ظالم بھی کبھی مظلوم تھا!  

ظلم اور زیادتی کے شیطانی چکر

197

عفریت (ظالم) کا مقابلہ کرنے والے کو متنبہ رہنا چاہیئے کہ کہیں اس دوران وہ خود عفریت (ظالم) نہ بن جائے

 

کچھ عرصہ قبل میں اپنے ایک پرانے ہم جماعت سے ملنے گاؤں کے سکول گیا، جہاں وہ پڑھاتے ہیں۔ میں ان کی جماعت کے کمرے کے سامنے پہنچا تو دیکھا کہ وہ بچوں کو بری طرح سے مار رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر تھوڑا سا جھجکے، پھر مسکرائے، پھر پوری باچھیں کھول کر میرا استقبال کیا۔ اس دوران اپنے شکنجے میں موجود بچے کی کمر پر ایک دوہتڑ لگا کر اس کی خلاصی کی اور بچوں کو خاموشی سے کام کرنے کا حکم دے کر میری طرف چلے آئے۔ علیک سلیک کے بعد میں نے شکایتاً کہا کہ جناب اتنے چھوٹے اور معصوم بچوں کے ساتھ اتنا ظلم کیوں؟ ان کے کلاسک جواب نے میرے دماغ کی کئی کھڑکیاں کھول دیں۔ پنجابی میں فرمایا، کیوں شاہ جی! اساں آپنی ماراں بھل گئے آں؟۔ یعنی کیا ہم بھول گئے ہیں کہ ہم نے اپنے سکول میں کتنی مار کھائی تھی۔  دوسرے لفظوں میں موصوف بچوں کو مار کر خود اپنے بچپن میں اپنے استاد کے ہاتھوں کھائی مار کا بدلہ اتار رہے تھے۔

اسی طرح میں ایک صاحب سے ملنے ایک سرکاری دفترگیا۔ ہمارے جاننے والے تھے اس لیے ہمارا پر تپاک استقبال کیا اور چائے وائے کا پوچھا۔ میں بھی بے تکلفی سے کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں دیکھا کہ گپیں لگاتے ہوئے وہ صاحب میز پر رکھی سٹیشنری ضائع کر رہے ہیں۔ کبھی بلاوجہ کاغذ پھاڑ کر پھینک دیتے، کبھی کامن پن چٹکی میں پکڑتے اور ربڑ بینڈ کے ذریعے غلیل بنا کر ردی کی ٹوکری کا نشانہ لگاتے۔ میں نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا کر رہے ہیں، یہ چیزیں قیمت میں معمولی سہی لیکن ان کو یوں ضائع تو نہیں کرنا چاہیے؟ آپ کا جواب بھی میرے دماغ کی بتی جلانے کے لیے کافی تھا۔  کیا فرق پڑتا ہے۔ آخر یہ حکومت ہمیں دیتی ہی کیا ہے؟ ان کو  میں کیا جواب دیتا لیکن یہ  ضرور سوچنے لگا کہ شاید ہم مظلومیت اور انتقام کے ایک ایسے شیطانی چکر میں پھنس کر رہ گئے ہیں جس نے ہماری ساری توانائیاں چوس لی ہیں۔

احساس مظلومیت ہمارے اندر جذبہ انتقام پیدا کرتا ہے اور پھر جہاں ہمارا بس چلے ہم دوسروں کے ساتھ ظلم، ستم اور زیادتی کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے بہت سے واقعات اکثر مشاہدے میں آتے رہتے ہیں اور ہم کبھی ایک استہزائیہ مسکراہٹ، کبھی تھوڑی سی خفگی کا اظہار کر کے یا دوسروں پر تنقید اور لعن طعن کے ذریعے اپنی انا کی تسکین کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

انفرادی سطح ہو ،قومی یا عالمی، ظلم و زیادتی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ باقی محرکات کے علاوہ ظلم اور خاص طور پر ظلم میں حد سے گزر جانے کا ایک عامل ظالم کا کسی سطح پر احساس مظلومیت بھی ہے جو شعوری یا لاشعوری طور پر ان کے ظلم کا جواز بنتا ہے۔  پھولن دیوی ہی کی مثال لیں۔ فروری1981 میں اس نے انڈیا میں مدھیا پردیش کے ایک گاوں میں اپنے گینگ کے ہمراہ ڈاکہ ڈالا، عورتوں سے زیورات اور مردوں سے ان کی جمع پونجی لوٹ لی اور دو مردوں لال رام سنگھ اور شری رام سنگھ کو پیش کرنے کا حکم دیا جنہوں نے اس کے ساتھ مسلسل دو ہفتے قید میں رکھ کر زیاتی اور ہتک کا نشانہ بنایا تھا۔

جب یہ دونوں ٹھاکر بھائی اسے نہیں ملے تو اس نے اپنے گینگ کے ذریعے گاؤں کے تیس مردوں کو دریا ئے جمنا کے کنارے ایک لائن میں کھڑا کرکے گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور پھر وہاں سے نعرے مارتے ہوئے فرار ہوگئی۔ تیس میں سے بیس لوگ ہلاک ہوگئے اور دس شدید زخمی ہوئے۔ ڈاکو رانی پھولن دیوی اونچی ذات والوں کے خلاف نچلی ذاتوں کی طرف سے بدلے اور بغاوت کی علامت بنی،11 سال کی قید معاف ہوئی، دو بار لوک سبھا کی رکن منتخب ہوئی اور آخر میں بطوررکن لوک سبھا دہلی میں ملے اپنے بنگلے کے سامنے اسی گینگ کے ہاتھوں ماری گئی  جن کے گاؤں والوں کا اس نے کچھ سال پہلے قتل عام کیا تھا۔ اس کی زندگی پر فلم بھی بنی اور اسے عوامی مقبولیت بھی ملی لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک قاتل اور ڈاکو تھی جس نے خود پر کی گئی زیادیوں کا انتقام لینے کے لیے گینگ میں شمولیت اختیارکی اور قتل و غارت کا شیوا اپنایا۔ اس کی کہانی میں لوگوں کا مزاج سمجھنے کو بہت کچھ ہے۔

احساس مظلومیت ظلم اور جبر کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ظلم اور جبر خود احساس مظلومیت کی وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ مزید بہت سی مثالیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ مثلا قصور میں کم سن زینب سمیت نو بچیوں کے ریپسٹ اور قاتل عمران علی کی کہانی دیکھ لیں۔ اسے بچپن میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جو اس کے خیال میں شاید اس کے بعد کے کرتوتوں کا جواز بنا۔ سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی کہانی دیکھ لیں، جس کے احساس محرومی اور بدلے کی نفسیات نے اس سے گھناونے جرائم کروائے۔

قومی اور عالمی سطح پر دیکھیں تو فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے جور وستم اور مظالم کے پیچھے خود اپنی مظلومیت کا احساس بھی ہے۔ نازیوں اور ان کے اتحادیوں نے منظم اور نہایت بے رحم طریقے سے ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور آپ ان کی کہانیاں سنیں تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ آج تک ان کی یہ مظلومیت ان کے لیے عالمی ہمدردی کا سبب ہے اور جس میں کچھ حصہ یورپ کے احساس گناہ کا بھی ہے۔ بلقان میں بوسنیائی مسلمانوں پر سربیا کے مسیحیوں کے مظالم دیکھیں، یا ہسپانیہ میں مسلمانوں کی شکست کے بعد ان سے ہونے والا سلوک، بھارتی کشمیر کے مسلمانوں کی  حالت زار دیکھیں، یا چیچنیا ،کہیں نہ کہیں مظلومیت، ظلم اور پھر مظلومیت کا ایک شیطانی چکر نظر آتا ہے۔

ایک اور درجے میں دیکھیں تو اکثر ممالک میں سیاسی جماعتیں اپنی مظلومیت کے ووٹ حاصل کرتی ہیں اور پھر وہی مظالم دوسروں پر ڈھاتی ہیں۔ کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا سے ظلم کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ظلم اور مظلومیت کے دھاگوں میں الجھی انسانی نفسیات کو سمجھا جائے تاکہ حق کے لئے کھڑے ہونے اور ظلم کا مقابلہ کرنے کا طریقہ سمجھ میں آسکے۔ اس طرح کہ اس سے مزید ظلم جنم نہ لے۔ اس ضمن میں تاریخ کی مثالیں کوئی اتنی حوصلہ افزا نہیں۔ جرمن فلسفی فریڈرک نٹشے کا وہ مشہور قول یاد آتا ہے کہ عفریت (ظالم) کا مقابلہ کرنے والے کو متنبہ رہنا چاہیئے کہ کہیں اس دوران وہ خود عفریت (ظالم) نہ بن جائے۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...