پاکستان: آئین کے طے کردہ راستے اور نئی راہداریاں

624

تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال میں مستقبل کی پیشگوئی کرنا یا تخمینہ لگانا اب محض شعور اور سیاسی ادراک کی استعداد پر منحصر نہیں رہا۔ حالانکہ آئینی ریاست کے دعوے کی موجودگی میں سیاسی عمل کی ہموار اور طے شدہ واقعاتی ترتیب کو بیان کرنا قدرے آسان  ہونا چاہیے مگر شومئی قسمت کہ پاکستان آئین کی موجودگی میں بھی  مجہول یا گومگو کی  کیفیت میں نظر آرہا ہے ۔ یہاں آئینی حوالوں سے طے شدہ اور معلوم راستوں پر گہری دھند چھا رہی ہے ۔ چنانچہ پیشگوئی کی درجہ بندی اور عملی استدلال یا حکمت عملی مترب کرنے میں بہت سے اگر مگر اور انہونیوں کے امکانات نے سیاسی ،سماجی شعور و ادراک کی استعداد کو بھی ابہام زدہ کررکھا ہے۔ کیا مقررہ (آئینی طور پر) وقت پر عام انتخابات کا انعقاد یقینی ہے ؟ شکوک و شبہات پھیلانے والے بیانات اور کچھ واقعات ،ان کے پس  پردہ عناصر کی جھلک اور خواہشات کے علانیہ اظہار نے سب کچھ مبہم بنادیا ہے۔ حلقہ بندیوں پر ہونے والے اعتراضات کی کمیت بذات خود جدلیاتی حوالے سے انتخابی عمل کی مسلمہ کیفیت (بروقت انعقاد) کومشکل تربنارہی ہے۔ کیا الیکشن کمیشن کی اعلان کردہ نئی حلقہ بندیوں پر سامنے آنے والے غیر معمولی اختلافات کو حل کرنے کے رائج آئینی بندوبست میں ایسا ممکن ہے کہ تمام یا بیشتر سیاسی حلقوں کو مطمئن بھی کیا جاسکے اورکیا  وقت کی تنگی کو ملحوظ رکھا جانا ممکن ہے ؟

جتنی گہرائی کے ساتھ اعتراضات سامنے آرہے ہیں، اگر الیکشن کمیشن نے ان کی سریع الحرکت سماعت کی اورحلقہ بندیوں کی ایک مختلف یا سابقہ جدول برقرار رکھی اور نئے اعتراضات نیز معترضین کے اٹھائے گئے نکات کو درخور اعتنا نہ سمجھنے کی روش اپنائی تو ہردو صورتوں میں قانونی سماعتوں کے سلسلہ  کی طوالت اختیار کرنا بعید از قیاس  نہیں ۔ چنانچہ یہ سوال جائز طور پرعام انتخابات کے بروقت انعقاد پر تشویش پیدا کرتا ہے اور عبوری حکومت کی معینہ مدت میں اضافہ کی گنجائش پیدا کرتا ہے ۔ یہ شبہ محض  واہمہ بھی ہو تو بھی اس کے اسباب سے انکار نہیں کہ کچھ طاقتور حلقے اپنی آئینی حدود سے ماورا ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں۔ یقینی طور پر وہ مذکورہ ٹیکنوکریٹ ڈھانچے کو مختصر مدت (تین ماہ) تک محدود رکھنے کے حق میں بھی نہیں ہوں گے۔ اسی ہفتے میں دو واقعات عدالتی سطح پر وقوع پذیر ہوئے ہیں ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے شیخ رشید کے خلاف پٹیشن پردیے گئے ریمارکس ( اس حوالے سے جسٹس عظمت کا اشارہ بھی بہت اہم ہے)  اور جناب جسٹس دوست محمد کی ریٹائرمنٹ ، جنہیں عدالتی روایت کے برعکس رخصت ہوتے ہوئے فل کورٹ ریفرنس سے محروم رکھا گیا ہے ۔قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس کا قانونی تجزیہ راقم  سے ممکن نہیں ۔ تاہم انہوں نے جس معیار انصاف کی تعمیم پسندی کی جانب اشارہ کیا ہے اسے ممتاز دانشور امرتیا سین کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔ امرتیاسین نے ایڈم اسمتھ کے الفاظ نقل کئے ہیں :

کسی خطاکاری کا صرف محسوس کیا جانا کافی نہیں  بلکہ ایک مدلل جانچ پڑتال کے ذریعے اس کا تنقیدی  جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جانا چاہیئے کہ یہ خطاکاری ایک قابل ثبوت ملامت یا سزا کی بنیاد بن سکتی ہے۔ (تصور انصاف ص ۲)

قاضی فائز عیسیٰ کا تبصرہ  شائد اسی متبادل عملی استدلال کی جانب  رجحان کی عکاسی کررہاتھا ،جو نیت کی پرکھ پر مبنی استدلال کو ناممکن نمایاں اور قابل ثبوت ملامت کی ضرورت اجاگر کررہاہے۔  کیا کسی فعل کے بیان  اورعمل کے ارادے و نیت کی ٹھوس شہادت اور معروضی جانچ ممکن ہے ؟ کیا نیت کی پرکھ کا معیار استفادہ کا ہونا ، انصاف کے معیاری تقاضوں کی پوری تکمیل کرتا ہے ؟

جسٹس دوست محمد کو الوداعی فل کورٹ ریفرنس نہ ملنےکے واقعہ پر جیو نیوز کے رپورٹرعبدالقیوم صدیقی نے سوشل میڈیا پر اپنے شخصی پروگرام میں شرکا کی گفتگو شئیر کی جس میں ایک بیرسٹر صاحب نے بہت کچھ کہنے کے بعد اعتراف کیا ہے کہ وہ موضوع بحث پر مزید بات نہیں کرنا چاہتے  گو کہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں اور بہت کچھ کہہ سکتے ہیں ۔ معذرت خواہی کا سبب اور دلیل بہت گہری معنویت رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا  کیونکہ میرا روزگار اسی عدلیہ سے جڑا ہے اور مجھے انہی معزز ججز صاحبان کے سامنے وکالت کرنی ہے ۔ ایک ایسا شخص جو سچائی سے آگاہ بھی  ہے اور آئینی طور پر اظہار رائے کا  ناقابل تنسیخ حق بھی محفوظ رکھتا ہے وہ محض اپنے روزگار کے خوف سے چپ اختیار کرنے پر قناعت کررہا ہے ۔ یہ آئینی ریاست کے وجود اور نظام عدل کے متعلق تشکیک آمیزی کو پروان چڑھانے کاٹھوس سبب ہے ۔ یہ  اداروں کی تکریم کولاحق  خوف و معاشی عدم تحفظ کےپیرائے کا مظہر ہے ۔ جو منظر نامہ ابھرتا ہے وہ سیاسی عمل کی طے شدہ حرکیات کے متعلق اٹھائے گئے سوال کی بھی وضاحت کرتا ہے۔

بلوچستان گوکہ معاشی پسماندگی کے جبر کا نمونہ ہے لیکن اس صوبے نے سیاسی بحران جنم دینے یا اسے نیا موڑ دینے میں متعدد حوالوں سے فعال کردار ادا کیا ہے ۔ ماضی بعیدمیں چیف  جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف عدلیہ میں تقسیم اس صوبے سے ہوئی تھی ۔ موجودہ صوبائی اسمبلی اب تک تین وزرائے اعلیٰ منتخب کرچکی ہے ۔ اسمبلی میں مسلم لیگ میں داخلی تقسیم کے ذریعے حکومتی تبدیلی رونما ہوئی جو دراصل سینٹ انتخابات میں مسلم لیگ  کی عددی قوت کے ممکنہ اضافے سے مشروط عمل تھا ۔ اس کہانی میں جمیعت علمائے اسلام سے چوک ہوگئی۔ اس نے حکومتی تبدیلی میں حصہ ڈالا اور جناب عبدالقدوس بزنجو کی مکمل حمایت کی ۔ اس طرح وہ عملی طور پر حزب اقتدار بگوش ہوگئی ۔ عام انتخابات سے چند ماہ قبل اس کرداری تبدیلی کی قیمت انتخابات کے لیے نگران حکومت کی تشکیل و ترتیب میں اس اپنے کردار سے محروم ہونا پڑگیا ۔ باخبر حلقے یہ بھی بتاتے ہیں کہ کابینہ کا باضابطہ حصہ بنے بغیر جمعیت کے ایک محترم رکن اسمبلی محکمہ ’’پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ‘‘ کو ایک وزیر کی مانند چلا رہے ہیں  کیونکہ انہیں ماضی میں اس محکمے کو چلانے کا معقول تجربہ بھی حاصل ہے۔ چنانچہ اس پس منظر میں بلوچستان اسمبلی میں آنے والی تبدیلی نے نگران سیٹ اپ کی تشکیل کے لیے نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ کے مشترکہ قائد حزب اختلاف کو جو پوزیشن دی ہے۔ جمیعت کے اکابرین اس سے ناخوش ہیں ۔ جناب رحیم زیارتوال کو چونسٹھ کے ایوان میں تیئس ارکان کی حمایت میسر ہے ۔ جس کی بنا پر اسپیکر نے قائد حزب اختلاف تسلیم کرلیا ہے ۔ اب جمعیت نے عدالت عالیہ سے اس فیصلے کو منسوخ کرنے کے لئے رجوع کیا ہے  اور دلیل دی ہے کہ ان کے پاس تیرہ ارکان کے علاوہ حزب اختلاف کے دس ارکان کی حمایت بھی موجود ہے ۔ اس دعوے کی تصدیق و تردید سے قطع نظر یہ نکتہ اظہر من الشمس ٹھہراکہ ہاؤس میں حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد ہر صورت زیادہ ہے اور حکومتی ارکان کی تعداد اقلیت میں ہے ۔ عدالت نے اگر مولانا عبدالواسع  کی درخواست کو پذیرائی عطاکی تو انہیں اپنی اکثریت بمقابلہ جناب رحیم زیارتوال ثابت کرنا ہوگی ۔ فرض کریں کہ مولانا عبدالواسع  اپنے دعوے کے مطابق تیئس ارکان کی حمایت حاصل کرلیتے ہیں تو پھر بھی دوسری جانب جناب زیارتوال کے پاس دس ارکان تو  رہ جائیں گے ۔ جن کا مجموعہ چھتیس بنتا ہے ۔تیرہ ارکان جو جناب عبدالواسع کے ہیں ، دس وہ جن کی حمایت میسر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ۔ اگر مذکورہ دسیوں ارکان اپوزیشن کے حلقے سے ہیں ۔ تو بھی جناب زیارتوال  کےپاس تیرہ ارکان رہ جائیں گےجو مجموعی طور پر چھتیس بنتے ہیں ۔ اس جمع تفریق کا منطقی نتیجہ حکومت کی اکثریت کھو جانے کی صورت نکلتا ہے ۔  اگر جناب عبدالواسع کے متذکرہ دس ارکان بھی حکومتی گروپ سے نکلیں تو صورتحال بالکل غیر مبہم طور پر حکومت کی اکثریت ثابت کرتی ہے ۔ چنانچہ اب دیکھنا یہ ہے کہ اب عدلیہ کے حکم اور قائد حزب اختلاف کے مطالبے پر گورنر بلوچستان حکومت کو دوبارہ اعتماد کاووٹ لینے کا حکم دیتا ہے۔ اگر دیتا ہے  تو جمیعت علمائے اسلام کو مستقبل قریب کے نگران سیٹ اپ میں کردار حاصل کرنے کے لئے کھل کر جناب قدوس بزنجو پر عدم اعتماد کرنا ہوگا یا پھر مستقبل کے نگران سیٹ اپ کی تشکیل سے دستبرداری کی راہ اپنانی ہوگی۔

ایک تیسرا امکان بھی ہے کہ  گورنر بلوچستان کے حکم پر جناب قدوس بزنجو اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے نئے اتحادی تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ اس صورت میں کون سی جماعت کن شرائط پر ان کا ساتھ دے گی ؟ یہ سوال اہم ہے جس کا فی الحال جواب ممکن نہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو موجودہ حکومت ختم ہوسکتی ہے ۔ اگریہ اسمبلی اپنے لیے چوتھا وزیراعلیٰ منتخب کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی تو کیا صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی راہ ہموار کرنے کو ترجیح دی جائے گی ؟تاکہ بحرانی صورتحال میں مردم شماری کے نتیجے میں نئی حلقہ بندیوں میں اطمینان بخش تبدیلی اور انہیں قابل قبول بنانے اور ساتھ ہی ساتھ نگران سیٹ اپ پر اتفاق رائے کے لئے درکار ووٹ میں کٹوتی کے ذریعے یہ معاملات پارلیمان سے الیکشن کمیشن کے حوالے کرنے میں سہولت حاصل کی جاسکے۔

حالات کا عمیق جائزہ  آئین کے طے کردہ رستوں سے بھٹکتا اور نئی راہداریوں کی سمت بڑھتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ ایسے میں میاں نواز شریف کے خلاف احتساب  عدالت بھی سماجی و سیاسی حالات کو مہمیز کریں گے۔ نااہلی کے بعد سزا اور گرفتاری کے ردعمل کی نوعیت حالات کی سنگینی کی کیفیت متعین کرے گی ۔ عوامی احتجاج اور ردعمل سیاسی عدم استحکام میں در آئی مجہولیت میں بڑھاوے کا سبب اور نتیجہ بھی ہوسکتا ہے ۔

پس نوشت :  جعلی ڈگریوں کے کیس میں گرفتار جناب شعیب شیخ پولیس حراست میں ہونے کے باوجود تین بار عدالت میں پیشی پر حاضر نہیں ہوئے ۔ حالانکہ انہیں جیل سے پولیس نے عدالت لانا تھا ۔ پھر تین مختلف ججز نے ان کے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی ہے ۔ ایسا کیونکر ہوا ہے اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ کیا شعیب شیخ کو  آسیب کہنا نامناسب ہوگا ؟جاوید چوہدری صاحب سے کی گئی گفتگو کے آخری کلمات انتخابات کے بارے میں عمومی مباحثے  میں موجود تشکیک پسند رجحان کے لئے تقویت کا سامان لئے ہوئے ہیں جن سے یہ تاثر مستحکم ہوا ہے کہ انتخابات نگران حکومت نہیں بلکہ عدلیہ منعقد کروانے کا عزم رکھتی ہے  ۔تو پھر انتخابی عذرداریوں کی سماعت اور ازالے کہاں ہوں گے ؟

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...