ذوالفقار علی بھٹو: کوئے یار سے سوئے دار تک

1,421

پیپلز پارٹی کے بانی چیئر مین  ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی و غیر سیاسی زندگی میں دو ایسے فیصلے کیے جو ان کو تاریخ میں امر کر گئے۔ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپنی کرشماتی شخصیت کی ایسی جھلک چھوڑ گئے جس کا ذکران کے ناقدین ، پیروکاروں اور غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے اپنے اپنے انداز میں کیا ہے ۔ سیاسی مخالفین پر ان کے مبینہ جبر اور تشدد کی داستانوں کے ساتھ ساتھ اپنے حماتیوں کے ساتھ بھی بے رحمی سے پیش آنے کی کہانیاں عام ہیں۔ان کی زندگی کے کم و بیش تمام گوشوں پر ہر لکھاری نے اپنے اپنے انداز میں لکھا ہے لیکن ان کی زندگی کے دو پہلو یا فیصلے ایسے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں کہ اب تک اس طرح منظر عام پر نہیں آئے جس طرح آنے چاہیے تھے۔ ان سے میں ایک فیصلہ ان کی نصرت بھٹو کے ساتھ دوسری شادی اور دوسرا فیصلہ ان کی پھانسی کی سزا کے بعد کا ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں دو تو کیا چار شادیوں کی بھی روایت عام ہے بلکہ ایک سیاسی میاں کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ ان کی چار بیویاں ہیں ۔اگر وزیر اعظم بن گئے تو کیا معلوم ہے کہ خاتون اول کونسی والی بیوی ہو گی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی نصرت بھٹو سے شادی خالصتاً پسند کی شادی تھی اور اس شادی پر ان کے والد اور والدہ کا ردعمل روایتی والدین کی طرح کا تھا ۔ وہ اس شادی کے سخت مخالف تھے لیکن کاش وہ یہ دیکھ پاتے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد نصرت بھٹو نے کس دلیری سے ضیاء الحق کے آمرانہ ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا اور پارٹی کو نا صرف انتشار سے بچائے رکھنے کی کوششوں میں کامیاب رہیں بلکہ جنرل ضیاء کے لیے ہمیشہ درد سر بنی رہیں۔نصرت بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شادی کی کہانی کا آغاز کس طرح ہوا اس کا تفصیل سے ذکر ان کی پوتی فاطمہ بھٹو نے اپنی کتاب Songs of Blood and Swordکے صفحہ نمبر 48 سے لے کر 52 پر بیان کیا ہے ۔ یہ دراصل ایک انٹرویوہے جو فاطمہ بھٹو کی دو ہزار آٹھ میں معروف سیاسی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی الہی بخش سومرو کے ساتھ بات چیت پر مشتمل ہے۔ الہی بخش ،ذوالفقار  علی بھٹو کوزلفی جب کہ ذوالفقار الہی بخش کوایلوکے نام سے پکارتے تھے۔آئیے اب زلفی کی کہانی ان کے دوست الٰہی بخش سومرو عرف ایلو کی زبانی پڑھتے ہیں:

’’زلفی جب بیرسٹر بن کر لوٹے تو ان کے دوستوں کا حلقہ بہت محدود تھا۔ جن میں زلفی کے کزن ممتاز اور عاشق بھی شامل تھے۔ انہوں نے نامور وکیل ڈنگو مل رام جندانی کی لاء فرم میں شمولیت اختیار کی اورکچھ عرصہ بعد اے کے۔بروہی کی فرم میں شامل ہوگئے۔ ایک طویل عرصہ وطن سے باہر رہنے کے سبب ان کی کراچی کے لوگوں سے کم ہی شناسائی تھی۔ وہ ریستورانوں اور محفلوں میں جانے کے شوقین تھے۔ لیکن اس کے لیے ایک ہم خیال ساتھی کی تلاش بہت مشکل تھی۔ سندھی خاندان قدامت پرست تھے اور وہ اپنی بیویوں تک کو تقاریب میں لے جانا پسند نہیں کرتے تھے بیٹیاں تو ایک طرف رہیں۔یہ ایک اتفاق تھا کہ ایک شادی کی تقریب میں ان کی ملاقات ایک خوبصورت ایرانی لڑکی سے ہوئی جس کا خاندان تقسیم کے بعد بمبئی سے کراچی منتقل ہوا تھا ۔ نصرت طویل القامت ، شوخ اور سیاہ زلفوں کے ساتھ زندگی سے بھرپور شخصیت کی مالک تھیں۔وہ بھی شہر میں نووار د تھیں ۔ انہوں نے حال ہی میں انگریزی سیکھی تھی ۔ ان کی دو بہنیں تھیں لیکن نصرت کی موجودگی میں ان کی کوئی خاص حیثیت نہ تھی۔ نصرت اور زلفی کی جوڑی شاندار تھی۔ دونوں خوب رو، پرکشش اور زندگی سے بھرپور شخصیتوں کے حامل تھے۔ وہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ ذوالفقار نے نصرت سے شادی کے لیے پیغام بھیجنے کے لیے اپنے والدین سے رابطہ کیا لیکن ان کے والدین اپنے بیٹے کے اس فیصلے سے ناخوش تھے۔ خورشید بیگم (ذوالفقار علی بھٹو کی والدہ) نے اس فیصلے کی شدت سے مخالفت کی۔ وہ خاندان سے باہرزلفی کی شادی کرانے کے لئے بالکل تیار نہ تھیں۔ نصرت سنی نہیں تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ غیر مقامی بھی تھیں۔ نصر ت اہل تشیع تھیں اور ان کا تعلق بھی غیر زمیندار گھرانے سے تھا۔ان کے والد ایک صابن ساز کارخانے کے مالک تھے۔ ان کے خاندانی نام کے ساتھ ساتھ ’’صابونچی‘‘ کا لاحقہ بھی لگا ہو اتھا۔ وہ ایک کاروباری آدمی تھے جو بھٹوخاندان کی نظر میں کم تر پیشہ تھا۔خورشید بیگم کا خیال تھا کہ یہ شادی ناممکن تھی کیونکہ زلفی پہلے سے شادی شدہ تھے۔ لیکن ذوالفقار بھی اپنی والدہ کی طرح سے سخت گیر مزاج رکھتے تھے۔ 1951کو ایک دن دوپہر سے کچھ پہلے زلفی مزار قائد کے قریب اپنے دوست ایلو (الہی بخش) کے گھر پہنچے ۔ گھر کے باہر انہوں نے مخصوص طریقے سے ہارن بجایا تاکہ وہ باہر آئے۔ وہ گاڑی میں اطمینان سے بیٹھے رہے ۔ جیسے ہی ایلو گاڑی میں سوار ہوئے تو زلفی نے ان سے دریافت کیا کہ کیاتمہارے پاس کچھ پیسے ہیں۔؟ایلو نے اثبات میں سر ہلایا ۔ زلفی نے کہا گاڑی میں بیٹھو کہیں جانا ہے ۔ کہاں جانا ہے؟ ایلونے استفسار کیا جو اب تک شش و پنچ کا شکار تھا۔ میں آج نصرت سے شادی کر رہا ہوں۔زلفی بولا۔ ایلونے اسے یاد دلایا کہ اسلامی شریعت کے مطابق نکاح کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ میں تنہا ہی ہوں۔ ایلو نے تجویز دی کہ میر ا ایک دوست کریم دا د جونیجو جس کا تعلق سندھ کے ایک معروف گھرانے سے تھا، کو ہمراہ لے لیتے ہیں۔ دونوں کریم داد کے گھر پہنچے اور اسے اپنے ہمرا ہ لیا۔ایلو نے کریم داد جونیجو سے کہا کہ زلفی شادی کر رہا ہے۔ کس کے ساتھ ؟ کریم داد بولا۔نصرت کے ساتھ، ایلو نے کہا ۔وہ طویل القامت خاتون!کریم داد نے حیرانگی سے کہا۔ اس کا قد بہت ہی بڑا ہے، کریم داد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ تینوں کلفٹن کی طرف چلے تاکہ نصرت کو اس کے گھر سے ساتھ لے لیں جو اس وقت زیر تعمیر 70کلفٹن سے بہت قریب تھا۔

نصرت کے گھر میں اس وقت واحد مرد اس کا ضعیف با پ تھا۔ نصرت کی بہنوں نے پہلے تو ہمارے منصوبے کی مخالفت کی تاہم بعد میں انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ اپنے ساتھ مولوی بھی لائے ہیں۔ تینوں کے ذہن میں اس وقت یہ خیال نہیں آیا تھا کہ نکاح کے لئے ایک مولوی کی بھی ضرورت ہے۔ اس وقت نزدیک ترین مسجد سندھ کلب کے عقب میں واقع تھی۔ ایلو فوراً روانہ ہوا اور کچھ دیر بعد ایک مولوی کے ساتھ واپس نصرت کے گھر پہنچا تاکہ وہ نکاح پڑھا سکے۔ نصرت کی بہنوں نے کہا یہ مولوی سنی ہے ۔ ہمیں ایک شیعہ مولوی کی ضرورت ہے ۔ اسے واپس بھیجو۔ ایلو نے اس سنی مولوی کو دوبارہ مسجد پر اتارا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ میری رہنمائی کر سکتا ہے کہ شیعہ مولوی کہاں ملے گا؟ مولوی نے کار کا دروازہ کھولا اور مجھے صلواتیں سناتے ہوئے روانہ ہو گیا۔ شیعہ مولوی کی تلاش میں ادھر ادھر کی مسجدوں میں گھومتے گھماتے ہوئے بوہری بازار میں عصر کے وقت پہنچا ۔ ایلونے کار روکی اور عصر کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں چلا گیا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر آتے ہوئے ایلو نے ایک مولوی کو روکا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ سنی ہے یا شیعہ؟ مولوی یہ سنتے ہوئے غصے میں آگیا اور ایلو کو برا بھلا کہا۔ اس ناگہانی صورت حال سے بچنے کے لیے ایلو جیسے ہی بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا ایک معقول صورت آدمی نے اسے روکا اور کہا میں نے مولوی صاحب سے آپ کی گفت گو سنی ہے۔ اس نے کہا بیٹا، شیعہ مولوی آپ کو مسجد میں نہیں ملے گا۔ ایلونے استفسار کیا تو پھر شیعہ مولوی کہاں ملے گا؟ آپ کسی امام بارگاہ میں جائیں یا شیعوں کی مسجد میں۔ اس شخص نے کہا۔ ایلو کو نہیں پتا تھا کہ شیعوں کی امام بارگاہ کہاں واقع ہے؟ اس کے لیے یہ باعث حیران تھا کیونکہ ان دنوں سنی اور شیعہ کی تفریق کچھ ایسی واضح نہ تھی۔ اس شخص نے کہا کہ قریب ترین امام بارگاہ بولٹن مارکیٹ کے علاقے میں واقع ہے۔ بولٹن مارکیٹ پہنچتے ہی ایلو کی نظر ایک دوست پر پڑی جو سٹرک پار کر رہا تھا۔ اس نے کار اس کے پاس روکی اور اس سے امام بارگاہ کی تلاش میں مدد طلب کی۔ اس کا دوست یہ سن کر کھلکھلا کر ہنسا اور کہا تم شیعہ مولوی کی تلاش میں ہو۔یہ  تمہارے لیے آسان نہ ہوگی کیونکہ ان کی خدمات حاصل کرنے کے لئے تمہیں انہیں پیشگی اطلاع دینا ہوتی ہے۔ پھر وہ دوست بولا کہ ایک حل ہے کہ تم سندھ مدرستہ الاسلام چلے جاؤ ۔ وہاں دو مدرسے ہیں ۔ ایک سنی فقہ کی تعلیمات کی تبلیغ و ترویج کرتا ہے اور دوسرا شیعہ فقہ کی ۔ تمہیں وہاں شیعہ مولوی مل سکتا ہے جو نکاح پڑھا سکے۔ اس وقت شام کے سائے شروع ہو گئے تھے اور مغر ب کی نماز کا وقت ہو ا چاہتا تھا۔ایلونے سندھ مدرستہ الاسلام کے پاس گاڑی روکی تو دیکھا کہ ایک مولوی صاحب باہر آرہے تھے۔ ایلو کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر مولوی صاحب کی طرف بڑھے اور ان سے کہا کہ مہربانی کر کے میرے ساتھ نکاح پڑھانے کے لئے کلفٹن چلیں۔ مولوی صاحب پہلے تو ہچکچائے ۔ پھر میں نے پوچھا کہ اس نکاح کے لیے آپ کتنی رقم لو گے؟ مولوی صاحب نے کہا’’ پچاس روپے‘‘۔ ا یلونے جیب سے فوراً سو روپے کا نوٹ نکالا اور ان کے حوالے کیا اور کہا یہ آپ کے لیے ایڈوانس رقم اور اسے کار میں بٹھا کر کلفٹن کی طرف روانہ ہوگئے۔ نکاح کی تقریب کے بعد ایلو نے نوبیاہتا جوڑے کو کار میں بٹھایا اور انہیں پیلس ہوٹل چھوڑ دیا۔ اس طرح زلفی اور نصرت کی شادی آخر کار ہو گئی‘‘۔

اب ہم ذوالفقار علی بھٹو کے دوسرے تاریخی فیصلے کا ذکر کرنا چاہیں گے جس کے ذریعے انہوں نے تاریخ کے ہاتھوں قتل ہونے کی بجائے عدالتوں کے ہاتھوں قتل ہونے کا فیصلہ کیا لیکن اس سے بھی بڑا فیصلہ وہ تھا جب جنرل ضیاء الحق نے پوری کوشش کی کہ کسی نہ کسی طریقے سے ذوالفقار علی بھٹو سے معافی نامہ لکھوائیں۔ لیکن بھٹو کی ذہانت و فطانت سے اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی غالباً اسے کوئی معمولی سی شد بد بھی نہیں تھی۔ ضیاء الحق کی انا کی مکمل تسکین اس وقت ہو سکتی تھی جب بھٹو کا معافی نامہ ان کی میز پر پڑا ہوتا اور وہ اس پر’’ نو‘‘ لکھ دیتے۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا اپنی کتاب ’’ایک قتل جو نہ ہو سکا‘‘ مطبوعہ 2012کے صفحہ نمبر 38, 39, 40 پر لکھتے ہیں جس کی تلخیص آپ کے مطالعے کی نذر ہے، ’’یہ جاننے کے باوجود کہ بھٹو معافی نہ مانگے گا پھر بھی جنرل ضیاء کے دل میں کہیں یہ آرزو یا اس سے بڑھ کر ایک خواہش تھی کہ چاہے وہ معاف نہ کرے لیکن ایک قیدی کو اپنے بادشاہ سے جان کی بھیک تو مانگنی چاہیے۔ اگر قیدی نےرحم کی بھیک نہ مانگی تو پھر بادشاہ ہونے کا کیا فائدہ؟ جنرل ضیاء یہ سوچ بیٹھا تھا کہ شاید بھٹو کے اندر بھی ہر انسان کی طرح ایک بزدل روح موجود تھی جو موت کو قریب دیکھ  کراپنی جان بچانے کے لیے کوئی بھی سودا کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔ جنرل ضیاء نے اپنے طور پر بھٹو کی اس انسانی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا تھا تو دوسری طرف بھٹو بھی جیل کی کوٹھڑی کی سلاخوں سے سر لگائے یہ اندازہ لگاتے ہوئے مسکرا رہا تھا کہ جنرل ضیاء آخر کس کے ہاتھ میں کاغذ قلم دے کر اس کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجے گا کہ وہ جان بخشی چاہتا ہے تو ضیاء کے نام رحم کی بھیک مانگے۔جنرل ضیاء اور بھٹو کے درمیان یہ جنگ کا آخری مرحلہ تھا اور اب صرف پیغام رساں کا انتظار تھا۔ دور سے ہلکے قدموں کی چاپ سن کر کن اکھیوں سے بھٹو نے دیکھا کہ ایک نوجوان افسر ہاتھ میں کاغذ اور قلم پکڑے ان کی طرف آرہا تھا۔ ان چند لمحوں نے فیصلہ کرنا تھا کہ جنرل ضیاء اور بھٹو کے درمیان انا اور اعصاب کی جنگ کس نے جیتنی ہے۔ بھٹو نے، جس کے اندر ایک دلیر اور خوددار روح تھی یا پھر جنرل ضیاء نے جس کی آخری امید بھٹو کے اندر موجود ایک کمزور انسانی روح سے وابستہ تھی جو شاید موت کو سامنے دیکھ کر بھٹو کو گڑ گڑانے پر مجبور کر سکتی تھی۔ بھٹو نے نوجوان افسر کو دیکھا وہ پنڈی کا نوجوان کمشنر سعید مہدی تھا۔ سعید مہدی کو سول سروس میں کام کرتے ہوئے اتنا اندازہ ہو چکا تھا کہ ان موقعوں پر زیادہ لمبی تمہید اور طویل گفت گو کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قیدی اپنا ذہن بنا چکا ہوتا ہے کہ اس نے مرنا ہے یا جینے کی بھیک مانگنی ہے۔ آج تک اسے یاد نہیں پڑتا تھا کہ کسی نے رحم کی درخواست نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ بھلا کون مرضی اور خوشی سے پھانسی پر لٹکتا ہے۔ یہ سوچ کر سعید مہدی نے اس سوگوار ماحول میں کاغذ اور قلم بھٹو کی طرف بڑھایا۔ بھٹو وہیں جامد اور ساکت بیٹھا رہا۔ اس نے کاغذ اور قلم لینے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا،ا س سے سعید مہدی کو تھوڑی حیرانگی ہوئی۔ بھٹو نے سعید مہدی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ینگ مین! تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ سعید مہدی نے مودب ہو کر کہا کہ سر آپ کا نام ذوالفقار علی بھٹو ہے۔ بھٹو نے ایک اور سوال داغا ۔کیا تم میرے باپ کا نام جانتے ہو؟ سعید مہدی نے جواب دیا ۔جی  ان کا نام سر شاہنواز تھا اور وہ برٹش انڈیا میں ایک ریاست کے وزیر اعظم بھی تھے۔بھٹو نے اس پر بس نہ کیا اور پھر پوچھا ۔تمھیں میر ے پاس کس نے بھیجا؟۔ سعید مہدی نے جواب دیا ۔جنرل ضیاء الحق نے۔ بھٹو نے کہا کیا تم جنرل ضیاء الحق کے باپ کا نام جانتے ہو؟۔ سعید مہدی نے جواب دیا کہ انہیں پتا نہیں ہے۔ بھٹو مسکر ایا اور بولا، ینگ مین! جس شخص کے باپ کا نام تمھیں معلوم نہیں اور تم چاہتے ہو کہ سر شاہنواز بھٹو کا بیٹا اس کے نام جان بخشی کی درخواست لکھ دے۔ بھٹو نے یہ کہہ کر منہ موڑ لیا اور سعید مہدی واپس لوٹ گئے۔

سعید مہدی کی بھٹو سے یہ آخری ملاقات تھی۔ تاہم یہ فقرہ ان کے ذہن سے نہ نکل سکا۔ انہیں یوں لگا کہ یہ مختصر سی بات ساری عمر ان کا پیچھا کرے گی۔ خود سعید مہدی کے لئے یہ بات بڑی عجیب تھی کہ موت کے پھندے پر کھڑے کسی انسان نے رحم کی بھیک مانگنے سے انکار کر دیا ۔ بھٹو کی یہ غیر معمولی بہادری سعید مہدی کو ہمیشہ کے لیے ان کا گرویدہ بنا گئی تھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...