بادشاہی کا کھیل: کیپٹن(ر) صفدر کے انکشافات

دوسرا حصہ

2,550

میں نے کبھی کسی کو اجازت نہیں دی کہ میرے مذہبی عقائد پر کچھ کہے 

یوسف رضا گیلانی کی برطرفی غلط تھی ، ہمیں اس کی حمایت نہیں کرنی چاہیئے تھی

مریم نے میرے ساتھ مشکل وقت نبھایا

 

شادی کے بعد مریم نواز لاہور میں  اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر مانسہرہ میں  اپنے سسرال  میں دس مرلے کے مکان میں منتقل ہوگئیں ۔ نئے نویلے جوڑے کے پاس سوزوکی کی 1000 سی سی کار تھی کیونکہ  اس وقت کیپٹن صفدر کی یہی استطاعت تھی۔

مجھے اندازہ تھا کہ یہ سب اس کے لئے مشکل ہے مگر اس نے گزارا کیا ۔ کیپٹن صفدر بتاتے ہیں ۔

مریم نے مانسہرہ میں ہمارے دس مرلے کے مکان میں عام عورتوں کی طرح وقت گزارا

پاکستان میں روایتی طور پر ساس ہی خاندان کی نگران ہوتی ہے ۔ آپ کی والدہ اور بیوی کے تعلقات کیسے تھے ؟ میں نے سوال کیا ۔

”ان کے تعلقات بہت مثالی تھے ۔ مریم میری والدہ کے بالوں میں تیل لگاتی تھیں ۔ کنگھی کرتی تھیں ۔ باورچی خانے میں کام کاج کرتی تھیں ۔ وہ وہاں عام گھریلو خواتین کی طرح تھیں ۔ میری والدہ اور بیوی کے تعلقات بہت اچھے تھے ۔ ”انہوں نے دعویٰ کیا ۔

شادی کے بعد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے سول سروسز کے کورس مکمل کیے اور ان کی پہلی پوسٹنگ ضلع قصور میں بطور اسسٹنٹ کمشنر ہوئی ۔ جب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اپنی پوسٹنگ پہ پہنچے تو وہ افسر جو ان سے پہلے وہاں تعینات تھے انہوں نے درخواست کی کہ صفدر اپنی پوسٹنگ کہیں اور کروالیں کیونکہ ان کے بچے وہاں زیر تعلیم تھے اور ان کے امتحانات قریب تھے ۔ لہذا صفدر نے چونیاں میں جوکہ لاہور قصور روڈ پر لاہور سے 70 کلومیٹر دور ہے وہاں اپنی پوسٹنگ کروالی ۔

جب صفدر بطور اے سی اپنی نوکری ادا کررہے تھے تو میاں نواز شریف کی حکومت کو 18 جولائی 1993 میں برطرف کردیا  گیا ۔ اس دوران صفدر کا تبادلہ ماڈ ل ٹاؤن ہوگیااور وہ  میاں محمد شریف صاحب والد نواز شریف کے احکامات پر شریف خاندان کی رہائش گاہ میں رہنے لگے جنہیں وہ لوگ ابا جی کہتے تھے ۔

کیپٹن صفدر یاد کرتے ہیں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہاں ان کے ساتھ رہوں ،میں تو ایک مکان کرائے پر لینا چاہتا تھا ۔ تاہم دادا جی کی خواہش تھی  کہ میں ان کے ساتھ جاتی امرا میں رہوں ۔ لہذا میں اپنے والدین کی رضامندی سے وہاں رہنے لگا۔جب وہ ماڈل ٹاؤن میں تھے تو ان کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی ۔ انہیں اس کی تادیب میں او ایس ڈی لگایا گیا ۔ تاہم یہ جلد ہی ختم ہوگئی ۔

مجھ پر الزام تھا کہ میں نے صحافیوں سے لڑائی کی ہے ۔ جلد ہی یہ معاملہ  ختم ہوگیا ۔ میرا خیال ہے کہ یہ اس وقت کی وفاقی حکومت کی میرے خلاف سازش تھی ۔  کیپٹن صفدر وضاحت کرتے ہیں ۔

17 فروری 1997 کے بعد جب نواز شریف دو تہائی اکثریت لے کر طاقتور ترین وزیر اعظم منتخب ہوئے تو صفدر کو ہدایات ملیں کہ وہ وزیر اعظم کے اسٹاف میں بطور پرسنل اسٹاف افسر شامل ہوں ۔

حمید اصغر قدوائی چاہتے تھے کہ میں جنرل مشرف سے ملاقات کروں

وزیر اعظم ہاؤس میں جیسا کہ صفدر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں تک محدود تھے اور انہوں نے کبھی اپنی حدود پار نہیں کیں ۔ بہت سے لوگوں نے ان کے قریب ہونا چاہا مگر انہوں نے اپنے آپ کو لوگوں سے دور رکھا ۔ ان سب لوگوں میں ایک کردار حمید اصغر قدوائی کا  بھی تھا جو کہ مہران گیٹ سکینڈل کا اہم مہرہ ہیں، ان کے فوجی اسٹیبلیشمنٹ میں بھی کافی رابطے تھے ۔ اس دوران وہ وزیر اعظم ہاؤس میں بطور مہمان  ٹھہرے ہوئے تھے ۔

”ایک روز مسٹر قدوائی نے کہا کہ لیفٹنٹ جنرل مشرف مجھے منگلا میں مچھلیاں پکڑنے اور چھٹی گزارنے کے لئے بلانا چاہتے ہیں ۔ وہ اس زمانے میں کور کمانڈر منگلا تھے ۔ ” صفدر یاد کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں ۔

صفدر حیران تھے کہ کور کمانڈر منگلا انہیں کیوں بلانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے انکار کردیا ۔ مگر مسٹر قدوائی نے اصرار جاری رکھا کہ وہ منگلا جائیں ۔

آپ نے جنرل مشرف سے ملنے سے انکار کیوں کیا ؟ میں نے پوچھا ۔

” یہ میرے اختیار میں نہیں تھا کہ میں ایسے لوگوں سے ملوں جن سے ملنا میری ذمہ داری نہیں ہے ۔ مجھے علم تھا کہ میری شخصیت بہت حساس اور غیر معمولی ہے ۔میں ایک خاموش مبصر تھا اور میرا کام نہیں تھا کہ لوگوں کے معاملات میں دخل اندازی کروں۔” کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ۔

جنرل جہانگیر کرامت کی سبکدوشی کے بعد جنرل مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا  تو ان دونوں کی ملاقات وزیر اعظم ہاؤس کی مسجد میں ہوئی ۔

” مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں وزیر اعظم ہاؤس میں جمعہ کی نماز ادا کرنے گیا تھا وہاں میں جنرل مشرف سے ملا۔ وہ بہت گرمجوشی سے ملے ۔ نہ انہوں نے ، نہ ہی میں نے اس دعوت کا ذکر کیا جو میں ٹھکرا چکا تھا ۔ ” کیپٹن صفدر یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ۔

کیپٹن صفدر کی حیرانگی میں اضافی تب ہوا جب انہیں مسٹر قدوائی نے بتایا کہ جنر ل مشرف نے ان کی مسجد میں ملاقات کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس وقت مجھے ملنے نہیں آئے تھے جب میں نے ان کو منگلا آنے کی دعوت دی تھی ۔

اس واقعے سے اندازہ ہوتا تھا کہ جنرل مشرف کے ارادے کیا تھے اور ان کے مسٹر قدوائی سے گہرے تعلقات تھے جنہیں انہوں نے اکتوبر 99 کی فوجی بغاوت کےبعد کینیا میں ہائی کمشنر تعینات کیا تھا ۔

جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی گفتگو ہندوستانیوں نے سن لی

اگرچہ کیپٹن صفدر وزیر اعظم ہاؤس میں اپنی ذمہ داریوں تک محدود تھے تاہم انہوں نے کارگل کرائسس کےدوران آنے والی فوجی بغاوت کی چاپ سن لی تھی ۔

” میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی گفتگو ہندوستانیوں نے سن لی اور اسے میڈیا پر نشر کر دیا۔ میرے لئے یہ ہضم کرنا بہت مشکل تھا کہ  ہندوستانی ہمارے نظام میں اس حد تک سرایت کرچکے تھے ۔ مجھے یقین تھا کہ اب کچھ ہوکر رہے گا ۔ ”

کیپٹن صفدر یاد کرتے ہیں ۔

سول ملٹری تعلقات جولائی میں ہونے والے  کارگل کے فوجی آپریشن کے دوران بدتر ہوچکے تھے ۔ تین ہی ماہ میں ملک میں فوجی راج نافذ ہوگیا ۔

12 اکتوبر کے روز کیپٹن صفدر اپنے والدین سے ملنے مانسہرہ گئے ہوئے تھے ۔ انہیں کہا گیا کہ کوئی بیمار ہے اس کی مزاج پرسی کرنی ہے۔

”اس روز میں وزیر اعظم ہاؤس میں فون کررہا تھا مگر کوئی بھی فون نہیں سن رہا تھا ۔ ” کیپٹن صفدر اپنی یاداشت دہراتے ہیں ۔

وزیر اعظم ہاؤس میں رابطے نہ ہونے کی وجہ سے جواں سال کپتان نے جاتی امرا  لاہور میں وزیر اعظم ہاؤس فون کیا ۔

”سر! فوج نے قبضہ کرلیا ہے ۔” جیسے ہی کیپٹن صفدر نے آپریٹر سے بات کی تو اس نے بتایا ۔ پھر آپریٹر نے ان کا رابطہ بیگم کلثوم نواز سے کروایا انہوں نے بھی ساری صورتحال بتائی ۔ مریم نواز بھی ان کے ساتھ ہی تھیں ۔

صفدر نے دونوں خواتین کو صبر کرنے کو کہا اور تسلی دی کہ وہ بھی جلد ہی لاہور پہنچ جائیں گے ۔

صفدر نے اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو اسلام آباد میں فوجی بغاوت کے متعلق بتایا ۔ ان کے والد نے کہا کہ وہ بھی ان کے ہمراہ اسلام آباد جائیں گے ۔ دونوں باپ بیٹا اسی رات اسلام آباد روانہ ہوگئے اور صبح ہی سپریم کورٹ میں کیپٹن صفدر کے والد کی جانب سے فوجی ایکشن کے خلاف پٹیشن دائر کردی گئی ۔  اسحاق مسرور پیٹشنر نے  فوجی اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے وکالت کے لئے راجہ اکرم ایڈوکیٹ کی خدمات لیں جو کہ  سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ کے والد تھے ۔

” ہم نے راجہ صاحب کو وکیل کیا ۔ اگلے روز 13 اکتوبر کو جب ہم سپریم کورٹ پہنچے تو ہمارے وکیل وہاں نہیں پہنچے تھے ۔ ” کیپٹن صفدر یاد کرتے ہیں ۔

صفدر بتاتے ہیں کہ پہلی پٹیشن ان کے والد اسحاق مسرور نے دائر کی ۔ سینیٹر ظفر علی شاہ نے بعدا زاں پٹیشن دائر کی تھی ۔

سپریم کورٹ میں اپنی پٹیشن سے مایوس ہوکر کیپٹن صفدر لاہور میں اپنے خاندان کے پاس  وزیر اعظم کی رہائش گا ہ پہنچے جنہیں فوجی انتظامیہ کی جانب سے زبردستی نظر بند کیا گیا تھا ۔

جاتی امرا کے گھر پہنچنے پر صفدر کو بھی فوجی حکام کی جانب سے حراست میں لے لیا گیا اور انہیں شریف خاندان کے ماڈل ٹاؤن والے مکان میں نظر بند کر دیا گیا ۔

” مجھے پانچ ماہ کے لئے نظربند کیا گیا تھا ۔ میرے ساتھ حمزہ بھی تھے مگر ہمیں ایک ساتھ نہیں رکھا گیا تھا ۔ شام کو جب ہمیں چہل قدمی کے لئے لے جایا جاتا تو ہم ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرلیتے ۔ ” ۔ کیپٹن صفدر یاداشت دہراتے ہیں ۔

جب صفدر کے والد کو علم ہوا کہ ان کا بیٹا نظر بند ہے تو انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں  مارچ 2000 میں اس کے خلاف عرضی دائر کردی ۔  بعد ازاں فوجی انتظامیہ کی جانب سے صفدر کو رہا کردیا گیا ۔ انہیں نوکری میں پہلے ہی او ایس ڈی بنا دیا گیا ۔ ممکنہ طور پر وہ فوجی طیش کا سامنا کررہے تھے کہ وہ  سبکدوش وزیر اعظم نوازشریف کے داماد تھے ۔

سبکدوش وزیر اعظم اٹک کے قلعے میں قید تھے جبکہ بیگم کلثوم نواز ان کی رہائی کے لئے سیاسی مہم چلا رہی تھیں ۔ صفدر تکنیکی طور پر بے عمل ہوکررہ گئے تھے کیونکہ وہ سرکاری ملازم تھے ۔

” ایک روز مجھے بتایا گیا کہ مجھے نواز شریف اور ان کے خاندان کے ہمراہ جدہ سعودی عرب جانا ہوگا ۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ جاؤں لیکن ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے مجھے بتایا کہ میرانام بھی شامل ہے ۔ مجھے جانا ہوگا ۔ ” کیپٹن صفدر بتاتے ہیں ۔

یا اللہ ! پاکستان کو غاصب فوجیوں سے پاک فرما

جب وہ سعودی عرب میں تھے تو صفدر بتاتے ہیں کہ وہ باقاعدگی سے مسجد الحرام جاتے تھے  اور نماز ادا کرتے تھے ۔ ایک روز جب وہ مسجد الحرام میں نماز ادا کررہے تھے تو انہوں نے جنرل عزیز کو دیکھا کہ وہ  وہاں نماز ادا کررہے ہیں ۔ وہ اس وقت جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین تھے ۔ یہی وہ آدمی تھے جنہوں نے حقیقت میں فوجی بغاوت کے تانے بانے بنے تھے اور ان کے سسر کی حکومت ختم کی تھی ۔ انہی کی وجہ سے وہ جلاوطنی کاٹ رہے تھے ۔

” میں نے انہیں دیکھا اور اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کرکے اونچی اونچی دعا مانگنے لگا ۔  یا اللہ ! پاکستان کو غاصب فوجیوں سے پاک فرما ۔ جیسے جنرل عزیز نے یہ سنا انہوں نے اپنی جگہ بدل لی ۔ صفدر نے مسکراتے ہوئے مجھے بتایا ۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ ان کی دعا کے بعد جنرل عزیز کے تعلقات جنرل مشرف کے ساتھ خراب ہوگئے اور انہیں ریٹائرڈ کردیا گیا ۔

” کیا جنرل عزیز نے آپ کو پہچانا ؟ نہیں ، وہ مجھے نہیں جانتے تھے ۔ صفدر نے میرے مختصر سوال کا  چھ لفظوں میں جواب دیا ۔ اس سے پہلے اس طرح کی ایک حرکت وہ جنرل محمود کے ساتھ بھی کر چکے تھے جو کہ فوجی بغاوت کا ایک اور اہم مہرہ تھے ۔ مسجد الحرام میں جب جنرل محمود اپنے محافظوں کے ہمراہ عمرہ ادا کرنے کے لئے موجود تھے تو صفدر نے انہیں وہاں دیکھ لیا ۔ انہیں دیکھ کر بھی انہوں نے اونچی آواز میں اپنے ملک کی حفاظت کے کے لئے دعا مانگنی شروع کردی ۔

” میں نے ایسا کیا ضرور تاہم مجھے لگتا ہے کہ جنرل محمود نے وہ نہیں سنا کیونکہ وہ اپنے محافظین کے ہمراہ تھے ۔ لیکن میری دعاؤں کے سبب انہیں جلد ہی ڈی جی آئی ایس آئی کی پوزیشن سے ہٹا کر گھر بھیج دیا گیا ۔ ”

ازحد مذہبی مزاج صفدر کو اپنی دعا پہ بھروسہ تھا ۔

آپ اس قدر مذہبی بنیاد پرست کیوں ہے کیونکہ آپ ایک مذہبی اقلیت کے خلاف بہت کچھ کہتے ہیں ؟ میں نے پوچھا۔

” میں بچپن سے ہی مذہبی ہوں کیونکہ میری پرورش ایک کٹر بریلوی خاندان میں ہوئی ہے ۔ صفدر بتاتے ہیں ۔

میں نے کبھی کسی کو اجازت نہیں دی کہ میرے مذہبی عقائد پر کچھ کہے

صفدر کے والد کے علاوہ ان کی والدہ حاجرہ بی بی بھی بہت مذہبی خاتون تھیں ۔ ایک بار ان کے بچپنے میں وہ سب بچوں کو تاج محل سینما لے کر گئیں جہاں انہوں نے خانہ خدا نامی فلم دیکھی ۔ اس فلم میں مکہ اور مسجد الحرام دکھائی گئی تھی ۔

” صفدر یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ فلم کے دوران جب مسجد الحرام کا منظر آیا تو میری والدہ نے اسی وقت دعا کے ہاتھ بلند کئے اور دعا مانگی کہ وہ مسجد الحرام دیکھیں ۔ ”

جب ہم وہاں جلاوطنی گزار رہے تھے تو میرے والدین سات سالوں میں چھ بار حج کے لئے آئے ۔

صفدر صوفی اسلام کے ماننے والے ہیں ۔ وہ ممتاز قادری کا بھی احترام کرتے ہیں جنہوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو شریف خاندان میں سے کوئی منع نہیں کرتا کیونکہ آپ  اپنے متنازعہ بیانات اور مذہبی نظریات کے سبب اکثر اوقات ان کے لئے مشکل صورتحال پیدا کردیتے ہیں ۔ کیا آپ کے سسر نواز شریف یا اہلیہ مریم نے آپ کو کبھی روکا نہیں ؟

” جہاں تک مذہب کا سوال ہے تو میں بالکل صاف گوئی سے کہوں گا ۔ میں نے کسی بھی شخص کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ میرے مذہبی خیالات پر نکتہ چیں ہو اور مجھے کوئی نصیحت کرے۔” صفدر مضبوط لہجے میں بیان کرتے ہوئے ایسے کسی بھی واقعے کو بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں جس میں ان کے خاندان کے مابین ان کے متنازعہ بیانات پر کبھی کوئی بحث مباحثہ ہوا ہو۔

جب صفدر جلاوطنی کاٹ رہے تھے تو ان کے والد کو اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ایک خط موصول ہوا  کہ زیادہ چھٹیوں کی بناء پر صفدر کو نوکری سے برطرف کیا جاتا ہے ۔ ان کی نوکری اسی صورت باقی رہ سکتی ہے کہ اگر وہ چیف ایگزیکٹو اور صدر پاکستان پرویز  مشرف سے تحریری درخواست میں استدعا کریں ۔

” میرے والد نے اس خط کا جواب خود ہی تحریر کردیا کہ میرا بیٹا کسی بھی غیر آئینی چیف ایگزیکٹو یا صدر سے نوکری کی درخواست نہیں کرے گا ۔ ” کیپٹن صفدر نے اپنے والد کی بات کو دہراتے ہوئے کہا ۔

یوسف رضا گیلانی نے میری ملازمت سے برطرفی کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ میں تبدیل کیا

اس خط کے بعد صفدر کو نوکری سے برخاست کردیا گیا۔ اوہ تو آپ کو برخاست کردیا گیا تھا۔ کیا آپ کو آپ کی نوکری واپس ملی؟ میں نے سوال پوچھا ۔

”نہیں مجھے میری نوکری واپس نہیں ملی ۔ تاہم جب ہم واپس پاکستان آئے تو میں نے وزیر اعظم یوسف گیلانی کو خط لکھا ۔ انہوں نے میری برخاستگی کو قبل از وقت ریٹائر منٹ میں بدل دیا۔ میں ان کا مشکور ہوں ۔” صفدر نے احسان مندی سے کہا ۔

کیا گیلانی کی برخاستگی کی حمایت کرنا نواز لیگ کی غلطی تھی ۔ میں نے پوچھا ۔ ہاں ! میرے نزدیک انہیں برخاست کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ میں نے اس وقت بھی یہی موقف اپنایا تھا اگرچہ میری جماعت  نےاس وقت سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت کی تھی ۔ صفدر نے جواب دیا ۔

 یہ لوگ کب تک آپ کو اور مجھے یوں برخاست کرتے رہیں گے ؟

بے نظیر کا نوازشریف سے سوال

صفدر کو سعودی عرب میں رہائش کے دوران ایک اور واقعہ بھی یاد آتا ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو اپنے خاوند آصف زرداری کے ہمراہ سرور پیلس تشریف لائی تھیں ۔

”میں وہاں موجود نہیں تھا ۔ میں نے کھانے پہ شمولیت کی تو میں نے سنا ۔ بے نظیر میاں نواز شریف سے کہہ رہی تھیں کہ یہ لوگ کب تک آپ کو اور مجھے یوں برخاست کرتے رہیں گے ؟”

”مجھے لگا کہ دونوں سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت ہوچکی ہے ۔ ” صفدر نے بے نظیر کی اچھے لفظوں میں تعریف کی ۔

2006 میں نواز شریف کو برطانیہ جانے کی اجازت ملی اور وہ وہاں چلے گئے ۔ صفدر اور ان کی اہلیہ مریم نے بھی برطانوی ویزے کی درخواست دی تاہم انہیں ویزے سے انکار کیا گیا ۔ وہ سعودی عرب میں ہی رہے ۔ برطانیہ میں  بے نظیر اور دیگر جماعتوں کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کے بعد 10 ستمبر کو میاں نواز شریف نے پاکستان آنے کی کوشش کی جسے اس وقت کے فوجی حکمران مشرف نے ناکام بنا دیا۔

نواز شریف سعودیہ چلے گئے اور 25 نومبر 2007 کو دوبارہ پاکستان آنے کی کوشش کی ۔ اب کی بار مریم ، صفدر اور دیگر بچے بھی میاں نواز شریف کے ہمراہ اپنے آبائی وطن واپس آ رہے تھے ۔

 

سیاست میں شمولیت کے مرحلے پہ گفتگو ابھی باقی ہے

مترجم : شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...