پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی کی ضرورت

501

1947  کو انتقالِ اقتدار کے موقع پر جب حکومت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ” میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوگا اور ویسے ہی اصول پیش نظر رکھے جائیں گے جن کی مثالیں اکبر اعظم کے دور میں ملتی ہیں۔” تو اس پر قائد اعظم محمد علی جناح نے برجستہ فرمایا”وہ رواداری اور خیر سگالی جو شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے حق میں برتی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تو مسلمانوں کی تیرہ صدی قبل کی روایت ہے۔ جب پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ یہودیوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ نہ صرف انصاف بلکہ فیاضی کا برتاؤکیا کرتے تھے۔ مسلمانوں کی ساری تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہم پاکستانی حضرت ﷺکی تعلیمات کی روشنی میں ہی پاکستان کا نظام چلائیں گے”

پاکستانی پرچم میں سفید پرچم اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت ہے، لیکن بدقسمتی سے قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد ہمارے ملک کے حکمرانوں نے پاکستان میں مقیم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے اور مناسب قانون سازی نہ ہونے کے باعث اقلیتی آبادی پندرہ فیصد سے کم ہوکر صرف تین فیصد رہ گئی ہے۔اقلیتی برادری کے رہنماؤں کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہندووں کی آبادی تقریباً47ہزار، سکھ 7سے8ہزار ،مسیح 3لاکھ پچیس ہزار ،بہائی 73 ہزار،جبکہ کلاش 4ہزار 2سوکے قریب ہیں، قبائلی علاقوں میں مسیحی ،سکھ اور ہندؤں کے آبادی مجموعی طور پر پچاس ہزار تک بتائی جاتی ہے لیکن سکھ اور ہندو برادری کی اکثریت اپنے علاقوں نقل مکانی کرکے ملک کے دوسرے شہروں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اقلیتوں کے صحیح اعدادو شمار کے بارے میں  کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اب تک چھٹی مردم شماری کی ابتدائی معلومات میں اقلیتوں کی تعداد کے بارے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتی برادری ان معاشرتی قوانین مثلاًنکاح رجسٹریشن ، نکاح کے وقت عمر، جہیز،طلاق، نان نفقہ ، وراثت ، وصیت، گود لینا، بچوں کی حوالگی اور غیر قانونی بچوں کے تحفظ ایسے مسائل ہیں جن کے حل کے لئے پرانے قوانین میں تبدیلی اور بعض مسائل کے حل کے لیے نئے قوانین بنانے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔اٹھارویں ترمیم کے بعد قانون سازی کے اختیارا ت بھی صوبو ں کے حوالے کیے گئے ہیں، تاہم آئین کی رو سے قومی سطح پر کسی بھی معاملے سے متعلق قانون سازی کے لیے صوبے یہ اختیار پارلیمنٹ کے سپرد کردیں گے۔ اسی طرح ہندو میرج ایکٹ 2017کا اختیار بھی صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب نے پارلیمنٹ کو دیا تھا۔مذکورہ ایکٹ تب نافد ہو گا جب صوبے اس ایکٹ کو نافد کرنے کے لئے رول آف بزنس بنائیں گے،مگر صوبہ خیبر پختونخوا میں متعلقہ ادارے اور وزارت نے اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجو بھی کوئی عملی اقدام نہیں کیا جو کہ ایک مایوس کن امر ہے۔پشاور سے تعلق رکھنے والی ماریہ کماری نے بتایا کہ اسے تین سال قبل اس کے خاوندنے سادے کاغذ پر طلاق نامہ لکھ کر اُس کے ہاتھ میں تھما دیاتھا۔  میں نے کوشش کی خاوند اپنے دو بچوں کے اخراجات برداشت کرے لیکن میں ناکام رہی، ماریہ کے لیے انصاف کے دوازے تب مکمل بند ہوگئے جب اُس کے خاوند نے اسلام قبول کرلیا ور ایک مسلمان لڑکی سے دوسری شادی کرلی۔ماریہ مہینے کے دو ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ پر گزرا کررہی ہےجو کہ ایک مشکل کام ہے۔قانون کی عدم موجودگی میں اُس کو اپنے حقوق اور مشکلات کم ہونے کی کوئی اُمید نہیں۔پاکستان میں اقلیتی برادری کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن ہارون سربدیال کو پارلیمنٹ سے پاس کیاگیا ہندؤں میرج ایکٹ 2017جو کہ قومی اسمبلی سے 27دسمبر2016 جبکہ سینٹ نے18فروری 2017منظور کرایا تھا ،سے کافی اُمیدیں وابستہ ہیں ۔ ان کے مطابق مذکورہ بل میں ہندوؤ ں کی شادی رجسٹریشن ، شادی وقت ہندو جوڑے کی عمریں اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو نا لازمی قرار دیا گیا ۔ ہارون نے بتایا کہ اس بل میں یہ بات بھی شامل کی گئی  ہے کہ اگر میاں بیوی ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ الگ رہے ہوں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنا نہ چاہیں اور شادی ختم کرنے میں رضامندہوں تو اس کی شادی کی تنسیخ ہوجائے گی ۔ ان کے بقول بل میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ شادی کی منسوخی کے چھ ماہ بعد فریقین دوبارہ شادی کرسکتے ہیں اور یہ اقدام غیر قانونی نہیں ہو گا ۔اُنھوں نے کہا کہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندو بیوہ کو بھی اپنے خاوند کی وفات کے چھ ماہ بعددوسری شادی کرنے کا حق حاصل ہو گاجبکہ ایک ہندو شخص اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرتا ہے تو یہ ایک قابل سزا جرم تصور ہوگا۔ہاورن نے کہا کہ اس بل میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اگر کوئی ہندو شادی رجسٹریشن کی بابت بنا ئے گئے قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس ایکٹ کے تحت اس کی سزا چھ ماہ قید ہے جبکہ اس بل میں ہندوؤں کی شادی ، خاندان ، ماں اور بچے کے جائز تحفظ فراہم کرنےکی دفعات شامل ہیں ۔خیبر پختونخوا میں آباد سکھ براردی کے خاندانی اور انفرادی قوانین کے بارے میں چیئرمین سکھ کیمونٹی آف پاکستان اور سرگرم سماجی کارکن رادیش سنکھ ٹونی نے بتایا کہ ہمارے برادری کے لوگوں کےلیے قانونی مسائل پیدائش ہی سے شروع ہو جاتے ہیں جس میں پہلا مسئلہ نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن کا ہے، جس کے لیے کوئی قانون موجود نہیں اور اس وجہ سے آنے والے وقت میں مختلف مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سکھ برادری کی شادی کی رسم صرف گوردواروں میں ہی ادا کی جائیگی اور پاکستان میں نکاح رجسٹریشن کا اختیار بھی گوردواروں کو دیا گیا جن میں ڈیرہ صاحب لاہور ، جنم استھان چونامنڈی لاہور، جنم استھان ننکا صاحب شیخوپوراہ، پنجاصاحب حسن ابدال، بھائی جوگاسنگھ پشاو ر اور کرتار پور صاحب نارووال شامل ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سکھ مذہب میں طلاق کا تصور نہیں البتہ اگر میا ں بیوی کے درمیان کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اُس کو مذہبی رہنماء آپس میں بیٹھ کر حل کر لیتے ہیں اور اس کے لئے قانون میں کوئی حصہ بھی نہیں ۔ اُنھوں نے کہا سکھ مذہب میں دوسری شادی کی اجازت بھی پانچ پیارے جو مذہبی لوگ ہوتے ہیں اُن کو درخواست دیکر پوری چھان بین کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے ۔  دوسری شادی تب ممکن ہے کہ جب کوئی عورت بانجھ پن کی شکارہو ۔

رادیش نے کہا کہ بعض قوانین کے نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات خواتین کو ہی برادشت کرناپڑتی ہیں ۔ اُنھوں کہا کہ امن وامان کی خراب  صورتحال کی وجہ سے کئی سکھوں کومار دیاگیا جن میں اُن کی بیویاں بیوہ  ہوگئیں ، ایسی خواتین کی دوسرے بندے کے ساتھ شادی کے فیصلے کاکوئی قانونی طریقہ کار نہیں اور اس کے ساتھ بعض معاشرتی مسائل کی  بناپر  وہ اپنے بچوں کے ساتھ  پوری زندگی اسی طرح گزار لیتی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ہندو برادری کے لئے ہندو میریج ایکٹ نافذالعمل ہونے کے لیے کام ہورہا ہے لیکن اُس میں سرکار نے سکھ برادری کو بھی شامل کرنے لیے منصوبہ بندی کی ہے جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں ، کیونکہ دونومذہب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لہذا اس میں ہم حکومت کو یہ درخواست کرتے ہے کہ سکھوں کے لئے الگ قوانین مرتب کریں جس سے اُن خاندانی اور دوسری سرکار کے ساتھ جڑے ہوئے مسائل بآسانی حل ہوسکیں۔شوکت علام کے مطابق پاکستان میں مسیحی برادری کے لیے کریسچن میرج ایکٹ 1872اور ڈائیورس ایکٹ 1869، سکھوں کے آنندمیرج ایکٹ 1909 ، بہائی برادری کے لیے پارسی میرج اینڈ ڈائیورس ایکٹ1936، مسلم برادری کے لیے ویسٹ پاکستان پرسنل لاز( شریعت ) 1961 اور ہندوبرادری کے لیے ہندومیرج بل2014 جو کہ صرف سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی سے پاس کیے ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ ان میں بہت پرانے قوانین موجود ہے ، ضرورت اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اس میں تبدیلی انتہائی ضروری تھی لیکن بدقسمتی کی وجہ سے آج تک ایسا نہیں ہوسکا۔ نکاح رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے  مقدمے میں ایک بندہ قانوناً اپنی بیوی کو بھی اپنی بیوی ثابت نہیں کر سکتا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا کے مشیر برائے اقلیتی امور راوی کمار نے حکومتی اقدمات کے بارے میں بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اقلیتی برادری سے سوارن سنگھ کو صوبائی اسمبلی کی  نشست پر کامیاب کر کے اُس کو اقلیتی امور  چلانے کی ذمہ داری دی ، لیکن بد قسمتی سے اُس کی ناگہانی موت کے بعد وہ ذمہ دریا ں مجھے سونپ د ی گئیں۔ اُنھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری نوکریوں میں 0.5فیصد سے کوٹہ بڑھا کر 5فیصد کردیا جس کی بنیاد پراقلیتی برادری کے لوگ بھی مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دینے لگے ہیں۔ رواں سال کے ترقیاتی بجٹ میں دس کروڑکی  مدد سے دس اضلاع میں اقلیتی برداری کی عبادت گاہوں اور قبرستانوں کے مسائل حل کیے ہیں ۔ تمام اقلیتی برادری کے مذہبی تہواروں کو سرکاری طور پر منایا جائے گالیکن اُنھوں نے یہ وضاحت نہیں کی۔

اقلیتوں کو انکے حقوق کی فراہمی کے حوالے سے موثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث ملک بھر میں اقلیتی برداری مسائل سے دوچار ہے، وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر اقلیتی برداری کے حوالے سے قانون سازی کیلئے اقدامات کریں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...