پشتون تحفط موومنٹ

582

پچھلے پندرہ سال سے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی غیرمعمولی طوالت نے قبائل کے مضبوط ڈھانچے کو منہدم  کر کے  پولیٹکل سسٹم کو درھم برہم کر دیا ہے جو ڈیڑھ سو سال سے قبائل کی حیات اجتماعی کو ریگولیٹ کرتا رہا۔اسلئے حالات کا جبر جب  ان متحرک و فعال قبائل کو آئی ڈی پیز بنا کے بندوبستی علاقوں کی طرف کھینچ لایا تو یہاں کی متضاد سوسائٹی نے معاشی،سیاسی اور فکری تنوّع دیکر قبائلیوں کی نوجوان نسلوں کو زندگی کے ہمہ گیر شعور سے مربوط کر دیا اور یہی لذت خیال بلآخر اس  پشتون بہار کا سبب بنی جس نے ریاست کے دانتوں سے پسینا نکال دیا ہے۔اگر ہماری فورسز مختصر عرصہ میں کام مکمل کر کے فاٹا سے واپس پلٹ آتیں تو یہاں زندگی کے اجتماعی وجود میں اتنی گہری تبدیلیاں رونما نہ ہوتیں لیکن فورسز کا لمبا قیام دیگر قباحتوں کے علاوہ مقامی آبادی کے بنیادی انسانی حقوق کی تحدید اور سیاسی آزادیوں کو تہہ و بالا کرنے کا سبب بنا تو قبائلیوں کے سوچنے کے انداز بدل گئے۔حالات کے اسی تناظر میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹ لیڈر منظور پشتین نے دو سال قبل محسود تحفظ موومنٹ کی بنیاد رکھ کے جنگ زدہ قبائلی علاقوں میں اپنے قبیلہ کے انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کی بحالی کی بات کی جسے محدود دائرہ میں پذیرائی تو ملی لیکن جبر کے سائے کم نہ ہوئے،ادھر وقت کی سرکش لہروں نے سوشل میڈیا کے سرعت پذیر رابطوں کی تدوین کے ذریعے بہت جلد اس تحریک کو پشتون تحفظ موومنٹ کے لبادے پہناکر فاٹا کے علاوہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے پشتون علاقوں تک پھیلا دیا۔چنانچہ جب کراچی میں پولیس کے ہاتھوں مبینہ مقابلہ میں جاں بحق ہونے والے خوبرو نوجوان نقیب اللہ محسود کی موت کا ماتم اٹھا تو اس نے پشتون تحفظ موومنٹ کو قومی اور عالمی سطح پہ نمایاں ہونے کے مواقع دیکر پختون قوم پرستی کی سیاست کرنے والی روایتی جماعتوں کو بھی نوجوانوں کی اسی تحریک کی پشت پہ لا کھڑا کیا، یہی رجحان دراصل پشتون سیاست کا مرکز ثقل تبدیل کرنے کا سبب بنے گا۔

پختون تحفظ موومنٹ نے نقیب اللہ قتل کیس کے ملزم ایس ایس پی راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے گیارہ دنوں پہ محیط دھرنا دیکر قومی قیادت سے بھی اپنا لوہا منوا لیا،دھرناکے خاتمہ پہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے دوران پی ٹی ایم نے جو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اس میں رائو انوار کی  گرفتاری کے علاوہ قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کی صفائی،وطن کارڈ اور چیک پوسٹوں کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی جیسے مطالبات شامل تھے۔بعداز خرابیِ بسیارحکومت نے بیک جنبش قلم تمام مطالبات منظور کر کے معاملات کو سلجھانے کی طرف پیشقدمی کی۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے وطن کارڈ کے خاتمہ کا اعلان اور لینڈ مائینز کی صفائی کا حکم دیکر قبائیلی علاقوں میں قائم چیک پوسٹوں کے وجود کو علامتی بنا دیا (جس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں) وزیراعظم نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جسٹس جاوید اقبال کمیشن کو حکم دیکر تحقیقات شروع کرا دی ہیں لیکن اب راؤ انوار کی گرفتاری کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ نے 60 ہزار پشتونوں کے خون کا حساب مانگ لیاہےجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تحریک کے اہداف غیر واضح اور  مقاصد سیاسی ہیں۔بلاشبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد میں بیرونی قوتوں کیلئے کسی بھی ابھرتی ہوئی تحریک کو بلواسطہ مینیج کرنا بعیدازقیاس نہیں لیکن پشتون  نوجوانوں کی اس تحریک کے محرکات مقامی ہیں اور ان میں سے کچھ جائز بھی ہیں۔اس لیے ان شوریدہ سر نوجوانوں پہ غداری کا لیبل چسپاں کرنے کی بجائے انہیں زندگی کے اجتماعی دھارے سے کٹنے سے بچایا جائے۔

اگر ہم پشتونوں کے جغرافیائی سماج پہ نظر ڈالیں تو خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں بسنے والے پشتونو ں کی اکثریت آسودہ حال اور پرامن زندگی گزارنے کے علاوہ بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے بہرہ ور دیکھائی دیتی ہے،جنگ دہشتگردی سے متاثرہ فاٹا کے لاکھوں قبائلی بھی پوری آزادی کے ساتھ ملک کے طول و عرض میں اپنی کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے علاوہ سماجی وظائف کی بجاآوری میں مطلقاً آزاد ہیں،ہزاروں قبائلی فوج  اور عدلیہ سمیت ملک کے سرکاری اداروں میں اعلیٰ ترین مناصب پہ فائز ہونے کے علاوہ قومی دھارے کے میڈیا اور پارلیمنٹ میں موثر نمائندگی رکھتے ہیں،حکومت نے پچھلے ستّر سالوں میں فاٹا کے عوام کو سی ایس ایس،میڈیکل اور انجیئنرنگ کالجز میں داخلوں  کے کوٹہ کے علاوہ غیر معمولی معاشی مراعات کی فراہمی سمیت قبائلی علاقوں میں سڑکوں،ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قیام پہ اربوں ڈالرز خرچ  کیے ہیں ،اس لیے محرومیوں کا واویلا اور امتیازی سلوک کی پکار فریب سیاست کے سوا کچھ نہیں،اگر کسی نے محرومیوں  کی تلخیوں کو سمجھنا ہو تو اندرون سندھ اور بلوچستان کے بے آب و گیاہ میدانوں اور مہیب پہاڑوں میں جا کر دیکھیں،جہاں غربت، جہالت اور پسماندگی کا راج ہے اور جہاں فرسودہ جاگیرداریت اور سرداری نظام  تلے انسانیت ایڑیاں رگڑتی نظر آتی ہے۔بلوچستان میں کمزور لوگ اکبربگٹی اور خیر بخش مری کے گھر کی طرف رخ کر کے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور سندھ میں غریبوں  کی بیٹیوں کے مستقبل کے فیصلے وڈیرے کرتے ہیں۔شکر ہے فاٹا میں سماجی مساوات اور خوبصورت روایت سے مزین معاشرے کے علاوہ پرکشش مرعات کی بدولت عام آدمی بھی باعزت زندگی گزارنے پہ قادر ہے۔خیبر سے گوادر اور کشمیر سے کراچی تک اس ملک کے چپہ چپہ پر پشتونوں کی ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروبار پھیلے ہوئے ہیں،ہمیں ملک کے طول و عرض اور ریاستی اداروں،بالخصوص فوج اور عدلیہ میں سندھی اور بلوچ تو نظر نہیں آتے لیکن اسکے برعکس لاکھوں پشتون آپ کو ملک کے کونہ کونہ میں ملازمتیں اور مزدوری کرتے نظر آئیں گے۔اس لیے ہماری تقدیر کے مالک گھبرائیں نہیں پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں اتنے وسیع معاشی مفادات رکھنے والے پشتونوں کا اس ملک سے علیحدگی کا تصور محال ہے۔

اگر ریاستی ادارے پشتون تحفظ موومنٹ کو ملک دشمن تحریک ثابت کر کے کچلنے کی حرکت سے باز رہے تو نوجوانوں کی یہ تحریک پشتون سماج کو تازہ دم سیاسی قیادت فراہم کر نے میں کامیاب ہو جائے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...