شیطان تو قید ہے

616

رمضان میں شیطان تو قید ہوتا ہے۔ شتر بے مہار لوگوں کے دینی جذبات کو کیش کرتا ہے۔ اپنی قیمت بڑھانے کے لئے میڈیا میں دینی اور اخلاقی قدروں کی لوٹ سیل لگاتا ہے۔ یہاں احترام رمضان کا قانون لاگو نہیں ہوتا کیونکہ میلہ ہی احترام رمضان کے نام پر لگتا ہے۔

’’شیطان تو قید ہے‘‘ ایک مختصر سا جملہ ہے لیکن ہمارے ہاں اسے تین انداز سے سمجھا جاتا ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ساری خرابیاں شیطان کی وجہ سے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ رمضان میں سب اچھا ہو جائے گا ۔  ان کی نظر میں ’’شیطان تو قید ہے‘‘! ؟  جملہ استعجابیہ ہے۔  یعنی شیطان تو قید ہے پھر یہ برائیاں کیسی۔ کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے  کہ شیطان ہی ہے جو انہیں نیک کام کرنے نہیں دیتا، وہ سوچتے ہیں ’’شیطان تو قید ہے‘‘ تو یہی جملہ استفتائیہ احتیالیہ بن جاتا ہے۔  یعنی وہ  کہ رہے ہوتے ہیں کہ اب کیا بہانہ رہ جاتا ہے؟ اور اس مشکل میں شرعی حیلہ کیا ہو سکتا ہےَ ۔ البتہ کچھ  ایسے  لوگ بھی ہیں جو جملہ استبرائیہ  پڑھتے ہیں جو ان کو ہر جرم سے با عزت بری کرتا ہے۔ بلکہ کھلی چھٹی دیتا ہے۔  رمضان میں شیطان کی قید کا اعلان سنتے ہی  یہ لوگ خود کو ہر پابندی سے آزاد سمجھتے ہیں۔

ہم ان ’’مادر پدر آزاد‘‘لوگوں کی بات نہیں کر رہے جن سے حکومت خوف زدہ  رہتی ہے۔  یہ لوگ روزہ بھی کہاں رکھتے ہوں گے۔ سحری اور افطاری سے بھی محروم ہوں گے۔ ہمیں ان کی فکر کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے لئے تواحترام رمضان  کا قانون پہلے سے موجود ہے جو شیطان کو قید کرنے کے اسلامی حکم کی تعمیل میں بنایا گیا ہے۔ جب تک شیاطین قید میں نہ ہوں نہ حکومت مکمل آزادی کے ساتھ  اسلام کا نفاذ کر سکتی ہے نہ نظریاتی سرحدوں کے محافظ نفوذ کا فریضہ سر انجام دے سکتے ہیں۔ لہٰذا دین اور ایمان کی تفتیش اور نگرانی حکومت نے اپنے ذمے لے لی ہے ۔

ہم اس شتر بے مہار آزادی کا ذکر بھی نہیں کر رہے جو شتر کی نسبت سے خود کو عرب اور اسلامی اقدار کی بار بردار سمجھتی ہے۔ یاد رہے عرب اونٹ کو خیمے سے باہر کھونٹے سے باندھ کر رکھنے کے قائل ہیں۔ ان کا تجربہ ہے کہ اونٹ خیمے کے اندرآجائے تو عرب کو باہر نکال دیتا ہے۔   اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شتر بے مہار شیطان کو  اپنا رقیب سمجھتا ہے اور اسے پابند سلاسل دیکھ کر علی الطول جگہ جگہ رمضان کے بازار سجا دیتا ہے۔ غریب کی غربت اور انسان کی کمزوریوں کا تماشا لگاتا ہے۔ انعامات کے ذریعے حرص اورلالچ کو، مقدس عبادات کے نام سے ریا کاری کو ، زکوة و صدقات کے نام سے بھیک کو فروغ دیتا ہے۔ اس شتر بے مہار سے  نہ حکومت پنگا لینے کی حامی ہے نہ شیطان۔ دونوں کو اس سے کام پڑتا رہتا ہے ۔

رمضان میں شیطان تو قید ہوتا ہے۔ شتر بے مہار لوگوں کے دینی جذبات کو کیش کرتا ہے۔ اپنی قیمت بڑھانے کے لئے میڈیا میں دینی اور اخلاقی قدروں کی لوٹ سیل  لگاتا ہے۔  یہاں احترام رمضان کا قانون لاگو نہیں ہوتا کیونکہ میلہ ہی احترام رمضان کے نام پر لگتا ہے۔ شیطان کو مسلمانوں کو ورغلانے کا اختیار تو دیا گیا ہے لیکن آداب اور قیود کے ساتھ ۔  اب شیطان  قید میں بھی خوف زدہ ہے کہ کل کہیں  ان میلوں کا ملبہ بھی اسی پر نہ ڈال دیا جائے۔

ہم اس  سینہ زورآزادی کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہ رہےجو مہنگائی بن کر رمضان کا خیر مقدم  کرتی ہے۔ ہر سال بجٹ کی تقریر سے پتا چلتا ہے کہ مہنگائی در اصل معاشی ترقی کا پیمانہ ہے۔ مہنگائی رمضان کی رونق بڑھاتی ہے اور گواہ بنتی ہے کہ امیروں کی قوت خرید میں  اس سال مزید اضافہ ہوا ہے۔ امیر کے لئے رمضان کی مہنگائی پرائز بانڈ ہے کہ ہر ہزار پر ستر ہزار ملتے ہیں۔ مسلمان دکاندار ذوق و شوق سے  ہر چیز کی قیمت دس دنیا ستر آخرت کے حساب سے بڑھا کراپنے اور دوسروں کے آخرت  کے بینک بیلنس میں اضافہ کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

مہنگائی اور معاشی ترقی کے مابین  گہرا رشتہ ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہئے کہ قیمت کم ہو تو کوالٹی کا مطالبہ نا جائز ٹھہرتا ہے۔  سستی چیز کی قیمت کو ستر سے ضرب  بھی دے لیں پھر بھی مہنگے مال سے ثواب کم ہی رہتا ہے۔ ثواب  میں اضافہ تاجراور گاہک  دونوں کا حق ہے۔ حکومت  سستے رمضان بازار لگا کر غریبوں کو ستر کے حساب والی قطار میں شامل ہونے کی زحمت سے بچاتی ہے۔ تاکہ معاشی ترقی  کو عیاشی  نہ سمجھا جائے اور غریب رمضان کی رونق میں لا پتا نہ ہوجائے۔غریب مارکیٹ کا حصہ نہیں  اسی لئے مہنگائی اور دھاندلی کا شور مچاتے رہتے ہیں۔ ’’گریبی ہٹاؤ‘‘کے چکر میں معاشی ترقی کا پہیہ تو نہیں روکا جا سکتا۔ ویسے بھی اگر وسائل نہ ہوں تو سحرو افطار میں اسراف سے منع کیا گیا ہے۔

ہم یہاں ان کی بات بھی نہیں کر رہے جو حکومت کی ہمہ وقتی کوششوں کے باوجود ’’ڈو مور‘‘’’ڈو مور‘‘ کا شور مچاتے رہتے ہیں۔ ہم ان کا بھی تذکرہ نہیں کر رہے جنہیں رویت ہلال کے انتظام، احترام رمضان کے احکام، شبینہ مبارک کی محافل کے التزام، ٹی وی پر مہینہ بھر رمضان کے پروگرام اور افطاریوں کی پر تکلف دعوتوں کے اہتمام کے باوجود شکایت ہے کہ پاکستان میں اسلام نظر نہیں آ رہا۔

ہم ان لوگوں کی مشکلات کا تذکرہ کر رہے ہیں جو شیطان کی قید سے آزادی کے خیال سے ہی اس تشویش میں  مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اب ان کا کیا بنے گا، کونسا بہانہ کام آئے گا۔ ان میں وہ پارسا بھی  شامل ہیں جنہوں نے خود سے کبھی کوئی گناہ یا برائی نہیں کی۔ جو گناہ بھی ہوا اس کا ذمے دار شیطان ہے۔ رمضان میں شیطان قید ہوتا ہے تو نیکی بدی کی ذمہ داری ان کے ناتواں کندھوں پر آپڑتی ہے جہاں پہلے ہی دو فرشتے بیٹھے ہیں۔ فرشتوں کو نیکی بدی کا پتا تو ہوتا ہے لیکن ان میں برائی کی اہلیت نہیں ہوتی۔ اسی لئے انہیں نہ نیکی پر ثواب کی امید ہے نہ برائی پر عذاب کا ڈر۔ انہیں صرف اطاعت آتی ہے، اسی لئے فرشتے ہیں۔

فرشتوں نے انسان کی تخلیق پر خدا سے گلہ کیا تھا کہ یہ خاک کا پتلا تو فساد پھیلائے گا، خون بہائے گا۔ ہم تسبیح خوانوں کے ہوتے اس  خاکی کی کیا ضرورت ہے۔ خدا نے کہا کہ تم اطاعت گذار آزادی اور امتحان  کی قدر و قیمت کیا جانو۔  انسان کو نیکی اور بدی دونوں کا موقع ہوگا اور وہ آزادی اور ذمہ داری سے ان کا چناؤ کرے گا۔ یہ آزادی  اسے نئی باتیں سیکھنے میں بھی مدد کرے گی اور غلطیاں کر کے ان سے توبہ اور آئندہ برائی سے بچنے کا سبق بھی دے گی۔ خالق کو اپنی تخلیق پر اتنا بھروسا تھا کہ ہر انسان کے کندھوں پر ان  گلہ کرنے والےفرشتوں کو ہی بٹھا دیا کہ  خود ہی ریکارڈ کرتے رہو کہ انسان اس آزادی سے سیکھتا ہے یا نہیں۔

فرشتوں کی طرح شیطان نے بھی انسان کی تخلیق پر اعتراض کیا کہ یہ کمزور سرشت مخلوق اس عزت کی اہل نہیں جو اسے دی جا رہی ہے۔ برائی اس کی کمزوری بنی رہے گی۔ خدا نے شیطان کو ہی یہ کام سونپ دیا کہ تم اسے ورغلا کر صحیح راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہو۔ اور دیکھو کہ انسان کو تم نیکی سے کہاں تک روک سکتے ہو۔

خدا نے انسان کو سمجھایا کہ نیکی اور بدی کی پہچان تمہاری فطرت میں داخل کردی گئی ہے۔ شیطان تمہیں ورغلانے کی پوری کوشش کرے گا۔ لیکن اپنی حد تک۔ وہ تمہارا دشمن ہے  لیکن تہاری نیکی اور بدی کا ذمہ دار نہیں۔ اس سے خبردار رہنا۔ شیطان بہت مکار ہے لیکن خدا سے زیادہ طاقت والا نہیں۔ شیطان کو صرف وسوسہ کا اختیار ہے، اسے طاقت  انسان دیتا ہے۔ یاد رکھنا کہ  خدا سب سے زیادہ طاقت والا بھی ہے اور سب سے زیادہ مہربان بھی۔ وہ مدد بھی کرتا ہے اور مانگنے والے کو طاقت بھی دیتا ہے۔

خدا نے سال میں ایک مہینہ ایسا رکھا ہے جب شیطان کو اس کے کام سے روک دیا جاتا ہے۔  تاکہ مہینہ بھر ہر لمحے انسان کو عملی طور پر اس آزادی کا احساس دلایا جائے کہ نیکی یا برائی کا چناو اس کا اختیار ہے۔ وہ اس نیت سے نیکی نہ کرے کہ لوگ اسے اچھا سمجھیں۔ اور وہ یہ سوچ کر برائی سے نہ بچے کہ کوئی دیکھ نہیں رہا۔  ہرمسلمان کا  یہ فیصلہ اس کا اپنا فیصلہ ہو۔ یہ اس کی  آزادی اورخود مختاری کا امتحان ہے۔ شیطان کا بہانہ کارگر نہیں۔ وہ قید  میں نہ ہو تب بھی اس کا دائرہ اختیار محدود ہے۔ اگر انسان بدی کا راستہ چنتا ہے تو شیطان کے کہنے سے نہیں۔

دنیا کی زندگی چند روزہ ہے۔ سیاست، معاشرت اور حکومت انسان کی انفرادیت کو نظام کا پابند بنانے کے لئے  ڈر اور خوف کا شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں۔  اخلاق کی طاقت پر بھروسہ نہیں اس لئے قانون کو سزا کا ادارہ بنا کر خوف کی بنیاد پر اطاعت کے فلسفے کو رواج دیتے ہیں۔  سیاست، معاشرت اورحکومت کی  حقیقی بنیاد تعاون اور شرکت کے تصور پر ہے۔ لیکن اس میں وہ ٹہکا نہیں جو ڈر اور سزا میں ہے۔ لوگ بھی اس بات کےعادی کر دئے گئے ہیں کہ قانون نہ ہو  تو  نہ نیکی واجب  ہے اور نہ  برائی سے بچنا ضروری ۔

رمضان میں مسلمان کو اپنی خود ارادیت پر بھروسا سکھا یا جاتا ہے۔ اس مشق کا مقصد مسلمان کو یقین دلانا ہے کہ وہ شیطان کی قید میں نہیں۔ نیکی اور بدی کا فیصلہ اس کے ضمیر کا ہے۔ یہ آزادی حاصل ہو تو انسان عاقل اور بالغ بنتا ہے ورنہ ابدی نابالغ اور بے سمجھ۔ ۔ یا شیطان کا قیدی ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...