عاصمہ جہانگیر کی وفات اور سوشل میڈیا کے مجاہد

392

معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی بحالی کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف نام محترمہ عاصمہ جہانگیر گذشتہ روز انتقال کرگئیں۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنی عملی زندگی  کا آغاز21 سال کی عمر سے کیا اور مرتے دم تک وہ عزم وہمت کی مضبوط چٹان بنے،مظلوموں،مقہوروں ،دردمندوں اور بے سہاروں کی آواز بن کر گونجتی رہیں۔عاصمہ جہانگیر  اپنے بے باک طرزگفتار کے سبب زندگی میں تنازعات سے دوچار بھی ہوئیں  اور توہین مذہب جیسے الزامات کا سامنا بھی کرتی رہیں مگر آج تک ایسا کوئی الزام ان پر ثابت نہیں کیا جاسکا۔ مرحومہ کی وفات کے بعد سے  سوشل  میڈیا کے مجاہد پھر متحرک  ہیں اور مرحومہ کو ملحد،کافر اور جہنمی تک قرار دینے لگے ہیں۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ  شدت پسند تنظیموں اور مسلکی تعصب نے ہمارے معاشرے کو اس حدتک آلودہ کردیا ہے کہ ہم دنیا سے چلے جانے والے شخص کو بھی معاف کرنے پر آمادہ نہیں۔ “پیغام پاکستان ” جیسے اہم فتاویٰ اور شدت پسند تنظیموں کے سربراہان کی جانب سے قومی دھارے میں شمولیت کی خبروں  سے یہ امید ہوچلی تھی کہ اب اس طرح فتوے بازی کا رجحان ختم نہ سہی کم ضرور ہوگا مگرواعظوں اور فتویٰ فروشوں  کو بے نقاب کرتی  عاصمہ جہانگیر نے اس دنیا سے جاتے جاتے ان شرپسندوں کے چہروں سے امن کے جھوٹے نقاب بھی کھینچ ڈالے ہیں۔

ہمارے خیال میں عاصمہ جہانگیر اور دیگر ایسے لبرلز کا صرف یہی جرم ہے کہ وہ آزاد تنقید اور بے باک گفتار کے قائل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس مقصد کے لیے بنایاگیا تھا کہ جہاں جب چاہیں اور جس کی چاہیں پگڑی اچھال دی جائیں؟کیا پیغام پاکستان جیسے فتاویٰ  اور علماء کرام کے ایسے متفقہ فیصلوں کے اثرات کبھی ان کے پیروکاروں تک بھی پہنچ پائیں گے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ شدت پسند تنظیموں کی قیادت اور کارکن کے درمیان ابلاغی ونظریاتی  فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ، قیادت حالات کے جبر کے تحت جو کچھ سوچتی ہےیا جسے اپناتی ہے، اپنے ورکر کو اس کا پابند بنانے کی صلاحیت سے محروم ہے؟

تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...