لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

295

آج علامہ اقبال کا یوم وفات ہے۔ اکثر سکولوں میں دن کا آغاز علامہ اقبال کی مقبول دعا سے ہوا ہوگا۔ علامہ نے اس  دعا میں اس تمنا کا اظہار کیا تھا  کہ جیسے شمع اندھیرے میں اجالا کردیتی ہے، ایسے ہی میری زندگی سے دنیا  بھر میں روشنی پھیل جائے۔  جیسے پھول چمن کی زینت بنتا ہے، اسی طرح میں وطن کی زینت بنوں۔ غریبوں کی حمایت اور کمزوروں سے محبت میری عادت بنے۔ دعا ہے کہ اللہ مجھے نیک راہ پر چلائے اور برائی سے بچائے۔

علامہ اقبال کی یہ دعا قبول ہوئی اوران کے فکر کی روشنی ساری دنیا میں پھیلی۔ ان کی تمنا بھی پوری ہوئی۔ اللہ تعالی نے اقبال کی غریبوں کی حمایت اور دردمندوں سے محبت کی خواہش کی تکمیل کے لئے مملکت خداداد پاکستان کی صورت ایک ملک عطا فرمایا۔

علامہ اقبال نے یہ نظم1902 میں لکھی،1924 میں بانگ درا میں شائع ہوئی۔ بانگ درا میں اس نظم  کے ساتھ ماخوذ  کے الفاظ درج ہیں۔  اس لیے کہ علامہ نے یہ دعا  برطانوی شاعرہ میٹلڈا بیتھم ایڈورڈز (1836۔ 1919) کی مندرجہ ذیل دعائیہ نظم سے متاثر ہو کرلکھی تھی۔

God make my life a little light,
Within the world to glow;
A little flame that burneth bright,
Wherever I may go.

God make my life a little flower,
That giveth joy to all,
Content to bloom in native bower,
Although its place be small.

God make my life a little song,
That comforteth the sad;
That helpeth others to be strong,
And makes the singer glad.

God make my life a little staff
Whereon the weak may rest,
That so what health and strength I have
May serve my neighbours best.

God make my life a little hymn
Of tenderness and praise;
Of faith – that never waxeth dim,
In all his wondrous ways.

اس برطانوی شاعرہ کا تعلق  مشرقی انگلستان میں سفوک کاونٹی میں دریائے اورویل کے کنارے آباد  اپسوچ کے قصبے سے ہے۔ اس کی 45 سے زیادہ تصانیف میں شاعری کے مجموعوں کے علاوہ متعدد  ناول اور سفر نامے شامل ہیں۔ یہ چارلس ڈکنز کی ہمعصر اور دوست تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انسان  پھر سے یہ سوچنے لگا تھا کہ وہ علم کی روشنی سے دنیا  بھرکا اندھیرا دور کر سکتا ہے۔ علامہ اقبال کے فلسفہ زندگی میں بنیادی فکر کا محور  بھی قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ انسان کی تخلیق ایک مقصد کی  تکمیل کے لئے ہوئی ہے۔ نیکی پھیلانے، غریبوں کی محتاجی  دور کرنےاور کمزوروں کے حقوق کی حمایت  کے لئے شمع کی طرح علم کی روشنی پھیلانا انسان کا کام ہے۔ دعا  اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کی ہمت اور اللہ سے اس فرض کی تکمیل میں توفیق مانگنے کا نام ہے۔ اقبال کے فلسفے میں دعا کو بنیادی  مقام حاصل ہے۔ دعا عزم کااظہار ہے، ذمہ داری کا اعتراف ہے ۔

ہم ہر سال نہایت فخرو امتنان سےعلامہ اقبال کا یوم ولادت مناتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ  ہم نے اس دعا کے نہ الفاظ میں ردو بدل کیا ہے نہ اس کے مفہوم میں۔ ہم اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ یہ دعا آج بھی دعا ہی ہے اور اقبال کی تمنا آج بھی تمنا ہی ہے۔  یہ دعا اب بھی  بچوں کے لب تک رہتی ہے۔ ہم علامہ اقبال کی اس دعا  کی ہر طرح سے سلامتی  کے قائل ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس میں کوئی لفظی یا فکری تبدیلی  آئے ۔ ہم  یہ ذمہ داری نبھانے میں اس  لیے کامیاب رہے ہیں کہ ہم نے دعا کے فلسفے اور روح کو ہمیشہ سامنے رکھا ہے۔

دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ دعا تو دعا ہے اس کی تکمیل اللہ کا کام ہے۔ بندے کا کام دعا ہے۔ اللہ کے کاموں میں دخل دینا الحاد کے مترادف ہے۔ بچے معصوم ہوتے ہیں۔ ان کی دعائیں، تمنائیں اور خواہشیں بھی معصوم ہوتی ہیں۔ ہم ہر صبح بچوں سے یہ دعا کرواتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالی بھی ان معصوموں کی دعاؤں کا برا نہیں مناتا۔ وہ معاف اور درگذر کرنے والا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں علامہ اقبال کی اس نظم کے سارے حوالے، سب استعارے بے معنی ہو تے جا رہے ہیں۔ بچے معصوم ہوتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں معصوم کے تصور کا تقدس ختم ہوتا جارہا ہے۔  اب تو معصوموں کے لبوں پر تمنا کی دعا بن کر آنے سے پہلے ہی ان کی زندگی کی شمع بجھا دی جاتی ہے کیونکہ  روشنی سے ہماری آنکھیں چندھیا نے لگی ہیں۔ ہم پھولوں کو چمن کی زینت نہیں سمجھتے۔”پھول توڑنا منع ہے” جیسے احکامات  ہماری غیرت کو للکارتے ہیں۔ ہم پھول توڑ کر انہیں سڑک پر پھینک ڈالتے ہیں۔  کلیوں کو پھول بننے سے پہلے مسل دیتے ہیں۔ بھلے زمانوں میں سلطانوں کو معصوم مانا جاتا تھا۔ انہیں اللہ کا سایہ  سمجھا جاتا تھا۔ ان کی تاحیات بادشاہی کی دعائیں کی جاتی تھیں۔ اب تو پانچ سال بھی پورے نہیں کرنے دیےجاتے۔  بے چارے  معصوم حکمرانوں کو عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔

ہم اس موقع پر اس غلط تاثر کی تردید  ضروری سمجھتے ہیں  اورپورے شرح صدر سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے علامہ اقبال کی اس دعا کے سارے حوالوں اور استعاروں کا بھرم رکھا ہے ۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ  دنیا میں جس کے پاس اختیار آجائے اسے بھی  دعا کے نظریے کی پاسداری کرنا چاہیے۔ شمع اور پھول بننے کی معصوم تمناوں  کو دل پر نہ لگائیں۔ ان کی تکمیل کی ذمہ داری خدا نے  اٹھائی ہے۔  یہ کام انسان کے بس میں نہیں۔

آج کل مشکل یہ آن پڑی ہے کہ بعض سر پھرے ان مقدس دعاوں کو عملی جامہ پہنانا  انسان کی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ   یہ کام  ریاست کے اختیار میں ہے نہ حکومت کے اختیار میں۔ نہ یہ سیاستدانوں کا فرض ہے نہ فوج کی ذمہ داری ہے۔ سرپھرے اس بات کو نہیں سمجھتے۔ ہم  واضح کرنا چاہتے ہیں کہ علامہ کی اس نظم کے تمام حوالوں کی پاسداری جاری ہے۔ مثلاً غریبوں کی حمایت کے حوالے سے بعض سر پھرے حکمرانوں کو اقتدار سے پہلے کی غربت کا طعنہ دیتے ہیں۔  ہم سمجھتے ہیں کہ حکمران غریبوں کی حمایت سے ہی اقتدار میں آتے ہیں۔  حکمران کسی بھی درجے میں ہوں اقتدار سنبھالتے ہی پہلے اپنی غربت دور کرتے ہیں تاکہ غریبوں کی غربت میں فرق نہ آئے اور انہیں  ہمیشہ غریبوں کی حمایت  حاصل رہے۔ اقتدار کتنا ہی طویل ہوغربت ختم نہیں ہوتی۔ تاہم غریبوں کی حمایت کا درد ہمیشہ دل میں رہتا ہے۔جو قارئین اس وسوسے کا شکار ہیں کہ اگر ہمیں اللہ پر بھروسہ ہے تو پھر الیکشن، جمہوریت، اور آئین کی تسبیح کیوں؟

انکی خدمت میں عرض ہے کہ یہ سب تذکرے دعائے معکوس ہیں۔  اکثر معکوس دعائیں جلد قبول ہو جاتی ہیں۔ اللہ دلوں کا حال جانتا ہے۔ بقول شاعر

 

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

آخر کو دشمنی ہے دعا کو اثر کے ساتھ

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...