قانون کی حکمرانی: پاکستانی آئین کے تصورات اور عملدرآمد

مترجم : شوذب عسکری

218

جدید دنیا کو درپیش دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خطرات پر پاکستان میں موجود معدودے چند مصنفین میں محمد عامر رانا ایک ممتاز شناخت کے حامل مصنف و کالم نگار ہیں جن کی تحریریں معروف عالمی جرائد اور پاکستان کے موقر انگریزی اخبار ڈان میں باقاعدگی سے شائع ہوتی ہیں ۔ انتہا پسندی کی وجوہات ، واقعا ت ،نقصانات اور اس مشکل خطرے کا انسداد عامر رانا کی دلچسپی کے موضوعات ہیں جن پر وہ متعدد کتابوں اور مضامین تصنیف کرچکے ہیں۔ پاکستانی آئین کی موجودگی میں کہ جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اختیاراتی حدود واضح ہیں یہ ادارے عملی پر قانون کی حکمرانی میں کس قدر کامیاب ہوئے ۔ فاضل مضمون نگار نے اسی موضوع پر اپنی رائے دی ہے (ازطرف مدیر)

اگرچہ پاکستان کے پاس ایک جامع آئین اور ایک قانونی ضابطہ کار موجود ہے تاہم اس کے باوجود بھی اس ریاست کا عملی ڈھانچہ ابھی تک بھی روایتی داخلی سلامتی اور قانون کے نفاذ تک محدود ہے ۔ یہاں کے پالیسی سازوں اور پیشہ ور ماہرین کے قانون کی حکمرانی سے متعلق عمومی تصورات محض جرائم کی روک تھام اور خاتمے اور روایتی و غیر روایتی خطرات سے نمٹنے تک محدود ہیں ۔ تاہم اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو یہ اس میں چند بنیادی خامیاں ہیں کیونکہ اس میں آئین کے اصول میں مساوی احتساب اور شفافیت کا عمل مساوی اور منصفانہ آئینی نفاذ ، بشمول بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور غیر جانبدار طریقے پرتنازعات کی مصالحت کا عمل موجود نہیں ہے ۔
آئین کی وضاحت کے عمل میں لائحہ عمل کی کمی اور تفریق نے دفاعی اداروں کے درمیان عدم توازن پیدا کیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فعالیت کو متاثر کیا ہے ۔ ایک کامیاب اور فعال ریاست میں قانون کی حکمرانی ایک جمہوری تصور ہے ۔ کمزور اور تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہوئی ریاستوں کو ایک مقابلہ اور بھی درپیش رہتا ہے جسے ریاست کی عملداری کہتے ہیں ۔ یہ خاص طور پر اس حکومت کا معاملہ ہے جو جمہوری اصولوں پر کھڑی ہو نہ کہ افراد کی منشا پہ ، اگرچہ اس اصطلاح کو اس صورت کے متضاد حالات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ اسی لئے اس اصطلاح کا ایک عمومی استعمال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اپنی غیر آئینی اور ماورائے عدالت سرگرمیوں کو جائز بنا کر بھی کیا جاتا ہے ۔ یہاں یہ سوال کہ آئین بالادست ہے یا اخلاقی معیار بلند ہے ، اس ساری صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیتا ہے۔
یہ پیچیدگی اس حقیقت سے بھی ابھرتی ہے کہ پاکستان میں فوجی اور نیم فوجی ادارے مختلف اوقات میں قانون کے نفاذ اور ریاست کی عملداری ممکن بنانے کا کام کر چکے ہیں ۔ اس طرح کی عارضی یا حالات کو ملحو ظ خاطر رکھ کر بنائی گئی پالیسیاں ، جیسا کہ کراچی شہر میں رینجرز کی تعیناتی ، جن کی ذمہ داریاں بہت بٹی ہوئی ہیں مثلا کہ وہ وہاں پویس کا کام بھی انجام دیں ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست کی اس سلسلے میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں ہے کہ سویلین ڈھانچے کی اصلاح کاری کی جائے اور اسے مضبوط بنایا جائے ۔ اس جیسی مزید گھمبیر صورت فاٹا اور بلوچستان میں نظر آتی ہے جہاں ماورائے عدالت حالات نے فوج اور ایف سی کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ کمزور ریاستی ڈھانچے کی موجودگی میں ریاست کی عملداری ممکن بنائیں اور قانون نافذ کریں ۔
مزید بر آں کہ فوجی اور سویلین اداروں کے رابطے اور گفتگو کا فقدان ہے اس کی وجہ سے ملک میں قانون کے نفاذ اور آئینی بالادستی کے معاملے میں موجود مسائل مزید ابھر کے سامنے آتے ہیں ۔ یقینی طور پر نیم فوجی ادارے قانون کے نفاذ کے معاملے پر سویلین اداروں کی حدود کو پار کرکے ریاست میں اپنی آئینی اور اخلاقی حدود کو مزید بڑھا رہے ہیں ۔ دوسری جانب قانون کے نفاذ پر مامور سویلین اداروں کی کارکردگی بعض ایسے معاملات جہاں ان کی ذمہ داری ہے اس قدر کمزور ہے کہ کہ وہ نیم فوجی اداروں کی جانب سے ادا کئے گئے بالادست کردار پر اپنی حیثیت کو بیان کرنے سے بھی قاصر ہیں ۔
درج ذیل عوامل اور وجوہات کی بنا پر داخلی سلامتی کا نظام کمزور ہوا ہے جن میں اصلاح کی پرزور کی ضرورت ہے تاکہ اس کا تدارک کیا جاسکے ۔
حفاظت کا متوازی نظام
دہشت گردی کے بھیانک خطرات نے ریاست کو مجبور کیا ہے کہ وہ ان کے تدارک کے لئے غیر معمولی نوعیت کے آئینی ، انتظامی اور عملیاتی اقدامات اٹھائے ۔ اس لئے ریاست نے حفاظتی اداروں کے ساتھ ساتھ نیم فوجی اداروں کا ایسا متوازی نظام ترتیب دیا ہے کہ اس خطرے سے نمٹا جاسکے ۔ ان نظام نے نہ صرف پہلے سے موجود کمزوریوں کو واضح کیا ہے بلکہ رابطے اور اختیار کے نئے مسائل کو بھی جنم دیا ہے ۔ تمام صوبوں میں انسداد دہشتگردی کی متوازی فورس کام کررہی ہیں ۔ پنجاب میں انسداد جرائم اور دہشگردی کے لئے ایلیٹ فورس کا قیام 1997 میں عمل لایا گیا جبکہ اسی مقصد کے لئے ایک نئی فورس کو 2014 میں قائم کیا گیا ۔ ماہرین اور پولیس حکام نے ایلیٹ فورس کی توسیع اور کارکردگی کی بہتری کے لئے اس کی تعمیر نو کی تائید کی ہے کیونکہ یہ ماضی میں بھی موثر رہی ہے ۔
نیم فوجی دستوں کے کردار میں توسیع
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ پولیس اور اس کے خصوصی دستوں کے متوازی نیم فوجی دستوں کو بھی ملک بھر میں روایتی جرائم اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے مسلسل تعینات کیا جا رہا ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس عمل کے دوران نیم فوجی دستوں نے اپنے کردار میں درجہ بدرجہ اضافہ کیا ہے اور وہ اب پولیسنگ کا کام بھی انجام دینے لگے ہیں ۔ نیم فوجی اداروں کی وجہ سے صوبوں کے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے صوبائی اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔
مثلا کراچی میں روایتی پولیس کا ادارہ کم ازکم مستقبل قریب میں اپنی حیثیت میں فعال ہونا مشکل ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے سویلین ادارو ں میں رابطے کا فقدان اگرچہ پہلے سے ہی ایک مسئلہ تھا مگر حفاظت کے معاملے رینجرائزیشن کے عمل نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ بڑے اداروں میں انا کے بڑے مسائل موجود ہیں اور معاملات کی اصلاح کے لئے وہ بڑے کردار کے متقاضی ہوتے ہیں ۔ قانون کے نفاذ کی ذمہ داری پر مامور روایتی اداروں پر ان وجوہات کی بنا پر جمود طاری ہوتا جاتا ہے اور وہ اس امر کے عادی ہوجاتے ہیں کہ حساس معاملات کے تدارک کے لئے بالادست اداروں کو ہی استعمال میں لایا جائے تاکہ صوبے اس ذمہ داری سے آزاد رہیں ۔ شہری علاقوں میں نیم فوجی دستوں کی جرائم اور دہشتگردی کے تدارک کے لئے تعیناتی اور ان کی کارکردگی کا جائزہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر حکومتی توجہ لازمی ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کی مضبوطی اور نیم فوجی دستوں کی اپنی آئینی ذمہ داری پر واپسی کو یقینی بنا کر ہی ملک بھر میں مستقل امن اور قانون کی مستقل حکمرانی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔
وسائل اور اختیار کے معاملات
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہلیت کو بہتر بنانے خاص طور پر پولیس کے ادارے کو مزید موثر بنانے کا معاملہ کافی عرصے سے زیرغور ہے ۔ اہلیت کی بہتری کے معاملات کے ساتھ ساتھ پویس کے ادارے کو دستیاب وسائل اور ضروری ساز وسامان کی کمی کے مسائل بھی درپیش ہیں ۔ تاہم ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی بجائے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیف سٹی جیسے منصوبوں پر رقم خرچ کررہے ہیں۔ ان منصوبوں نے اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں میں حفاظت کے حقیقی مسائل کو حل نہیں کیا ۔ یہ منصوبہ جات مکمل تو ہوچکے ہیں مگر ان کے فوائد تاحال عام آدمی تک نہیں پہنچے ۔ پنجاب حکومت نے سال 2017میں اس جیسے منصوبوں کے لئے 50 ارب روپے مختص کئے تھے ۔
حکومت داخلی سلامتی کو بہتر بنانے کے لئے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے ۔ خاص طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں متوازی فورسز پر اور اس مقصد کے لئے قائم کی خصوصی فورسز پر پیسہ خرچ کررہی ہیں ۔وفاقی حکومت نے پچھلے بجٹ میں 91اعشاریہ 8 بلین روپے کی رقم ملک میں امن و امان اور قانون کے نفاذ کے لئے مختص کی تھی ۔ اس کے علاوہ حکومت نے سی پیک پراجیکٹ کے تحفظ کے لئے قائم کئے گئے ادارے کے ساتھ ساتھ دوسرے ادارے لئے 15 اعشاریہ 6 ار ب روپے مختص کئے ۔
نیکٹا کا معاملہ
نیشنل کانٹر ٹیررازم اتھارٹی کا ریاست کے اداروں میں باہمی تعاون کو فروغ کے لئے قائم کیا تھا تا کہ قانون کے نفاذ پر مامور روایتی اداروں سے رابطہ کاری کا بوجھ ہلکا کیا جاسکے اور ان کی کارکردگی کو فعال بنایا جائے ۔ مگر نیکٹا کا ادارہ وسائل اور اہلیت کی کمی کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی کمزوریوں اور بیوروکریٹک سرخ فیتے کا شکار ہو کر رہ گیا ہے ۔ حکومت نے اس کی اہلیت کو جانچے بنا اب اس ادارے پر نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کی ذمہ داری بھی عائد کردی ہے ۔
اس خلا کو پر کرنے کے لئے حفاظتی اداروں نے اس نظام پر بشمول صوبائی ایپکس کمیٹیوں کے معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے ۔ ملک بھر میں انسداد دہشتگردی کے آپریشنز شروع کئے گئے ہیں ۔ فوجی عدالتیں وغیر ہ بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں ۔ اس صورت نے نیشنل ایکشن پلان کو مکمل طور پر ایک عسکری منصوبے کی شکل دے دی ہے اور اس میں سویلین کردار بہت محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔ ملک بھر میں دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں نے فوج پر مزید ذمہ داری عائد کی ہے اور اس محض اس خطرے سے نمٹنے کے لئے ایک مختص ادارہ مضبوط کرے جو کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی بھی کرے اور اس دوران قومی سلامتی کے مشیر لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کو اس کا اختیار دیا گیا ہے ۔
نیشنل ایکشن پلان (نیپ)کو اس مقصد کے لئے وضع کیا گیا تھا کہ انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں موجود کجی کو دور کیا جائے اور ا س کام کے لئے بامعنی اصول و ضوابط بنائے جائیں ۔ مگر حکومت نے اس میں سرمایہ کاری بجائے متوازی فورسز کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ۔
عالمی اداروں نے بھی ایسے ہی منصوبوں کے آزمائشی اور مکمل پراجیکٹس کے لئے پیسہ فراہم کیا ۔
ایسے ہی نیکٹا کے ادارے سے روا رکھی گئی سستی کے سبب یہ ادارہ بے قاعدگی کا شکار ہورہا ہے ۔ آج دن تک یہ ادارہ فیصلہ نہیں کرپایا کہ کیا اس کا مقصد محض قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری ہے یا اس مقصد کے لئے بنائی گئی پالیسی پر جائزہ لے کر حکومت کی معاونت کرنی ہے ۔
ظاہری طور پر یہ ادارہ جوائنٹ ایویسٹی گیشن ڈائریکٹوریٹ کی حیثیت میں بنایا گیا تھا جہاں 413 افسران تعینات تھے اور ان کا تعلق فوج ، آئی ایس آئی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سے تھا ۔ اگر چہ اس جوائنٹ ڈائریکٹوریٹ نے نیکٹا کے بجٹ کا بڑا حصہ بانٹ لیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس کا مقصد کیا ہے اور اس کی کارکردگی کی جانچ کیا ہے ۔ مزید برآں یہ بھی امکانات ہیں کہ کیا اسے کسی سویلین کے ماتحت چلایا جارہا ہے یا نہیں ۔ اگرچہ اس کے آغاز میں فیصلہ ہوا تھا کہ اسے وزیر اعظم کے دفتر کے ماتحت چلایا جائے گا ۔ یہ ایک قابل عمل منصوبہ تھا ۔ اس منصوبے پر پارلیمان کی نگرانی سے شفاف اور کامیاب بنایا جاسکتا تھا ۔
اس صورت میں جبکہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ایک جانب نیکٹا سے تعاون کرنے میں پس و پیش کررہی ہیں دوسری جانب اس ادارے کا بیوروکریٹک طریقہ کار اس کی کارکردگی میں بہتری میں رکاوٹ ڈالتا ہے ۔ اس کے سبب یہ کوئی پالیسی جائزہ کا کردار ادا نہیں کرپارہا ۔ بدقسمتی سے حکومت ایک ایسے ادارے سے دہشتگردی کے خلاف قومی بیانئے کا تقاضا کررہی ہے جس کی عملی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے ۔
اب جبکہ یہ ادارہ اپنے بنیادی مقاصد کو پورا کرنے سے قاصر رہا ہے ، نیکٹا سے مزید توقعات لگانا کم فہمی ہوگی ۔ خوش قسمتی سے صوبائی سطح پرانسداد دہشتگردی کا ادارہ معلومات کے حصول اور دہشتگردی کے خلاف آپریشنز میں کامیاب جا رہا ہے ۔ صوبہ سندھ اور پنجاب کے کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹس نے اپنے شعبوں میں بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں شفافیت اور کارکردگی کی جانچ کے لئے کسی قدر مزید اقدامات اٹھائیں تو یہ ادارے مزید بہتر نتائج دے سکتے ہیں ۔ تاحال یہ ادارے پولیس کے روایتی طریقہ کار سے کام کررہے ہیں یعنی ان میں وہ مسائل بھی موجود ہیں جو ان اداروں کی بدنامی کا باعث ہیں ۔
آگے بڑھنے کا رستہ
آئینی اور پیشہ ورماہرین ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں بہتر امن و امان کے لئے نظام کی میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اولا اس معاملے پر پاکستان میں بھی وہی اصول اپنانے کی ضرورت ہے جو قانون کی عملداری کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں ۔ اس کے ذریعے سے نہ صرف اداروں میں موجود خامیوں کی اصلاح ہوسکے گی بلکہ امن و امان کی بہتر صورت حال سے اداروں کے مابین رابطے کا فقدان بھی ختم ہوجائے گا ۔
ثانیا قانون کی حکمرانی کا دوسرا مرحلی یعنی قانون کا نفاذ بہتر بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔ مثال کے طور پر انسداد دہشتگردی کے لئے چونکہ نئی حکمت عملی بنائی جارہی ہے لہذا حفاظتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سفارشات کو بھی ملحوظ رکھیں جو کہ عام طور پر فوجی حکام کی جانب سے صرف نظر ہوجاتی ہے ۔ یہ سفارشات ایسی ہیں کہ ان کی مدد سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور اہلیت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔
ممکنہ رستوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ متوازی نظام سے ذمہ داری کا بوجھ مرحلہ وار روایتی اداروں کو منتقل کیا جائے تاکہ دہشتگردی کے خلاف ان کی کارکردگی بہتر ہوسکے ۔ پولیس اس مقصد کے لئے نیشنل ڈیٹا بیس کو باہمی ہم آہنگ کرنے لئے نادرا اسٹیٹ بنک اور ایف آئی و دیگر اداروں سے تعاون چاہتی ہے تاکہ ملکی سطح پر موجود ایک ریڈ بک میں ایسے تمام مشتبہ افراد کا ریکارڈ رکھا جائے جو دہشتگردی میں امکانی طور پر کسی بھی مرحلے پر ملوث ہوسکتے ہیں ۔اگر اس مرحلے پر کچھ اداروں کو یہ تشویش ہے کہ یہ معلومات عوام تک نہیں پہنچنی چاہیءں تو اس ملکی سطح کی ریکارڈ بک کی دو درجوں میں تقسیم کر دی جائے ایک وہ جسے عوام تک رسائی دے دی جائے اور دوسری وہ جس پر صرف مختص اداروں کی رسائی ہو تاکہ دہشتگرد عناصر اور فورتھ شیڈول مشتبہ لوگوں کی معاونت ، اکانٹس ، شناخت اور دیگر پہچان قانون کی نگاہ میں رہے ۔ ایک مشترکہ ویب سائٹ نیکٹا کی نگرانی میں تشکیل دی جاسکتی ہے جہاں پولیس سمیت دیگر ادارے ہفتہ اور ماہانہ وار ڈیٹا شیئرنگ کے ذمہ دار ہوں ۔
تشکیل دیئے جانے والے نئے سیکورٹی فریم ورک میں نیشنل ایکشن پلان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی کی وجہ ایک مرکزی رابطہ کار کا عدم موجودگی ہے ۔ اس معاملے سے نمٹنے کے لئے حکومت نے باہم مشترکہ اور متماثل نگرانی کا نظام تشکیل دیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کی نگرانی پر زیادہ جبکہ اس کے حقیقی نفاذ پر کم توجہ دی ہے ۔
اس طرح کی حکمت عملی سے پولیس اور اس کے معاون اداروں کی ذمہ داریوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔ یہ ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پولیس تن تنہا ان ذمہ داریوں کو نہیں نبھا سکتی ۔ اس کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لئے اسے ہمیشہ حکومتی سرپرستی اور دیگر اداروں کا تعاون لازمی ہوگا ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...