ہر مسئلے پر قدیم مذہبی سند کی ضرورت کیوں ہے؟

339

علامہ ثاقب اکبر ایک درد مند مذہبی رہنما اور مفکر ہیں ۔بحیثیت مذہبی عالم انہیں اپنے عقیدت مندوں سے مختلف موضوعات پر سوالات موصو ل ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنے فہم دین پر جواب سے نوازتے ہیں ۔ دینی موضوعات پر آپ کی گہری نگاہ اور موجودہ سماجی مسائل کے حل میں شرعی اصولوں کا ملحوظِ خاطر رکھنا آپ کا کمال ہے۔جدید دنیا کے مسائل کا حل مذہب میں تلاش کرنا بلاشبہ ایک مشکل امر ہے ۔ اکیسویں صدی کے سائنسی دور میں اسوہ حسنہﷺ پر کاربند کیسے رہا جائے ۔ جدید سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے سنت نبویؓ کی پیروی کیسے ہو۔ جدید دور کی رسومات پر عمل کریں تو کیا بدعت قرار پائے گا وغیر ہ جیسے مراحل درج ذیل مضمون کا موضوع ہیں جنہیں ان کا قلم ہی رقم کرسکتا تھا ۔ (ازطرف مدیر)

ہمارے ہاں یہ رویہ بن گیا ہے کہ ہر مسئلے پر قدیم مذہبی سند دریافت کی جاتی ہے۔ کیا واقعی ہر مسئلے پر ایسی سند کی ضرورت ہوتی ہے اور کیا واقعی انسانی معاشرے کی متنوع پیش رفت کے باوجود دور ماضی سے ایسی قابل اعتماد اسناد مل بھی سکتی ہیں؟ اگر ہم خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں دیکھیں تو کیا آپ ﷺنے ہر مسئلے پر مذہبی روایت اور سند کی بنیاد پر ہر کام کیا ہے یا نہیں۔
یہ سوال ہمیں اس امر کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ سماجی مسائل کے حوالے سے پیغمبر اکرمﷺ کی سنت اور سیرت کیا ہے۔ کیا آپ نے ہر قدیم روایت کو دھتکار دیا اور ہر معاملے میں نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ اگر آپ نے کسی قدیم روایت کو باقی رکھا تو کیا اس کے لیے آپ کے سامنے آسمانی سند تھی یا عقل و فطرت کو ہی کافی سمجھا اور دین کے آفاقی افکار و نظریات کی روشنی میں معاملات کو دیکھا اور اپنے دور کے حالات اور تقاضوں کے مطابق سماجی مسائل کے بارے میں ایک طرز عمل اختیار کیا یاآپ نے صحابہ کرام کی تربیت اس نہج پر کی تھی کہ وہ کوئی کام کسی مذہبی سند کے بغیر انجام نہ دیں؟ سیرت درحقیقت روش عمل کو کہتے ہیں۔ روش عمل کی تلاش ہمیں آخر کار کسی اصول تک پہنچاتی ہے۔ واقعات کے بارے میں کسی کا طرز عمل اس کے کلی نظریے اور فکر کی بنیاد پر جنم لیتا ہے۔ اسی میں سے ہم نے سنت کو تلاش کرنا ہے۔ ایسی تلاش پھر ہمیں اصولوں تک پہنچائے گی اور زندگی کے تمام امور پھر ہم اصولوں ہی کی بنیاد پر طے کریں گے۔ ہمارامطالعہ ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے معاشرے میں جاری امور میں سے صرف ایسے امور کی نفی کی یا ان کی جزوی اصلاح کی جو آپ کی تعلیمات کے منافی تھے باقی امور کو ان کے حال پر رہنے دیا۔
گذشتہ دنوں ہمارے ایک دوست نے سالگرہ کی کسی تقریب میں اپنی شرکت کی مناسبت سے تصاویرکو سوشل میڈیا کے حوالے کردیا، اس میں کیک بھی موجود تھا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹنا سنت ہے یا بدعت ؟
یہ سوال دراصل اسی رویے کا مظہر ہے جس کے مطابق ہمارے ہاں کا ایک بڑا طبقہ ہر معاملے میں قدیم مذہبی سند کو تلاش کرتا ہے یا دریافت کرتا ہے، یا مولوی صاحبان کی طرف رجوع کرتا ہے اور ان سے سند طلب کرتا ہے۔
سالگرہ منانا، اس موقع پر چراغاں کرنا، غبارے ٹانکنا اور کیک کاٹنا ان سب چیزوں کو ہم کیونکر ماضی میں تلاش کر سکتے ہیں۔ ہم ماضی سے جس روز کمپیوٹر، کار، ہوائی جہاز، موبائل فون اور خلائی راکٹ ڈھونڈ لائیں گے، اس روز کیک بھی ہمیں مل جائے گا۔ ورنہ کیک سمیت سائنسی ترقی کے تمام مظاہر بدعت قرار پا جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسے امور کے لیے مذہبی سند کو تلاش کرنا پہلی بدعت ہے۔ کیوں کہ جن امور پر دین نے کوئی قدغن نہیں لگائی ان کے لیے دینی سند تلاش کرکے ان کو دینی اور مذہبی لباس پہنانا بذات خود بدعت ہے۔ شاید یہ بدعت کسی بھی اور بدعت سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ بدعتی طرز عمل پر مشتمل طریق کار انسان کو سنت تک نہیں پہنچا سکتا۔
اگر لباس وہی رکھنا ہے جو پیغمبر اکرم ﷺکے زمانے میں تھا اور کھانے کا طریقہ بھی وہی رکھنا ہے جو پیغمبراکرمﷺ کے زمانے کا تھا، تو پھر سواری بھی وہی رکھیں جو پیغمبر اکرمﷺ کے زمانے کی تھی، گھر بھی ویسا ہی رکھیں، زبان بھی وہی بولیں جو پیغمبر اکرمﷺکے زمانے کی تھی۔ راستے بھی ویسے ہی رہنے دیں جیسے پیغمبراکرمﷺؓ کے زمانے کے تھے، اسلحہ بھی ویسا ہی تیار کریں جیسا پیغمبراکرم ﷺؓ استعمال کرتے تھے۔ ہر چیز بدل گئی ان میں سے کسی چیز کو اب بدعت نہیں سمجھا جاتا تو پھر تمام امور کے لیے آپ کو ایک جیسے اصول کی بنیاد پرفیصلہ کرنا پڑے گا۔
تہذیبیں اور ان کے مظاہر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ کون سی چیز وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے اور کون سی نہیں بدلتی۔ کس چیز کو بدلنا چاہیے اور کس چیز کو نہیں بدلنا چاہیے۔
ہمارے ہاں علما یہ کہتے رہے ہیں کہ تمام انبیا کا دین ایک تھا۔ انبیا کے بدلنے سے دین نہیں بدلا البتہ شریعتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ ہمیں اس مسئلے کو سمجھنا ہے کہ کون سی چیز نہیں بدلتی رہیں اور کون سی چیزیں بدل گئی ہیں اور کس چیز کے بدلنے سے دین نہیں بدلتا۔
کائنات کی معرفت کے بنیادی اصول، ایمان بالغیب، توحید، انسان کی کرامت نفس، انسان کا فاعل مختار ہونا، معاد اور پھر عقل و خرد اور آزادی کے پیمانے پرانسان کی مسلیت یہ وہ باتیں ہیں جو نہیں بدل سکتیں۔ انھیں آپ انبیا کے پیش کردہ عقائد کی بنیادقرار دے سکتے ہیں۔ اسی طرح سے اخلاقیات، اس کے بنیادی مظاہر اور انسانوں کے باہمی حقوق کا احترام۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو انبیا کی مشترکہ میراث ہیں۔
قرآن حکیم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک عمومی اصطلاح استعمال کی ہے۔ خیر و شر کا تصور انسان کی فطرت سے پھوٹتا ہے اور انسانی سوسائٹی کی حفاظت اسی تصور کی قانونی اور عملی شکل میں پنہاں ہے لیکن قانون کی روح یہ ہے کہ وہ سب کے لیے مساوی ہو اور سب پر مساوی حیثیت سے نافذ بھی ہو۔ قانون میں البتہ حسب ضرورت تبدیلی کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
معروف انہی معتقدات اور سماجی اصولوں کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ عرف جس کوخیر کہے اس کی حفاظت کی جانا چاہیے۔ اسی طرح سے جو چیز انسانی سوسائٹی کے لیے ناگوار اور ضرر رساں ہو وہی منکر ہے، اس کی عملی شکل پر بحث موجود ہے اور اہل حل و عقد ہر دور میں اور ہر مقام پر اس کے لیے غوروفکر کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اصولین نے عرف اور مصلحت کو سماجی مسائل کے حل کے لیے اصول کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔
اصولوں سے تجاوز کر کے ہر مسئلے کے لیے ماضی کی مقدس سند کو تلاش کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے سے آہستہ آہستہ مذہب پیچھے ہٹتا چلا گیا۔ شدت پسندی مذہب کی پہچان بنتی چلی گئی۔ معاشرے کے اجتماعی ردعمل نے اسے محدود سے محدود تر کرنے کا کردار جاری رکھا۔ مغرب میں مسیحی قیادت کا تنزل اس کے لیے ایک چشم کشانمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔
مختلف انداز سے یہ آویزش اب بھی جاری ہے حالانکہ دین کی آفاقی تعلیمات انسان کی روح سے پھوٹتی ہیں ، انسان کے اجتماعی اور انفرادی تقاضوں کی تکمیل کرتی ہیں ، انسانی خرد کے سوالوں کا جواب دیتی ہیں اورفکر و نظر کو جامعیت کے ساتھ ارتقا کی طرف لے جاتی ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر شدت پسندی دونوں طرف سے ختم ہو جائے۔ آج مذہب کی طرف سے بھی شدت پسندی ہے اور اس کی مخالفت میں بھی شدت پسندی ہے۔
سائنس کا مادی قانون انسان کے فکری رویوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے، کہ عمل اور ردعمل برابر اور مخالف سمت میں ہوتے ہیں۔ آج دونوں طرف ردعمل ہی ردعمل دکھائی دیتا ہے لہذا شدت ہی شدت کا دور دورہ ہے۔ جو لوگ کائنات کی مادی تعبیر پر اصرا ر کرتے ہیں ان سے پہلے ان لوگوں کو اپنے طرز عمل اور فکری رویوں کا جائزہ لینا ہے جو کائنات کی روحانی تعبیر پر یقین رکھتے ہیں۔
ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہر بات کے لیے ماضی سے سند نہیں لائی جا سکتی کیونکہ ہر بات کسی پرانی اور کہنہ بات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتی۔ انسان نو آوری اور تجدد کے سہارے سے آگے بڑھتا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ ہر بات کے لیے ماضی سے کوئی مثال مل سکے۔ ماضی سے اصول مل سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ مثال بھی مل سکے۔ اصول اس لیے مل سکتا ہے کہ انسان کی فطرت پہلے دن سے ایک ہی ہے، وہی فطرت جو اللہ کی فطرت ہے اور تبدیل ہونے والی نہیں۔ فطرت کیا ہے اوراس کی حقیقت کیا ہے اس پر ایک الگ بحث کی ضرورت ہے جب کہ ہم یہاں پر فطرت کے اس مفہوم کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس کا قرآن حکیم میں ذکر ہے اور جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی فطرت وہ ہے جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور یہ وہ خلقت ہے جو تبدیل نہیں ہوتی کیونکہ یہ اللہ کی خلقت ہے، یہی مضبوط اور پائیدار دین ہے جو فطرت کے اصولوں پر استوار ہے لیکن انسانوں کی اکثریت جانتی نہیں جیسا کہ قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
فِطرت اللہِ التِی فطر الناس علیھا لا تبدِیل لِخلقِ اللہِ ذلِک الدِین القیِم و لکِن اکثر الناسِ لا یعلمون O
ترجمہ: اللہ ہی کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیداکیا ہے۔ اللہ کا نظامِ خلقت تبدیل نہیں ہوتا۔ یہی مستحکم دین ہے لیکن انسانوں کی اکثریت اس سے آگاہ نہیں ہے۔(سورۃ روم آیۃ ۳۰)
یہ وہ بات ہے جو انسانوں کی اکثریت آج بھی نہیں جانتی اور ان انسانوں میں بہت سے مذہبی انسان بھی ہیں جو دین کے فطری تصور سے ناآشنا ہیں۔ ماضی میں جب پیغمبراکرم ﷺسے سند نہیں ملتی تو سند کو ماضی سے ہی تلاش کرنے والا حقائق یا سانحات کی روشنی میں مقدس قرار پا جانے والے افراد کی باتوں کا سہارا لیتا ہے۔ لہذا فلاں بزرگ نے فرمایا، فلاں عالم نے فرمایا اور ہمارے اکابر کا یہ نظریہ ہے اور ہمارے بزرگوں نے یہ کہا ہے، کی بنیاد پر سندیں بناتا اور گھڑتا چلا جاتا ہے اور انسان کی فکری کاوشوں کو وہی درجہ دے دیتاہے جو اللہ کے اس پیغمبر کو حاصل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
وما ینطِق عنِ الہوی O اِِن ہو اِِلا وحی یوحی O
وہ اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتے وہ تو جو کچھ کہتے ہیں وہی ہوتا ہے جو ان پر وحی ہوتا ہے۔(سورۃ نجم، آیۃ نمبر۶۴؍۶۳)
کیا پیغمبراکرم ﷺکے علاوہ بھی کسی کے لیے یہ آیت اتری ہے؟ اگر نہیں اتری تو ہمارے اکابر کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، ان کی کہی ہوئی بات ان کا فہم ہے جس میں کمی بیشی کی گنجائش موجود ہے۔ جب کوئی سند ماضی سے نہیں ملتی تو ہر نئی بات کو بدعت کہنے والا مذہبی ذہن ہر نئی بات کو حرام کہنے لگتا ہے اور نوجوان نسل کو ہر نئی چیز سے منع کرتا ہے اور روکتا ہے۔
استاد مطہری نے ایک مقام پر کہا ہے کہ کسی مولوی کو جب نوجوان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ مسٹر بریک(Mr. Break) ہے۔ یعنی ہر بات سے روکتا ہے اور ہر کام پربریک لگانے کا حکم دیتا ہے۔ آج کا نوجوان پھر ایسے لوگوں کی تلاش کرتا ہے جو یہ کہتے ہوں:
دنیا بھی اک بہشت ہے اللہ رے کرم
کن نعمتوں کو حکم دیا ہے جواز کا
سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اگر ہر بات کو ماضی سے جوڑنا ہے تو پھر عقل کس چیز کے لیے ہے۔ اگر زندگی کے تمام امور نوجوان نسل نے مسٹر بریک کے حوالے کرنا ہیں تو ہر شخص اپنی عقل کو کسی ڈبے میں بند کرکے غیروں کو دے دے۔
پہلے ہی ہمارے حکمرانوں اور جن کے ہاتھ میں ہمارے معاشروں کی باگ ڈور ہے انھوں نے کچھ ایسا ہی کر رکھا ہے۔ وہ اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کے بجائے اغیار کی طرف دیکھتے ہیں اور ان کی چشم و ابرو کے اشارے پر سارے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے کا کام ہم نے دوسروں کے سپرد کر رکھا ہے۔ اسی لیے ایک طبقے کے لیے ایک لطیفہ بنا ہے جو ہمارے ایسے تمام طبقوں پر فٹ آتا ہے کہ کسی نمائش میں مختلف طرح کے دماغ رکھے گئے تھے، بعض دماغ ساٹھ فیصد استعمال ہوئے تھے، بعض پچاس فیصد اور بعض بالکل استعمال نہیں ہوئے تھے، وہ دماغ سب سے مہنگے بک گئے جو بالکل استعمال نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ان ٹچ(Untouched) ہیں۔
اس بحث میں ایک اور وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض چیزوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ تشبہ بالکفار یعنی کافروں کے طرز عمل سے مشابہ ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر کام کافرانہ ہے تو پھر نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر کام کافرانہ نہیں ہے تو پھر اس میں کوئی قباحت نہیں۔ آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایک کافر کا کام بحیثیت کافر ہے یا بحیثیت انسان۔ بحیثیت کافر ہے تو کافرانہ ہے، اگر بحیثیت انسان ہے تو پھر اللہ تعالی نے عقل و فطرت کسی ایک طبقے کے لیے نہیں رکھی، یہ خزانے اس کے پاس فراواں ہیں اور انھیں بانٹنے کے لیے اس نے کسی تنگ دل اور کم ظرف سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔
کافر جو چیزیں استعمال کرتے ہیں اور جو بناتے ہیں ان میں سے بہت ساری ہم سارا دن استعمال کر رہے ہوتے ہیں، ان کی بنائی ہوئی چیزیں ہم کھا رہے ہوتے ہیں، پہن رہے ہوتے ہیں اور چلا رہے ہوتے ہیں۔ غیر مسلموں کی ایجادات ہم استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ موبائل فون کافروں نے بنایا ہے، ہوائی جہاز انہی نے بنایاہے، ریڈیو، ٹی وی اور کمپیوٹر انہی کی ایجاد ہے، لہذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان سب کا استعمال تشبہ بالکفار کی زد میں آتا ہے یا نہیں۔
ہمارے ہاں تو بہت سے مولوی صاحبان نے لاڈ سپیکر کی ایجاد پر اسے کافروں کی ایجاد قرار دیا اور اس کے استعمال کو حرام جانا۔ خاص طور پر اذان، نماز اور جمعہ کے خطبے کے لیے اسے حرام قرار دیا۔ آج اس کے بے ہنگم استعمال نے خلق خدا کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی چیز اسلام کے خلاف ہے، اسلامی اقدار کے خلاف ہے اور انسانیت کے لیے نقصان دہ ہے تو پھر اسے استعمال نہ کریں لیکن اگر ایک ایسی انسانی ایجاد ہے اور بشری دریافت ہے یا تخلیق ہے جو انسان کے مفاد میں ہے تو پھر اسے استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے۔
ہمیں اصولوں تک پہنچنا ہے اور اصولوں کو پھر اپنی مرضی کے امور پر لاگو نہیں کرنا بلکہ تمام امور پر لاگو کرنا ہے۔ انسانی علوم، فزیکل سائنسز اور نیچرل سائنسز میں مغرب نے بے پناہ ترقی کی ہے اور ہم سب ان کی ایجادات سے استفادہ کررہے ہیں۔ کیا ان کے استعمال کے لیے ماضی سے کوئی مقدس سند مل سکتی ہے؟ اس مسئلے کو اب ہمیں ہمیشہ کے لیے حل کرنا چاہیے تاکہ ہمارا معاشرہ آگے بڑھ سکے، ہماری سوسائٹی زوال سے نکل سکے۔
ہماری بڑی مشکل یہ ہے کہ ایسے رویے سے نقصان خود مسلمان معاشروں کو ہوا ہے اور خود ہمارے علما کو ہوا ہے یعنی وہ علما جو ان چیزوں کی ممانعت کرتے ہیں اور اس کے لیے کوئی انسانی قانع کنندہ دلیل پیش نہیں کرتے نوجوان نسل ان سے دور ہوتی چلی جاتی ہے، ان کا کردار معاشرے میں کم سے کم ہوتا چلا جارہا ہے، ان کی توقیراور احترام گھٹتا چلا جا رہا ہے۔ اگر اس طرز عمل کو معاشرہ قبول کر لے تو پھر یہ معاشرہ بھی مزید پیچھے کی طرف چلا جائے گا۔ ہمیں تو اپنی نوجوان نسل کو یہ جذبہ دینا چاہیے کہ ایک چیز مغرب نے بنائی ہے تو ایک چیز ہم بھی بنا کر اسے دکھائیں۔
اگر آپ اس طرح کی فکر اور جذبہ قوم کے اندر پھونک دیں تو پھر دیکھیں کہ وہ کیا معجزات کر کے دکھاتی ہے۔ اسی طرح ہم دیگر اقوام کی غلامی سے بھی آزاد ہوسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...