سیکولرزم یا نظریاتی ریاست: بحث کو بند گلی سے نکالنے کی ضرورت

811

محمد عمار خان ناصر کا تعلق ایک علمی خانوادے سے ہے ۔ آپ دینی و دنیاوی موضوعات پر یکساں مہارت رکھتے ہیں ۔ آپ کی قلمی رائے اہل علم میں ایک علیحدہ شناخت کی حامل ہے ۔ آپ مکالمے کے داعی ہیں اور اختلاف رائے کو تمام مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم سمجھتے ہیں ۔ ریاست پاکستان کے مقاصد کی تشریح کے لئے مذہب اور سیکولرازم کی بحث پر آپ کا مضمون سنجیدہ سماجی مکالے کی جانب ایک اہم قدم ہے جسے نہ صرف پڑھنے بلکہ سمجھ کر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔(ازطرف مدیر)

مذہبی ریاست یا سیکولرزم کی بحث ہمارے ہاں کی بہت بنیادی اور اہم نظریاتی بحثوں میں سے ہے جس پر سنجیدہ گفتگو اور تجزیے کی ضرورت ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ابھی تک اس موضوع پر بامعنی اور نتیجہ خیز مکالمہ شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقی مکالمے کے آغاز کی شرط اولین اس نکتے کو تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے پاس اپنی بات کی قابل اعتنا فکری بنیادیں موجود ہیں جو مکالمے سے ایک دوسرے کو سمجھائی جا سکتی ہیں۔ اس بحث میں بھی دونوں فریقوں کے موقف کے کچھ پہلو اپنے داخلی میرٹ پر ایسے ہیں جن کا ابلاغ دوسرے فریق تک ہونا چاہیے اور جو مخالف موقف پر اثر انداز ہونے کی فکری صلاحیت بھی رکھتے ہیں، لیکن حقیقی مکالمہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پہلو خط تنصیف کے اس پار پہنچ ہی نہیں پا رہے۔
سیکولرزم کے حامی دانش وروں میں سے دو تین نام ہی لیے جا سکتے ہیں جو اپنا مقدمہ سنجیدہ فکری بنیاد پر پیش کرتے ہیں، معروضیت کے ساتھ مخالف نقطہ نظر کو اس کی اپنی بنیادوں پر سمجھتے ہیں اور ان کے طرز استدلال میں طبقاتی کشاکش، حریفانہ رد عمل اور منطقی مغالطوں کے اثرات بھی کافی کم دکھائی دیتے ہیں، مثلا ڈاکٹر مبارک علی، محمود مرزا، خالد احمد اور مبارک حیدر۔ (موخر الذکر کی کتاب تہذیبی نرگسیت کا مطالعہ، اختلاف کی پوری گنجائش کے باوجود اہل مذہب اور لبرلز، دونوں کو کرنا چاہیے۔) تاہم اخبارات میں اس مکتب کی عوامی نمائندگی کرنے والے زیادہ تر حضرات کو فکری انتہا پسندی اور اسلوب اظہار، دونوں کے لحاظ سے اپنے مکتب فکر کے ملا ہی قرار دیا جا سکتا ہے جن کے طرز استدلال اور ذہنی اپروچ کے باعث یہ بحث نتیجے کے اعتبار سے خود کلامی سے آگے نہیں بڑھ پاتی)۔ مکالمہ وہ ہوتا ہے جس میں بھلے طنز وتعریض ہو، لیکن استدلال کی جہت ایسی ہو کہ مخالف اس میں وزن محسوس کرے اور چاہے تسلیم نہ کرے، لیکن اس کے ہاں خاموش نظر ثانی کا عمل شروع ہو سکے۔
سنجیدہ مکالمہ شروع نہ ہو سکنے کی ایک بڑی وجہ اس بحث کو دیکھنے کا تناظر اور بحث کا بنیادی مفروضہ ہے جو اتفاق سے بحث کے دونوں فریقوں میں مشترک ہے۔ دونوں فریق بنیادی طور پر اس بحث کو تاریخی تناظر میں دیکھتے ہیں، یعنی یہ کہ نئی ریاست کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کرنے والی تاریخی شخصیات یا طبقات کا زاویہ نظر کیا تھا،جبکہ دونوں طرف مسلم مفروضہ یہ ہے کہ ان تاریخی شخصیات یا طبقات کے زاویہ نظر سے ریاست کی نظریاتی حیثیت کا مسئلہ طے شدہ اور مسلمہ تھا جس سے بعد میں انحراف کی راہیں اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے ریاستی کردار کے حوالے سے تقسیم سے پہلے ہی بہت واضح فکری تقسیم موجود تھی اور ہر فریق نئی ریاست میں اپنے تصورات کے رو بہ عمل ہونے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ تقسیم کے بعد، اس کشمکش میں مذہبی قوتوں کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی، لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ مخالف فکری قوتیں اور ان کے افکار عملا یا اصولا کالعدم ہو گئے ہیں، بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک ہمارے ہاں کے سب سے بڑے مذہبی سیاسی مفکر مولانا مودودی نے خود بھی کیا تھا اور اسلامی جدوجہد کے کارکنان کو بھی بڑے واضح طریقے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ مولانا نے لکھا کہ:
ہم جس ملک اور جس آبادی میں بھی ایک قائم شدہ نظام کو تبدیل کر کے دوسرا نظام قائم کرنے کی کوشش کریں گے، وہاں ایسا خلا ہم کو کبھی نہ ملے گا کہ ہم بس اطمینان سے براہ راست اپنے مقصود کی طرف بڑھتے چلے جائیں۔ لامحالہ اس ملک کی کوئی تاریخ ہوگی، اس آبادی کی مجموعی طور پر اور اس کے مختلف عناصر کی انفرادی طور پر کچھ روایات ہوں گی۔ کوئی ذہنی اور اخلاقی اور نفسیاتی فضا بھی وہاں موجود ہوگی۔ ہماری طرح کچھ دوسرے دماغ اور دست وپا بھی وہاں پائے جاتے ہوں گے جو کسی اور طرح سوچنے والے اور کسی اور راستے کی طرف اس ملک اور اس آبادی کو لے چلنے کی سعی کرنے والے ہوں گے ۔ ان حالات میں نہ تو اس امر کا کوئی امکان ہے کہ ہم کہیں اور سے پوری تیاری کر کے آئیں اور یکایک اس نظام کو بدل ڈالیں جو ملک کے ماضی اور حال میں اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے، نہ یہ ممکن ہے کہ اسی ماحول میں رہ کر کشمکش کیے بغیر کہیں الگ بیٹھے ہوئے اتنی تیاری کر لیں کہ میدان مقابلہ میں اترتے ہی سیدھے منزل مقصود پر پہنچ جائیں اور نہ اس بات ہی کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ ہم اس کشمکش میں سے گزرتے ہوئے کسی طرح براہ راست اپنے مقصود تک جا پہنچیں۔ ہمیں لامحالہ واقعات کی اس دنیا میں موافق عوامل سے مدد لیتے ہوئے اور مزاحم طاقتوں سے کشمکش کرتے ہوئے بتدریج اور بروقت اٹھا دینا ہوگا۔ (مولانا ابو الاعلی مودودی اور ان کا طریق فکر، مرتب: محمد ریاض درانی، جمعی پبلی کیشنز، لاہور، ، ص ، )
اسلامی ریاست کی جدوجہد کو تاریخی تناظر میں واضح کرتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا:
واقعات کی دنیا میں ہم جس صورت حال سے دوچار ہیں، وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مجالس قانون ساز کے قیام کی ابتدا انگریزوں کے دور حکومت میں ہوئی۔ اس نظام کو انھوں نے اپنے نظریات کے مطابق قومی، جمہوری، لادینی ریاست کے اصولوں پر قائم کیا۔ انھی اصولوں پر سالہا سال تک اس کا مسلسل ارتقا ہوتا رہا اور انھی اصولوں پر نہ صرف پوری ریاست کا نظام تعمیر ہوا، بلکہ نظام تعلیم نے ان کو پوری طرح اپنا لیا اور بحیثیت مجموعی سارے معاشرے نے ان کے ساتھ مطابقت پیدا کر لی۔ ان واقعات کی موجودگی میں جتنے کچھ ذرائع ہمارے (یعنی دینی نظام کے حامیوں کے)پاس تھے، ان کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کوئی آسان کام نہ تھا کہ کم از کم آئینی حیثیت سے اس عمارت کی اصل کافرانہ بنیاد (لادینیت) کو بدلوا کر اس کی جگہ وہ بنیاد رکھ دی گئی جس کی بنا پر آپ موجودہ دستور کو نیم دینی تسلیم کر رہے ہیں۔(ایضا، ص، )
ان میں سے دوسرے اقتباس کو بطور خاص دیکھیں تو واضح ہوگا کہ ایک قائم شدہ نظام سے انحراف، لادینی عناصر نے نہیں کیا، کیونکہ اس نظام کے ساتھ تو معاشرے کے سارے عناصر نے مطابقت پیدا کر لی تھی۔ اصل میں اس طرز سیاست میں تبدیلی لانے کی جدوجہد دینی عناصر کر رہے تھے جس میں انھیں سخت مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسی صورت میں اس اختلافی سیاسی بحث کو اس طرح دیکھنا جیسے مذہبی روایت میں مبتدعانہ افکار کو دیکھنا جاتا ہے، غیر حقیقی اور غیر واقعی انداز فکر ہے۔
اس انداز فکر کے زیر اثر بعض دفعہ مذہبی اہل دانش کی طرف سے اس طرح کے بیانات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ریاست کی نظریاتی حیثیت پر کسی کو سوال اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ایک بنیادی اور اساسی معاملہ ہے جو طے شدہ ہے اور ایسے امور کو چھیڑنے کی اجازت کوئی ریاست یا معاشرہ نہیں دیتا۔ یہ بات ایک تو اس لحاظ سے درست نہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہاں اسلامی یا سیکولر ریاست کی بحث پہلے دن سے موجود ہے اور آئینی طور پر فیصلہ ہو جانے کے باوجود نظری طور پر اب تک یہ بحث جاری ہے اور نظری بحث کے علاوہ آئین کی تعبیر کے حوالے سے اعلی عدالتوں میں یہ بحث موجود ہے کہ کیا شریعت کی بالادستی کی ضمانت دینے والی شقیں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں یا ان کی حیثیت آئین کی دوسری شقوں کے برابر ہے، یعنی تضاد کی صورت میں شریعت کو بالادست حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
دوسرے یہ کہ کسی بھی اجتماعی فیصلے کی قوت اسی میں مضمر ہوتی ہے کہ اس کی فکری ونظریاتی اساسات کا وزن لوگوں پر واضح رہے اور اس حوالے سے سوالات یا شبہات اٹھ رہے ہوں تو ان کا نظریاتی دلائل کے ساتھ ہی ازالہ کیا جائے۔ جو فیصلہ کیا گیا، اگر وہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہے تو سوالات سے نہیں گھبرانا چاہیے، بلکہ سوالات کو روکنے کی کوشش کرنا بسا اوقات منفی نتائج کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جو سوالات واقعتا ذہنوں میں موجود ہوں، انھیں کسی طرح کے قانونی یا معاشرتی دباو سے زیادہ دیر تک دبائے رکھنا ممکن بھی نہیں ہوتا اور ایسا کرنا حکمت اور دانش کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ فیصلے کا دفاع کھلے بحث ومباحثہ میں اس کے اپنے میرٹ کی روشنی میں کیا جائے اور سوالات کی کمزوری کو دلیل ہی کے میدان میں واضح کیا جائے۔
اب دوسری طرف ایک نظر ڈالیے:
لبرل حلقے کی طرف سے سیکولرزم کے حق میں مضبوط ترین دلیل قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر ہے جو بحث کے تاریخی تناظر کو فیصلہ کن سمجھنے کے ذہنی رویے کا اظہار ہے۔ تاہم لبرل مکتبہ فکر کو اس استدلال کی کمزوریوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مثلا قائد اعظم گیارہ اگست کو دستور ساز اسمبلی کے سامنے اپنی تقریر میں جو کچھ کہہ رہے تھے (اس کی جو بھی تعبیر کی جائے، سردست اس سے بحث نہیں)، اس کی حیثیت راہ نما مشورے یا تجویز کی تھی یا دستور ساز اسمبلی کو ڈکٹیشن کی؟ اگر وہ ڈکٹیشن دے رہے تھے تو اپنے دائرہ اختیار سے صریحا تجاوز فرما رہے تھے جو انھیں زیب نہیں دیتا تھا۔ اور اگر ان کے ارشادات کی حیثیت راہ نما مشورے کی تھی تو انھوں نے دیانت داری سے جو مشورہ بہتر سمجھا، دے دیا، لیکن دستور ساز ادارے نے بصد احترام اسے قبول نہیں کیا۔ خود قائد اعظم نے تحریک پاکستان کے دوران میں دستور پاکستان کی نوعیت اور نظریاتی نہج کے حوالے سے بنیادی ذمہ داری دستور ساز اسمبلی کی بیان کی تھی۔ یہ بات دراصل تحریک کے دوران میں نہیں، بلکہ پاکستان بن جانے کے بعد اور گیارہ اگست کی تقریر کے بھی بعد فروری میں امریکی عوام کے نام جاری کردہ ایک ریڈیو پیغام میں کہی گئی تھی اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بانی پاکستان اپنا کوئی نظریہ اسمبلی پر مسلط نہیں کر رہے تھے۔ انھوں نے فرمایا:
پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی دستور بنانا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ اس کی حتمی شکل وصورت کیا ہوگی۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری قسم کا ہوگا جسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔ اسلام کے اصول آج بھی عملی زندگی پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوتے تھے۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے۔ ہم ان شان دار روایات کے امین اور وارث ہیں اور دستور سازی میں انھی سے راہنمائی حاصل کی جائے گی۔ بہرحال پاکستان ایک تھیو کریٹ (مذہبی) ریاست نہیں ہوگی اور یہاں تمام اقلیتوں، ہندو، عیسائی، پارسی کو بحیثیت شہری وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے شہریوں کو حاصل ہوں گے۔
اقتباس سے واضح ہے کہ جناح صاحب کے ذہن میں کسی لا مذہبی یعنی سیکولر ریاست کا تصور نہیں، البتہ وہ مذہبی ریاست کے اس تصور کو قطعا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں شہریت دراصل کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کی ہوتی ہے، جبکہ مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا اور مساوی سیاسی حقوق کا حق دار نہیں سمجھا جاتا۔
اسی نوعیت کا ایک اور اعتراض یہ ہے کہ تحریک پاکستان میں شامل مذہبی طبقے سیاسی طور پر تو قائد اعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کے قائل تھے، لیکن نئی ریاست کیسی ہونی چاہیے، اس کے متعلق قائد اعظم کے وژن کو قبول نہیں کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ آخر کس اصول کی رو سے اعتراض بنتا ہے؟ یہ سامنے کی بات ہے کہ تحریک پاکستان میں شامل مختلف طبقوں کے اپنے اپنے تصورات اور مقاصد تھے۔ تحریک میں شرکت صرف اس نکتے کے حوالے سے تھی کہ مسلمانوں کا ایک الگ ملک ہونا چاہیے۔ اگر اس سے یہ لازم آتا ہے کہ قیام وطن کے بعد کے اہداف میں بھی سب کا اتفاق ہونا چاہیے تو یہی اعتراض پلٹ کر خود قائد اعظم پر بھی وارد ہوتا ہے۔ کیا انھیں نہیں معلوم تھا کہ مذہبی علما ومشائخ کس جذبے اور تصور کے تحت تحریک کا حصہ بنے ہیں؟ پھر بھی انھوں نے مشترک مقصد کے حصول کے لیے انھیں ساتھ رکھا اور ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا۔ بعض تجزیہ نگار ان کی اس حکمت عملی کی یہ تعبیر بھی کرتے ہیں کہ انھوں نے حصول مقصد سے پہلے اپنی پوزیشن گول مول رکھی۔ علما کے سامنے ان کی پسند کی باتیں کیں اور دوسری جگہوں پر اپنی پسند کی، لیکن ملک بن جانے کے بعد اپنا اصل تصور گیارہ اگست کی تقریر میں واضح کر دیا۔ اگر جناح صاحب کے طرز سیاست کی یہ تعبیر درست ہے تو اخلاقی لحاظ سے قائد اعظم کی حیثیت مذہبی طبقے سے بہتر نہیں، بلکہ کم تر ہی بنتی ہے، کیونکہ علما تو شروع سے آخر تک اپنے موقف میں واضح تھے اور قیام وطن کے بعد بھی انھوں نے وہی بات کہی جو پہلے سے کہتے چلے آ رہے تھے۔
انھی وجوہ سے ڈاکٹر مبارک علی نے ایک انٹرویو میں قائد اعظم کے زاویہ نظر پر ارتکاز کرنے والیاس رائج اور مقبول استدلال کی کمزوری تسلیم کی اور کہا کہ ہمیں سیکولر ریاست کے آپشن پر خود اس تصور ریاست کی افادیت نیز اپنے سابقہ تجربات کے حوالے سے غور کرنا چاہیے۔
بحث کے تاریخی پہلووں پر ارتکاز کے علاوہ فریقین کے انداز استدلال میں argumentum ad hominem بھی ایک غالب عنصر کی حیثیت سے موجود رہا ہے جو منطقی مغالطے کی ایک صورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نفس دلیل کی کمزوری پر بات کرنے کے بجائے، دلیل یا موقف پیش کرنے والے کی نیت اور کردار وغیرہ کی خرابی نمایاں کی جائے اور اس سے یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ چونکہ کہنے والا ایسا اور ایسا ہے، اس لیے اس کی بات غلط ہے۔
مذہبی اور سیاسی اختلاف رائے میں اس مغالطے کا استعمال ہمارے ہاں ایک معمول کی بات رہی ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر قوم پرستوں اور مسلم لیگیوں نے ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر اس طرز استدلال کے نمونے پیش کیے۔ مسلم لیگیوں نے جمعی علما ہند اور کانگریس کے زعما کی کردار کشی اور تحقیر وتوہین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جمعی علما کے حضرات نے یہی سلوک مسلم لیگی قیادت کے ساتھ کیا۔ پاکستان بن جانے کے بعد یہاں اہل مذہب اور لبرلز کی کشمکش شروع ہو گئی اور مذکورہ طرز استدلال نے اس بحث میں بھی نمایاں جگہ پائی۔ مثلا بالکل ابتدائی دور میں ہی جن مذہبی شخصیات (مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا مودودی وغیرہ) نے سیکولر ریاست کے مقدمے کے خلاف آئینی جنگ جیتنے میں بنیادی کردار ادا کیا، وہ آج تک لبرلز کی نظر میں ناقابل معافی اور مطعون ہیں اور ان کی شخصیات یا جدوجہد کے مختلف پہلووں کو ہدف بنا کر یہ ثابت کیا جا تا ہے کہ چونکہ قرارداد مقاصد ان حضرات نے پیش کی تھی، اس لیے وہ غلط تھی۔ اتفاق سے مسلم لیگی قیادت، خاص طور پر حضرت جناح کے متعلق یہی طرز استدلال ان کے قوم پرست مخالفین اختیار کیا کرتے تھے۔ یہ سارا مواد تاریخ میں محفوظ ہے اور اب بعض اہل قلم نے اس ضمن میں جرات رندانہ کا اظہار بھی شروع کر دیا ہے۔
ان گزارشات کا حاصل یہ ہے کہ سیکولر ریاست کے مویدین اور مذہبی ریاست کے حامیوں، دونوں کو اپنے بیانیے کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ جیسے سیکولرسٹ اسی پرانے بیانیے کو نئی بوتل میں پیش کر کے نئی نسل کو زیادہ متاثر نہیں کر سکتے، اسی طرح مذہبی بیانیہ بھی اپنے مقدمات اور استدلال کو ازسرنو مرتب کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سابقہ بیانیے سے تاریخی طور پر کلی انقطاع ظاہر ہے کہ ممکن نہیں، لیکن بحث کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے ایک مرحلے کے ساتھ مقید بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ تحریک پاکستان کے مختلف کرداروں کا تصور اور عملی کردار کیا تھا، اس سوال کو بتدریج بحث کے تاریخی گوشے تک محدود کر دینا ضروری ہے۔ آج کی نسل کو، سوالات کو ان کے اپنے میرٹ پر ڈسکس کرنے کی جرات کرنی ہوگی۔ دونوں طرف کے نوجوان ذہنوں کو بات اس سے آگے بڑھانی چاہیے جہاں تک ان کے بڑوں نے پہنچائی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...