پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے ساتھ ایک ملاقات

281

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے احتساب عدالت کے سامنے بیان کو تقویت دینے کے لیے دو ٹویٹ کیے جس میں جے آئی ٹی کو حاصل دو پرانی دستاویزات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایون فیلڈ یعنی لندن فلیٹس سے متعلق اہم ثبوت مل گئے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا نیب کو پانامہ جے آئی ٹی کی طرف سے والیم دس کے تحت لکھے گئے کسی خط کا جواب موصول ہوا ہے؟ اس کا جواب نیب کی طرف سے فائل کیےگئے  شریف خاندان کے خلاف تین ضمنی ریفرنسز میں منفی  ہے۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی ضمنی ریفرنس میں نیب نے قراردیا ہے کہ باہمی معاونت قانون کے تحت ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔والیم دس کے حوالے سے نیب کے اندر مایوسی پائی جاتی ہے۔اس صورتحال کو سمجھنے کےلیے میں نے براہ راست واجد ضیاء سے  ایک غیر رسمی گفتگو کرنے  کی کوشش کی۔ہماری  یہ ملاقات اتفاقیہ تھی اور ایک تقریب میں ہوئی جس میں واجد ضیاء نے تمام قصہ صاف صاف بتا دیا اوراہم دعوے اورانکشافات بھی کر ڈالے۔

یہ ماہ فروری میں اتوار کا دن تھا، پنڈال سج چکا تھا،سالانہ ادبی محفل کا سماں عروج پر تھا۔ شرکاء کی بڑی تعداد آج ایک خاص مہمان کا انتظار کر رہی تھی۔ گوجر خان کے مقام پر جرنیلی سڑک کے کنارے بڑے  میلے کا سا سماں تھا ۔ محفل کے دولہے پروفیسر احمد رفیق اختر تھے۔ ان کو سننے کے لیے ملک کے طول و عرض سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک دن کی اکیڈمی میں ایک ترپال کی چھت تلے جمع تھے۔ لیکچر کے بعد سوال و جواب کی نشست  بڑی دیر تک  جاری رہی۔ شرکاء کی تعداد ہزاروں میں ہونے کے باوجود ان کی ضیافت کا خاطر خواہ انتظام موجود تھا۔ سب کچھ نشست پر بیٹھے بیٹھے ہی پہنچ جاتا ،ایسے میں شاید ہی کوئی ہو جو اس علمی، ادبی اور روحانی محفل کا لطف نہ اٹھا رہا ہو مگر یہ ایک جلسہ نہیں تھا۔ یہ کوئی کلاس بھی نہیں تھی اور نہ ہی یہ میلہ تھا۔ لیکن پھر بھی یہ کلاس، میلے اور جلسے کی کوئی ایسی صورت تھی کہ اس میں نہ تو کوئی  چھٹی کے لیے بے تاب تھا اور نہ ہی شور شرابا اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے کو ملتے تھے۔ دو گھنٹے سے زائدکا  لیکچر آج تک اتنی خاموشی سے نہیں سنا اور اتنی بڑی تعداد کو گھنٹوں اس قدر انہماک سے بیٹھا بھی نہ دیکھا تھا۔ یہ سال کے بعد ایک خاص سلسلے کے ملنے والوں کا اکٹھ تھا۔

محفل کے روح رواں کا انداز تخاطب اپنی مثال آپ تھا۔ مشکل، سنجیدہ اور پیچیدہ موضوعات کے بعد لیکچر میں ایسے حوالے بھی آ جاتے تھے کہ شرکاء کے چہرے کھل اٹھتے اور وہ زیر لب ایسے مسکرارہے ہوتے کہ جیسے ان کی سب تھکاوٹ ہی اتر گئی ہو۔

اس قدر اہم محفل میں ایک جانا پہچانا چہرہ واجد ضیاء  کا بھی تھا۔ دعا سلام کے بعد تعارف ہوا۔ پھر تین گھنٹے تک پنڈال میں ساتھ ساتھ موجود رہے۔ اس عرصے میں کچھ غیر رسمی گفتگو کا موقع بھی ملا۔ جب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ سے ان کی رپورٹ کے والیم دس کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملاکہ  اب یہ غیر متعلقہ دستاویز بن چکی ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ اس کے علاوہ بھی نواز شریف اوران کے خاندان کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔ پھر خود سوال اٹھایا کہ کس کا دباؤ ہوسکتا تھا؟ میرے جواب سے متفق نہ ہوتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دباؤ تو حکومت کا ہی ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایمانتداری سے اپنا فریضہ سر انجام دیا۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف رپورٹ میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کرنے کی وجہ پوچھی تو انھوں نے نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئےاس معاملے کو چھوڑدینے کا مشورہ دیا۔ جے آئی ٹی ممبران کی آپس میں اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کا احوال پوچھا تو انھوں نے سرے سے ایسی کسی ملاقات کو تسلیم کرنےسے ہی انکار کردیا۔ لیکچر کے اختتام پر کھانے کے وقفے میں کیمرہ پر انٹرویو کی درخواست کو انھوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ابھی نہیں پھر کسی وقت پربات ہوگی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے میں گریڈ اکیس میں ملازمت کرنے والے آفیسر نے اپنی اگلے درجے میں ترقی کو کسی انتقامی کاروائی سے جوڑنے کے بجائے خاموشی اختیار کی اور بعد میں انٹرویو کا عندیہ بھی دیا۔ سوال جواب کا سیشن شروع ہونے سے قبل واجد ضیاء دیگر شرکاء کی طرح پروفیسر صاحب کو سلام کرنے کے لیے  آگے بڑھ رہے تھے۔ راستے میں انھیں کئی مرتبہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن کسی مشکل کو خاطر میں لائے بغیر وہ آگے بڑھتے رہے اور پھر عقیدت کا یہ رشتہ انھیں اپنے پیر کے پاس لے گیا۔ کیمرے کی آنکھ سے میں یہ سب مناظر دیکھتارہا۔ اس پنڈال میں واجد ضیاء اپنے ایک قریبی عزیز کے ہمراہ داخل ہوئے،  ان کے  ساتھ کسی قسم کا کوئی بھی سیکیورٹی عملہ نہیں تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان سے بات چیت ممکن ہوسکی۔

لیکچر اور اس مختصر ملاقات کے بعد میں نے واپسی کا سفر شروع کیا اور یہ سوچ رہا تھا کہ ملکی اداروں میں فرائض سر انجام دینے والے  پروفیسر صاحب کی تعلیمات  کے بعد کیسے اپنے فرائض منصبی انجام دے سکیں گے اگر ان کے ذہنوں میں پروفیسر صاحب کا یہ سیاسی نظریہ سرائیت کر جائے کہ موجودہ سیاسی قیادت میں کوئی بھی ملکی قیادت کے اہل نہیں ہے۔ لیکچر میں یہ بھی کہا کہ قائداعظم  کے بعد ملک کو کوئی ایماندار قائد آج تک نہیں  مل سکا۔ واپسی کے سفر میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر یہ سچ ہے کہ واجد ضیاء کسی قسم کا کوئی دباؤ قبول نہیں کرتے  اور  قائداعظم کی تعلیمات پر عمل کرنے والا اگر کوئی سیاسی رہنما نہیں تو کم از کم ایسا ایک سرکاری افسر ملک کو ضرور مل گیا ہے جسے کسی کا خوف ہی نہیں ہے اور سب ادارے اس کے رعب سے خوفزدہ ہوکر ہر طرح کی دستاویزات ان کے سامنے ملک کے ایک منتخب وزیر اعظم کے خلاف پیش کررہے تھے۔ لیکن باہر کی ریاستوں پر کسی کا بس نہیں چلتا تھا لہٰذا وہ ناکام ہرگز نہیں ہوئے اور رپورٹ میں لکھ دیا کہ وزیر اعظم اب اہل نہیں رہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ان کی لاج رکھی اور نااہلیت سے متعلق فیصلہ برقرار رکھا۔ باقی جہاں تک پات اپنی رپورٹ کو ثابت کرنے کی ہے تو کچھ اور اداروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ثبوت ڈھونڈیں صرف ایک افسر ہی کیوں؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...