اشتعال کا دور

مترجم : شوذب عسکری

504

کتاب: اشتعال کا دور
مصنف : پنکج مشرا

جدید مغربی دنیا کی تشکیل سیکولر اور پروگریسو نظریات پر ممکن ہوئی ہے جن کے احیا کا دور انقلاب فرانس کے دنوں میں دکھائی دیتا ہے ۔ جدید یورپی مفکرین نے بالعموم اور فرانسیسی مفکرین نے بالخصوص یورپ کی جدید تہذیب کی بنیادیں تعمیر کی ہیں۔ تاہم یہ جدید سیکولر یورپ جس کے متعلق فلسفیوں کا خیال تھا کہ انسان کے تہذیبی ارتقا کا اوج کمال بنے گا ممکن نہیں ہوسکا۔ اس کے برعکس یورپ کے اس سائنسی عروج نے نسل انسان سے سکون نامی دولت کو ناپید کردیا ہے۔ مصنوعی ضروریات کے اس مادی دور میں فلسفیوں کی رائے کہاں تک درست رہی ، کس فلسفی نے موجودہ دور کو قبل از وقت جانچ لیا اور کون سا فلسفی اس کا حقیقی ادراک کرسکا ۔ ان موضوعات کو پنکج مشرا نے اپنی کتاب دور اشتعال میں تذکرہ کیا ہے۔ (ازطرف مدیر)

بہت سے لوگ آج کے زمانے کو دیکھتے ہوئے ششدر ہیں ۔ ہم خود سے پوچھتے ہیں کہ یہ ہم کہاں آ گئے؟ یہ افراتفری یکلخت کہاں سے چلی آئی ہے ؟ آخر کار گلوبلائزیشن کا اس سارے کیا تعلق ہے ؟ لیکن اگر ہم غور سے پرکھیں اور گزشتہ صدیوں میں انسانی تاریخ کا رستہ جانچیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اس راہ پہ ایسے بہت سے سنگ میل موجود تھے جو یہ بتلا رہے تھے کہ انسانیت کس رخ پہ سفر کررہی ہے ۔
ہمارے اس حال تک پہنچنے کے رستے بہت سے تھے ۔ یہ اتنے ہی متنوع ہیں جتنے یورپ سے اٹھی روشن خیالی کی تحریک کے وہ وعدے کہ سماج منصفانہ ہوجائے گا ، یا اتنے ہی پیچیدہ ہیں جس قدر بیشتر عالمی امور سیاست کے ماہرین کا غلط اتفاق کہ مذہب ہی تمام خرابیوں کا ذمہ دار ہے۔اگلی سطروں میں آپ سمجھ سکیں گے کہ ہم یہاں کیسے پہنچیں جہاں ہم آج ہیں اور یہ اشارہ دیتے ہیں کہ ہما ر ے مستقبل کا رخ کیا ہوگا۔
اس کتاب میں آپ سیکھ سکے ہیں ۔
۔ تحریک روشن خیالی میں موجود آزردگی اور خود شناسی کے تصورات نے کس طرح اس دنیا کو ترتیب دیا
۔ کیوں آزاد سرمایہ داری نظام عالمی سماج کی تشکیل میں ناکام ہے اور
۔ کس طرح فرانسیسی فلسفی روسو نے ہمارے موجودہ حال کی پیشگوئی کی تھی ۔
سماجی تلاطم اور اشتعال بہت سے صدیوں سے چلا آرہا ہے ۔
آپ کسی بھی رخ سے دیکھئے موجودہ یورپی سماج روشن خیالی کی تحریک سے وجود میں آیا ہے۔ اگر ہم موجودہ دور میں موجود وہ مسائل سمجھنا چاہتے ہیں جو ہمیں وراثت میں ملے ہیں تو ہمیں تاریخ پر ایک نظر دوڑانا ہوگی ۔ روشن خیالی کی مختصر اصطلاح اٹھارہویں صدی میں چند یورپی فلسفیوں کے دیئے ہوئے افکار کا مجموعہ ہے ۔ انہوں نے سائنس ، منطق اور فن کی قدر کا ڈھنڈورا پیٹا۔ سب سے بڑھ کر انہوں نے انسانیت کو درس دیا کہ وہ مذہب کی زنجیروں کو توڑ پھینکے ۔
ان کا دعوی تھا کہ کوئی بھی شخص جو ان اقدار کے حصول کی کوشش کرے گا وہ برابری کا مستحق ہوگا اور اس کی قدر و منزلت سماج کے کسی بھی اور شخص جیسی ہوگی۔
آج کے یورپ کا جدید سماج ان تعلیمات پر قائم ہے۔
پہلے پہل جب ان تعلیمات کا شہرہ ہوا تو بہت شورمچا ۔ مگر جلد ہی امیدوں کا چراغ گل ہوگیا ۔ یہ ثابت ہوگیا کہ انفرادیت پسندی اور سیکولر تصورات کافی نہیں ہیں ۔ محض ان خیالات کو قبول کرنے سے سماج میں مساوات ممکن نہیں ہوسکتی ۔
حقیقت میں ، ان تصور ات کے وجود پانے سے جس طرح سے مقابلے کی دنیا تشکیل پائی اس میں غیر مساویت کو مزید تقویت ملی ۔ اگر ان منطقی تصورات نے کوئی کام کیا تو وہ یہ تھا کہ ان کے نتیجے میں دولت کے وجود سے تشکیل پانے والا تضاد اور بے انصافی کا فہم زیادہ افراد تک پہنچ گیا۔
یہ آج بھی سچ ہے ۔ درمیانے طبقے کے محنت کش طبقے اپنی حالت زار سے واقف ہیں وہ دھوکے میں نہیں رہتے ۔ یہ تکالیف ہی تو ہیں جو انہیں متحرک رکھتی ہیں ۔
لوگوں کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا ہے ۔ وہ آزادی ، طاقت اور اظہار کی جنگ جیتنے میں ناکا م ہیں ۔
اس نفسا نفسی کے دور میں بہت سے لوگوں نے اپنا مسیحا اپنے رہنماں کو سمجھ لیا ہے۔ نپولین سے لے کر ٹرمپ تک جیسے عوامی لوگوں میں مسیحا کی تلاش پرانی روایت ہے ۔
مختصر لفظوں میں اگر چہ روشن خیالی کے تصورات کی بنیاد بہت فعال اور طاقتور ہے لیکن ان کے نفاذ کے لئے کی جانے والی کوششوں میں غیر عملیت نے اس نظام کے خلاف غیض و غضب اور مزاحمت کو راہ دکھائی ہے جسے روشن خیالی کی تحریک سے سہارا ملا تھا ۔
اشتعال اور خود شناسی جیسے احساسات نیاس دنیا کو جارح اور انفرادیت پسند بنایا ہے۔
اس کو شناخت کرنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوتی ۔ لوگ اپنے ارد گرد کی دنیا پر اشتعال سے بھرے پڑے ہیں ۔ انہیں صرف اپنی ترقی کی پروا ہے چاہے اس کی قیمت کوئی اور ہی کیوں نہ ہو ۔ اس سماجی لاغرضی اور غصے کے لئے ایک فلسفیانہ اصطلاح ہے : اشتعال اس کا استعمال ایک ڈینش فلسفی سورن کیرکیگارڈ نے انیسویں صدی میں کیا تھا ۔ یہ سماج میں ظاہری فائدوں کے خلاف ردعمل کی وضاحت کرتا ہے ۔ خاص طور پر جب یہ زیادہ لوگوں کی قیمت پر کچھ لوگوں کے لئے فائدہ مند ہوں اور ساتھ ہی یہ نصیحت بھی کررہے ہوں کہ لوگوں کو اجتماعی طور پر کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیئے۔
یہ آج کل کے دور پر بہتر خیال ہے ۔صحافیوں ، فنکاروں اور آزاد خیال اشرافیہ سے نفرت ہر جگہ ہے۔ اب بالکل اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی طرح لوگ اس نصیحت سے تنگ آ چکے ہیں کہ سوچنے اور کرنے کا درست طریقہ کار کیا ہے اور لوگ اب ہاں میں ہاں ملانے سے چڑجاتے ہیں۔ یہ تصور انہیں ایسے لوگوں کو ٹوٹ پڑنے دیتا ہے جن کے متعلق انہیں لگتا ہے کہ وہ سماج کے اخلاقی ٹھیکے دار بن بیٹھے ہیں۔
یہاں ایک اور تصور بھی ہے جس پر توجہ دینی چاہیئے ۔ خود فریبی ، یہ ایک فرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت سے واقف ہواور لوگوں کے سامنے اس کو ظاہر کرے۔
یہ تصور ایک فلسفی ژاں ژاک روسو کا دیا ہوا تھا ۔ انہوں نے اسے ایسے درک کیا کہ جیسے یہ ایک جوڑے کا آدھا توضیحی اور آدھا متضاد ہو۔ اس کے دیئے ہوئے دونوں تصورات ایک ہی فرد کو خود سے محبت کے فلسفے کی وضاحت کرتے ہیں ۔ مگر وہ خود فریبی کو ایک متلون مزاج کی حامل محبت سمجھتا ہے جو دوسروں کی رائے سے قائم ہوتی ہے۔
یہ سماجی میڈیا کی بہترین تمثیل ہے ۔ لوگ اس چیز پر فکر مند رہتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ پر لوگوں کے سامنے کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کی کوشش محض اپنی ذات کی تشہیر ہوتی ہے کہ اس ذریعے سے وہ مشغول رہتے ہیں کہ لوگوں سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں لوگوں میں جھگڑے اور خود غرضی کا اجتماع پیدا ہوچکا ہے ۔ان کا ذاتی مفاد پورے معاشرے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور انہیں ممکن ہے کہ اس کی خبر ہی نہ ہو کہ وہ دوسروں کے لئے کس نقصان کا باعث بن رہے ہیں ۔
روسو نے تحریک روشن خیالی کے نقصانات کو قبل از وقت ہی بھانپ لیا تھا ۔
روسو کبھی بھی ان رسمی فلسفیوں میں شامل نہیں ہوتا جو روشن خیالی کے پرچارک ہیں ۔ وہ ایک قسم کا غیر معمولی فلسفی تھا ۔ وہ اپنی صنف میں بس آپ ہی تھا ۔
آزاد کاروبار کے متعلق اس کی رائے اس کی دور اندیشی کی بہتر مثا ل ہے۔ جہاں بہت سے فلسفیوں نے اس کی تعریف کی ہے کہ وہ اسے آزادی ہی کی کوئی قسم سمجھتے تھے ۔ دوسری جانب روسو نے تجارت کے اس خطرے کو بھانپ لیا جو وہ انسانی نفسیات کے لئے پیدا کرنے جا رہی تھی ۔
اس کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ایسا مقابلہ جس میں دولت کمانے یا کھونے کی جنگ ہو وہ ہماری انا کو تکلیف دے گی اور اس سے ممکن ہے کہ ہم غیر مقبول یا ظالمانہ افعال سرانجام دیں۔
نہ صرف وہ اس کا شکار ہوں گے جو ابھی غریب ہیں بلکہ دولت کمانے کی حرص کے سبب امیر لوگ بھی اس برائی کا شکار ہوں گے۔
یہاں روسو کی باریک بینی ، حقیقت میں اس کے تصور خود فریبی سے متصل ہے۔ اسے سمجھنے میں مشکل تھی کہ لوگ کس طرح کسی چیز کو محض طبقاتی اظہار کیلئے اہمیت دے سکتے ہیں اور اس سے اس چیز میں قیمت جنم لیتی ہے۔ وہ چیز جو روسو کو ممتاز کرتی ہے وہ اس کا مذہب کے متعلق خیال ہے ۔ بخلاف دیگر روشن خیال فلسفیوں کے ، وہ اس کی قدر کرتا ہے ۔
دیگر ایک باقاعدہ مذہب کو اس لئے پسند نہیں کرتے تھے کہ اس کی وجہ سے بدترین جنگوں مثال کے طور پر صلیبی جنگیں برپا ہوئیں ۔ روسو کاہم عصر وولٹیئر جسے روشن خیالی کا اوتار کہا جاتا ہے کیتھولک چرچ کے لئے پسندیدہ چہرہ نہیں تھا ۔
اگر روسو خود مذہبی نہیں تھا تاہم وہ اسے اخلاقیت کی تعلیم سمجھتا تھا جو عوام کے لئے مفید ہوسکتی ہے ۔ اس کے برعکس وولٹئیر ایک عام سے پیغام کو بھی سمجھنے سے قاصر تھا جسے چرچ نے نافذ کیا ہو ۔ کیونکہ اشرافیہ کو یہ سمجھانے میں مشغول تھا کہ وہ غریبوں کا رکھوالا ہے۔
اس حساب روسو کو ، ایک پیشوا کا مقام حاصل ہے اس نے روشن خیالی کے نقائص بتائے جس کی وجہ سے اس کی تعلیمات آج بھی قابل غور ہیں ۔ عالمگیریت نے دنیا میں غصے اور بیگانگیت کو بڑھادیا ہے۔
جب اشتعال کی کیفیت مقامی تھی تب بھی اسے روکنا مشکل تھا اب تو دنیا بھر میں پھیل گیا ہے ۔
عالمگیریت نے بتا دیا ہے کہ مقامی آبادیاں اب آپس میں مضبو ط بندھی ہوئی نہیں ہیں ۔ یہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے “ہر ایک اپنے ہی لئے ” جتنا آج سچ ہے اتنا کبھی بھی تھا ۔ جہاں ایک زمانے میں سماجی آلہ مثال کے طور پر چرچ مرکزے میں مقید تھا اب افراد استعمال کنندگان کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ نے بھی مدد نہیں کی ۔
جیسا کہ عالمگیریت کا کردار بڑھا ہے قومی شناخت کی جو ایک قدر موجود تھی وہ کمتر لگنے لگی ہے۔ نتیجے میں بہت سے گروہ خود کو بھلایا ہوا سمجھنے لگے ہیں جس کی وہ مزاحمت کرتے ہیں ۔ عام طور پر قدیم قومی شناختیں ہتھیار کی دعوت پر دوبارہ زندہ کی جارہی ہیں ۔ نام نہاد دولت اسلامیہ ہی کی مثال لے لیجئے ۔ وہ مشرق وسطی میں ایک قومی ریاست تشکیل دینا چاہتے ہیں جو ایک ایسا خطے کے طور پر مشہور ہے کہ وہاں گلوبلائزیشن کے بدترین متوازی نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔
بد قسمتی سے جب آپ عالمگیریت کے خلاف اشتعال میں بھرے ہوئے ہو اس لمحے آپ فیصلہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں نہیں ہوتے ۔ گمراہی کی قیادت میں ہونا آسان ہے ۔
دہشتگرد گروہوں کے لئے نوجوانوں کو شکار کرنا آسان ہے ۔ یہ چاہے تو نام نہاد دولت اسلامیہ ہو یا گوروں کی نسل پرستی پہ یقین رکھنے والے گروپس ، یہ غیر ملکی جنگجو افراد کو مقصد اور پہچان دیتے ہیں ۔ آخر کارہم یہ مان تو گئے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک ہی کچھ خاص ہے ۔
یہی اسی طرح کا ماحول ایک خطیب کو پروان چڑھاتا ہے ۔ یہ احتجاجی عناصر غیر یقینی وقت میں ٹھہرا کا وعدہ کرتے ہیں ۔ جب لوگ حوصلہ ہار جاتے ہیں اور استعمار سے مار کھا جاتے ہیں ۔ اس کی سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے اپنا عقیدہ اب ایک مضبوط رہنما سے حتی کہ جو متشدد ہو اس سے جوڑ لیا ہے ۔ آخر کو ان کے وجود میں بھی غصے نکالنے کا ایک روزن تو موجود ہوتا ہے ۔
ہم ایک حوصلہ شکن کیفیت میں ہیں ۔ غصہ ہر جگہ ہے ۔ اور بہت سے علاقے اشتعال اور غصے کا گڑھ بن چکے ہیں ۔ کوئی ایک چیز اگر ان غصیلے لوگوں میں مشترک ہے تو وہ یہ ہے کہ ہم پر تیسری عالمی جنگ لاد دی گئی ہے ۔
مستقبل روشن ہوسکتا ہے مگر مغرب کو چاہیئے کہ وہ حقائق کو پرکھے اور اپنا تاریخی سفر درست سمت میں رکھے ۔
مغرب تاریخ کے اپنے تجزیئے پر مطمئن ہے ۔ اور یہ ایک غلط روش ہے ۔ کچھ اہم حقائق کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ مغرب اگر انہیں تسلیم کر لے تو اس سماجی ہیجان کے دائرے کو توڑ سکتا ہے ۔
سب سے پہلے تو یہ کہ مغرب اس سے زیادہ دیر آنکھیں نہیں چرا سکتا ۔ آزاد سرمایہ داری نظام ناکام ہو چکا ہے ۔
اگر لوگ سخت محنت کرتے اور عوام دوست رہتے تو سرمایہ داری کا مقصد تمام لوگوں کو خوش رکھنا اور امیر بنانا تھا ۔ لیکن لوگ زیادہ تر انفرادیت پسند ، اپنے آپ میں مگن اور لالچی ہوگئے ۔ جب انہیں اندازہ ہوا کہ وہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہوسکتے تو وہ نا امید ، خوفزدہ اور قابل رحم بن گئے۔ ایسے حالات میں عام آدمی پریشان کن حرکتیں کرتا ہے اور بسا اوقات وہ متشدد بھی ہو جاتا ہے۔
پھر مغرب کا بڑا طبقہ مشرق میں جاری فساد پر مذہب کو قصوروار سمجھتا ہے ۔ حالانکہ قریب سے دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس فساد کے ذمہ داروں کو بھی اسی بیماری نے اکسایا ہے جس کا شکار مغرب ہوا ہے۔
آزاد سرمایہ داری کی ناکامی
مثال کے طور پر یہاں ابو مصعب زرقاوی کو دیکھئے ۔ وہ اسلامی جنگجو تھا جس نے نام نہاد دولت اسلامیہ کی بنیادیں رکھیں ۔ مگر اس کی شروعات منشیات کے ایک اسمگلر اور دلال سے تھیں جو معیشت بنانے میں ناکام ہوا تھا ۔ اس نے تبلیغات کا آغاز اس وقت کیا جب اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ لوگ جو اس کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف حملہ کرنے کے بہتر طریقے موجود ہیں ۔
دوسرا یہ کہ مغرب نے تہذیبوں کے درمیان تصادم کے منقسم اور پریشان کن نظریئے کو وجہ بنا رکھا ہے ۔
یہ امریکی ماہر امور سیاست سیموئیل پی ہنگٹنگٹن کا خیال تھا ۔ اس کی رائے میں اسلام ایک ایسا مذہب ہے جسے تشدد ورثے میں ملا ہے اور یہ جمہوریت کو لعنت سمجھتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جمہوریت چونکہ مغرب کے سماج کا اہم مرکزہ ہے لہذا اسلام اس کے لئے ایک خطرہ ہوگا ۔ یہ فطری طور پر لڑاکے مسلمان مغرب کو تباہ کرنے پہ تلے ہوئے ہوں گے ۔ یہ کہنا اب لازم نہیں کہ ایسے بیانئے سے نفرت کی آگ کو ہوا ملے گی ۔
تو اب مزید کہاں جائیں؟ مغرب کے مفکر ، سیاستدان اور دانشور کو سوچنا ہوگااور ذمہ داری قبول کرنا ہوگی ۔ آزاد سرمایہ داری کے دفاع میں کچھ نہیں پڑا اور اس کی ناکامی اور بدترین نتائج پر باقی لوگوں کا جینا حرام کردینا کوئی دانشمندی نہیں ۔
اس کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ :
موجودہ عالمی نظام میں موجود ہیجان ایک عرصے سے وجود پا رہا تھا ۔اب اسے کوئی معمہ سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ روشن خیالی نے کس طرح ہماری سماجی توقعات کو بنایا ہے تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ کیوں عالمگیریت اور آزاد سرمایہ داری کی ناکامی نے اتنا قہر ڈھایا ہے ۔ پیشگی خبردار ہی اپنا تحفظ کرسکتا ہے ۔ اپنی تاریخ سے واقف رہیں تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ آپ نے آگے کیا کرنا ہے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...