عدم برداشت ، اہم سماجی مسئلہ

193

رواداری ، برداشت اور تحمل اہم سماجی رویئے ہیں جو کسی معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی تہذیبی شعور اور ترقی کا پتہ دیتے ہیں ۔ پاکستان گزشتہ کچھ دہائیوں سے جن سماجی تبدیلیوں کے عمل سے گزرا ہے بدقسمتی سے ان میں سے زیادہ تر منفی تھیں جنہوں نے فرد اور سماج کی سطح پر رواداری اور برداشت جیسے عناصر کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ شروع میں عدم برداشت کے رویئے زیادہ تر مذہبی اورفرقہ ورانہ مباحث میں دیکھنے کو ملتے تھے جو گزشتہ کچھ عرصے سے بالخصوص سیاسی مناقشت اور قطب پذیری کی صورت میں بھی ظاہر ہورہے ہیں۔
اگرچہ رائے یا نظریہ کا اختلاف ایک فطری امر ہے انسانی تہذیب اور تعلیم و تربیت اس اختلاف کو نفرت اور تصادم کی بجائے تنوع اور خوشنما تکثیریت کا رنگ دیتی ہیں ۔ جو نہ صرف مثبت سماجی قدریں ہیں بلکہ معاشرتی ارتقا کا اہم ذریعہ بھی ہیں ۔ پاکستان میں لیکن یہ اور اس طرح کی دیگر قدریں جیسا کہ رواداری ،برداشت ،سماجی ہم آہنگی اور درگزر وغیرہ ، مذہبی و نظریاتی اور سیاسی انتہا پسندی کے ہاتھوں بری طرح متاثر ہورہی ہیں ۔ درحقیقت انتہا پسندانہ اور بے لچک رویئے عدم برداشت کی ہی ترقی یافتہ شکل ہیں جو اپنی آخری حد میں تشدد کی صورت ظہور پذیر ہوسکتے ہیں ۔ ایسے روئیوں کی بنیاد عموما کسی عقلی استدلال معقولیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی پسند و ناپسند اور تعصبات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ایسی غلط فہمیاں جنہیں ہم کبھی چیلنج نہیں کرتے وہ بھی ایسے انتہا پسندانہ اور عدم برداشت کے روئیوں کو ہوا دیتی ہیں ۔
عدم برداشت کاایک مظہر یہ بھی ہے کہ خود احتسابی کے بجائے ہم دوسروں کو ٹھیک کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔اگرچہ یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ دوسرے اپنے اعمال اوربرائیوں کے خود جوابدہ ہیں ، پھر بھی دوسروں کو ہم اس صورت ہی قبول کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے خیالات ، نظریات یا عقیدہ سے متفق ہو جائیں ۔یعنی ہمیں یہ خوف لاحق ہے کہ دوسروں کے خیالات و نظریات ہمارے خیالات و نظریات کی پراگندگی کا سبب بھی بن سکتے ہیں ۔
اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے خود ہمیں اپنے نظریات و عقائد میں راسخ ہونے کا کتنا یقین ہے۔
مسلکی و مذہبی عدم برداشت کے روئیوں نے پاکستانی سماج کو جن مسائل سے دوچار کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے ہی روئیے جو بتدریج سیاست ، میڈیا اور بالعموم افراد میں در آئے ہیں ، ہمیں کدھر لے کر جائیں گے ۔ اس سے پہلے کہ یہ تقسیم مزید گہری ہو، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانیوں کو مختلف خانوں میں بانٹنے والے محرکات اور اسباب کا ازالہ کیا جائے ۔ اس کے لئے ہمیں آئینِ پاکستان سے رجوع کرنا پڑے گا جو ہر پاکستانی کو برابری کی سطح پر شہریت اور شہری حقوق دیتا ہے اور مذہب ، فرقہ ، زبان ، نسل یا جغرافیائی تقسیم کی بنیاد پر کسی کو کسی سے ممتاز نہیں کرتا ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...