سکتا ہے تو پھر یہ تنہائی سب کا مقدر کیوں؟ سچی بات ہے یہ گتھی بھی غالب نے یہ کہہ کر سلجھائی کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔ جی ہاں اعتبار۔ اصل بات شاید یہ ہے کہ چونکہ ہمیں کسی پر اعتبار نہیں اس لئے ہر درد آشنا کی آستین میں ہمیں سانپ نظر آتا ہے۔ ہر کمین گاہ کے پیچھے کوئی دوست دکھائی پڑتا ہے اور ہم پہلے سے زیادہ تنہا ہوجاتے ہیں۔ اب قربتوں کی متلاشی اس دنیا میں ہجر ہمارا مقدر نہ ہو تو کیا ہو؟

ایک چیز جو کسی حد تک واضح ہو رہی ہے وہ یہ کہ احساس تنہائی کا ایک بڑا سبب رشتوں کا نہ ہونا نہیں بلکہ رشتوں میں سے بھروسے کا ختم ہو جانا ہے۔ ہمیں لگتا ہے بلکہ یقین ہوتا ہے کہ ہردوسرا شخص جس سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے وہ ہمیں دھوکہ دینا چاہتا ہے، ہم سے جھوٹ بول رہا ہے، خود کو وہ ظاہر کر رہا ہے جو وہ ہے نہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہم دفاعی بندوبست میں اس سے پہلے کہ وہ ہمیں دھوکہ دے اس کے دھوکے کو خود اس پر الٹا دینے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا شیطانی چکر شروع ہوتا ہے کہ ہماری دنیا دھوکوں سے بھر جاتی ہیں اور ہم سب اپنی اپنی جگہ پر یہ شکوہ کرتے ہیں اور سب ہی اپنی اپنی جگہ پر درست بھی ہوتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری چالاکیاں ہی ہماری خوشیوں کی راہ میں کھڑی ہوں؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...