گنجے فرشتے سے خلائی مخلوق

539

گنجے فرشتے سعادت حسن منٹو کے خاکوں کا مجموعہ ہے جو 1952 میں شائع ہوا۔ یہ خاکے کیا ہیں، بس منٹو نے فلمی اور ادبی دنیا کے کرداروں کے باطن سے ایک نئی دنیا تخلیق کی ہے۔ قائد اعظم کا خاکہ”میرا صاحب”  جو منٹو نے ان کے ڈرائیور محمد حنیف آزادکی زبانی بیان کیا ہے، خاصے کی چیز ہے، جس میں قائد اعظم ایک انسان کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ “گنجے فرشتے” کے بعد منٹو نے ملکہ ترنم نور جہاں کا شہرہ آفاق خاکہ”نورجہاں سرور جہاں” لکھا جو ان کے خاکوں کے دوسرے مجموعے “لاؤڈ سپیکر”  میں شامل ہے۔  دوسرا مجموعہ منٹو کی وفات کے بعد شائع ہوا جس میں کل دس خاکے شامل تھے یہ مجموعہ دو پبلشرز کے درمیان وجہ تنازعہ بھی بنا۔ اس تنازعے کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں لیکن ایک وجہ جو عموماً محققین نظر انداز کر دیتے ہیں وہ ان کے کچھ ابھی تک غیر مطبوعہ خاکے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ محققین ایسا کسی خوف کی وجہ سے کرتے ہیں، ان پر کوئی تاریخی یا عہد حاضرکا جبر ہوتا ہے یا وہ خود ہی ادبی تاریخ کو پاکیزہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ویسے تو کئی خاکے ہیں جو پبلشروں نے منٹو کے خاکوں کے مجموعوں سے اخلاقی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر نکال باہر کیے۔ لیکن ان میں سے ایک خاکہ “خلائی مخلوق” پر ہے۔ اس خاکے پر پبلشروں میں جو بحث ہوئی اور ان میں اسے شائع نہ کرنے کا واحد اتفاق ہوا۔ اس پر محققین نے زیادہ توجہ نہیں دی۔ مثلاً ایک پبلشر کا کہنا تھا کہ یہ خلائی مخلوق کیا بلا ہوتی ہے؟ دوسرے پبلشر کو روسی کہانیوں کے مترجمین کی معاونت حاصل تھی۔ اس نے دلیل دی تھی کہ یہ مخلوق نہ صرف زمین پر آ چکی ہے بلکہ سوویت یونین اور اس کی اتحادی ریاستوں میں اس نے اپنی گہری کالونیاں بھی بنا لی ہیں اور یہ عوام کو راہ راست سے بھٹکنے نہیں دیتیں۔ اس پر پہلے پبلشر نے ثبوت مانگا تھا کہ اس کی کوئی تحریر تصویر تو ہو۔ یہاں آ کر دوسرا پبلشر گڑ بڑا گیا اور روسی ادب کے مترجمین نے بھی اس کی مدد کرنے سے معذرت کر لی کہ وہ مخلوق نہ نظر آتی ہے اور نہ ہی اپنا کوئی دستاویزی ثبوت چھوڑتی ہے۔ اب عہد حاضر کے محققین اس بات پر جھگڑ رہے ہیں کہ منٹو کے دور میں کم از کم پاکستان میں خلائی مخلوق نہیں پائی جاتی تھی۔ منٹو کا ان سے کب ربط اور میل جول رہا ہو گا اور وہ بھی اتنا گہرا کہ اس پر پورا خاکہ لکھ مارا۔ اب یہاں دلیل دی جا سکتی تھی کہ منٹو نے انکل سام کے نام خطوط بھی تو لکھے تھے اب منٹو کی انکل سام سے دوستی تھوڑی تھی۔ البتہ یہ ضرور ہوا تھا کہ یہ خطوط شائع ہونے کے بعد امریکی سفارتخانے نے ان سے کیا معاہدہ توڑ دیا تھا اور منٹو کو ان خطوط کا خاطر خواہ معاوضہ بھی نہیں مل سکا تھا۔

البتہ محققین کا ایک بات پر اتفاق ہے کہ پاکستان کے بنتے ہی کچھ نادیدہ قوتیں وطن عزیز میں متحرک ہو گئی تھیں شاید یہ قوتیں اس سرزمین پر پہلے سے ہی گہری نرم مٹی میں سوئی ہوتی تھیں اور جیسے ہی موافق ماحول میسر آیا ایک بھر پور انگڑائی لے کر کھڑی ہو گئیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستان بننے کے بعد جو ایک شناختی سماجی اور سیاسی بحران پیدا ہوا ۔ اس دوران اس کی بھی پیدائش ہو گئی ہو۔ بہرحال یہ سوال ادبی محققین کی حدود سے باہر ہے اور انہیں یہ معلوم نہیں کہ سماجی اور سیاسی امور کے محققین نے اس پر کوئی بحث کی ہے یا نہیں اور ان کے پاس اس کے کیا شواہد ہیں، البتہ کچھ سازشی رجحان رکھنے والے محققین کا کہنا ہے کہ یہ نادیدہ قوتیں اصل میں کالے جادو کی ایک قسم ہیں اور ہندوستان نے ہمیں کمزور کرنے کے لیے پاکستان کے بنتے ہی یہاں داخل کر دی تھیں۔ منٹو کا معاملہ ان نادیدہ قوتوں سے رہا تھا جس کے ہاتھ ابھی اتنے لمبے نہیں ہوئے تھے کہ منٹو کا گلا گھونٹ دیتے۔ لیکن اتنے چھوٹے بھی نہیں تھے کہ منٹو کو پاگل خانے نہ بھیج سکتے۔ منٹو نے ان نادیدہ قوتوں سے مکالمہ کیا ہے لیکن ان مکالموں میں براہ راست کسی خلائی مخلوق کا ذکر نہیں ہے۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ منٹو کے ذہن میں البتہ خلائی مخلوق کا ابتدائی خاکہ ضرور موجود تھا جس کا اظہار اس کے خاکوں کے مجموعوں کے عنوان ” گنجے فرشتے”سے بھی ہوتا ہے ممکن ہے کہ منٹو کے زرخیز اور تخلیقی ذہن نے گنجے فرشتے سے خلائی مخلوق بننے کے ارتقائی مراحل کا چشم تصور سے جائزہ لے لیا ہو ایسا ممکن ہے ان کے پاگل خانے کے قیام کے دوران ہوا ہو۔

ایک بنگالی مصنف رابنسکربال نے اپنی ایک حالیہ تحقیق میں منٹو کے ایک غیر مطبوعہ ناول کا بھی ذکر کیا ہے ۔بال کی یہ تحقیق دوزخ نامہ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے اور اصل میں یہ منٹو اور مرزا غالب کے ان مکالموں پر مشتمل ہے جو اردو کے عظیم شاعر اور عظیم کہانی نویس کے درمیان جہنم میں ہوئے۔ اب رابنسکر کے قاری اس کے تحقیقی مقالے کو ناول سمجھ کر لطف اٹھا رہے ہیں قارئین کی غلط فہمی اپنی جگہ‘ لیکن بنگالی محقق نے منٹو کے غیر مطبوعہ ناول تک رسائی کا جو کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ اپنی جگہ قابل تحسین تو ہے ہی۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ منٹو کی بہت سی غیر مطبوعہ تحریریں موجود ہیں اور محققین کو ان تک رسائی کے لیے محنت کی ضرورت ہے اور دوسرے یہ کہ منٹو خلائی مخلوق کا خاکہ لکھ سکتے ہیں ویسے ہی جیسے انہوں نے اپنے ناول میں جہنم کا خاکہ کھینچا ہے۔ اصل میں اب بحث یہ درکار ہے کہ منٹو نے خلائی مخلوق کا جو خاکہ کھینچا ہے کیا یہ وہ واقعی آج کے دور کی خلائی مخلوق کے مطابق ہے۔ اگر ہاں تو پھر منٹو کو اس کے فن پر داد دینی چاہیے اور اگر نہیں تو اس کے لیے اتنی تحسین تو بنتی ہے کہ اس نے آنے والے حالات کی ایک جھلک وقت سے پہلے دیکھ لی تھی۔ خلائی مخلوق کے خاکے پہ ذرا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں”میرے سامنے میز پر تین گولے پڑے تھے تین آہنی گولے سگریٹ کی پنیوں میں لپٹے ہوئے۔ ایک بڑا، دو چھوٹے۔ میں نے خلائی مخلوق کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور ان کے اوپر تیل سے لشکتی،چمکتی ٹنڈ۔ میں نے تینوں گولوں میں مماثلت محسوس کی تو اس کا ردعمل میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ میں نمودار ہوا۔ میرا جی دوسروں کا ردعمل تاڑنے میں بڑا ہوشیار تھا۔ میں نے میز پر رکھے تین گولوں کی طرف اشارہ کیا اب خلائی مخلوق کی باری تھی۔ اس کے پتلے پتلے ہونٹ۔ مہین مہین بھاری مونچھوں کے نیچے گول گول انداز میں مسکرائے۔ اب بڑے گولے کی باری ہے اور دو چھوٹے گولے اس کے گرد گھومیں گے۔ وہ چوتھا گولا کیا ہوا جو پہلے سب سے بڑا گولہ تھا۔ اس بار اس کی مہین مونچھیں پھیل گئیں۔ پتلے پتلے ہونٹ وا ہوئے۔”وہ بولا میں نے گول کر دیا، اگر وہ واپس آ گیا تو؟” اس کی آنکھیں سکڑ کر اندر دھنس گئیں اور نہایت حقارت سے بولا”میں خلائی مخلوق ہوں” اب اس اقتباس پر گمان ہوتا ہے کہ اس سے ملتا جلتا متن منٹو کے میرا جی پر خاکے میں بھی موجود ہے۔ ممکن ہے کہ میرا جی سے ہی اس کے ذہن میں خلائی مخلوق کا خاکہ ابھرا ہو۔ البتہ یہ بات تحقیق طلب ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ منٹو نے آج کی خلائی مخلوق کا درست خاکہ کھینچا ہے اب اسے گنجے فرشتے حصہ دوم کا حصہ ہونا چاہیے۔ اگر پبلشر اب بھی اسے شائع کرنے سے گریز کریں تو اس خاکے کو نصاب کا حصہ بنا دینا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو کہ عظیم کہانی نویس نے کیا کارنامہ سرانجام دیا تھا اور اس خاکے کے ساتھ یہ شامل نصاب کرنا ضروری ہے کہ چونکہ خلائی مخلوق نادیدہ نہیں رہی اب اس سے میل جول اور سماجی ربط بڑھانے کے طریقے کیا ہوں اور اگر یہ مخلوق بگڑے تو اس سے اپنا بچاؤ کیسے کیا جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...