اُردو ادب پر کافکا کے اثرات

292

اردو ادب کو ہی نہیں جرمن ادیب فرانز کافکا نے عالمی ادبی منظرنامے کو اپنے اسلوب نگارش سے متاثر کیا۔ تاہم بہت ضروری ہے کہ کافکا کے اردو ادب پر اثرات سے پہلے اس کے فن کے بنیادی محرکات سے آگاہی حاصل کی جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ وہ کیوں کر انسانی ذات  کی گہرائیوں کا بیسویں صدی کا سب سے مؤثر اور منفرد بیان کار قرار پاتا ہے۔

کافکا کی آواز بیسویں صدی کے ادب کی ایک نہایت توانا اور منفرد آواز مانی جاتی ہے۔ اس آواز میں جدید مبتلائے کرب انسان کی چیخ ہے، مشینوں کی گڑگڑاہٹ اور عالمی جنگوں کی قتل و غارت گری اور کساد بازاری کی دہائی موجود ہے۔ اس نے جدید انسان کی صورت حال کو بیان کرنے کا ایک یکتا و منفرد انداز اور زاویہ وضع کیا جس کے تحت ادب میں حقیقت کو دیکھنے کی ایک تیسری آنکھ، ایک تیسرے فہم اور ایک تیسرے افق کا اضافہ ہوا۔ کافکا کا کمال اس کا جداگانہ اسلوب ہے جو حقیقت کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ ادب کے قارئین اور لکھاریوں کو فراہم کرتا ہے۔

کافکا کے اسلوب کوسمجھنے کے لیے ہمیں حقیقت اور خواب کے بین بین موجود کیفیت کے ادراک کی ضرورت ہے۔ ایسی جھٹپٹے کی کیفیت جو ہمارے عمومی تجربے کا حصہ بنتی ہے لیکن اسے کبھی قابل اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ یہ بیداری کے فوراً بعد یا نیند سے فوراً پہلے کی کیفیت ہے جس میں حقیقت اپنے ذائقے اور ہیئت میں ایک عام شخص یا عام صورت حال میں انسانی مشاہدے سے یکسر مختلف ہوجاتی ہے۔ اس منظرنامے میں کرداروں کی ہیئت اور انسانی صورت حال کی نوعیت چونکا دینے والی اور عجیب ہونے کے باوجود غیر ممکن یا غیر حقیقی نہیں ہوتی۔ کیوں کہ کافکا کی تحریروں میں منظرنامہ بقول نیر مسعود کے بہت روشن رہتا ہے۔ ایسے روشن منظرنامے میں کرداروں اور موضوع کے عجب کو ظاہر کرنا کافکا کا کمال ہے جو بطور فن کار اس کی عظمت کی ایک اور دلیل فراہم کرتا ہے۔

کافکا نے اس کیفیت میں سے نئی حقیقت کے اشارے پائے اور انسانی صورت حال کو دیکھا۔ یہ انسانی فہم کا وہ نظرانداز شدہ منطقہ ہے جس کی طرف کافکا نے ہماری توجہ دلائی اور جس میں خواب اور بیداری کی سرحدیں ایک دوسرے میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ اس کیفیت میں احساس گناہ ایک رنگ کا اضافہ کرتا ہے۔ گناہ اور جرم انسانی شخصیت کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور اسی سے بنیاد ملتی ہے کافکا کے فن کو بھی۔ کیوں کہ وہ انسان کے بنیادی احساس گناہ کو تصویر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کافکائی رنگ ہے۔ اس رنگ میں رنگے ہوئے کردار حیران کن روحانی اور جذباتی  حتیٰ کہ جسمانی کرب اور تبدیلیوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ ان کا داخلی کرب ہی انھیں کافکائی کرداروں کے طورپر مخصوص کرتا ہے۔ وہ احساس جرم اور عدم اطمینانی کے کرب کا شکار ہیں۔

 

پاکستان میں سیاسی سطح پر البتہ کافکائی صورت حال کی نشان دہی ہمیں بہت برس پہلے ایک بڑے سیاسی رہنما کے بیان سے ملتی ہے جو اس نے خود پر چلائے جانے والے مقدمہ کی پیروی کے دوران کہی تھی اور جس مقدمے کے نتیجے میں اسے موت کی سزا سنائی گئی تھی، کہ ’’یہ کافکائی مقدمہ ہے‘‘

اپنے ناولوں میں کافکا نے ایک خاص انسانی صورت حال کی طرف اشارہ کیا اور یوں وہ صورت حال کافکا ہی سے منسوب ہوکر رہ گئی اور ’کافکائی انسانی صورت حال‘ کہلائی۔ اس صورت حال میں کافکا کا کردارگرفتار ہے۔ یہ کردار اس کی عظیم کہانی کایا کلپ میں گریگر، اس کے شاہکار ناول ناول مقدمہ میں “کے” اور قلعہ میں سرویئر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کا واسطہ ایک غیر معلوم حاکم سے ہے۔ جس کے حکم کے وہ تابع ہے۔جو موجود ہے لیکن قابل رسائی نہیں ہے۔ اسے ایسے جرم کی پاداش میں سزا کا مستحق قرار دیا جاتا ہے جو اس سے سرزد نہیں ہوا۔ وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے چکردار گرداب میں پھنس جاتا ہے اور یوں آخر کار اس جرم کا ارتکاب کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جس کی سزا وہ بھگت رہا ہوتا ہے۔

یہ صورت حال جب کافکا کی وفات کے بعد روسی فوجوں کے چیکوسلوواکیہ میں درآنے کے نتیجے میں ظاہر ہوئی تو کافکا کی تحریروں کی ایک نئی تفہیم ممکن ہوئی اور انھیں پیشین گوئی کے طورپر ایک نئے تناظر میں سمجھنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ تاہم کافکا کی نگاہ محض کسی سیاسی تبدیلی یا صورت حال تک محدود نہیں تھی۔ وہ جدید انسان کا المیہ لکھ رہا تھا جو عظیم عالمی جنگ کے نتیجے میں شکست و ریخت کا شکار تھا اور جدید معاشی و سماجی صورت حال میں انسانی رشتوں کی نئی صورتوں سے دو بدو تھا۔ جو جدید دور کی غیریت، غیر یقینی پن، اقدار کی شکست و ریخت، انسانی تعلقات کی سطحیت اور لغویت سے دوچار تھا۔ کافکا نے اس کا ادراک کیا اور اسے اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ اس کے دیکھنے کے انداز نے جدید ادب کے قارئین اور آئندہ آنے والے لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد کے نقطہ نگاہ کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کرکے رکھ دیا۔

اردو میں کافکا کے مطالعہ کا آغاز کافکا کی وفات کے بعد ہی ہوا ۔ کافکا 1924میں فوت ہوا۔ اس کے فوراً بعد اس کی تمام تحریروں کی اشاعت شروع ہوئی جس نے تھوڑے ہی عرصے میں کافکا کے فن کے آفتاب کو ادب کے آسمان پر بلند کردیا۔ اس کی چکاچوند نے سبھی کو حیران کردیا۔ تبھی اس کی تحریروں کو عالمی زبانوں میں ڈھالنے کا عمل شروع ہوا۔ بیسویں صدی کے وسط تک کافکا یورپ، امریکہ اور دیگر خطوں کی بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا تھا۔

اردو میں اس کی اولین کوششیں ہمیں نیر مسعود کے تراجم کی صورت میں ملتی ہیں جو ستر کی دہائی میں پہلی بار انڈیا میں شائع ہوئے۔ غالباً یہی وقت ہوگا جب اردو میں کافکا کے اثرات نے راہ پائی۔ سب سے زیادہ اثرات اردو میں اگر کسی ادیب کی تحریروں میں تلاش کیے جا سکتے ہیں تو وہ خود نیر مسعود ہی ہیں۔ انھوں نے کافکا سے خوابناک منظرنامے کو مستعار لیا۔ انھوں نے خوابوں کی تھکاوٹ اور مایوسی سے مملو کردار تخلیق کیے جو ایک مخصوص منظرنامے کو تشکیل دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں کی منظرنگاری میں خوابوں کی دھند بھری، اور ان کہانیوں کے واقعات کو غیر یقینی پن کی حیرتوں کے رنگوں سے مزین کیا۔ لیکن دونوں لکھنے والوں کے ہاں بنیادی موضوع اور وژن کا واضح فرق ہے۔
کافکا کا موضوع اور اسلوب اردو کے لیے خاصا اجنبی ہے۔ انتظار حسین موضوع کے اعتبار سے کافکا سے کہیں زیادہ متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ گو انتظار حسین کے ہاں موضوع کی وسعت اور گہرائی کافکائی انسان کی صورت حال جیسی گھمبیر ہرگز نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے انسان کی باطنی تبدیلی کو اس کے ظاہر میں ہوتا ہوا آخری آدمی، کایاکلپ اور دیگر افسانوں میں دکھایاہے۔ اس کے باوجود ہم انتظار حسین کو کافکا سے متاثر قرار نہیں دے سکتے۔ ان پر داستانوں کے اثرات البتہ کہیں زیادہ تھے اور انھوں نے ملفوظات، انجیل اور ہندی دیومالا کے اسالیب کو اردو افسانے میں برتنے کے غیر معمولی تجربات کیے۔ سریندر پرکاش کی جادوئی فضا اور منظرنامے میں کافکائی اثرات کی رمق ملتی ہے۔ علامتی تحریک ہی کے ایک سربرآورہ لکھاری انور سجاد بھی ہمیں کافکا کے اسلوب کے چمن سے خوشہ چینی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان میں سیاسی سطح پر البتہ کافکائی صورت حال کی نشان دہی ہمیں بہت برس پہلے ایک بڑے سیاسی رہنما کے بیان سے ملتی ہے جو اس نے خود پر چلائے جانے والے مقدمہ کی پیروی کے دوران کہی تھی اور جس مقدمے کے نتیجے میں اسے موت کی سزا سنائی گئی تھی، کہ “یہ کافکائی مقدمہ ہے۔” یہ صورت حال موجودہ سیاسی منظرنامے میں بھی تلاش کی جاسکتی ہے جس میں اعلیٰ سطح پر ایک لغو ناٹک کھیلا جا رہا ہے۔
انیس ناگی، فاروق خالد، مظفر اقبال، خالدہ حسین اور رشید امجد کے نام بھی اس ضمن میں لیے جاسکتے ہیں، جن کی تحریروں پر کافکا کے اثرات کی جھلک پڑتی معلوم ہوتی ہے۔ کافکائی عجب سمیع آہوجہ کے ہاں لسانیاتی عجب کی صورت میں ظاہر ہوا۔ کافکا ایک ردعمل کا نام ہے۔ جہاں کہیں بھی ایسی صورت حال پیدا ہوگی، جیسی یورپ میں سو سال پہلے پیدا ہوچکی تھی، جہاں انسان تنہائی، غیریت، لغویت اور غیر یقینیت کا شکار ہےاور جہاں دکھائی نہ دینے والے ادارے اور قوتیں اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کے تحت ظاہری طور پر موجود منظر نامے کی تشکیل سازی کر رہی ہیں، وہاں کافکا کے فن کی تفہیم کے راستے ہموار ہوجائیں گے۔ جدید معاشرے کا یہ روپ پوری طرح سے پاکستان میں اپنا ظہور نہیں کرپایا۔ اس کی بس جھلکیاں موجود ہیں۔ یوں توقع کی جا سکتی ہے کہ آئندہ برسوں میں نہ صرف معاشرتی سطح پر جدیدیت کی فضا میں اضافہ ہوگا بلکہ کافکا فہمی کے لیے بھی زیادہ صورتیں پیدا ہوں گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...