سول ملٹری تعلقات: پاکستانی سیاست کا ساختیاتی مسئلہ

697

پاکستان کی سیاست کے ساختیاتی مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ سول ملٹری تعلقات کا ہے۔ اس مسئلے کی بازگشت قیام پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک ہر دور حکومت میں سنائی دیتی ہے اور اسی کے شاخسانے کے طور پر ملک میں مارشل لاء لگتے رہے۔ عام طور پر سویلین بالادستی یا پھر فوجی حکومتوں کے دفاع میں ہمارے ہاں جذباتی باتیں بہت کی جاتی ہے مگر زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے یکطرفہ ٹریفک چلادی جاتی ہے۔  پاکستان کی سیاست میں کسی بھی فریق کی بالادستی کا معاملہ براہ راست اس سوال کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ پاکستان کا قومی مفاد (National Interest) آخر ہے کیا؟

کیا ہم کشمیر،ایٹمی پروگرام کی حفاظت، نظریہ پاکستان کا دفاع، انڈیا کی بالادستی کی مزاحمت اور افغانستان سمیت دیگر اہمیت کے حامل ممالک میں غیر ملکی طاقتوں بشمول امریکہ کی ریشہ دیوانیوں کو روکنے وغیرہ کو پاکستان کا قومی مفاد سمجھتے ہیں؟ یا پھر اس کے برعکس ہم آزاد تجارت، انڈیا کی خطے میں بالادستی کی قبولیت، معاشی و معاشرتی سطح پر لبرل ایجنڈے کی ترویج، ایٹمی پروگرام کے وسائل کو موڑنے اور امریکہ کی بین الاقوامی سطح پر بالادستی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے معاملات میں اس کی حتمی رائے کو قبول کرنے کو قومی مفاد کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں؟

جو کشمکش اس وقت ملک میں چل رہی ہے وہ اسی بنیادی سوال کے گرد گھومتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور فوج کی سویلین حکومت پر بالادستی کو روکنے کے نام پر جو قوتیں مجتمع ہورہی ہیں وہ دراصل صرف فوج کی مخالف نہیں بلکہ وہ پاکستان کے قومی مفاد کے حوالے سے ایک مختلف نقطہ نگاہ رکھتی ہیں۔ یہ قوتیں امریکہ کو پاکستان کا دشمن نہیں سمجھتیں ۔ ان کے خیال میں کشمیر کا مسئلہ سردست ایک طرف رکھ کر کر آزاد تجارت کے ذریعے معیشت کو مضبوط کیا جانا ضروری ہے۔ ایٹمی پروگرام اور میزائل پروگرام پر غیر ضروری اخراجات کو کم یا ختم کر کے ان وسائل کو عوام کی فلاح پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ انڈیا کو یہ لوگ دشمن کے طور پر دیکھنے کی بجائے ایک پڑوسی کے طور پر دیکھتے ہیں اور عوام کی سطح پر روابط کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان کی افغانستان میں مداخلت کو غلط قرار دے کر پاکستان کو ان معاملات سے غیر متعلق ہونے کی نصیحت کرتے ہیں۔ پاکستان کے اندر نجی جہادی کلچر کی روک تھام کے لیے ضروری اور حقیقی اقدامات اٹھانے پر زور دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ان امور پر مختلف پوزیشن رکھتی ہے۔ فوج کے خیال میں انڈیا پاکستان کا دشمن ہے اور اس کو دوست سمجھنا تاریخی حوالے سے سنگین غلطی ہے۔ فوج کی نظر میں دشمنی کی ابتداء انڈیا کی طرف سے ہوئی اور وہ پاکستان کو تابع مہمل بنا کر رکھنا چاہتا ہے اور بدلتی ہوئی بین الاقوامی سیاست میں امریکہ بھی انڈیا کا ہمنوا ہے۔ اسی لئے ایٹمی اثاثے، مخصوص جہادی تنظیمیں اور چین سے دوستی پاکستان کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ سیاسی حکومتیں فوج کی نظر میں یکے بعد دیگرے بیڈ گورننس کی مرتکب ہوتی ہیں اور یہ ملکی معیشت کو غلط فیصلوں سے تباہی کے دہانے پر لے جاتی ہیں۔

ظاہر ہے کہ فریقین کے پاس اپنے موقف کے حق میں تاریخی اور قانونی دلائل موجود ہیں۔ اس وقت ان دلائل کا احاطہ مقصود نہیں۔ یات کرنے کا مقصد  صرف یہ ہے کہ اکثر اوقات ان بنیادی امور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہوجاتی ہیں۔ ضیاء الحق کے دور میں جونیجو حکومت نے اپنی فہم اور دانش کے مطابق اور بین الاقوامی قوتوں کی ہمنوائی کرتے ہوئے جنیوا معاہدہ کرلیا اور فوج اس کو اپنی دس سالہ عسکری کامیابیوں کی تباہی سمجھتی رہی۔ بعد ازاں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں سے بھی فوج کو دفاعی معاملات اور گورننس کے طرز عمل پر اختلافات رہے۔ زرداری صاحب سے اختلافات اتنے بڑھے کہ میمو گیٹ کا معاملہ سامنے آیا اور سویلین گرفت کو حاصل کرنے کے لیے زرداری صاحب نے اپنے سمارٹ مشیروں کے کہنے پر امریکی کمک حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ نواز شریف کی حکومت نے “سیرل المیڈا” کے ذریعے اپنی طرز کا ایک میموگیٹ کھڑا کرنے کی کوشش کی اور اس سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سخت پیغام دینے کا تاثر قائم کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں جو سلسلہ شروع ہوا وہ نواز شریف کی نااہلی سے ہوتا ہوا ،ان کے معتمد ساتھیوں کو ٹارگٹ کرنے پر منتج ہوا ہے۔نواز شریف نے کئی ماہ کی اس دھمکی کے بعد کہ انہیں مجبور نہ کیا جائے ورنہ وہ اپنے تئیں حقائق سے پردہ اٹھا دیں گے۔ اب “سیرل المیڈا” ہی کو دیا ہوا ان کا بیان سامنے آگیا ہے ،جس سے حب الوطنی اور غداری کی بحث پورے زوروشور سے از سر نو شروع ہوگئی ہے۔

اس سارے معاملے میں نواز شریف، کسی حد تک پیپلزپارٹی،مولانا  فضل الرحمن اور دیگر حکومتی اتحادی جماعتیں، میڈیا اور سول سوسائٹی میں امریکی و برطانوی مفادات کے نمائندہ افراد (مثلا نجم سیٹھی، ڈان گروپ وغیرہ) ایک طرف کھڑے ہیں اور آرمی، انٹیلی جنس ادارے،جہادی تنظیمیں اور اسٹیبلشمنٹ کے حامی صحافی حضرات اور ادارے دوسری طرف کھڑے ہیں۔ الزام تراشی اور ایک دوسرے پر قومی مفادات سے غداری کے الزامات لگ رہے ہیں مگر کوئی نتیجہ نکلنے کی توقع نہیں۔ فوج یہ الزام لگا رہی ہے کہ اس کی افغانستان اور کشمیر کے اندر اسٹریٹیجک کامیابیاں امریکہ اور انڈیا کو ہضم نہیں ہورہیں اور اس کا بدلہ پاکستان میں سیاسی قوتوں کو آگے لگا کر لیا جارہا ہے۔ فوج کے صبر کا پیمانہ اس لیے بھی لبریز ہورہا ہے کہ ان کے بقول افغانستان میں شکست خوردہ امریکہ بھاگتے ہوئے پلٹ کر ایک اور حملہ کررہا ہے اور اس میں فوج کے سیاسی مخالفین استعمال ہورہے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی قوتیں یہ کہتی ہیں کہ فوج سول حکومت پر اپنے مفادات آگے بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔ اس کے لیے کبھی تو دھرنوں کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں اور کبھی سرحدوں پر ایسی سچویشن پیدا کی جاتی ہے کہ فوج کے ڈرائیونگ سیٹ پر ہونے کا تاثر ابھرتا ہے۔ سی پیک جیسے منصوبوں کا کنٹرول فوج اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے۔ سیاستدانوں کی کرپشن اور حکومتی عدم کارکردگی کے فسانے پھیلا کر فوج اپنے ادارتی اور کارپوریٹ مفادات میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ جہادی تنظیموں کو پراکسیز کے طور پراستعمال کرکے سویلین حکومت کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور ففتھ جنریشن وار فئیر کا فلسفہ کھڑا کر کے پورے ملک میں نوجوانوں کی تنظیمیں اور گروپ سامنے لائے جارہے ہیں جو سیاست و جمہوریت مخالف ڈسکورس کو پوری تندہی سے پھیلا رہے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا؟ کیا الزام تراشیاں اسی طرح جاری رہیں گی یا پھر  پاکستان میں ان کا خاتمہ بھی ممکن ہے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ فوج اور سیاسی قوتوں کے درمیان جاری عشروں کی مخاصمت اور ٹینشن کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے جب فریقین کھلے دل کے ساتھ ایک طویل اور منضبط  مکالمے کے عمل سے گذریں۔ اس مکالمے کے عمل میں صبر اور برداشت کے ساتھ فریقین ایک دوسرے سے اپنے خدشات اور مفادات کے تحفظ کے سوالات کھلے دل سے شیئر کریں۔ اس قسم کے مکالمے کی تجویز سابق چیئر مین سینیٹ رضا ربانی بھی  دے چکے ہیں مگر پیپلزپارٹی کی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ سے بڑھتی ہوئی قربت کی بنا پر اس موقع کو ضائع کردیا ہے۔ ایک عام پڑھا لکھا اور باشعور شخص کلی طور پر نہ تو فوج کے بیانیے کو درست سمجھتا ہےاور نہ ہی سیاسی قوتوں کا پوری طرح ہمنوا ہے۔ عام آدمی اپنے لیے جمہوری طور پر منتخب حکومت کے تسلسل کا خواہاں ہے تاکہ اس کو معاشی استحکام اور ترقی کے فوائد حاصل ہوسکیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سارے خدشات غلط نہیں ہیں۔ پاکستان کے بدخواہوں کو یکایک دوست سمجھنا اور ان سے غیرضروری قربتیں بڑھانا عام آدمی کے نزدیک نامناسب بات ہے اور وہ ملکی تحفظ اور سالمیت کے باب میں ابھی بھی فوج پر زیادہ اعتماد کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وزڈم کو مدنظر رکھ کر تمام ادارے سنجیدگی سے مکالمے کی راہ اپنائیں اور ملک و قوم کو مسائل کے بھنور سے نکالیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...