عمران خان کی مذہبی سیاست

583

ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی یہ گرسیکھ لیا ہے کہ اگر پاکستان میں سیاست کرنی ہے او ر ووٹرز کو بے وقوف بنانا ہو تو کس طرح اسلام کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ عمران خان نے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور ملک سے بے انصافی ، کرپشن اور موروثی سیا ست کے خاتمے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی ۔ گزشتہ انتخابات میں جب خیبرپختونخوا میں انکی پارٹی کی حکومت بنی تو ان سے یہی امید کی جارہی تھے کہ وہ اپنی سترہ سالہ جدوجہد کو عملی جامہ پہنا کر خیبرپختونخوا کو اپنے منشور کے نمونے کے طور پر پیش کریں گے۔  شاید یہی وجہ تھی کہ عمران خان کی جماعت نے صوبے میں باقی اقدامات و اصلاحات کے ساتھ ساتھ اسلامی اصلاحات پر بھی کام کیا،جس میں ناظرہ قرآن کی تعلیم ، صوبے سے سود کے کاروبار کا خاتمہ اور جہیز جیسے ناسور کے خاتمے کیلئے قوانین منظور کروائے اور اسی طرح مدارس کی باگ ڈورمحکمہ تعلیم کی نگرانی دی۔ لیکن عجلت میں  کیے گئے بعض  اقدامات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ تحریک انصاف کے یہ اقداما ت مذہب اور دین کی خدمت کیلئے نہیں بلکہ آئندہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک خراب کرکے اپنی جماعت کی کامیابی کیلئے راہ ہموار کرنا ہے۔  مساجد کے آئمہ کرام کیلئے دس ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ، مولانا سمیع الحق کو سینیٹر بنانے کا  فیصلہ اور ان کے مدر سے د ارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک  کو 577 ملین روپے کی امداد دینا شامل ہیں۔

تحریک انصاف کے ان اقدامات پر اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔اگرچہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بھی آئندہ انتخابات کیلئے بعض معاملات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کررہی ہیں جیسا کہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ موقف کہ مدرسے کے نام پر دیے  جانے والا پیسہ مولانا  سمیع الحق سینٹ الیکشن میں استعمال کریں گے اور اس سے ممبر صوبائی اسمبلی کے ضمیر خریدے جائیں گےلیکن صوبائی حکومت کی طرف سے پارلیمانی جماعتوں کو موجودہ ارکان کے تناسب سے سینٹ کی سیٹوں پر تقسیم سے اس بات کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے کہ ان پیسوں کامقصد سینٹ الیکشن میں ووٹ خریدنا ہے۔لیکن یہ بات غورطلب ہے کہ کیا ان اقدامات سے تحریک انصاف کو آئند ہ انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل ہوگا یا نہیں ؟ مولانا سمیع الحق کی جماعت خیبرپختونخوا میں مضبوط ووٹ بینک کی مالک نہیں ہے۔ اس لئے یہ بات تو واضح ہے کہ مولانا سمیع الحق کی جماعت کے ساتھ سے ایسا ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی کو اس اتحاد کی بنیاد پر زیادہ نشستیں مل سکیں ،تاہم صوبے کی ممتاز مذہبی شخصیت اور مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے مولانا سمیع الحق سے اتحاد کا مقصد مولانا فضل الرحمن اور ایم ایم اے کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران لگائے جانے والے متوقع الزامات کا دفاع کرنا ضرور ہوسکتاہے۔
ان اقدامات سے تحریک انصاف کے ووٹ بینک کو نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان میں دھچکا لگنے کا خدشہ ہے، اس کے ووٹرز پڑھے لکھے ہیں اور ہر اس اقدام کی محالفت کرتے ہیں جو پارٹی کے منشور کے خلاف ہو۔ پارٹی کے اپنے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ مدرسہ اصلاحات کے لیے پورے صوبے میں سے ایک مدرسہ کا انتخاب کس بنیاد پر کیا گیا ہے اور اتنی خطیررقم صرف ایک مدرسے کو ہی کیوں دی جارہی ہے۔اگر جائزہ لیا جائے توخیبر پختونخواہ کی حکومت نے مالی سال 2017-16 میں محکمہ اوقاف کیلئے 620ملین بجٹ مختص کردیاتھا، جس میں اقلیتی براداری کیلئے 155.6 ملین روپے ، دارلعلوم حقانیہ کیلئے 300 ملین جسے اب بڑھا کر 577 ملین کردیا ہےجبکہ باقی مدارس اورمساجد کیلئے 165 ملین مختص کیاگیا۔ اس طرح  دارلعلوم حقانیہ کو ملنے والا بجٹ محکمہ اوقاف کے کل بجٹ کا 84 فیصد بنتاہے۔ دوسری جانب اقلیتی براداری کے مقدس مقامات کی حفاظت، اپگریڈیشن  اور تعمیرات کے لیے مختص 155.6 ملین میں سے اب تک صرف 24.5 ملین ریلیز کیے گئے ہیں جس میں سے ٖصرف چوبیس لاکھ خرچ ہو چکے ہیں جو ٹوٹل بجٹ کا صرف ایک اعشاریہ پانچ فیصد بنتاہے۔
مذکورہ بالا اعداد وشمار کا جائزہ لینے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خطیررقم صرف اس مدرسے کو کیوں  دی جارہی ہے جسے اپنے ماضی کے باعث طالبا ن کی فیکٹری اور جس کے سربراہ کو طالبان کے گاڈ فادر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ ایک ایسے ادارے کو جس نے پاکستان اور افعانستان کے امن کو برباد کرکے رکھ دیاہے ، کیا اس صوبے میں اور مدارس نہیں ؟ کیا دیگر مدارس میں پڑھنے والے طلباء کا حق نہیں کہ وہ بھی مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے روشناس ہوسکیں؟ کیا ان پیسوں پر صرف دارلعلوم حقانیہ کے پانچ ہزار طلباء کا حق ہے یا صوبے میں باقی پانچ ہزار مدارس میں پڑھنے والے لاکھوں طلباء کا بھی ہے؟مذکورہ بالا سوالوں کے جواب میں عموماً تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور صوبائی حکومت کی جانب سے موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ مدرسہ درالعلوم حقانیہ کے لیے مختص کیا گیا بجٹ انہیں نقد نہیں دیا جارہا بلکہ اس رقم سے صوبائی حکومت کے ادارے مدرسے میں ترقیاتی کام کریں گے۔ اگر صوبائی حکومت کے اس موقف کو درست مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دارلعلوم حقانیہ کی عمارت پہلے ہی کافی اچھی اور وسیع و عریض ہے جبکہ مدارس کی عمارتیں بنالینا مسئلے کا حل ہرگز نہیں ہے بلکہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اس کے نصاب میں اصلاحات ، نئے نصاب کا نفاد اور اس پر عمل درآمد کیلئے جامع حکمت عملی تیار کرنا اورپھر اس حکمت عملی پر عمل درآمد کیلیے اقدامات کرنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف کی حکومت کے ان اقدامات میں دور دور تک ایسے کوئی اثار دیکھائی نہیں دیتے۔
اس پس منظر میں یہ امداد مولانا سمیع الحق کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مولانا سمیع الحق دیوبندی مسلک کے ممتاز عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حریف بھی ہیں۔ سیاست پر نظر رکھنے والا ہر شخص  جانتا ہے کہ یہ اقدام آئندہ انتخابات میں مولانا فضل الرحمٰن اور ایم ایم اے کا توڑ ڈھونڈنے کی ایک کوشش ہےلیکن سوال یہ ہے کہ سیاسی حمایت حاصل کرنے کیلئے سرکاری وسائل اور پیسے کا استعمال کیوں ہورہا ہے۔ عوام تو مذہبی لیڈروں کے تضادات سے بھرپور رویوں سے جان چھڑانے کے لیے عمران خان جیسی لبرل قیادت کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ اگر عمران خان  بھی یہی کام کریں  تو عوام کہاں جائیگی۔ سیاسی تجریہ کاروں کے مطابق ان اقدامات سے تحریک انصاف کا ووٹ بینک بڑھنے کی بجائے کم ہوگا کیونکہ  عمران خان کی مقبولیت کے پیچھے دو محرکات تھے، جن میں سے ایک کرپشن اور بے انصافی کے خلاف آواز اٹھانا اور دوسرا موروثی سیاست کے خلاف ان کا موقف۔لیکن وہ اگر مذہب کا سیاسی استعمال کریں گے تو یہ ان کا ہی نقصان ہوگا۔ عوام نے انہیں اسلام کے نام پر نہیں بلکہ کرپشن کے خاتمے ، نا انصافی اور موروثی سیاست کے خاتمے کے لیے ووٹ دیے تھے۔جس طرح اسٹیٹس کو کی مخالفت چھوڑنے پراین اے154 میں موروثی سیاست کے خلاف چالیس ہزار ووٹ کی لیڈ کو پچیس ہزار کی شکست میں بد لاگیا اسی طرح انہیں  پختونخواہ میں بھی  شکست کا سامناکرنے پڑیگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...