کسی اور زمانے کا خواب

269

سات اپریل ۲۰۱۸ کو جناب ظفراللہ خان کی تازہ کتاب”کسی اور زمانے کا خواب” (نیشنل بک فاونڈ یشن ۲۰۱۸) کی رونمائی کے بعد یہ بات کسی شک و شبہے کے بغیر کہی جاسکتی ہے کہ حقیقت پسند سیاست دان بھی خواب دیکھتے ہیں تاہم ان خوابوں کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سوتے میں دیکھے گئے ہیں۔ کسی اور زمانے کے خواب جاگتے لوگ ہی دیکھتے ہیں۔ خواب کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ خواب سوتے میں دیکھے جاتے ہیں لیکن جدید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انسان گہری نیند میں ہو توخواب نہیں آتے۔ خواب  دیکھنے کے لئے کسی درجہ بیداری درکار ہے۔ برصغیر میں لوگ گہری نیند سوتے رہتے ہیں اس لئے خواب نہیں دیکھتے۔ خوابوں کے قائل ہیں لیکن ایمان کی حد تک۔ دین اور خواب دونوں کومقدس سمجھا جاتا ہے۔ اسی میں عافیت ہے۔ اس لئے کہ ان کی تعبیر ہماری ذمہ داری نہیں رہتی۔ان کی تعبیر دوسروں کے سر ڈال کر خود نچنت گہری نیند سو سکتے ہیں۔

اقبال کو بھی شکایت رہی کہ حکمران چاہتے ہیں کہ لوگ گہری نیند سوئے رہیں۔ کبھی جاگتے ہیں تو سامری  کی طرح جادو کی چھڑی سے پھر سلا دیتے ہیں۔ آجکل سامری کی جادو کی چھڑی کا نام میڈیا ہے۔ جو شروع میں لوگوں کو صرف بارہ من کی دھوبن  اور دوسرے عجائبات دکھاتا تھا۔اب یہ خود دھوبی گھاٹ بن گیا ہے۔ جہاں فنکار دھوبی اورطرحدار دھوبنیں دن رات ہر قسم کی دھلائی کے خواب دکھا تے ہیں۔ لوگ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ یہ دھلائی جاگتی آنکھوں دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب سے۔ اب تو یہ حال ہے کہ حکمران بھی اپنے لئے ایسی ہی گہری نیند پسند کرتے ہیں۔ کوئی چٹکی بھر کر جگائے تو گلی گلی شورو غل مچا تے ہیں کہ مجھے نیند سے کیوں نکالا۔ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا خواب ابھی پورا نہیں ہوا۔ ابھی اس کی تعبیر باقی ہے۔

پہرا دینے والے رات بھرجاگتے ہیں لیکن انہیں بھی خود کو جگائے رکھنےکے لئے جاگتے رہو کی آواز لگانی پڑتی ہے۔ اسی لئے اہتمام کرتے ہیں کہ ان کے سوا کوئی اور لوگوں کو نہ جگائے۔ جو جسارت کرے وہ لاپتا اور لا مکان ہو جاتا ہے۔ پہرے دار نہ خود خواب دیکھتے ہیں نہ دوسروں کو اس کی اجازت دیتے ہیں۔ اقبال کو بھی کسی اور زما نے کا خواب دیکھنے کے لئے اندلس جانا پڑا۔ جہاں دریا ئے وادی الکبیر کے کنارے انہوں نے یہ خواب دیکھا ۔ یہ خواب حقیقت بھی بن گیا لیکن اس کی تعبیر پر جھگڑا جاری ہے۔ رات دن سونے والےعافیت پسند جوکچھ نہ کرنے کے قائل ہیں، انہوں نے اس خواب کی تعبیر کا کام گردش زمانہ پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں کچھ نہ کچھ ہو رہے گا۔

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

ظفراللہ صاحب کےقلم کی نگاہ  سات آسمانوں کی گردش پر لیکن ان کی انگلی پاکستانی عوام کی نبض پر رہتی ہے۔ ۔ وہ خود نہیں گھبراتے لیکن دوسروں کو گھبراہٹ میں ڈالنا  اشد ضروری سجھتے ہیں۔ کتاب کے دیباچے سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ کتاب ۲۰۰۴ میں بھی اسی عنوان سے چھپی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب روس کی شکست فاش کے بعد پاکستانی پھر سے چین کی گہری نیند سو گئے تھے۔ اب مغربی تہذیب اپنے خنجر سے خود ہی خود کشی کرے گی۔ بس ایک دھکا اور درکار ہے۔اس وقت بھی عافیت پسندوں نے یہ کہا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں کچھ نہ کچھ ہو رہے گا۔ میثاق جمہوریت اور نظریہ مفاہمت  وغیرہ کے نام سے ساری پارٹیاں آنیاں جانیاں دکھاتی رہیں۔

اس کتاب کے پہلے ایڈیشن پر بھی عافیت پسنوں کو بہت گھبراہٹ  ہوئی تھی۔ اس گھبراہٹ کا کچھ کچھ اندازہ ۲۰۰۴ میں بعض تبصرہ نگاروں  کی ضمنی آرا سے ہوتا ہے ۔ایک عافیت پسند تبصرہ نگار کواس خواب میں کہیں کہیں تلخ بیانیاں نظرآئیں  تو انہوں نے یقین کا اظہار کیا تھا کہ قارئین اس تلخ نوائی کو معاف فرمائیں گے۔ ایک اور تبصرہ نگار کی رائے میں یہ لیکچر مصنف کی سیمابی عادتوں اور فطری جبلتوں کا شاہکار تھا ۔ اسی لئے  انہوں نے یہ تسلی دلانا ضروری سمجھا کہ مصنف راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔ غالباً صاحبان علم و فکر کی یہ گھبراہٹ ہی اس دوسری اشاعت کی مہمیز بنی۔ ظفراللہ صاحب کسی اورزمانے کا خواب دکھا کر ان عافیت پسندوں کی گھبراہٹ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ گھبراہٹ ہی حرکت اورعمل کا داعیہ پیدا کر سکتی ہے۔  ہم خان صاحب کی اسی حقیقت پسندی کی داد دینا چاہتے ہیں۔

کسی کتاب کے دوبارہ چھپنے کا سبب عموماً اس کی مانگ ہوتی ہے۔ ظفراللہ صاحب نے ۲۰۰۸ میں وے آؤٹ کے عنوان سے اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا تو یہ بھی امت مسلمہ کی نئی نسل میں بہت مقبول ہوا۔ ہمارے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ فاضل مصنف نے اردو میں اس کے لئے خواب اور انگریزی میں وے آؤٹ کا عنوان کیوں پسند کیا۔ ۲۰۱۵ میں احتیاطاً اسی مضمون کوانگریزی زبان میں نیو نیرے ٹو یا نیا بیانیہ کے عنوان سے شائع کیا۔ صرف اس لئے نہیں کہ ہمارے ہاں خواب کو وے آوٹ یا بیانیہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس لئے کہ اردو کے خواب اور انگریزی کے ڈریم میں بہت فرق ہے۔ انگریزی میں دوسرے عنوان اس لئے دئے کہ وہ نہیں چاہتے کہ اسے اردو کا خواب سمجھا جائے۔

دوسری اشاعت میں مزید شرح و بسط سے واضح کیا کہ یہ خواب مستقبل کے بارے میں سوچ کا نام ہے جو ماضی کو بوجھ  اور پاؤں کی زنجیر نہیں سمجھتی۔ ظفراللہ صاحب نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ اسلام میں زندگی جاگتے رہنے کا نام ہے اور  اسلام کی تعلیمات میں جینے کے دو اصول ہیں۔ اجتہاد اور جہاد۔ اجتہاد حرکت اور ترقی کا ااصول ہے ،اسے تقلید کی زنجیریں راس نہیں۔ جہاد دنیا میں امن و سلامتی کی دعوت اور اس کے لئےجدو جہد کا نام ہے۔ یہ خود کشی نہیں خودی کی بلندی کا پیغام دیتا ہے۔  یہ زندگی کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کا نام ہے، جہاد چیلنجوں سے منہ پھیر کے ماضی میں زندہ رہنے کا نام نہیں ۔ مسلمانوں کا ماضی سیاسی اور علمی چیلنجوں سے سرخرو ہونے کی جدوجہد کا نام ہے تو ان کا مستقبل اسی جدوجہد کے عزم کا اظہار۔ ہمیں اپنے ماضی اورحال پر ناقدانہ نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ یہ ناقدانہ تجزیہ ہی یہ واضح کرتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کے بنیادی اصولوں کی روح سے دوری کی وجہ سے ہم اجتہاد کو تقلید کی زنجیریں ڈال کر کیسے فرقہ پرستی، تکفیر کا شکار ہوئے اور جہاد کی غلط تعبیر سے کیسے خود کو ہی لہو لہان کر لیا۔ ماضی سے روشنی حاصل کرنے کی بجائے اسے تقدیس کا جزدان پہنا کر طاق کی زینت بنا دیا اور اس پر غور و فکر پر قدغن لگا کر اس کی روشنی سے دور ہوتے گئے۔

پاکستان میں لوگ فخرعلامہ اقبال کے شاہین اور شاہباز پر کرتے ہیں، لیکن متاثر گلہری سے رہتے ہیں جسے پنجاب میں کا ٹوکہتے ہیں ۔ پنجاب میں کاٹو کی کہانی بہت مقبول ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں سب جانور گلہری کی پھرتی اور ذخیرہ اندوزی سے بہت متاثر تھے۔ وہ ہر سال اپنا دانا دنکا گلہری کے پاس جمع کرا دیتے کہ اس کے پاس محفوظ رہے گا۔ سردیاں آتیں تو وہ گلہری کےپاس آتے کہ اپنا دانا دنکا واپس لیں۔ گلہری ہر مرتبہ بہانے بنا کر صاف بچ نکلتی۔ آخر تنگ آکر سب نے فیصلہ کیا کہ مل کر دھرنا دیں اور اپنا دانہ دنکا واپس مانگیں۔ گلہری نے انہیں دانہ دنکے کو محفوظ رکھنے کی مشکلات پر لیکچر دیا اور بتایا کہ اس کے لئے کتنی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے۔ اس نے جنگل میں دوڑ دوڑ کر کیسے راستے بنائے ہیں کہ کسی بھی درخت تک پہنچا جا سکے اور آسانی سے چڑھا جاسکے۔ اس نے کہا کہ میں صرف باتیں نہیں کرتی، میں نے یہ کرکے دکھایا ہے۔ ا س نے کہا مجھے دیکھتے رہو کیا کرتی ہوں۔ وہ تیزی سے دوڑتی ہوئی کبھی ایک درخت پر چڑھتی کبھی دوسرے پر۔ جب کافی دیر ہوگئی تو جانوروں نے کہا ہم اتنی دیر نہیں ٹھہر سکتے۔ ہمارا دانا دنکا دو۔ بچے بھوکے بیٹھے ہیں۔ گلہری غصے میں آگئی۔ تمہیں میری بھاگ دوڑ اور آنیاں جانیاں نظر نہیں آرہیں۔ اپنے دانے دنکے کی فکر ہے میری تگ و دو کا خیال نہیں۔

کہانی کار بتاتے ہیں کہ اس دن سے پنجاب کی بچیاں بڑے شوق سے گلہری کا کھیل کھیلتی ہیں جسے اتر کاٹو میں چڑھاں کہتے ہیں۔ ایک بچی دوسری کی کمر پر سوار ہو جاتی ہے۔ تو دوسری کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے کہ تم اترو اب میری باری ہے۔ لیکن سوار کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ نہ اترے۔ مختلف حیلے بہانے کرکے دوسری کو باری سے روکتی ہے۔ الیکشن قریب آرہے ہیں لوگ پھر سے دو دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ دوسروں کو  مردے از غیب کا انتظار ہے کہ بروں آید و کارے بکند۔ طفراللہ صاحب کہتے ہیں اگر سات آسمانوں کی گردش کے بھر وسے پر رہے تو کچھ نہ کچھ وہی کچھ ہوگا جو ستر سال سے ہوتا آرہا ہے۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ پردہ غیب سے قرعہ فال پھر کسی نقش فریادی کے نام نکل آیا تو!!

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...