بابا گرو نانک: دل میں اُتر جانے والی شخصیت

146

ایک عرصہ پہلے جب میں نے بابا گرونانک کی شخصیت اور ان کے افکار کا مطالعہ شروع کیا تو مجھے یوں لگا جیسے ان کی شخصیت میرے دل میں اترتی چلی جارہی ہے۔ وہ ایک عظیم خدا پرست اور انسان دوست شخصیت تھے۔ ایک پاک دل اور پاک باز وجود، سچائی کا طالب اور سچائی کا ترجمان۔ گاہے مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ ایک عارف مسلک انسان ہیں۔ کبھی مجھے ان کے سینے میں بندگان خدا کے لیے دھڑکنے والے دل کی دھک دھک سنائی دینے لگتی ہے۔ ان کی فکراور دل و دماغ پر اندھی تقلید کا کوئی دھبہ دکھائی نہیں دیتا، بلکہ وہ تو اندھی عقیدتوں کے باغی اور جسے حق سمجھ لیا اس پر تن من دھن سے ڈٹ کرنے والے شخص تھے، جسے سچ سمجھتے اسے جرأت کے ساتھ اختیار کر لیتے۔
شیبا چوہدری کے الفاظ میں:

گرو نانک ہندوستان کے عوام کی مذہبی دقیانوسیت کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انسان کا رشتہ براہ راست خدا سے ہوتا ہے تو پھرانسان اس بحث میں کیوں اپنا وقت برباد کرتا ہے کہ گنگا کا پانی اس کے پاپ دھوئے گا یا نہیں اور کس طرح کا لباس خدا کو زیادہ پسند ہے۔ وہ کہتے تھے کہ سب سے پہلے اپنا باطن خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالو۔ لباس، رسوم اور ظاہری وضع ثانوی بحث ہے۔

بابا گرونانک 15اپریل 1469ء کو شیخوپورہ کے قریب تلونڈی نام کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کالو رام بیدی ہندو خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنے بیٹے نانک کو ایک مسلمان معلم سید حسن کے پاس تعلیم کے لیے بٹھا دیا۔ بچپن میں بابا جی کا سب سے قریبی دوست ایک مسلمان میراثی تھا جس کا نام مردانہ تھا۔

بابا جی بچپن سے ہی غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تو تھے ہی بہت مختلف بھی تھے۔ کہتے ہیں کہ 12سال کی عمر میں ان کو والد نے کچھ روپے دیے اور کہا کہ ان سے مجھے بہترین سودا کرکے دکھاؤ۔ والد کا مقصد ان کو تجارت کے گر سکھانا تھا۔ بابا جی نے ان پیسوں سے کھانا خریدا اور محتاج لوگوں میں بانٹ دیا۔ گھر پہنچے، والد کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں ان پیسوں کا سُچّا سودا کر آیا ہوں کہ میں نے اُس کے ساتھ تجارت کی ہے جو مجھے اس کے بدلے کئی گنا زیادہ دے گا۔

گھر والوں نے سوچا کہ اگر نانک کی شادی کردی جائے تو وہ دنیا داری کی طرف مائل ہو سکیں گے۔ اس لیے ان کی شادی 16سال کی عمر میں بی بی سولکھنی سے کروا دی گئی۔ گرو نانک نے شادی پر کوئی اعتراض نہ کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ شادی روحانی زندگی کو متاثر نہیں کرتی، انھیں اپنی بیوی سے بہت پیار تھا۔

گرو نانک کی زندگی میں ایسے مقامات آتے ہیں جنھیں مسلمانوں کی اصطلاح میں ’’کرامت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ جب وہ تیس برس کے تھے اور دولت خان لودھی کے دربار میں کام کرتے تھے تو اپنے دوست ’’مردانہ‘‘ کے ساتھ دریا پر نہانے چلے گئے۔ تین دن بعد وہاں سے نکلے، پھر کچھ دن خاموش رہے، جب زبان کھولی تو جو کلمات ادا کیے ان کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے:
’’خدائے واحد ہی سچ ہے، وہ خالق ہے، اس کو کسی کا ڈر نہیں، اس کی کسی سے دشمنی نہیں۔
وہ اکیلا ہے، اس کی کوئی صورت نہیں، وہ موت اور زندگی کے چکر سے آزاد ہے، اس کا حصول ہی اصل نعمت ہے۔‘‘
سکھ مذہب کی معروف کتاب گرو گرنتھ انہی الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔

وہ اپنا الٰہی پیغام گیتوں کی شکل میں پہنچاتے تھے جس شہر میں بھی جاتے مقامی زبان میں لوگوں سے بات کرتے تھے۔ انھیں سنسکرت،عربی اورفارسی پر عبور حاصل تھا۔ انھوں نے ہندوستان کے طول و عرض کے دورے کیے۔ اس کے علاوہ مکہ، مدینہ، مصر، تاشقند ، فلسطین، اردن، شام ،نجف ،کربلا اور بغداد سمیت کئی شہروں اور ملکوں کا سفر کیا ان کا نظریہ خدا بہت آفاقی اور لامحدود تھا۔

وہ اپنا الٰہی پیغام گیتوں کی شکل میں پہنچاتے تھے جس شہر میں بھی جاتے مقامی زبان میں لوگوں سے بات کرتے تھے۔ انھیں سنسکرت،عربی اورفارسی پر عبور حاصل تھا۔ انھوں نے ہندوستان کے طول و عرض کے دورے کیے۔ اس کے علاوہ مکہ، مدینہ، مصر، تاشقند ، فلسطین، اردن، شام ،نجف ،کربلا اور بغداد سمیت کئی شہروں اور ملکوں کا سفر کیا ان کا نظریہ خدا بہت آفاقی اور لامحدود تھا۔

بغداد میں مسلمان علماء کے سامنے انھوں نے ایک فارسی نظم پڑھی جس میں کہا کہ تم کیوں زمینوں اور آسمانوں کی تعداد گن رہے ہو، کائنات تو لامحدود ہے اور انسان کی زندگی ختم ہو جائے گی مگر وہ خدائی کی انتہاء کو نہ پا سکے گا۔ اسی طرح جب وہ مکہ پہنچے تو صحن کعبہ میں سو گئے۔ ان کے پاؤں کعبہ کی طرف دیکھ کر پہرے دار نے انھیں جگایا اور کہا کہ شرم نہیں آتی تم خدا کے گھر کی طرف پاؤں کیے سو رہے ہو۔ اس پر انھوں نے کہا تم مجھے وہ سمت دکھا دو کہ جدھر خدا نہ ہو تو میں اس طرف پاؤں کر لوں گا۔

بابا جی ہندو مسلمان سب سے پیار کرتے تھے۔ وہ خدا کو ہر ذی روح میں جاری و ساری قرار دیتے تھے۔ نیکی اور عفو کی تعلیم دیتے تھے۔ وہ ذات پات، مذہب و مسلک اور رنگ و نسل کے بتوں کو توڑ دینا چاہتے تھے۔

بابا جی کا ایک اور ساتھی بالا نام کا بھی تھا۔ وہ بالا اور مردانہ کو ساتھ لے کر نکل جاتے۔ یہ دونوں بابا جی کے پیغام کو گیت اور سنگیت میں ڈھال کر لوگوں کو متوجہ کرتے تھے۔ بابا جی جھوٹ کو ترک کرنے اور مذہب کے نام پر غیر ضروری رسومات سے پرہیز کی تعلیم دیتے۔ وہ انسان کے اندر چھپے ہوئے پانچ خطرناک امراض، تکبر، غصہ، لالچ، ناجائز خواہشات اور شہوت سے بچنے کاحکم دیتے۔

مسلمان صوفی بزرگوں کے ساتھ ان کے تعلقات بہت گہرے تھے۔ بابا فرید ثانی کے ساتھ وہ دس برس سے زیادہ رہے۔ گرو گرنتھ میں بابا گرونانک، بھگت کبیر اور بابا فرید کے اشعار شامل ہیں۔ بابا گرونانک کی بنیادی تعلیمات میں غریبوں، مسکینوں کی حمایت کا سبق موجود ہے۔ باباجی نے جب کرتار پور کو اپنی تعلیم و تبلیغ کا مرکز بنایا تو وہاں ہر خاص و عام کے لیے لنگر کا انتظام بھی کیا۔ یہاں غریب،مسکین اورمحتاج لوگ کثرت سے آتے تھے۔

دولت خان لودھی کے دربار میں ایک مرتبہ بابا جی نے کہا: نہ کوئی ہندو ہے نہ کوئی مسلمان، اس پر دولت خان نے کہا: شاید ہندو نہ رہے ہوں لیکن مسلمان اپنے ایمان پرقائم ہیں۔ بابا جی نے اس کے جواب میں کہا: خدا کی رحمت کی مسجد اور بندگی کی جائے نماز ہو، اچھا اخلاق تمھارا قرآ ن ہو اور سادگی اور رحمدلی تمھارا روزہ ہو، تمھیں اگر مسلمان ہونا ہے تو ایسے مسلمان بنو۔ نیک اعمال کو اپنا کعبہ بناؤ اور سچ کو اپنا رہبر اگر ایسا کرو گے تو وہ خدا جو واحد ہے جس کا نام حق ہے تمھیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا۔

1539ء میں بابا گرونانک کا انتقال کرتار پور میں ہوا۔ یہ علاقہ اس وقت پاکستان کا حصہ ہے۔
بابا جی کا آج بھی اس خطے کے تمام مذاہب کے ماننے والے احترام کرتے ہیں اور جو ان کی عظیم روح، ان کے اعلیٰ انسانی اخلاق، ان کی آفاقی تعلیمات اور حقیقی آزاد اندیشی کو جان جاتے ہیں وہ بے ساختہ ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔

تمام ادیان کے ماننے والوں نے اپنی بنیادی تعلیمات کی شکلیں بگاڑ دیں۔ مذاہب و مسالک کے کوتاہ فکر ترجمانوں نے حقائق کو چھوڑ کر روایت کو اپنا سب کچھ بنا لیا۔ بہت سے لوگ لفظوں کی ظاہریت سے چمٹ گئے اور حقیقت سے دور چلے گئے۔ انسانوں کو آج بھی ایسی عظیم روحوں کو دریافت کرنے کی ضرورت ہے جو باطنی طور پر الائشوں سے پاک ہوں، کائنات کی اصل حقیقت تک رسائی جن کا مطمحئ نظر ہو ،سارے انسانوں کو محبت ورحمت کی نظر سے دیکھتے ہوں اور محبت و رحمت کو پھیلانا ہی جن کی زندگی کا اصل مقصد ہو۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ انسانیت بانجھ نہیں ہو گئی۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں اور وہ دن آنے والے ہیں کہ جب ظلم و منافقت کا چہرہ آشکار ہو جائے گا اور سارے انسانوں کو فطرت و توحید کے بے نقاب جلوے اپنی طرف جذب کرلیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...