صلح کل

366

کتاب: صلح کل
تدوین : طاہر مہدی
تبصرہ : علی بابا تاج

طاہر مہدی پاکستان کے معاصر لکھاریوں میں معتبر نام ہیں جن کے مضامین اور کالمز موقر جرائد میں شائع ہوتے ہیں ۔ انہوں نے صلح کل کے نام سے ایک کتاب تدوین کی ہے ۔ جس میں تکثیریت کی خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے برصغیر کے معاشرے میں اس کی اہمیت کو بیان کیا ہے ۔ اس کتاب میں صوفی شاعری کے نو اہم پاکستان صوفیا کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے مختلف زبانوں میں شاعری کرکے اس خطے میں مہر و محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا ۔ کتاب میں بابا فرید، شاہ حسین، رحمان بابا، بلھے شاہ ، شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، میاں محمد بخش، مست توکلی اور خواجہ غلام فرید کی لافانی کلام کو پنجابی، پشتو، بلوچی، سندھی اور سرائیکی میں تراجم کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ صوفی شاعری پر اتنے اہم شعرا کا انتخاب اور اس کتاب کا عمومی موضوع فاضل لکھاری کی انسان دوستی کو واضح کرتا ہے۔ اس کتاب پر تبصرہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے علی بابا تاج نے کیا ہے جو کہ خود بھی معتبر لکھاری ہیں۔ (ازطرف مدیر)

تکثیریت ، پاکستان میں امن اور انصاف کا کلیہ ثابت ہوگا تو محفوظ اور بہتر مستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس خطہ میں جسے جنوبی ایشیا بھی کہا جاتا ہے میں لوگ ہزاروں سال سے ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر آکر پانی پیتے وغیرہ وغیرہ پھر بات بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے کا خون پینے پر آگئی یہ الگ بات کہ خون صرف شیر ہی پیتا رہا ہے۔گذشتہ ایک زمانے سے پاکستان عالمی نرغے میں اس طرح سے آیا ہوا ہے کہ اس کے براہ راست اثرات ہرشہر اور گاوں کے گلی کوچوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ شکر ہے کہ اب بہت ہی اونچی سطح سے بھی یہ بات صاف صاف کہی گئی کہ چند دہائی قبل کئے گئے نا عاقبت اندیش فیصلے ہمارے حالات و واقعات کی بدترین خرابی کے ذمہ دار ہیں۔یہ راز اس وقت کھلا جب سلیٹی رنگ چڑھانے کی بات کی جارہی تھی۔بہر صورت حقیقت پسند سوچ کی بنیاد ڈالی جائے تو یقینادانستہ اور نادانستہ غلطیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔
آپ نے بارہا ایسے سیاسی اور غیر سیاسی با اصطلاح دہشت پھیلانے والی تنظیموں کے منحرف اور اصلاح یافتہ کارکنوں کے بیانات اور ان کی زندگی کے حالات پڑھے ہونگے وہاں ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ معاشرہ میں ایسے سازگار حالات اور اسباب موجود تھے کہ وہ رفتہ رفتہ اسی طرف چلے گئے جہاں سے ان کی ماں کے آنسو خشک ہونے کو نہیں تھے۔نفرت اور تعصب کو ابھارنے والی قوتیں زوال آمادہ معاشروں میں ہی کامیاب ہوتی ہیں۔ پاکستان میں جہاں جہاں ایسے گروہ اور اس سوچ کے لوگ پائے جاتے ہیں جو عصبیت اور منافرت پرہی زندہ ہیں تو وہاں دیکھئیے کہ لوگوں میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور جاننے کی بجائے اٹکل پچو سے کام لیا جاتا ہے۔ایک دوسرے کے بارے میں محیر العقول حد تک رائے رکھی جاتی ہے۔ تصور ہی تصور میں کسی کی دم نکلی ہوتی ہے تو کسی کے سینگے لگے ہوتے ہیں طرفہ تماشا یہ ایسے عناصر جن کی روزی روٹی لگی ہوئی ہے وہ ان باتوں کو پر بھی لگا دیتے ہیں اور آگ لگانے والے آگ بھی لگا دیتے ہیں۔ چوں کہ واضح طور نفرت انگیزی اور شرپسندی پر کوئی پکڑ نہیں تو اس کام میں کوئی سماجی قباحت نہیں سمجھی جاتی۔ بات پھیل جاتی ہے اور سماج سکڑ جاتا ہے۔
تکثیریت کیا ہے؟ ایک ایسے معاشرے میں جہاں بھانت بھانت کی بولیا ں بولی جاتی ہیں اور جہاں ہر عقیدہ و مسلک کے لوگ رہتے ہیں وہاں باہمی افہام و تفہیم اور آزادی کے ساتھ ز ندگی گزارنے کا فلسفہ ہے ۔نہ کسی کے عقیدے کو چھیڑنا اور نہ اپنے عقید ے کو چھوڑنا اس کا مرکزی خیال ہے۔ جب جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی نے کسی کے کلچر،رہن سہن، عقیدے اور سوچ سے شدید اختلاف کیا اور براہ راست اس کو اپنی راہ پر لانے کی کوشش کی ہے تب تب خرابی پیدا ہوتی گئی ہے۔ اس خرابی کو دور کرنے کا نام تکثیریت یا PLURAISMہے ۔کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کے طریق زندگی جیسا کہ لباس، خوراک، زبان، عقیدہ اور یا ایسے ہی کسی امر پر جو کسی دوسرے کی زندگی کے ساتھ ثقافتی، مذہبی یا تاریخی حوالوں سے جڑی ہو پر تمسخر یا تضیحیک یا تشدد سے پیش آئے۔ اس حقیقت سے کسی کو مفر نہیں کہ گذشتہ کچھ دہائیوں سے یہ کام کھلے بندوں ہورہا ہے اور اس کے نتائج نے ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو انتہائی حد تک کمزور کرکے رکھ دیا ہے۔ اب اگر کچھ ارادہ ہے تو اس سے بڑھ کر بہترین فیصلہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا ہے۔
ٹرسٹ برائے جمہوری تعلیم، احتساب (TDEA) کے زیر اہتمام صلح کل ، تکثیریت کے بیانیے کو لے کر چھاپی گئی ایک ایسی کتاب ہے جس کا مقصد ہی معاشرے کی تکمیل اور اس کے مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم اٹھانا ہے۔اس کتاب میں صوفی شاعری کے نو اہم پاکستان صوفیا کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے مختلف زبانوں میں شاعری کرکے اس خطے میں مہر و محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا ۔ کتاب میں بابا فرید، شاہ حسین، رحمان بابا، بلھے شاہ ، شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، میاں محمد بخش، مست توکلی اور خواجہ غلام فرید کی لافانی کلام کو پنجابی، پشتو، بلوچی، سندھی اور سرائیکی میں تراجم کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ صوفی شاعری پر اتنے اہم شعرا کا انتخاب ایک جگہ عمدہ کاغذ پر چھپائی یقیناقابل تحسین ہے اور امید کی جاتی کہ یہ کتاب اپنے قارئین تک بھی بطریق احسن پہنچ پائے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...