شناخت کا واہمہ

ڈاکٹر امرتیا سین

555

[برطانیہ میں مقیم معروف ماہر اقتصادیات اور سماجیات ڈاکٹر امرتیا سین کا تعلق اسی برصغیر پاک و ہند کی مٹی سے  ہے۔ انہیں1998 میں  اقتصادیات کا نوبل انعام ملا۔ یہ مضمون 2006میں ان کی شائع شدہ انگریزی کتاب”شناخت اور تشدد ۔۔۔ تقدیر کا واہمہ”کے ابتدائیہ سے لیا گیا ہے۔ اس میں مصنف کا خیال ہے کہ مخصوص انفرادی گروہی شناختوں کو انسانوں پر مسلط کردینے سے تشدد پیدا ہوتا ہے۔ ایک انسان کی بہت سی شناختیں ممکن ہیں اور انہیں محض مذاہب اور تہذیبوں کی مخصوص زمرہ بندی میں جکڑا نہیں جا سکتا۔ تجزیات آن لائن کے کالم نگار اور دانشور جناب رشاد بخاری نے اس کاترجمہ کیا ہے جس پر ادارہ ان کا شکر گزار ہے۔ایڈیٹر]

کچھ سال قبل ایک سفر سے برطانیہ واپس آتے ہوئے (جب میں کیمبرج میں ماسٹر آف ٹرینیٹی کالج تھا)، ہیتھرو ائرپورٹ پر امیگریشن آفیسر نے میرے انڈین پاسپورٹ کو کافی تفصیل سے دیکھا اور ایک طرح کا باریک فلسفیانہ سوال پوچھا۔ امیگریشن فارم پر میرے گھر کا پتہ (ماسٹرز لاج، ٹرینیٹی کالج، کیمبرج) دیکھتے ہوئے اس نے مجھے کہا کہ کیا میں”ماسٹر” کا قریبی دوست ہوں، جس کی میزبانی سے بظاہر میں لطف اندوز ہورہا تھا؟ جواب میں مجھے تھوڑی دیر لگی کیونکہ میرے سامنے یہ واضح نہیں تھا کہ کیا میں خود اپنے ساتھ دوستی کا دعویٰ کر سکتا ہوں۔ کچھ سوچ کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کا جواب ہاں میں ہونا چاہیئے، کیونکہ میں اکثر اپنے ساتھ دوستانہ برتاو کرتا ہوں، اور مزید یہ کہ جب بھی میں کوئی احمقانہ کام کرتا ہوں تو میں فوراً جان جاتا ہوں کہ اپنے جیسے دوستوں کے ہوتے ہوئے مجھے دشمنوں کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ جواب سوچنے میں مجھے کچھ وقت لگ گیا اس لیے امیگریشن آفیسر مزید جاننا چاہتا تھا کہ میں نے جواب میں اتنی دیر کیوں لگائی اور کہیں برطانیہ میں میرے قیام میں کچھ بے قاعدگی تو نہیں۔

خیر یہ مسئلہ تو آخر کار حل ہوگیا لیکن اس گفتگو سے یاد آیا، اگر کسی کو یہ یاد کرنے کی ضرورت ہو کہ شناخت ایک پیچیدہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔ یقیناً اپنے آپ کو اس پر قائل کرنے میں کوئی خاص مشکل نہیں ہے کہ ایک چیز ہوبہو اپنی طرح ہوتی ہے۔ ایک عظیم فلسفی وٹگنسٹین نے ایک بار کہا تھا کہ “ایک بے فائدہ تجویز کی اس سے بہتر مثال نہیں کہ یہ کہا جائے کہ کوئی چیز بالکل اپنے جیسی ہے اور پھر اس نے مزید دلیل دی کہ ایسی تجویز اگرچہ مکمل بے فائدہ ہے لیکن بہرحال تخیل کی خاص کارفرمائی سے جڑی ہوئی ضرور ہے۔”

جب ہم اپنی توجہ اس خیال سے کہ ہم بالکل اپنے جیسے ہیں اس خیال کی طرف مبذول کرتے ہیں کہ ہماری شناخت ایک خاص گروہ کے دوسرے لوگوں جیسی ہے (جس سے اکثر سماجی شناخت کا تصور پیدا ہوتا ہے) تو معاملہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ یقیناً آج کے بہت سے سیاسی اور سماجی مسائل مختلف گروہوں کے درمیان اپنی شناخت کے متضاد دعووں کے گرد گھومتے ہیں۔ کیونکہ شناخت کا تصور مختلف انداز میں ہمارے فکر و عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔

گذشتہ کچھ سالوں میں تشدد اور ظلم کے جو واقعات ہوئے ہیں انہوں نے نہ صرف خطرناک ابہامات کا ایک دور شروع کیا ہے بلکہ خوفناک تنازعات کو بھی جنم دیا ہے۔ عالمی کشمکش کی سیاست کو اکثر دنیا میں مذہبی یا ثقافتی تقسیم کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے۔ درحقیقت دنیا کو تیزی سے مذاہب یا تہذیبوں کی ایک فیڈریشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس طرح ان تمام طریقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس طرح لوگ خود اپنے آپ کو دیکھتے ہیں۔ اس طرز فکر کے پس منظر میں شائد یہ خیال ہے کہ کسی سادہ اور عمومی تقسیم کے نظام کے تحت دنیا کے لوگوں کی زمرہ بندی کی جاسکتی ہے۔ تہذیبی اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر دنیا کی آبادی کی تقسیم سے انسانی شناخت کے بارے میں یک رنگی کا تصور ابھرتا ہے [جیسے کسی مذہب یا تہذیب کے حامل سب بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں، اس لیے ان کو کسی ایک درجے میں رکھا جا سکتا ہے۔ مترجم]۔ اس انداز میں انسانوں کو دیکھنے کا مطلب ہے کہ وہ بس کسی ایک ہی گروپ کے رکن ہیں جس کا تعین ان کے مذہب یا ان کی تہذیب سے ہو رہا ہے، برخلاف جب پہلے ان کو ان کی قوموں اور طبقات کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔

انسانوں کی شناخت کے بارے میں اس طرح کا طرزعمل دنیا میں قریبًا ہر شخص کو غلط سمجھنے کا آسان طریقہ ہے۔ اپنی عام زندگیوں میں ہم بہت سے گروپوں میں شامل ہوتے ہیں، یعنی ہم ان سب کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ہی شخص کسی تضاد کے بغیر ایک امریکی شہری ہوسکتا ہے، جو کیریبین نژاد ہے، جس کے آباو اجداد کا تعلق افریقہ سے تھا، اور جو بیک وقت ایک مسیحی، ایک لبرل، ایک خاتون، ایک سبزی خور، ایک کھلاڑی، ایک تاریخ دان، ایک استاد، ایک ناول نگار، ایک فیمنسٹ، ایک جنس مخالف کی طرف رجحان رکھنے والا، ایک ہم جنس پرستوں کے حقوق پر یقین رکھنے والا، تھیٹر کو پسند کرنے والا، ماحولیات کا ایک ایکٹوسٹ، ٹینیس کا فین، ایک جاز موسیقار اور ایک ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے جس کو پورا یقین ہے کہ زمین سے پرے (دوسرے سیاروں پر) بھی ذہین مخلوق موجود ہے جس کے ساتھ بات کرنے کی فوری ضرورت ہے (اور وہ بھی انگریزی میں)۔ ان میں سے ہر گروپ جن کا یہ ایک شخص بیک وقت حصہ ہے، اسے ایک خاص شناخت عطا کرتا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک شناخت بھی ایسی نہیں جسے اس کی واحد شناخت کہا جا سکے۔ کسی بھی مخصوص تناظر میں ہمیں ان تمام کثیر شناختوں کی وجہ سے اپنی مختلف حیثیتوں اور اپنی مختلف وابستگیوں کی اہمیت کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

ایک انسانی زندگی گزارنے کے لیے انتخاب اور سوچنے سمجھنے کی ذمہ داریاں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں تشدد اس وقت بڑھتا ہے جب کسی مزعومہ طور پر منفرد شناخت کی ناگزیریت پر زور دیا جائے، ایک ایسی شناخت جو ہم پر ایک منفرد انداز میں مسلط کر دی جائےاور جو شناخت ہم سے ایسے تقاضے کرے، جن سے ہمیں اتفاق نہ ہو لیکن دوسرے ہمیں اسی کے حوالے سے پہچاننے پر مصر ہوں۔ گروہی تنازعات کے “مارشل آرٹ” کا ایک نہایت اہم جزو کسی پر ایک مخصوص اور منفرد شناخت کا مسلط کر دیا جانا ہے۔

بدقسمتی سے، تشدد روکنے کی اچھی نیت سے کی گئی کوششیں بھی اس وقت ناکام ہوجاتی ہیں جب ہمارے پاس خود اپنی شناختوں کا انتخاب کرنے کی آزادی نہیں ہوتی۔ اس سے تشدد کو شکست دینے کی ہماری صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جب انسانوں کے درمیان اچھے تعلقات کے امکانات کو اس طرح دیکھا جائے جیسے ان سے مراد”تہذیبوں کے درمیان اچھے تعلقات” ہیں، یا ان سے مراد “مذاہب کے درمیان مکالمہ” ہے یا ان سے مراد مختلف کمیونیٹیز کے درمیان دوستانہ تعلقات کا قیام ہے تو اس سے امن کے مرتبہ پروگرام سے بھی پہلے انسانوں کی سنجیدہ تحدید لازم آتی ہے۔

]امرتیا سین نے یہ نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے جسے وضاحت سے سمجھنا ضروری ہے۔ میرے خیال کے مطابق مصنف کی مراد یہ ہے کہ جب ہم امن کے مختلف پروگراموں کے نام پر تہذیبوں یا مذاہب کے درمیان مکالمے کی بات کرتے ہیں تو بظاہر تو یہ امن کی ایک سنجیدہ اور اچھی کوشش لگتی ہے لیکن بذات خود ان اصطلاحات کا استعمال تشدد پسندوں کے پیش کردہ مخصوص شناخت کے تصور کو قبول کر لینے کے مترادف ہے۔ یعنی انہوں نے ہم متنوع دلچسپیوں اور مختلف رجحانات کے حامل انسانوں پر جو مخصوص شناختیں مسلط کر دی ہیں ہم انہی کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے بات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہماری کوششیں کامیاب نہیں ہورہیں۔ شناخت کے جس تصور نے تشدد کو جنم دیا ہے اس تصور کو قبول کر کے تشدد کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ مترجم[

یعنی اس طرح ان بے شمار طریقوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جن سے انسان ایک دوسرے سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔

ہماری مشترکہ انسانیت کو اس وقت بڑے چیلنج کا سامنا ہوتا ہے جب دنیا میں تہ دار تقسیمیں، زمرہ بندی کے کسی غالب نظام کے تحت، ایک یکساں صورت میں بنا کر پیش کی جاتی ہیں۔ یعنی مذہب، کمیونٹی، کلچر، قوم یا تہذیب کے نام پر(اور اس میں ہر شناخت کو جنگ اور امن کے تناظر میں ایک بالکل منفرد طور پر طاقت ور شناخت کے طور پر سمجھا جاتا ہے)۔ انسانوں کی مخصوص زمرہ بندیوں سے دنیا میں تقسیم بڑھتی ہے ،بنسبت ایسی دنیا کے جس میں انسان کثیر الثقافتی شناختیں رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف اس پرانے عقیدے کے خلاف ہے کہ “سب انسان ایک جیسے ہوتے ہیں”،بلکہ ہماری اس زیادہ ممکن العمل تفہیم کے بھی خلاف ہے کہ “ہم متنوع انداز میں مختلف ہیں”۔ آج کی دنیا میں مفاہمت کی امید بہت حد تک اس واضح تفہیم میں ہے کہ انسانی شناخت کثرتیت کی حامل ہے اور اس تحسین میں کہ یہ سب شناختیں ایک دوسرے میں سے ہو کر گزرتی ہیں اور کسی ایک بنیاد پر ایسی تقسیم کے خلاف ہیں جس میں کسی دوسری کا گزر ممکن نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف بدنیتی ہی نہیں بلکہ تصورات کا غیر واضح ہونا اس افراتفری اور بربریت  میں اہم حصہ ڈالتا ہے جو ہمیں اپنے آس پاس نظر آتی ہے۔ تقدیر کا واہمہ، خاص طور پر ایک یا دوسری واحد شناخت پر اصرار دنیا میں تشدد کے فروغ کا باعث ہے۔ ہمیں واضح طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری بہت سی وابستگیاں ہوتی ہیں اور وہ بہت سے مختلف انداز سے ایک دوسرے سے تعامل بھی کرتی ہیں (چاہے ہمیں تشدد پر ابھارنے والے اور ان کے بدترین مخالف ہمیں کچھ بھی بتاتے رہیں)۔  اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا تعین خود کریں۔

(Identity and Violence – The Illusion of Destiny by Amartya Sen, Prologue Page xi-xiv)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...