سکیورٹی جائزہ 2017: اہم چیلنجز اور تجاویز

محمد عامر رانا، صفدر سیال, ترجمہ: حذیفہ مسعود

250

زیر نظر مضمون دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کا تفصیلی جائزہ ہے جس میں نہ صرف گزشتہ سال میں ہوئے دہشتگرد حملوں کے اعداد و شمار بیان کئے گئے ہیں بلکہ دہستگردی کے خلاف ریاستی پالیسی کا ہمہ جہت جائزہ لیا گیا ہے ۔ قلم نگاروں کا اس موضوع پر کامل دسترس کا ثبوت اس مضمون میں درج وہ موضوعات ہیں جن کا جائزہ لیا گیا ہیکہ انہوں نے اس عنوان میں شامل تمام عناصر کی کارکردگی اور انہیں درپیش مشکلات کا احوال پوری دیانتداری سے بیان کردیا ہے ۔(ازطرف مدیر)

۱۔ 2017 میں سلامتی کی صورتِ حال کا جائزہ:
2017 کے دوران عسکریت پسندوں، قوم پرستوں یا باغیوں کی جانب سے مجموعی طور پرپاکستان کے 64 اضلاع میں 370 دہشت گردانہ حملے کیے گئے ۔ ان حملوں میں سے 24 حملے خودکش تھے جن میں سے کچھ کارروائیوں میں فائرنگ کرنے کے بعدخودکش حملہ کیا گیا۔ یہ حملے 815 افراد کی جان لے گئے جبکہ 1736 زخمی ہوئے۔ 2017 میں رپورٹ کیے گئے حملوں کی تعداد گزشتہ برس کی نسبت 16 فیصد کم تھی جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد میں بھی 10 فیصد کمی واقع ہوئی ۔ مگر گزشتہ برس کے برعکس 2017 میں زخمیوں کی تعداد 7 فیصد زیادہ تھی۔
کل 317 حملوں میں سے 213 حملے، جو کہ کل تعداد کا 58 فیصد ہے، تحریکِ طالبان پاکستان، اس کے مختلف دھڑوں ، جماعت الاحرار، فاٹا اور خیبرپختونخوا کے مقامی طالبان گروہوں سمیت لشکرِ اسلام، داعش کے وابستگان نے منظم کیے تھے۔ ان تمام گروہوں کے عزائم میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ان گروہوں کی جانب سے کیے گئے حملوں میں 604 افراد جاں بحق جبکہ 1374 افراد زخمی ہوئے۔138 حملے، جو کہ کل تعداد کا 37 فیصد ہیں اور بلوچستان اور سندھ کے کچھ علاقوں میں کیے گئے، قوم پرست باغی گروہوں نے منظم کیے۔ ان حملوں میں 140 افراد جاں بحق اور 265 افراد زخمی ہوئے۔19 کے قریب حملے مسلکی چپقلش کا شاخسانہ تھے جن میں مجموعی طور پر جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 71 جبکہ زخمیوں کی تعداد 97 ہے۔

چارٹ ۱ : پاکستان میں دہشتگردیوں کی کلاسیفکیشن

2017 کے دوران پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں 563 عام شہری، 217 سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ افراد ( 46 ایف سی اہلکار، 110 پولیس جوان جن میں فاٹا کے خاصہ دار جوان شامل ہیں، 12 فوجی جوان، 16 لیویز اہلکار اور 3 دیگر نیم فوجی اداروں سے وابستہ اہلکار)اور 35 عسکریت پسند مارے گئے جو خود کش حملہ آور تھے یا پھرموقع واردات پر موجودسلامتی اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے قتل ہوئے۔زخمی ہونے والوں میں 1430 عام شہری جبکہ 305 سکیورٹی اہلکار اور ایک عسکریت پسند شامل ہیں۔گزشتہ کچھ برسوں کی طرح 2017 میں بھی سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کا اہم ہدف تھے۔تقریبا 43 فیصد ( یا 160) حملے سکیورٹی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، قافلوں اور چوکیوں پر کیے گئے۔86 (23 فیصد) حملوں کا نشانہ عام شہری تھے۔ 16 حملے حکومتی افسران، عمارتوں یا دفاتر پر کیے گئے جبکہ 13 حملوں کا ہدف سیاسی رہنما ، کارکنان یا سیاسی جماعتوں کے دفاتر تھے۔12 حملوں میں حکومت کے حمایت کار قبائلی رہنماں اور قبائلی امن کمیٹیوں کے ممبران کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسے حملوں کی تعداد 10 ہے ، جن کا ہدف بلوچستان میں آباد غیر بلوچ مزدورتھے۔ 9 حملوں میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔اس کے ساتھ ہی16 رپورٹ شدہ حملوں میں شیعہ افراد جبکہ 4 حملوں میں سنی افراد نشانہ بنے، ایک اور حملے میں بھی غیر مسلکی بنیادوں پر سنی طبقے کے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔2017 میں عبادت گاہوں اور مزارات پر 2 تباہ کن حملے کیے گئے۔

ٹیبل۱: دہشتگرد حملوں میں ٹارگٹس

24 خودکش حملوں کے علاوہ 159 حملوں میں مختلف دھماکہ خیز آلات کا استعمال کیا گیا۔2017 میں رپورٹ کیے گئے حملوں کی قابلِ ذکر تعداد یعنی 141 یا 38 فیصد حملے ہدفا کیے گئے تھے۔دیگر حملے گرنیڈ(33) ، راکٹ(8) ، مارٹر گولوں (2) ، میزائل حملوں (ایک) اور دو تخریبی کارروائیوں کی مدد سے کیے گئے۔
گزشتہ 3 برسوں کی طرح 2017 کے دوران بھی بلوچستان میں پاکستان کے کسی بھی علاقے کی نسبت زیادہ حملے رپورٹ ہوئے (165 حملے جو کہ پاکستان میں ہونے والے کل حملوں کا 44 فیصدہیں ) ۔کل جاں بحق افرادکی تعداد کا 35 فیصد (288) اور کل زخمیوں کی تعداد کا31 فیصد (532) محض بلوچستان سے تعلق رکھتا ہے۔بلوچستان میں سب سے زیادہ نقصان (133 اموات، 282 زخمی) تحریکِ طالبان پاکستان، جماعت الاحرار، داعش کے وابستگان اور لشکرِ جھنگوی العالمی جیسی اسلامی عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے کیے گئے 27 حملوں میں ہوا۔ مختلف بلوچ علیحدگی پسند وں کی طرف سے کیے گئے 131 حملوں میں 138 افراد ہلاک اور 239 افراد زخمی ہوئے۔ 7 فرقہ وارانہ حملوں، جن کا زیادہ تر ہزارہ قبیلہ نشانہ بنا، میں 17 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔بلوچستان کے بعد فاٹا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہوا جہاں 83 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 253ہلاکتیں ہوئیں اور 491 افراد زخمی ہوئے۔باوجود اس کے کہ یہ حملے پورے فاٹا میں کئے جاتے رہے تاہم سب سے زیادہ نقصان 154 اموات اور 341 زخمی کرم ایجنسی میں جماعت الاحرار، ٹی ٹی پی، لشکرِ جھنگوی اور لشکرِ جھنگوی العالمی کی طرف سے کیے گئے بڑے حملوں میں ہوا۔خیبرپختونخوا میں2017 کے دوران 71 حملے ہوئے جن میں 91 افرا مارے گئے اور 211 زخمی ہوئے۔سندھ میں 31 حملے کیے گئے جن میں سے 24 صرف کراچی اور باقی 7 اندرون سندھ میں وقوع پذیر ہوئے۔ان حملوں میں مجموعی طور پر 119 افراد مارے گئے جبکہ 293 افراد زخمی ہوئے۔سب سے زیادہ اموات سیہون شریف، جامشورو میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے حملے میں ہوئیں جس میں 91 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے۔پنجاب میں 61 افراد دہشت گردانہ حملوں کی نذر ہوئے اور 194 افراد زخمی ہوئے، ان افراد میں سے 54 صرف لاہور میں جاں بحق ہوئے ۔ پنجاب میں 14 حملے رپورٹ ہوئے۔اسلام آباد اور آزاد جموں وکشمیر میں سے ہر ایک میں 3 ،3 حملے کیے گئے۔

ٹیبل۲: پاکستان میں دہشتگرد حملے

تقابلی جائزہ:
مجموعی طور پرملک بھر میں 2017 کے دوران 713 تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ان 713 واقعات میں سے 370 دہشت گردانہ حملے ، جن کی تفصیل اوپر گزر چکی۔171 سرحد پار سے بھارت، افغانستان اور ایران کی طرف سے کیے گئے۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے 75 عملی کارروائیاں کی گئیں جبکہ سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم اور مقابلوں کے 68 واقعات سامنے آئے۔ اس دوران 9 ڈرون حملے بھی ہوئے۔ ان تمام واقعات میں مجموعی طور پر 1611 افراد ہلاک جبکہ 2212 افراد زخمی ہوئے۔

ٹیبل۳: عمومی حملوں کی نوعیت

چارٹ۲: عمومی حملوں میں تقابل

2017 میں تشدد کے 713 واقعات ہوئے جبکہ 2016 میں ان واقعات کی تعداد 749 تھی ۔ یعنی ان واقعات میں 2017 کے دوران 5 فیصد کمی واقع ہوئی۔ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی گزشتہ برس کی نسبت 15 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔2016 کے دوران 1887 افراد جبکہ 2017 میں 1611 افراد ہلاک ہوئے۔تاہم زخمیوں کی تعداد میں 2016 کی نسبت 13 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو 2017 میں 2212 ہے جبکہ 2016 میں زخمیوں کی تعداد 1956 تھی۔ماسوائے 2013 ، 2009 یا پھر سوات میں فوجی کارروائی کے بعد سے لیکر اب تک ملک میں ہونے والے حملوں کی تعداد اور نتیجے میں ہونے والے نقصان میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔2013 کے دوران فرقہ وارانہ حملوں اور کراچی میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافے کے سبب اضافے کا رجحان سامنے آیا۔ کراچی میں رینجر آپریشن ، شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی اور ملک بھر میں پولیس کی کارروائیاں ،جو نیشنل ایکشن پلان اور ردالفساد کا حصہ تھیں، کے سبب 2013 کے بعد سے 2017 تک دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔ 2017 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا رجحان گزشتہ برسوں کی نسبت قابلِ ذکر نہیں تھا ۔ گزشتہ سالوں کی نسبت اس سال پنجاب میں حملوں کے رجحان میں 100 فیصد جبکہ سندھ میں 9 فیصد تک بڑھا۔ تاہم حملوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ہلاک شدگان اور زخمی افراد میں کمی واقع ہوئی۔ اندرون سندھ اور اسلام آباد میں حملوں کی تعداد گزشتہ برس کے برابر رہی۔ اندرون سندھ میں 2017 کے دوران کسی بھی دوسرے علاقے کی نسبت دہشت گردانہ واقعات میں لوگوں کی زیادہ تعداد جاں بحق ہوئی۔ کراچی اور پشاور میں واضح طور پر ان واقعات میں بالترتیب 49 فیصد اور 44 فیصد کمی واقع ہوئی۔جبکہ فاٹا میں 16 فیصد کمی دیکھنے کو ملی تاہم ہلاک ہو جانے والے افراد کی تعداد میں گزشتہ برس کی نسبت 55 فیصد اضافہ ہوا۔ 2016 میں خودکش حملوں کی تعداد 17 جبکہ 2017 میں یہ تعداد 24 ہو گئی جو کہ 41 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔تاہم ان حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی، 2016 میں جاں بحق افراد کی تعداد 382 تھی جبکہ 2017 میں یہ تعداد 286 ہو گئی۔زخمیوں کی تعداد بھی 856 سے کم ہو کر 723 ہوئی۔ جانی نقصان کے حوالے جو حملے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے ان میں سیہون شریف کے مزار، مستونک میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدا لغفور حیدری ، لاہور میں فساد مخالف پولیس اہلکار اور ضلع جھل مگسی میں پیر ریخل شاہ کے مزار پر ہونے والے حملے شامل ہیں۔مجموعی طور ہونے والے 24 خود کش حملوں میں سے 10 بلوچستان، 7 خیبر پختونخوا، 3، 3 فاٹا اور پنجاب اور ایک سندھ میں کیا گیا۔ ان میں سے بیشتر حملوں کو ٹی ٹی پی، لشکرِ اسلام، جماعت الاحرار اور داعش کے وابستگان نے منظم کیا۔فرقہ وارانہ فسادات میں بھی گزشتہ برس کی نسبت 41 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اور ان حملوں کی نذر ہونے والے افراد کی تعداد بھی 29 فیصد کم ہوئی جو کہ 2016 میں 104 اور 2017 میں 74 رہی۔ زخمیوں کی تعداد میں بھی 34 فیصد کمی واقع ہوئی۔ فرقہ وارانہ واقعات میں سے 80 فیصد حملے فاٹا میں کرم ایجنسی، بلوچستان میں کوئٹہ اور خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسمعیل خان میں ہوئے۔ 16 وارداتوں میں شیعہ اور 3 وارداتوں میں سنی نشانہ بنے۔اسی نوعیت کا ایک واقعہ خیر پور سندھ میں بھی ہوا۔
2016 کی نسبت 2017 کے دوران ایران، افغانستان اور بھارت کی جانب سے سرحد پردراندازی کے واقعات رونما ہوئے۔ مجموعی طور پر سرحد پار سے ہونے والے 171 حملوں میں سے 131 بھارت، 28 افغانستان اور 12 ایران کی جانب سے کیے گئے۔ یہی تعداد 2016 میں بھارت اور افغانستان کی جانب سے بالترتیب 51 اور 18 رہی جبکہ 2015 میں ایران کی جانب سے 5 حملے کیے گئے۔ کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پرگذشتہ برس کی نسبت زیا دہ حالات خراب رہے ، حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ تاہم زیادہ تر افراد جن میں سے بیشتر عسکریت پسند تھے، افغانستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں مارے گئے جن کی تعداد 117 رہی جبکہ بھارت اور ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں جاں بحق افراد کی تعدا بالترتیب 69 اور 2 رہی۔ان تینوں سرحدات پر مجموعی طور پر 188 افراد مارے گئے جو کہ گزشتہ برس کی نسبت 132 فیصد زیادہ ہے، جبکہ 348 افراد زخمی ہوئے۔جاں بحق ہونے والے ان 188 افراد میں 68 عام شہری، 25 فوجی جوان ، 6 ایف سی اہلکار اور 89 پاکستانی طالبان عسکریت شامل ہیں۔

چارٹ۳: دہشتگرد حملوں اور ہلاکتوں کا تقابل

گزشتہ برس کی نسبت 21 فیصد کم فوجی کارروائیاں کی گئیں جن کی مجموعی تعداد 75 تھی۔یہ کارروائیاں پاکستان کے28 مختلف اضلاع اور علاقوں میں کی گئیں جبکہ گزشتہ برس یہ کارروائیاں 35 جگہوں پر کی گئیں۔75 میں سے 39 کارروائیاں بلوچستان، 18 فاٹا، 8 خیبر پختونخوا، 7 پنجاب ، اور 3 کراچی میں کی گئیں۔ان فوجی کارروائیوں میں 296 افراد مارے گئے جبکہ 2016 میں یہی تعداد 492 رہی۔ان افراد میں 281 عسکریت پسند، 14 سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ افراد اور ایک عام شہری شامل ہیں۔47 کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں سے 18 عسکریت پسند اور 29 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

ٹیبل۴: دہشتگرد حملوں اور ہلاکتوں کا تقابل

ان عملی کارروائیوں کے علاوہ ملک بھر کے30 مختلف اضلاع اور علاقوں میں سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ساتھ 68 تصادم اور مقابلے کے واقعات ہوئے جو گزشتہ برس کی نسبت ان واقعات میں 35 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ان واقعات میں مجموعی طور پر 251 افراد کے مارے جانے کا دعوی کیا گیا جن میں سے 243 عسکریت پسند جبکہ 8 سکیورٹی اہلکار تھے۔یہ تعداد 2016 کی نسبت 28 فیصد کم ہے۔ان واقعات میں 31 افراد زخمی ہوئے جن میں 24 سکیورٹی اہلکار، 30 مشکوک عسکریت پسند ، 3 عام شہری اور 4 عسکریت پسند شامل ہیں۔
2016 کے دوران ڈرون حملوں کی تعد اد 3 تھی جبکہ 2017 کے دوران 9 امریکی ڈرون حملے ہوئے جن میں سے 5 کرم ایجنسی، 2 شمالی وزیرستان اور ایک ایک حملہ جنوبی وزیرستان اور اورکزئی ایجنسی میں کیا گیا۔ان حملوں میں مجموعی طور پر30 مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے۔
نسلی اور سیاسی تشدد کے واقعات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔2016 میں ایسے واقعات کی تعداد 12 جبکہ 2017 میں 4 رہی، ان واقعات میں مرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ برس کی نسبت 28 فیصد کمی ہوئی۔ نسلی و سیاسی تصادم کے واقعات میں سے دو پنجاب اور ایک ایک اسلام آباد اور کراچی میں رونما ہوئے۔
اسی دوران مذہبی عصبیت کی بنیاد پر حملوں کے 5 واقعات رپورٹ کیے گئے جن میں دو افراد قتل ، جن میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کا طالبعلم مشال خان شامل ہے ، اور 9 افراد زخمی ہوئے۔

ٹیبل۵: دہشتگرد حملوں اور ہلاکتیں کا تقابل

2017 کے دوران تشدد کے واقعات میں مجموعی طور پر 15 فیصد کمی واقع ہوئی جو کہ 1611 ہے جبکہ 2016 میں جاں بحق افراد کی تعداد 1887 تھی۔ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد میں 26 فیصد کمی سامنے آئی جو کہ 2017 میں 683 اور 2016 میں 921 تھی۔ 657 عام شہری ان حملوں میں مارے گئے جو کہ گزشتہ برس کی نسبت 6 فیصد زیادہ ہے۔ 2017 کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی یتعداد 271 رہی جبکہ 2016 میں ان کی تعداد 347 تھی۔ یہ تعداد اس سال سکیورٹی اہلکاروں کی اموات میں 22 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

ٹیبل ۶: عمومی دہشتگرد حملوں میں ہلاکتیں

۲۔ اہم چیلنجز اورحساس علاقے:
اہم چیلنجز:
الف۔ پیچیدہ عسکری منظرنامہ اورانضمامِ نو کا مسئلہ:
پاکستانی تناظر میں عسکریت پسند گروہوں کا مسئلہ کافی گھمبیر ہے۔2017 میں کچھ کالعدم عسکریت پسند گروہوں کی حیثیت مستقل ابہام کا شکار رہی ہے۔ اسی کے سبب فوجی و سیاسی قیادت کے مابین تناو بھی پیدا ہوا۔جماعت الدعوہ نے انضمامِ نو یا قومی دھارے میں واپسی کے نام پر اپنا دائرہِ کار سیاست تک بڑھایا ، جسے بین الا قوامی سطح پر بالکل پذیرائی نہیں ملی۔یہ گروہ ابھی بھی پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر مسائل پیدا کررہے ہیں۔2016 میں شائع شدہ سکیورٹی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بہت سے ایسے گروہ جو پراکسی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں ، ریاستی بیانیے پر اپنا تسلط قائم کر تے ہوئے نئے دائیں حلقے کے طور پر ابھر ے ہیں جو نہ صرف دفاعی معاملات پر اثرانداز ہو رہے ہیں بلکہ قومی دھارے کی سیاست کو بھی متاثر کررہے ہیں۔ظاہری طور پر جماعت الدعوہ اپنے آپ کو داعش اور القاعدہ کی فکر کو چیلنج کرنے والے متبادل ماڈل کے طور پر پیش کر رہی ہے. جماعت الدعوہ کے سماجی و سیاسی مقاصد ، جنہیں مختلف پہلوں سے زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے ، کے علاوہ جماعت کا نظریاتی تسلط دو اہم مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اول یہ کہ ایک انتہا پسند سلفی گرو نظریہِ پاکستان اور ریاستی تشخص کی چھتری تلے پناہ لے رہا ہے اور ملک میں قومیت کے بنیادی تصور کو ازسرِ نو تشکیل دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک عسکری گروہ اس قومی نظریے کا محافظ بن چکا ہے جسے گزشتہ 70 برسوں میں ریاستی اداروں نے پروان چڑھایا ہے۔ دوم یہ کہ ایک جدید مسلم ریاست کے وژن کی تعمیرو ترقی میں ہماری اجتماعی دانش کی ناکامی کا مظہر ہے۔
جماعت الدعوہ کے سیاست میں آنے کا مسئلہ اپنی جگہ مگر سابق طالبان رہنما احسان اللہ احسان کوعام معافی دینے سے انضمامِ نو کی بحث مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ایک اور عسکریت پسند رہنما عصمت اللہ معاویہ ، جنہیں 2 برس قبل عام معافی دی گئی تھی، کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے احسان اللہ احسان کو طالبان کی راز افشائی کے عوض عام ہتھیار ڈالنے پر مائل کیا۔تاہم سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان کی واپسی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کی بیخ کنی میں معاون ثابت ہوئی ہے۔مجموعی طور پر بہت سوں کے نزدیک یہ قدم ہرگز موثر نہیں تھا اور اسے عسکریت پسندوں کے لیے ریاستی خوشامدیت کے طور پر دیکھا گیا۔دوسری طرف ان اقدامات نے جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کی عملی صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ دونوں دھڑوں نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔دونوں 2017 میں پاک افغان دونوں سرزمینوں پر سکیورٹی آپریشنز کا سامنا بھی رہا۔
ایسے گروہوں کی مبہم حیثیت سکیورٹی اداروں کے لیے تشویشناک صورتِ حال پیدا کرتی ہے۔ شائع شدہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق 2017 میں نیکٹا نے انتباہ جاری کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے حافظ محمد سعید پر حملے کے لیے جیشِ محمد کے عسکریت پسندوں کو پیسہ دیا ہے۔نیکٹا نے حافظ محمد سعید سے اپنی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے خبردار کیا۔اسی دن ایک انگریزی اخبار نے جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود ازہر کے بھتیجے کی مقبوضہ کشمیر میں ہلاکت کی خبر شائع کی۔یہ انتہائی اہم بات ہے کہ اس طرح کے ابہامات نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں رکاوٹ ہیں اورانتہا پسندانہ شدت کے انسداد کی موثر پالیسی کی تشکیل میں حائل ہیں۔
ب۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد
انسداد دہشت گردی کے عمل کی بہتری کے لیے رہنما اصولوں کے منبع کے طور پر نیشنل ایکشن پلان تخلیق کیا گیا تھا۔ تاہم حکومت نیانتظامی اصلاحات پر توجہ دینے کی بجائے متوازی اداروں کے قیام کو ترجیح دیتی رہی۔سکیورٹی ماہرین کے ایک گروپ نے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیرِ اہتما م منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں اس بات کا اشارہ دیا کہ نیشنل ایکشن پلان کو موثر اور فعال کرنے کے لیے اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اس کے دو اجزائے ترکیبی ہونے چاہییں۔ ایک انسداد دہشت گردی سے متعلق اور دوسر ا انتہا پسندانہ شدت کے خاتمے کے لیے مختص ہو۔
انسداد دہشت گردی کا جزو عسکریت پسندی کے خاتمے کی زود اثر سخت کارروائیوں سے متعلق ہوجن میں پالیسی اصلاحات، سکیورٹی اداروں میں تعاون ، مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی ، نفرت انگیز ی کا خاتمہ، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام، اقلیتوں کا تحفظ، عسکریت پسندوں کے مابین رابطوں کے نظام کی بیخ کنی، سائبر اسپیس کی نگرانی، فوجداری عدالتی نظام میں اصلاحات، سرحدی سلامتی اور بالخصوص انٹیلی جنس اصلاحات شامل ہیں۔
دوسرا جزو عسکریت پسندی کے خاتمے کی نرم پالیسیوں سے متعلق ہوجو طویل المدتی نتائج کی حامل ہوں ۔ اس حصے میں مدرسہ اصلاحات، عسکریت پسندوں کی تشہیر پر پابندی، مختلف عسکریت پسند گروہوں، خصوصا بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں سے سیاسی مصالحت،مختلف عسکریت پسندانہ نظریات رکھنے والے جنگجوں کو اعتدال پسندی اور راہِ راست پر لانے کے انتظامات، تعلیمی اصلاحات، ثقافتی تشریقِ نو، ابلاغی حکمتِ عملی کی ازسرِ نو تشکیل، فرقہ واریت کا خاتمہ اور عدالتی اصلاحات زیرِ غور لا نے چاہییں۔
نیشنل ایکشن پلان کے ہر ایک نکتے کے لیے ایک مکمل نظام العمل مرتب کیا جاسکتا ہے جو ہر ایک نکتے کے اشارات،مقاصد اور ذمہ دار اداروں کی تعین کرے۔پارلیمان ایک نگران کے طور پر کردار ادا کر سکتی ہے۔وزیرِ اعظم نیشنل ایکشن پلان کو مکمل اپنے اختیار میں لے لیں اور نیکٹا ایک رابطہ کار کمیٹی کے طور پر کام کرے ۔
ج۔ افغانستان میں دہشت گردنیٹ ورک اور غیر محفوظ سرحد:
2017 میں امریکی انتظامیہ نے افغانستان میں فعال عسکریت پسندوں ، بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدامات کرنے اور سرحد پار نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے سخت دبا ڈالا۔پاکستان بھی پاکستانی طالبان عسکریت پسندوں کے حوالے سے اسی طرح کے موقف کا اظہار کرتا رہا ہے جو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور سرحد پار سے پاکستانی علاقوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ پاکستان افغان حکومت سے ملا فضل اللہ اور عمر خراسانی سمیت ان 76 دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے جو کہ پاکستانی علاقوں سے فرار ہو چکے تھے۔ پاکستانی سرحد سے متصل افغان صوبوں، ننگر ہار اور کنڑ میں داعشی عسکریت پسندوں کا ادغام پاکستان کے لیے خطرہ بنا ہواہے۔ افغانستان میں موجود پاکستانی عسکریت پسندوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف منظم کیے گئے دہشت گرد حملوں کے علاوہ سرحد پار سے ہونے والے کل 28 حملوں میں سے 22 حملے ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور لشکرِ اسلام سے وابستہ طالبان عسکریت پسندوں نے منظم کیے جو پاکستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے فاٹا کی خیبر اور کرم ایجنسیز اور چمن ، بلوچستان میں 7 حملے کیے گئے۔ پاکستان نے افغاستان کے ساتھ سرحد ی عدمِ تحفظ کے مسئلے پر غیر رسمی بات چیت کے لیے کو ششیں کی ہیں جو سفارتی تعاون اورافغانستان کے ساتھ یا افغانستان کے بغیر سرحدی سلامتی کے لیے اقدامات کرنے کی شرائط پر مبنی ہیں۔اکتوبر 2017 میں آرمی چیف جنرل باجوہ نے کابل کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں ” پاک۔افغان مشترکہ ایکشن پلان ” کے نام سے ایک دو فریقی معاہدہ سامنے آیا جس میں ورکنگ گروپس کے ذریعے سیاسی، اقتصادی، عسکری اور انٹیلی جنس شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
دوسری طرف پاکستان نے افغان سرحد پر باڑ لگانا شروع کردی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان 150 کلو میٹر سرحد پر پہلے ہی باڑ نصب کرچکا ہے جبکہ سالانہ ٹارگٹ 120 کلو میٹر ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ دو برسوں میں 800 کلو میٹر تک باڑ لگانے کا کام مکمل کردیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں زیادہ حساس اور نقل و حمل کے لیے آسان علاقوں میں 432 کلو میٹر پر باڑ لگائی جائے گی۔ یہ کوششیں سرحدی سلامتی کے دبا ومیں کمی ضرور کریں گی لیکن اس سے یہ خطرہ کم نہیں ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے ساتھ ایک دو طرفہ سرحدی سلامتی میں تعاون کا جامع نظام العمل ترتیب دینے کا عمل تیز کیا جائے اور ساتھ ہی دہشت گردی کے نیٹ ورک کو سرحدی علاقوں سے قلع قمع کرنے کی کوششیں کی جائیں۔
د۔ پاکستانی جنگجوں کی واپسی:
عراق اور شام میں داعش کی پسپائی کے بعد اس سے وابستہ جنگجوں کی اپنے آبائی علاقوں میں ممکنہ واپسی سے متعلق دنیا بھر میں تشویش پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں سے سینکڑوں کی تعداد میں عسکریت پسندوں نے عراق اور شام کی جانب سفر کیا۔ بیرون ملک جانے والے جنگجوں کے سرکاری اعدادو شمار کی عدم موجودگی کے باوجود داخلی امور کے لیے قائم قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو یہ بتایا گیا کہ نیکٹا ایسے پاکستانی افراد سے متعلق اعدادوشمار جمع کرہا ہے جو بیرونِ دہشت گردی میں ملوث ہیں ۔ اس عمل کا مقصد عراق اور شام میں داعش کی پسپائی کے نتیجے میں پاکستانی جنگجوں کی وطن واپسی کے منفی نتائج کو روکنا یا کم کرنا ہے۔تاہم واپس آنے والے جنگجوں سے متعلق حکومتی حکمتِ عملی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ واپس آنے والے جنگجو پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ر۔ مدارس کا مسئلہ:
2017 میں وفاقی حکومت نے مختلف اقدامات کیے تاہم جو اہم پیش رفت ہوئی وہ وزارتِ داخلہ اور نیکٹا کی جانب سے اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے ساتھ مشاورت سے مدرسہ رجسٹریشن فارم کی تکمیل کرنا تھی۔ اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کو دی گئی تھی۔تاہم یہ قدم مدارس کے مسئلے کی پیچیدگی کے لیے مناسب نہیں ہو سکتا۔ حکومت نے مدرسہ اصلاحات کی ذمہ داری وفاقی وزیرِ داخلہ کے سپرد کی ہے جبکہ 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم کے اختیارات صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں۔ یہاں یہ مسئلہ بھی ہے کہ یا تو صوبوں نے ابھی تک تعلیم سے متعلق قانون سازی ابھی نہیں کی یا پھر وہ اس قانون سازی کے عمل میں مدارس کو نظر انداز کر چکے ہیں۔تمام صوبوں کو چاہیے کہ وہ مدارس کے موضوع پر مباحث کے انتظام، مدارس کی قومی دھارے میں شمولیت اور نصابی اصلاحات کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دینے کی ذمہ داری اٹھائیں۔
س۔ تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی:
2017 میں تعلیم یافتہ نوجوان افراد پر مشتمل نئے عسکریت پسند گروہ انصار الشریعہ کے سامنے آنے سے تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے متعلق تشویش بڑھ گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس مسئلے کی تشہیر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یونیورسٹیاں تشدد پرستانہ انتہا پسندی کی نرسریاں بن چکی ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلے کی آسان سی توضیح ہے۔عصری تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے ایک تجویز دی گئی تھی کہ یونیورسٹیوں میں سکیورٹی اداروں کی مدد سے اس مسئلے پر قابو پانا چاہیے۔یہ یقیناًایک عبث خیال تھا۔ یہ تجویز اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ پر تشدد انتہا پسندی، جو کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، سے نبردآزما افراد اس مسئلے کا صحیح ادراک رکھتے ہیں نہ ہی تعلیمی اداروں کی نفسیات سے واقف ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یونیورسٹیوں میں انتہا پسند گروہوں کے اثر کو ختم کرنے کے لیے انتہائی زیرک قدم اٹھانا چاہیے جس سے تعلیمی آزادی پر زد نہ پڑے۔ یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ مصالحتی اور منطقی کلچر کے فروغ کی حوصلہ افزائی کریں۔
ص۔ مسلکی تقسیم:
گزشتہ 4 سالوں کی طرح 2017 کے دوران بھی فرقہ وارانہ کشیدگی میں کمی واقع ہوئی۔یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 41 فیصد کمی واقع ہوئی۔ 2015 کے دوران 58 سے 2016 کے دوران 34 تک اور اب 2017 میں واضح طور 41 فیصد مزید کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ برس سکیورٹی صورتِ حال کے جائزے میں بھی یہ بات لکھی گئی تھی کہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں اتار چڑھا کی تاریخ پرانی ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ پاکستان میں اس وقت تک موجود رہے گا جب تک 1 ۔ فرقہ وارانہ دہشت گرد گروہ پاکستان میں فعال رہیں گے، 2۔ فرقہ وارانہ گروہوں کو مالی، اخلاقی اور سیاسی بیرونی حمایت حاصل رہے گی۔ اور 3۔ یہ کہ مسلکی بنیادوں پر منقسم مدارس کے ذریعے نفرت انگیز مباحث مسلک کے گرد گھومتے رہیں گے۔ خاص طور پر داعش کی موجودگی میں فرقہ وارانہ تشدد کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اہم پالیسی اقدامات:
مندرجہ ذیل پالیسی اقدامات حکومت کی توجہ کے مستحق ہیں کیوں کہ یہ داخلی سلامتی کی بہتری اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے ابتدایئے کا درجہ رکھتے ہیں۔
الف۔ فاٹا اصلاحات:
2017 کو فاٹا کو مرکزی قومی دھارے میں لانے کا سال قرار دیا گیا تھا ، لیکن یہ ایک خواب ہی رہا اور حکومت نے اس معاملے کو مزید لٹکا دیا۔ اس بات کے قوی امکانات تھے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جائے، تاہم حکومت کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے دیگر آپشنز زیرِ غور لائے جانے کی بات پر اس حیثیت کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ اسی دوران دسمبر میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وزیرِ اعظم فاٹا میں انتظامی اصلاحات کر سکتے ہیں جیسا کہ ایف سی آر کا خاتمہ ، ادھر یہ رپورٹ بھی منظرِ عام پر آئی کہ فاٹا اصلاحات سے متعلق قومی عملدرآمدی کمیٹی نے فاٹا کے انضمام پر زور دیتے ہوئے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں فاٹا سے 23 اراکین صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق حکومت نے اس کمیٹی کو کابینہ کمیٹی میں تبدیل کردیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے کسی بھی ایسی منظوری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ب۔ پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی میں بہتری:
انسداد دہشت گردی کے صوبائی محکمیدہشت گردی کے تدارک کی کارروائیوں اور معلومات کے حصول ، دونوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سندھ اور پنجاب پولیس نے اس ضمن میں قابلِ تعریف کام کیا ہے۔اگر مرکزی و صوبائی حکومتیں شفافیت اور احتساب کے لیے اصلاحات اور محکمے کی استعداد میں بہتری کے لیے اقدامات کرتی ہیں تو یہ مزید بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ ابھی تک یہ محکمہ روایتی پولیس کی طرح کام کررہا ہے، مطلب کہ ان میں پولیس والی تمام خامیاں درآئی ہیں۔
ج۔ جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ:
نیکٹا ایکٹ کے مطابق اعداد و شمار اکٹھے کرنا، معلومات کی جانچ پڑتال اور متعلقہ اتھارٹیوں کو ان کی ترسیل اس کے بنیادی فرئض میں شامل ہیں۔اسی شق کے مطابق سکیورٹی ایجنسیوں کے مابین رابطہ کاری بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔ظاہری طور پر نیکٹا نے ایک جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کیا ہے لیکن وہ ابھی تک فعال نہیں ہو سکا۔ نیکٹا کے مرکزی کوارڈینیٹر احسان غنی پر امید ہیں کہ یہ ڈائریکٹوریٹ جون 2018میں اپنا کام شروع کردے گا، ادارے کے لیے وسائل مہیا کر دیے گئے ہیں اور سال کے شروع میں عملے کے لیے بھرتیا ں شروع کر دی جائیں گی۔ جوائنٹ ڈائریکٹوریٹ کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی تاریخ، تاہم یہ بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھ سکی کیوں کہ اعلی انٹیلی جنس ایجنسیاں سویلین نگرانی میں کام کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔ابتدا یہ تجویز دی گئی تھی کہ یہ ڈائریکٹوریٹ وزیرِ اعظم کے زیرِ نگرانی کام کرے گا جو کہ خوش آئند ہے۔اگر جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ 2018 کے دوران فعال نہیں ہوتا تو وزیرِ اعظم کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے اور اسے نیکٹا سے الگ کرتے ہوئے پارلیمانی نگرانی میں لے آنا چاہیے۔
د۔ پولیس اصلاحات:
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی اور وسائل سے آراستہ کرنا انتہائی ضروری ہے، لیکن موجود ہ وسائل کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ اسی طرح پولیس کی عملی استعدادِ کار میں بہتری، اس کی تکنیکی مدد، اور صلاحیتوں میں اضافہ بھی ایسے میدان ہیں جنہیں خاطر خواہ توجہ کی ضرورت ہے۔ان کے تربیتی پروگرام ٹیکنالوجی پر مبنی پولیس کاری کے ساتھ ساتھ انتظامِ کار، انٹیلی جنس کا حصول، فعالیت اور ربط کاری پر مبنی ہونے چاہییں۔نیپ کی پہلی ترجیح پولیس کو غیرسیاسی کرنا ہو نی چاہیے تاکہ وہ ایک پیشہ ورانہ ادارے کے طور پر تشکیل پا سکے۔جیلوں کا تحفظ اور اصلاحات نیپ کا حصہ ہونا چاہیے۔ موجودہ حالات میں یہ انتہائی اہم ہے، کیوں کہ دہشت گرد گروہ پولیس عہدوں اور جیل افسران میں نفوذ کر چکے ہیں۔
ر۔ ملک کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں اور امن لشکر:
آسانی سے دستیاب جدید تباہ کن ہتھیاروں کے آگے بند باندھنا سکیورٹی اداروں کی انسداد عسکریت سرگرمیوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔کراچی میں جرائم پیشہ افراد ، فرقہ وارانہ دہشت گرد گروہ ہوں اور بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے لیے اب دہشت گردی کا سب سے موزوں ذریعہ ہدفی قتل بن چکا ہے۔ تباہ کن ہتھیاروں تک رسائی نے ان کے کام کو بہت حد تک آسان کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے امن لشکر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار رکھ دیں کیوں کہ ان گروہوں کے بیشتر اراکین ذاتی دشمنیوں کے لیے اپنی حیثیت اور ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ لشکر مقامی عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لیے بنائے گئے تھے۔یہ امن لشکر بعض علاقوں میں اس قدر طاقت ور ہوچکے ہیں کہ طالبان طرز پر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کردیا ہے ۔ 2017 میں وانا میں ایسے واقعات رپورٹ کیے گئے تھے۔
س۔ سائبر اسپیس کا تحفظ:
عسکریت پسند گروہ، اپنے پیغام کی تشہیر، نئے افراد کی بھرتیاں اور چندہ وصولی کے لیے سائبر دنیا کا انتخاب کررہے ہیں۔ اس صورتِ حال نے اسے نوجوان نسل کے لیے غیر محفوظ کردیا ہے۔یہ ایسا میدان ہے جس پر حکومت اور سماج دونوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔داعش روسی ساختی رابطہ کاری ایپلی کیشن ٹیلی گرام کو رابطے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اس بات سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ کس طرح کالعدم تنظیمیں سماجی رابطے کی ویب سائیٹس استعمال کرتی ہیں، 41 کالعدم تنظیموں نے فیس بک پر اپنے صفحے (پیجز)بنا رکھے ہیں۔
حساس علاقے:
الف۔ بلوچستان
2017 کے دوران بلوچستان کی صورتِ حال انتہائی نازک رہی،نہ صرف بلوچ علیحدگی پسندبلکہ فرقہ وارانہ اور مذہبی بنیادوں پر قائم گروہ بھی صوبے میں فعال رہے۔ملک بھر میں 2017 کے دوران ہونے والے 24 خودکش حملوں میں سے 10 صرف بلوچستان میں کیے گئے۔فرقہ وارانہ تشدد کے سب سے زیادہ واقعات بلوچستان میں وقوع پذیر ہوئے۔ بلوچستان میں بے چینی اور عدمِ تحفظ کی بدلتی حرکیات اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ بلوچ قوم پرستوں کی بجائے اسلام پسند جنگجوں سے صوبے کو خطرے کا سامنا ہے۔موخر الذکر عمومی طور پر نسبتا کم شدت کے حملے کرتے ہیں جبکہ دیگر گروہ جیسے کہ داعش، لشکرِ جھنگوی، اس کی عالمی شاخ لشکرِ جھنگوی العالمی ، جماعت الاحرار، ٹی ٹی پی وغیرہ سنگین نوعیت کے حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ اگرچہ سکیورٹی فورسز پر بلوچ علحدگی پسندوں کی جانب سے بڑے حملے بھی کیے گئے ہیں جن سے بلوچستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
ب۔ فاٹا:
2017 کے دوران حملوں کی تعداد اور متاثرہ افراد کے لحاظ سے بلوچستان کے بعد فاٹا دہشتگردی کی لپیٹ میں آنے والا دوسرا بڑا علاقہ ہے۔ فاٹا کی تمام 7 ایجنسیوں سے یہ حملے رپورٹ کیے گئے تاہم سب سے زیادہ کرم ایجنسی متاثر ہوئی، جہاں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ جن میں سے زیادہ تر حملے فرقہ وارانہ بنیادوں پر اور لشکرِ جھنگوی، لشکرِجھنگوی العالمی، جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کی طرف سے منظم کیے گئے۔
۳۔ تجاویز و سفارشات:
الف۔ قومی سلامتی پالیسی:
حکومت نے قومی سلامتی پالیسی کے حوالے سے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹینٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ کی نگرانی میں مشاورت شروع کردی ہے اور نیکٹا کو داخلی سلامتی کے مسائل کے حوالے سے اپنی تجاویز دینے کی ہدایت کی ہے۔علاقائی و قومی سلامتی اور تزویراتی مسائل کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ علاقائی اقتصادیات، انسانی تحفظ، اور سلامتی کے غیر روایتی مسائل کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے۔
ب۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد:
جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر نظرِ ثانی کر کے اس کے دو دائرے بنا دیے جائیں، ایک انسداد دہشت گردی اور دوسرا انسداد انتہا پسندی سے متعلق ہو۔تاہم یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ اس کے عملدرآمدی لائحہِ عمل میں موجود ابہامات کو ختم کر کے پارلیمانی نگرانی میں وفاقی وزیرِ داخلہ کو مرکزی انچارج بنادیا جائے۔
ج۔ عسکریت پسند افراد اور گروہوں کا انضمامِ نو :
عسکریت پسندوں کے انضمامِ نو کا مسئلہ انتہائی اہم ہے اور اسے بہت احتیاط سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔2017 میں سکیورٹی ماہرین نے اس مقصد کے لیے ایک جامع نظام العمل تجویز کیا تھااور سفارش کی تھی کہ پارلیمان ایک قومی سطح کا ایک بااختیار راست مصالحت کمیشن مقرر کرے جو ان پالیسیوں کا جائزہ لے جن کے سبب عسکریت پسندی کو فروغ ملا اور ساتھ ہی تشدد ترک کرنے پر آمادہ افراد کو قومی دھارے میں واپس لانے کا کام کرے۔
حکومت کالعدم جماعتوں کے معیار پر نظرِ ثانی کے لیے ایک کمیشن قائم کر سکتی ہے جس میں پارلیمانی اراکین، ماہرینِ سماجیات اور دیگر اہل الرائے لوگ شامل ہوں۔نیکٹا اس پلیٹ فارم کے مرکزی دفتر کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
د۔ قیدیوں کی اصلاح اور راہِ راست پر واپسی:
عسکریت پسند گروہوں کی قومی دھارے میں واپسی کے عنوان پر کام کرنے والے ایک پالیسی گروپ نے تجویز کیا کہ عسکریت پسندوں کی اصلاح کے لیے ادارہ قائم کرنا چاہیے اور اس کے دائرہِ کار کو ملک بھر میں قایم جیلوں تک وسعت دی جائے۔موجودہ وقت میں فاٹا اور سوات میں اس طرح کے مراکز موجود ہیں لیکن پالیسی گروپ کے اراکین کے مطابق ان کا نظم و نسق قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں ، یعنی پولس کے ذمہ ہونا چاہیے۔ پیشہ ور اور معتدل اسکالرز کو ان اصلاحی مراکز میں تعینات کیا جائے۔ محکمہ جیل خانہ جات، پولیس اور اس کے انسداد دہشت گردی ادارے دہشت گرد قیدیوں کے لیے مشترکہ طور پر اصلاحی پروگرام کا آغاز کر سکتے ہیں۔
ر۔ جامع ڈیٹابیس:
ایک قومی ڈیٹا بنک قائم کرنے کی ضرورت ہے جو ملک بھر کے پولیس محکمہ جات، نادرا، نیکٹا، ایف آئی اے اور بینک دولت پاکستان کے ساتھ باہم مربوط ہو۔ اس ڈیٹا بنک کی درج ذیل خصوصیات ہونی چاہییں:
الف- ایک ایسی قومی ریڈ بک جس میں تمام مطلوب، مشکوک اور قید دہشت گردوں اور ان کے گروہوں سے متعلق معلومات ہوں۔
ب۔ قومی ڈیٹا بنک کو دو درجات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ، ایک عوام کے استعما ل کے لیے جس میں دہشت گردوں اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ہوں اور دوسرا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جس میں شیڈول 4 میں شامل مشکوک اور فعال دہشت گردوں کے بنکوں میں کھاتہ جات، ترسیلِ زر کے اعدادو شمار، جائیداد اور دیگر اثاثہ جات سے متعلق معلومات موجود ہوں۔
ج۔ نیکٹا کی نگرانی میں ایک مشترکہ ویب سائیٹ بنائی جا سکتی ہے اور تما م پولیس اور متعلقہ اتھارٹیوں کو ماہانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر تازہ ترین معلومات کی فراہمی کا پابند کیا جائے ۔
د۔ تمام صوبوں میں فرانزک لیبز کی موجودگی لازمی ہو ، جو اسلام آباد میں قائم قومی فرانزک لیبارٹری (NFL) سے منسلک ہوں۔
ر۔ انسداد دہشت گردی محکمہ جات کی استعدادِ کار میں بہتری کے تربیتی پروگرام منعقد کرنے کی ضرورت ہے اور ان اداروں کے پاس حساس معاملات سے متعلق کسی بھی بدنظمی سے بچا وکی تمام جدید احتیاطی تدابیر کے بارے میں معلومات ہونی چاہییں۔

س۔ قانونی لائحہِ عمل:
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیزبہتر قانونی ضابطہِ عمل کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز کو بھی نمایاں کرنا چاہے گا جو ابھی تک متعلقہ اتھارٹیز کی نظرِ کرم کی منتظر ہیں:
الف۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق فوجداری عدالتی ضابطے کے لیے بنائی گئی نیکٹا باڈی نے تجاویز تیار کر کے وزارتِ داخلہ میں جمع کروا دی ہیں لیکن ابھی تک اس کے نتائج سامنے نہیں آئے۔ تاہم قومی و صوبائی اسمبلیوں کو فوجداری ضابطے کی نگرانی کے اختیارات میں اضافہ ہونا چاہیے۔ فوجداری عدالتی نظام کے نظام ہائے ذیلی میں قریبی ربط کی ضرورت ہے۔
ب۔ موجود انسداد دہشت گردی قوانین پر ہر 3 سال بعد نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
ج۔ اختلافات کے خاتمے اور انتظامِ کار سے متعلق پیشہ وروں کی تربیت کی جانی چاہیے تاکہ طاقت کے استعمال سے پہلے یہ طریقہِ کار آزمائے جاسکیں۔
د۔ بنیادی ڈھانچے میں ترقی اور استعدادِ کار میں بہتری کے ذریعے انسداد دہشت گردی عدالتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔
ر۔ سکیورٹی افسران کی چھان بین بھی ضروری ہے: مثال کے طور پر یہ واقعہ کہ دارالحکومت سے پراسرار طور پر غائب ہونے والے پولیس کمانڈر کے غائب ہونے کے 4 ماہ بعد پولیس نے خیال ظاہر کیا کہ ممکن ہے وہ انتہا پسندانہ موادپڑھنے سے بنیاد پرستی کی طرف مائل ہو گیا ہو۔ اس کے گھر سے انتہا پسندانہ کتب، جن میں اسامہ بن لادن پر لکھی ایک کتاب بھی شامل تھی، برآمد ہوئیں۔کانسٹیبل علی احمد، دارالحکومتی پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمے کا حصہ تھا، اور پولیس لائنز میں ہی رہائش پذیر تھا، 22 ستمبر کی رات سے غائب ہے۔ اس طرح کے واقعات سے ظاہر ہے سیکورٹی افسران کی چھان بین بھی ضروری ہے۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...