امتیاز علی تاج اور انارکلی

اردو میں ڈرامہ نگاری کا روشن چراغ

1,938

امتیاز علی تاج کے ادبی کارناموں کی فہرست یوں تو خاصی طویل ہے لیکن ان کے تخلیق کردہ ڈرامے انارکلی کو بے پایاں شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ آپ کی پہچان کا بنیادی حوالہ بن گیا۔یہ ڈرامہ  اردو میں جدید کلاسیک کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔
انارکلی حقیقت ہے یا ایک فرضی کردار۔ اس حوالے سے مختلف تحقیقات موجود ہیں جو بعض صورتوں میں متضاد نتائج پیش کرتی ہیں۔ کچھ بھی ہو، اس کردار نے چار سو سالوں سے انسانی تخیل کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور لوگ اس کردار سے خصوصی نسبت اور محبت محسوس کرتے ہیں۔ اس کردار کے نام سے لاہور سمیت کئی شہروں میں بازار موجود ہیں جب کہ لاہور میں موجودہ سیکرٹریٹ کی عمارت میں ایک مقبرہ انارکلی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس موضوع پر بولی وڈ اور لولی وڈ میں متعدد فلمیں بھی تیار کی گئیں جن میں مغل اعظم کو لازوال شہرت حاصل ہوئی۔ ایک ڈرامہ بھی چند سال پیشتر پی ٹی وی نے اس موضوع پر نشر کیا تھا۔ حال ہی میں ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا ناول انارکلی کے نام سے شائع ہوا ہے جس میں اسی کردار کو کہانی کا موضوع بنایا گیا ہے۔

انارکلی مغل بادشاہ اکبر کے حرم میں شامل ایک خوبرو کنیز اور نہایت عمدہ رقاصہ اور شہنشاہ اکبر کی منظور نظر ہے۔ شہنشاہ اکبر کے بیٹے اور ولی عہد شہزادہ سلیم کی نظروں کی مرکز بھی انارکلی ہی بن جاتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان محبت کے اس تعلق کی خبر اکبر کو ہوجاتی ہے اور وہ غصے میں اس خوبصورت لڑکی کو دیوار میں زندہ چنوادینے کی سزا دیتا ہے۔اس کہانی میں شاہی محلوں میں ہمیشہ جاری رہنے والی نفرت، سازش اور اقتدار کی لالچ کی جنگ کے منظرنامے بھی موجود ہیں اور بادشاہوں کی خانگی پرتعیش زندگیوں کی تصویریں بھی۔ یہ وہ مقبول عام کہانی ہے جس سے آگاہی ہمیں اس کردار سے متعلق لکھے جانے والے امتیاز علی تاج کے ڈرامے انارکلی اور اسی موضوع پر بننے والی فلموں اور ڈراموں سے ہوتی ہے۔ لیکن مؤرخین کی بڑی تعداد اس کہانی سے ،جو چار سو سال سے عوام الناس میں بے حد مقبول ہے، غیر متفق ہیں۔

نور احمد چشتی لاہور اور پنجاب کی آثاریات کے حوالے سے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر نہایت اعتبار کے حامل عالم اور محقق مانے جاتے ہیں۔ ان کی کتاب “تحقیقات چشتیہ”  پنجاب اور لاہور کی تاریخ اور آثاریات کے ضمن میں بنیادی حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں  انارکلی کی کہانی کو صرف اس حد تک حقیقت مانا گیا ہے کہ وہ شہنشاہ اکبر کی حرم میں شامل ایک کنیز تھی جو کہ  غیر معمولی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ کی منظور نظر تھی۔دوسری کنیزوں اور ملکاؤں کی سازش سے اسے شہنشاہ کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا اور اسے زہر دے کر مار دیا گیا۔ کچھ ایسی ہی رائے سید محمد لطیف اور کنہیا لال  جیسے مؤرخین بھی اس حوالے سے پیش کرتے ہیں۔ لاہور کی سیکرٹریٹ کی موجودہ عمارت میں موجود مقبرہ کے بارے میں ان مؤرخین کا خیال ہے کہ یہاں شہنشاہ جہانگیر کی ایک بیوی صاحب جمال مدفون ہے۔ اس مقبرے کے گرداگرد ایک وسیع و عریض باغ تھا جس کا نام انارکلی باغ رکھا گیاتھا۔ اس طور پر اسے انارکلی کا مقبرہ کہا جانے لگا۔

انارکلی کی حقیقت چاہے کچھ بھی ہو، کیا اس سے اس کردار کی خوبصورتی اور کشش میں فرق پڑتا ہے۔ یہ محبت کے نام پر دی جانے والی قربانی کی کہانی ہے اورانسانی یادداشت میں ایک لازوال حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس کا انجام المیہ ہے ۔ محبت کی کہانیاں صدیوں کے سفر کے بعد بھی پرانی نہیں ہوتی ہیں بلکہ جوں جوں ان پر وقت گزرتاہے، ان کی چمک اور نکھار میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ انارکلی نے بھی وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں گھرکیا ہے۔ جب کہ ادب میں اسے امتیاز علی تاج نے اپنے ڈرامے انارکلی کے ذریعے امر کردیا۔ صرف یہی نہیں ہوا۔ اس ڈرامہ نے اپنی فنی پختگی اور عظمت کی بنیاد پر امتیاز علی تاج کو بھی اردو ادب میں لازوال حیثیت دے دی ہے۔

سید امتیاز علی تاج ایک ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد شمس العلما سید ممتاز علی اور والدہ محمدی بیگم صاحب اسلوب لکھاری  تھے۔ کتابوں کی اشاعت کا ادارہ دارالاشاعت پنجاب اور مقبول رسالہ تہذیب نسواں اسی خاندان سے منسوب ہے۔ یہ رسالہ پچاس برسوں تک پنجاب میں ادب کے فروغ کے لیے نہایت مؤثر کردار کرتا رہا جب کہ دارلاشاعت پنجاب نے سینکڑوں کتابیں شائع کیں۔اس دور میں تھیٹرکی مقبولیت کے پیش نظر نوجوان امتیاز علی تاج نے مغل دور سے منسوب انارکلی کی رومانی المیہ کہانی کو ڈرامہ کا روپ دیا۔ لیکن جیسا کہ وہ ڈرامہ کے دیباچے میں بیان کرتے ہیں کسی تھیٹر نے اسے قبول نہیں کیا۔ کیوں کہ اس میں وہ عناصر موجود نہیں تھے جوتھیٹرڈرامہ میں مقبول ہیں اور جو کسی بھی ڈرامے کی  مقبولیت کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ جیسے ،مزاحیہ مناظر، محبت کے گیت، اور منظوم مکالمے وغیرہ۔اسے تحریر کرنے کے دس برس بعد امتیاز علی تاج نے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا تو اسے فوری کامیابی حاصل ہوئی۔ کہانی سب کی جانی پہچانی تھی لیکن اس میں کرداروں کے باہمی تال میل اور اثرانگیز مکالموں اور مناظر سے ایسا تاثر پیدا کیا گیا کہ جس نے پڑھنے اور دیکھنے والوں کی توجہ کو باندھ لیا۔ اپنی اشاعت کے بعد بہت تھوڑے عرصے میں اس ڈرامے نے خاص و عام سے قبول عام کی سند حاصل کی۔ یوں اس ڈرامہ نے اردو میں ڈرامے کے کلاسیکی دور سے اگلی منزل کی طرف سفر کی خبر دی بلکہ اس منزل کی بنیادیں بھی استوار کیں اور آئندہ آنے والوں کے لیے رہنما اشارے بھی فراہم کیے۔ا

متیاز علی تاج نے اردو ڈرامے اور تھیٹر کو جدید روپ دیا اور اسے بہت سی پرانی آلائشات سے آزاد کیا۔ اردو میں آپ جدیدتھیٹر ڈرامے کے بانی مانے جاتے ہیں۔انارکلی کی مقبولیت نے قارئین اور ناقدین کو امتیاز علی تاج کے دیگر قابل قدر ادبی کارناموں سے صرف نظر پر مائل کیا۔ جیسے بچوں کے لیے ان کا کردار چچا چھکن اور اس کردار سے جڑی ہوئی کہانیاں اور مجلس ترقی ادب کے سربراہ کے طورپر ان کی ادبی خدمات۔ انھوں نے مجلس کے تحت قدیم ڈراموں کی ازسرنو اشاعت کے ذریعے اردو ڈرامے کی تاریخ کو محفوظ کرنے کا گراں قدر کارنامہ انجام دیا۔ انھوں نے متعدد اعلی تحریروں اور ڈراموں کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا۔
19اپریل 1970امتیاز علی تاج کو لاہور میں ان کے گھر میں قتل کردیا گیا۔ تب آپ کی عمر ستر برس تھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...